(جنرل (عام
عرسِ خواجہ غریب نواز پر نوری مشن نے مدارس کی لائبریریوں میں کتابوں کے سیٹ تقسیم کیے
(پریس ریلیز)
حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک پر مفید و معلومات افزا کتابوں کا سیٹ مدارس کی لائبریریوں کے لیے ہدیہ کرنا لائق تحسین ہے۔ جس کی ہم ستائش کرتے ہیں۔ اس طرح کے مفید کام مشعلِ راہ ہیں۔ یہ تاثرات دارالعلوم غوث اعظم میں یکم مارچ ۲۰۲۰ء کی صبح منعقدہ تقریب ’’تفویض کتبِ علمیہ‘‘ میں خلیفۂ انوار المشائخ حافظ ساجد حسین اشرفی نے عنایت فرمائے۔ غلام مصطفیٰ رضوی نے علوم و فنون کے میدان میں اسلاف کی مہارت اور ان کے تصلبِ دینی پر گفتگو کی اور کہا کہ وجہِ افتخار علم دین ہے۔ اسلاف بیک وقت درجنوں علوم و فنون کے ماہر ہوا کرتے تھے۔ جو ہمارے لیے نمونۂ عمل ہیں۔ ملک کی آزادی میں اکابرِ اہلسنّت نے جو کارہاے نمایاں انجام دیے ان کی تاریخ پر مبنی کتابیں مطالعہ کریں۔ قادیانیت و ہم خیال فرقے انگریز نے تیار کیے؛ جن کا سدِ باب بھی ضروری ہے کیوں کہ یہ طبقے اقتدار کی مسلم دُشمن پالیسی کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ مدارسِ اہلسنّت ظاہری تربیت کے ساتھ باطنی تربیت بھی کرتے ہیں۔ اکابر بالخصوص سلسلۂ اشرفیہ کا فیض ہے کہ یہاں تصلبِ دینی و علم کی بہاریں ہیں۔ اس موقع پر نوری مشن نے نادر و نایاب کتابوں کا سیٹ لائبریری کے لیے پیش کیا، نظامت ندیم انجم چشتی نے کی اور دُعا حافظ عمر فاروق اشرفی نے کی۔ ازیں قبل وفد نے دارالعلوم اشرفیہ پہنچ کر اساتذۂ کرام کی خدمت میں کتابوں کا سیٹ پیش کیا۔ دارالعلوم فیض القرآن میں بھی کتابیں تفویض کی گئیں۔ بعدہٗ دارالعلوم اہلسنّت سیدنا امیر حمزہ پہنچ کر کتابوں کے سیٹ نذر کیے گئے۔ یہاں مولانا نورالحسن مصباحی نے طلبہ کو مطالعہ کی ترغیب دی اور نوری مشن کے علمی و عملی کام میں استحکام کے لیے دُعا کی۔ فرمایا کہ منفرد و مستقل کاموں کے ذریعے نوری مشن نے اپنی معتبر شناخت قائم کی ہے۔ اس کے اراکین کا اخلاص لائق قدر ہے۔سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منانے کا یہ انداز بھی نرالا ہے کہ مدارس کی لائبریریوں میں مفید کتابوں کے سیٹ تحفہ کیے جا رہے ہیں۔ غلام مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ آج جدید علوم میں نرے تخصص کا رجحان ہے؛ جب کہ ہماری دینی درس گاہوں کے فارغین کئی علوم و فنون میں بیک وقت ماہر ہوا کرتے ہیں۔ سلفِ صالحین نے حوصلہ افزا تاریخ رقم کی۔حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ۱۵۰؍ علوم کے ماہرتھے۔ صاحبِ نبراس علامہ عبدالعزیز پرہاروی کو ۲۷۰؍ علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی۔ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت ۱۸۸؍ علوم جانتے تھے، اعلیٰ حضرت کے علوم کی تعداد ۱۱۴؍ ہے۔ گویا یہ پیغام ہے کہ وجہِ ترقی و کامیابی علم ہے، جس کے لیے لائبریری سے رشتہ استوار کریں اور اسلاف کی سیرتوں سے رہنمائی حاصل کریں۔ ’’تفویض کتبِ علمیہ‘‘ کے اِس وفد میں فرید رضوی، برکاتی شہزاد شاہ، شیخ آصف رضوی اور ثقلین رضوی شامل تھے-
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کو محفوظ پانی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھانڈوپ واٹر پیوریفیکیشن پروجیکٹ کے کام کو میونسپل کمشنر کی مکمل کرنے کی ہدایت

بھانڈوپ کمپلیکس میں قائم کیے جانے والے جدید ترین 2,000 ملین لیٹر یومیہ پانی صاف کرنے کے منصوبے کی تکمیل کے بعد، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے پانی کی فراہمی کے نظام کی کارکردگی، شفافیت اور لچک میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس پروجیکٹ سے ممبئی والوں کو قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر معیار، محفوظ اور پائیدار پینے کا پانی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کی بڑھتی ہوئی آبادی، شہری کاری کی رفتار، صنعتی اور تجارتی شعبے کی ترقی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ممبئی کی طویل مدتی پانی کی حفاظت کے لحاظ سے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ کا منصوبہ ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایت دی ہے کہ پانی صاف کرنے کے اس پروجیکٹ سے متعلق تمام سول، ساختی، الیکٹریکل، مکینیکل اور پروسیس انجینئرنگ کے کاموں کو تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور پروجیکٹ کو مقررہ وقت سے پہلے مکمل کیا جائے۔ بھانڈوپ کمپلیکس میں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ذریعہ 2,000 ملین لیٹر فی دن (ایم ایل ڈی) کی صلاحیت کے ساتھ ایک جدید ترین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ڈبلیو ٹی پی) قائم کیا جا رہا ہے۔ پانی صاف کرنے کا منصوبہ جولائی 2028 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (17 جون، 2026) پانی صاف کرنے کے منصوبے کی جگہ کا دورہ کیا اور اس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹ)ابھیجیت بنگر، ڈپٹی کمشنر (میونسپل کمشنر کے دفتر) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (خصوصی انجینئرنگ) پرشوتم مالوادے، ڈپٹی کمشنر (انجینئرنگ) جناب۔ ششانک بھور، چیف انجینئر (واٹر سپلائی پروجیکٹ) چندرکانت چودھری، چیف انجینئر (ممبئی سیوریج پروجیکٹ) اشوک مینگاڈے، چیف انجینئر (برجز) اس موقع پر راجیش مولے کے ساتھ متعلقہ انجینئر اور افسران موجود تھے۔ممبئی کو پانی کی فراہمی کے لیے دو اہم نظام ہیں۔ ان میں سے ایک سے، تانسا-ویترنا سسٹم کے ذریعے، تانسا، مودک ساگر، مدھیا ویترنا اور اپر ویترنا ڈیموں سے پانی کو کشش ثقل کے ذریعے واٹر چینلز کے ذریعے بھانڈوپ کمپلیکس میں لایا جاتا ہے۔ یہ پانی بھانڈوپ کمپلیکس میں پانی صاف کرنے کے مرکز میں صاف کیا جاتا ہے۔ تقریباً 2500 ملین لیٹر پانی ممبئی کے لوگوں کو روزانہ مختلف مقامات پر واقع آبی ذخائر کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ بھنڈوپ کمپلیکس میں 1910 ملین لیٹر یومیہ پانی صاف کرنے کا منصوبہ تقریباً 43 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ منصوبہ ساختی طور پر کمزور ہو چکا ہے، پانی صاف کرنے کا ایک نیا منصوبہ 2,000 ملین لیٹر یومیہ کی گنجائش کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ پانی صاف کرنے کا نیا منصوبہ 2,000 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) پانی کو پروسیس کرے گا۔ پانی صاف کرنے کا یہ منصوبہ بھنڈوپ کمپلیکس کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بہت اہم ہے، جو ممبئی کے مغربی اور مشرقی مضافاتی علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ بھانڈوپ کمپلیکس میں 7.4 ہیکٹر اراضی پر پانی صاف کرنے کا نیا پروجیکٹ موجودہ پروجیکٹ کی جگہ لے گا، جو ایشیا میں سب سے بڑا ہے۔ اس سے ممبئی کو صاف پانی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کا بنیادی مقصد پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور پرانے پراجیکٹ کو تبدیل کرنا ہے جو اپنی زندگی کے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس وقت مٹی کی جانچ، کھدائی، پراجیکٹ کی جگہ کی رکاوٹیں، بجلی کی لائنوں کی منتقلی، درخت لگانے وغیرہ نے زور پکڑا ہے۔ تعمیراتی کاموں کے ساتھ ساتھ مکینیکل، الیکٹریکل اور آلات سازی کا کام بھی متوازی طور پر شروع کیا گیا ہے۔ اضافی افرادی قوت اور مشینری دستیاب کر کے منصوبے کے کاموں کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ کھدائی، ریڈار کی نقل و حمل کا منصوبہ بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن ممبئی والوں کی پانی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔بھانڈوپ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اکتوبر 2026 تک کام کرے گا
بھانڈوپ میں 215 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) صلاحیت کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبے کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ میونسپل کمشنراشونی بھیڈے نے آج (17 جون، 2026) کام کا معائنہ کیابھیڈے نے ہدایت کی کہ اس پروجیکٹ کو اکتوبر 2026 تک مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔ ممبئی میں ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کل 7 مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس لگا رہی ہے۔ اس کے تحت بھنڈوپ میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ پروجیکٹ کا کام جاری ہے۔ اس کے تحت پرائمری ٹریٹمنٹ یونٹ، پرائمری کلیریفائر، کنٹینیوئس سیکونسنگ بیچ ری ایکٹر ٹینک، ایئر بلوئر بلڈنگ اور ڈائجسٹرز وغیرہ کا تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ مسز بھیڈے نے تمام کاموں کا معائنہ کیا اور تفصیلی جانکاری لی۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ بھانڈوپ میں 215 ملین لیٹر یومیہ کی صلاحیت کے ساتھ جدید ترین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایکناتھ شندے کا آپریشن ٹائیگر کامیاب… ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا یو بی ٹی میں بغاوت, سنجے راؤت برہم

ممبئی آپریشن ٹائیگرکامیاب ہوگیا ہے شندے سینا نے شیوسینا یو بی ٹی کے ۶اراکین پارلیمنٹ کو دوسرا گروپ تیار کرنے پر مجبور کر نے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد اب یو بی ٹی میں دوبارہ بغاوت شروع ہوگئی ہے خودمختار گروپ کو بھی لوک سبھا اسپیکر نے منظوری دیدی ہے اب یہ ۶اراکین پارلیمان جلد ہی شیوسینا شندے پارٹی میں انضمام کر سکتے ہیں۔ آپریشن گائیگر کے بعد ادھو ٹھاکرے گروپ کے ایم پی سنجے راؤت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے نے ان اراکین پارلیمنٹ کے لئے کیا نہیں کیا اس کے باوجود ان لوگوں نے بے ایمانی کی ہے یہ بے ایمان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ باغی اراکین پارلیمان دلی میں ہی خیمہ زن ہے اور آئندہ دو دنوں میں یہ شندے گروپ میں انضمام کریں گے ریاست میں آپریشن گزشتہ کئی دنوں سے جاری تھا اور جون میں دلی میں انڈیا الائنس کی ایک میٹنگ بھی ہوئی تھی اس میٹنگ میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے آپریشن ٹائیگر کو ہری جھنڈی دی تھی دلی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھاکرے گروپ کے باغی اراکین پارلیمان کو رکھا گیا ہے اتوار کو ادھو ٹھاکرے نے اپنے اراکین پارلیمان کی ایک میٹنگ بھی لی تھی جس میں پانچ اراکین پارلیمان نے آن لائن میٹنگ میں شرکت کی تھی جس کے سبب کسی کو ان پر شبہ نہیں ہوا تھا شیوسینا میں دوسری مرتبہ یہ سب سے بڑی پھوٹ ہے ایسے میں شیوسینا کے اراکین پارلیمان کی بغاوت کے بعد شیوسینا پوری طرح سے کمزور ہوگئی ہے ان باغی اراکین پارلیمان میں سنجے دیشمکھ ایوت محل سنجے جادھو پربھنی سننجے دیناپاٹل ممبئی ناگیش پاٹل ہنگولی امرراجے نمبالکر دھارا شیو شامل ہے۔ ان اراکین پارلیمان کی بغاوت کے بعد شیوسینا میں ناراضگی پائی جارہی ہے سنجے راؤت ان پر برہم ہیں ان کا کہنا ہے کہ اتنا سب کچھ ادھو ٹھاکرے نے ان کیلئے کیا لیکن یہ لوگ بے ایمان ہوگئے
ممبئی پریس خصوصی خبر
مسلم طلبا گورنمنٹ کی اسکیموں سے محروم… ڈرون پائلٹ’ ٹریننگ اسکیم کے لیے صرف ہندو امیدواروں سے درخواستیں قبول کی جاتی ہیں : رئیس شیخ

ممبئی : حکومت کے ‘امرت ‘ انسٹی ٹیوٹ اسکیموں سے مسلم نوجوانوں و طلباکو محروم ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے تحت چلائے جانے والے انسٹی ٹیوٹ کے ڈرون پائلٹ ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں، جب کہ مسلمان امیدواروں کی آن لائن درخواستیں قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔وزیر اتل سیو اور مہاراشٹر ریسرچ، ایڈوانسمنٹ اینڈ ٹریننگ (امروت) انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو لکھے اپنے خط میں، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ امرت انسٹی ٹیوٹ نے 30 جون تک درخواستیں طلب کی ہیں ڈرون پائلٹ ٹریننگ کے لیے جس کا مقصد اوپن کیٹیگری کے معاشی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) کے امیدواروں کے لیے ہے۔ “تاہم، جب درخواست دہندگان آن لائن فارم کو بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں اپنے مذہب اور ذات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پورٹل صرف ہندو برادریوں کے لیے ذات کے اختیارات پیش کرتا ہے، جس سے مسلمان درخواست دہندگان کو کامیابی سے اپنی درخواستیں جمع کرانے سے روکتا ہے۔شیخ نے بتایا کہ انہیں اس مسئلے کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ امرت انسٹی ٹیوٹ کا مقصد اوپن کیٹیگری میں معاشی طور پر کمزور طبقات کی خدمت کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خود مختار سرکاری ادارے کے طور پر، امرت کی بانی حکومتی قرارداد (22 اگست 2019) میں کسی مخصوص مذہب کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا مقصد اوپن کیٹیگری میں مختلف کمیونٹیز کے لیے کام کرنا ہے۔ لہذا، اس طرح سے درخواستوں پر پابندی لگانا قواعد کے منافی ہے، انہوں نے دعویٰ کیا۔مہاراشٹر حکومت نے مختلف سماجی گروہوں کے لیے کئی ادارے قائم کیے ہیں، جن میں بارتی، آرتی، سارتھی، مہاجیوتی، مارتی، اور امرت شامل ہیں۔ اگرچہ ہر ادارہ کسی خاص ہدف والے گروپ پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی حد تک تربیت کے مواقع اور دیگر کمیونٹیز کو فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔شیخ نے مزید کہا کہ بے روزگاری اس وقت ریاست بھر میں تمام ذاتوں اور مذاہب کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا، “امرت کو اصولوں کی اس طرح تشریح نہیں کرنی چاہئے جس سے مسلم نوجوانوں کو ہنر مندی کے مواقع سے محروم کر دیا جائے۔ وزیر اتل سیو جی، جو دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے سربراہ ہیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلم نوجوانوں کو ان تربیتی پروگراموں سے خارج نہ کیا جائے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
