Connect with us
Monday,04-May-2026

سیاست

پی ایم جے ڈی وائی نے معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا : نڈا

Published

on

Jagat Prakash Nada

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جگت پرکاش نڈا نے ’پردھان منتری جن دھن یوجنا‘ کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ اس اسکیم نے مالی شمولیت کے ساتھ لوگوں کو بینکنگ اور انشورنس کی سہولت فراہم کر کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کا عزم پورا کیا۔

مسٹر نڈا نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کیا ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے جن دھن کی شروعات کی تھی۔ اس اسکیم نے مالی شمولیت کے ساتھ لوگوں کو بینکنگ اور انشورنس کی سہولیات فراہم کر کے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) میں شفافیت اور ’لیکیج‘ کو کم کیا ہے، اور معاشرے کے نچلے طبقات کو بااختیار بنانے کے عزم کو پورا کیا۔

انہوں نے کہا کہ جن دھن اسکیم نے ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں ایک نیا باب جوڑا ہے ۔ اس اسکیم کے 67 فیصد سے زیادہ کھاتہ دار دیہی علاقوں سے ہیں، اور 55 فیصد سے زیادہ کھاتہ دار خواتین ہیں۔

مسٹر نڈا نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران تین مہینے کے لئے 20.5 کروڑ سے زائد خواتین کو پانچ سو روپے کی مالی امداد ڈی بی ٹی کے ذریعے دی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت پردھان منتری جن دھن یوجنا ( پی ایم جے ڈی وائی) کے سات سال مکمل ہونے پر جشن منا رہی ہے۔ وزارت خزانہ نے ہفتہ کو ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم میں اب تک 43.04 کروڑ مستحقین کو شامل کر لیا گیا ہے۔ وزارت کی طرف سے فراہم کی معلومات کے مطابق ان کھاتوں میں کل جمع رقم 1،46،231 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ پی ایم جے ڈی وائی کا اعلان وزیر اعظم مودی نے 15 اگست 2014 کو اپنے یوم آزادی کے خطاب میں کیا تھا۔ اس پروگرام کو 28 اگست کو شروع کیا گیا تھا۔

جرم

پونے عصمت دری اور قتل کیس : اپوزیشن نے مہاراشٹرا کے محکمہ داخلہ پر سنگین الزامات لگائے، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ

Published

on

پونے ضلع کی بھور تحصیل کے نصرا پور میں چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل نہ صرف امن و امان کا مسئلہ بن گیا ہے بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دیویندر فڑنویس پر سخت حملہ کیا ہے، جن کے پاس ہوم پورٹ فولیو ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر وجے ودیٹیوار نے پولس کے کام کاج پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم کے ماضی کے مجرمانہ ریکارڈ سے آگاہ تھی لیکن یہ معلومات عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عدالت کی سرزنش کے بعد ہی ریمانڈ کی درخواست میں ترمیم کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پولیس اتنی ہی لاپرواہ ہے تو متاثرہ کو انصاف کیسے ملے گا؟ کیا غمزدہ خاندان اور عوام پر لاٹھی چارج ان کا واحد کارنامہ ہے؟ ودیٹیوار نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس کی سربراہی ایک خاتون آئی پی ایس افسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پونے پولیس کا رویہ غیر حساس رہا ہے اور اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اسی دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فڑنویس 24/7 سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے محکمہ داخلہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ راؤت نے طنزیہ انداز میں پوچھا، “اگر ‘لڑکی بھین’ (لڑکی بہن) کو ماہانہ 1500 روپے ملتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ان کی بیٹیوں کا استحصال ہوتا ہے، تو کیا وہ خاموش رہیں؟” ممبئی کانگریس کی صدر اور ایم پی ورشا گائیکواڑ نے بھی اس واقعہ کو انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے اور پولیس کا احتساب کمزور ہو گیا ہے۔ دریں اثنا، مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنما امیت ٹھاکرے نے گہرے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی تکلیف دہ ہے کہ لڑکی صرف چھٹیاں منانے اپنی دادی کے گھر آئی تھی لیکن اس کے ساتھ ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ایک بزرگ نے اس کی عصمت دری اور پھر قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب پولیس نے مظاہرین اور متاثرہ خاندان پر لاٹھی چارج کیا، جو فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے اپوزیشن کے حکومتی بے حسی کے دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ کیس کو بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کی جائے گی، اور حکومت مجرموں کو سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔ مزید برآں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں پولیس گشت بڑھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔1

Continue Reading

سیاست

آسام انتخابی نتائج : بی جے پی کے ہتیندر ناتھ گوسوامی نے جورہاٹ سے گورو گوگوئی کو شکست دی، چھٹی بار ایم ایل اے بنے

Published

on

آسام کے گوہاٹی میں جورہاٹ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار ہتیندر ناتھ گوسوامی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار گورو گوگوئی کو 23,182 ووٹوں سے شکست دی۔ بی جے پی لیڈر ہتیندر ناتھ گوسوامی کو کل 69,439 ووٹ ملے، جب کہ گورو گوگوئی کو 46,257 ووٹ ملے۔ ہتیندر ناتھ گوسوامی چھٹی بار یہاں سے ایم ایل اے بنے ہیں۔ جورہاٹ، آسام کے سب سے اہم شہری مراکز میں سے ایک، نہ صرف اقتصادی اور ثقافتی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی اثر انداز ہے۔ اس کی انتخابی تاریخ قریبی مقابلہ جات، مینڈیٹ بدلنے اور ممتاز لیڈروں کے درمیان مقابلے کے لیے جانی جاتی ہے۔ جورہاٹ اسمبلی سیٹ ایک عام (غیر محفوظ) نشست ہے اور جورہاٹ ضلع میں آتی ہے۔ یہ جورہاٹ لوک سبھا حلقہ کے 10 اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے۔ جورہاٹ سیٹ 1951 میں بنی تھی۔ تب سے اب تک یہاں 16 اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کانگریس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے، سات جیت کے ساتھ۔ آسوم گنا پریشد (اے جی پی) نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ بی جے پی نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، اور آزاد امیدواروں نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی ایک بار جیت چکی ہے۔ جورہاٹ سیٹ کی انتخابی تاریخ دو لیڈروں، ہتیندر ناتھ گوسوامی اور رانا گوسوامی کے درمیان دشمنی کے بغیر ادھوری ہے۔ ہتیندر گوسوامی تقریباً 25 سال تک اس سیٹ پر دبنگ شخصیت تھے۔ انہوں نے اے جی پی اور بی جے پی دونوں ٹکٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ رانا گوسوامی اور ہتیندر گوسوامی نے چار بار براہ راست مقابلہ کیا، دونوں نے دو بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار ان کا مقابلہ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی سے ہوا، جس میں انہوں نے اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2006 میں، رانا گوسوامی نے کانگریس کے ٹکٹ پر 4,880 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں، انہوں نے ایک بار پھر ہتیندر گوسوامی کو 37,971 ووٹوں سے شکست دی۔ 2016 میں، مساوات بدل گئی، اور ہتیندر گوسوامی نے، بی جے پی کے امیدوار کے طور پر، رانا گوسوامی کو 13,638 ووٹوں سے شکست دی۔ دونوں کا 2021 میں دوبارہ مقابلہ ہوا، جہاں ہتیندر گوسوامی نے 6,488 ووٹوں کے فرق سے سیٹ برقرار رکھی۔ 10 فروری 2026 کو جاری حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق جورہاٹ اسمبلی حلقہ میں کل 148,280 اہل ووٹر ہیں۔ یہ 2024 میں 146,731 ووٹرز سے تھوڑا سا اضافہ ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ 2019 کے مقابلے میں کم ہوا، جب رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 175,267 تھی۔ جورہاٹ حلقے کے انتخابی نتائج میں سماجی حرکیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، درج فہرست ذات کے ووٹر 8.04 فیصد، درج فہرست قبائل کے ووٹر 1.95 فیصد، اور مسلم ووٹر 7 فیصد سے کم ہیں۔ حلقے میں شہری ووٹرز کا غلبہ ہے، 64.87 فیصد اور دیہی ووٹرز 35.13 فیصد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی، سڑکیں، تجارت، روزگار اور شہری سہولتیں بڑے انتخابی مسائل بنی ہوئی ہیں۔ جورہاٹ کو آسام کا ثقافتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر ادب، موسیقی، تھیٹر اور روایتی آسامی ثقافت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ آسام ساہتیہ سبھا کے صدر دفتر، بیہو تہوار، ستریا رقص کی روایت، اور متعدد ثقافتی اداروں نے اسے ایک الگ پہچان دی ہے۔ برطانوی دور میں یہ چائے کی صنعت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ آج بھی چائے کے باغات، زراعت، تجارت، تعلیم اور چھوٹی صنعتیں شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہوٹل للت انٹرنیشنل میں ڈرگس پارٹی, پولیس کی تحقیقات شروع، کوئی بھی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں, تحقیقات کا حکم

Published

on

ممبئی: ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن کی حدود میں ہوٹل للت انٹرنیشنل میں ڈرگس پارٹی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے اس کی انکوائری شروع کر دی ہے ابتدائی تفتیش میں تلاشی کے دوران پولیس کو کسی بھی قسم کی نشہ آور شئے یا منشیات برآمد نہیں ہوئی ہے جبکہ تین مرتبہ شکایت کنندہ نے پولیس کنٹرول روم کو کال کیا تھا تینوں مرتبہ پولیس نے کٹی سو کلب میں تلاشی لی لیکن یہاں سے کوئی بھی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں ہوئی البتہ اس معاملہ کی انکوائری جاری ہے۔
شکایت کنندہ نے کلب کے باہر اور اندر کا ایک ویڈیو وائرل کیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کلب میں نوجوانوں کو نشہ فروخت کیا جاتا ہے لیکن پولیس کی کارروائی میں کسی قسم کا کوئی منشیات نہیں ملا ہے ویڈیو میں ایک نوجوان کو تلاشی کے دوران بھاگتے ہوئے بھی بتایا گیا ہے جبکہ اس کی بھی تلاشی لی گئی تو کسی بھی قسم کی کوئی نشہ آور شئے برآمد نہیں ہوئی ہے ڈی سی پی منیش کلوانیہ نے اس متعلق انکوائری کا حکم جاری کیا ہے پولیس یہ معلوم کر رہی ہے کہ ویڈیو میں جو الزامات عائدکئے گئے ہیں وہ درست ہے یا نہیں اس کے ساتھ ہی کئی مرتبہ کلب میں شکایت کنندہ داخل بھی ہوا ہے اور یہاں اس نے جو سر گرمیاں انجام دی ہیں اس سے متعلق بھی تفتیش شروع ہے البتہ ہوٹل دی للت میں کٹی سو کلب میں منشیات کی پارٹی کے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے پولیس نے ویڈیو فوٹیج سے سمیت دیگر دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے اس معاملہ میں اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے لیکن پولیس انکوائری کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان