(جنرل (عام
مالیگاوں میں لاک ڈاون کے پیش نظر پولیس الرٹ
(خیال اثر)
مہاراشٹر سمیت مالیگاوں میں لاک ڈاؤن شروع ہے اور دفعہ 144 لاگو کی گئی ہے. لاک ڈاون کا مطلب صرف میڈیکل اسٹور و دیگر ضروری سامان کی فروخت کی اجازت ہے غیر ضروری ہجوم نہ ہو اس لیے دفعہ 144 مطلب پانچ یا اس سے زائد لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے یہی وجہ ہے کہ آج مالیگاوں کے مسلم اکثریتی علاقوں پولیس سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ہوٹلوں ,پان دوکانوں, سویٹ شاپ, بیکری, ٹراویلس کے ساتھ ساتھ پاور لوم کارخانوں کو بند کرایا. رمضان پورہ علاقے پولیس کی اس زیادتی کے خلاف فوری طور ایکشن لیتے ہوئے سرکردہ افراد نے اس بات کی اطلاع اعلی پولیس آفیسران کو دی. آج دوپہر 1بجے رمضان پورہ اسٹیشن میں شہر اے ایس پی سندیپ گھوگے, ڈی وائے ایس پی رتناکر نیولے اور دیگر پولیس آفیسران کی موجودگی ایک ہنگامی میٹنگ لی گئی جس میں بنکروں نے پولیس انتظامیہ کو بتایا کہ شہر کی پاور لوم صنعت ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. اگر کاروبار بند رہا لوگ بلا وجہ چوک چوراہوں پر بھیڑ کرتے ہوئے نظر آئیں گے اس لئے پولیس کارخانے جاری رہنے دیں تب پولیس انتظامیہ نے کہا کہ کارخانے جاری رکھے جائیں لیکن مزدور سڑکوں پر نہ نکلیں. بتایا جاتا ہے کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ صنعتوں کو جاری رکھا جائے. مالیگاؤں ایسا شہر ہے جہاں روز کماؤ روز کھاؤ والا معاملہ ہے. ایک دن کاروبار بند ہو جائے تو گھروں کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے
اور حکومت کے احکامات کی روشنی میں ہماری صنعت کے بند کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں مگر ہمارے شہر میں تماش بین اور مشاہدہ کرنے والے سڑک چھاپ ریسرچر بہت ہیں. پولس بلا وجہ باہر نکلنے کا منع کررہی ہے. حکومت لوگوں کو ملنے جلنے اور پبلک مقامات پر جانے پر پابندی لگارہی ہے اور ہم ہے کہ مانتے نہیں.ہوٹلوں پر معمول کے مطابق ہجوم رہ رہا ہے اس لئے پولس والے سختی کررہے کہ نا کارخانے چالو رہے گے نا ہوٹلوں اور کھاناولوں پر بھیڑ آۓ گی لہذا اپنے اپنے علاقوں کے ہوٹل مالکان کو کہیں کہ صرف پارسل چاء فروخت کرو اور نہیں تو کارخانہ دار خود چاء پان کا انتظام کردے تو کاریگرو کو ہوٹلوں پر جانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوگی.
سماجی کارکن مجاہد انیس نے دوران گفتگو کہا کہ عوام سے میری درخواست ہے کہ آپ تمام لوگ حکومت کے بنائے ہوئے تمام ہی فیصلوں کو احتیاطاً جو لیے گئے ہیں ان پر عمل کریں اس میں ہماری خود کی بھلائی ہے کرونا وائرس چھوت چھات کی وجہ سے ہورہا ہے ایک مراٹھی میڈیا نیوز چینل کی رپورٹ جس میں کل کے بند کو مشرقی مالیگاؤں کے (مسلم ) لوگوں نے فالو نہیں کیا اس وجہ سے پولیس کو سختی کرنے پر مجبور کر دیا ہے آپ تمام لوگ پولیس کے ساتھ تعاون کرے زیادہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گھر میں ہی رہے مالیگاؤں شہر برادران وطن میں غلط میسج ناجاۓ کیونکہ ہماری بنسبت دیگر اقوام دنیاوی اسباب پر یقین کرتی ہے اس لئے انہیں ڈر ہے کہ مسلمانوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے ہمیں بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے یقیناً ہم دنیاوی اسباب سے زیادہ اللہ کی قدرت پر یقین رکھتے ہیں لہذا علاج سے بہتر احتیاط والے فارمولے پر عمل کریں اور اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں.
جرم
ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
