Connect with us
Wednesday,26-August-2026

(جنرل (عام

اب ایسا لگتا ہے ملک میں عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں؟ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک، انتظامیہ کا مظاہرین کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک : مولانا ارشد مدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور وخوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن وقانون کی ابتری اور مسلم اقلیت کے خلاف بدترین امتیازی رویہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ یہ تشویش کا اظہار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کا کیا گیا۔ دوسری طرف مولانا مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لاقانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں دعوٰی کیا گیا کہ ملک کے امن و اتحاد اور یکجہتی کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، دعوٰی کیا گیا حکمرانوں کے ذریعہ آئین وقانون کی پامالی کی یہ موجودہ روش ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تار تار کرسکتی ہے، اس موقع پر اجلاس میں اتفاق رائے سے جو تجاویز منظور ہوئیں ان میں سے دو اہم تجاویز میں کہا گیا کہ جناب نبی کریم ﷺ کی شان میں جن لوگوں نے گستاخی کی جرأت کی ہے، ان کی معطلی ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی جانی چاہئے، جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔

دوسری اہم تجویز میں کہا گیا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق 1991ء کے اہم قانون میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تجویز میں کہا گیا ہے کہ ترمیم یا تبدیلی کے بجائے اس قانون کو مضبوطی سے لاگو کیا جانا چاہئے، جس کے سیکشن 4/ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15/ اگست 1947ء میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت ویسی ہی رہے گی جیسی کہ اس وقت تھی“ سیکشن 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ اگر 15/ اگست 1947ء میں موجودکسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیر التواء ہے، تو وہ منسوخ ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے معاملہ میں کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے اس کے بعد پیش نہیں ہوگی، اسی لئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل ہے، جمعیۃ علماء ہند اس میں مداخلت کار ہے۔

مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عاملہ کا یہ اجلاس ایک ایسے نازک وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لا قانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کے ذریعہ کئے جانے والے پرامن احتجاج کو بھی ملک دشمنی سے تعبیر کر کے قانون کی آڑ میں ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے رسول اقدس ﷺ کی شان میں دانستہ گستاخی کی گئی، اور ان گستاخوں کی گرفتاری کے مطالبہ کو لیکر جب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی گئیں، گرفتاریاں ہوئیں یہاں تک کہ اس کی پاداش میں بہت سے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیا گیا، سنگین دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں، یعنی جو کام عدالتوں کا تھا اب وہ حکومتیں کر رہی ہیں۔ اب نہ ملک میں عدالتوں کی ضرورت ہے اور نہ جج درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس احتجاج کو دیکھنے کے دو پیمانہ ہیں، مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم؛ لیکن اگر اکثریت کے لوگ احتجاج کریں اور سڑکوں پراتر کر پرتشدد کاروائیاں انجام دیں اور پوری پوری ریل گاڑیاں اور اسٹیشن پھونک ڈالیں تو انہیں تتر بتر کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا مظاہرہ اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ فوج میں ٹھیکہ کے نوکری کے خلاف ہونے والا پرتشدد احتجاج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، احتجاجیوں نے جگہ جگہ ٹرینوں میں آگ لگائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، پولس پر پتھر بازی کی تو وہی پولس جو مسلمانوں کے خلاف تمام حدیں توڑ دیتی ہے خاموش تماشائی بنی رہی اس پرتشدد احتجاج کو لیکر جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کے خلاف ایسی ہلکی دفعات لگائی گئی ہیں کہ تھانہ سے ہی ان کی ضمانت ہوسکتی ہیں۔ اتر پردیش پولس کا ایک بڑا افسر ان واقعات پر یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہی بچے ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اپنے رسولؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے کیا دشمن کے بچے تھے؟ انہوں نے کہاکہ اب اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے، ایک بھارت شریشٹھ بھارت اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کو بھی مذہبی رنگ دیدیا ہے، اکثریت کے لئے قانون الگ ہے، اور اقلیت کے لئے الگ، سوال یہ ہے کہ اب اگر ملک میں پر امن احتجاج کرنا جرم ہے تو جن لوگوں نے پرتشدد احتجاج کیا ان کے گھروں کو ابتک مسمار کیوں نہیں کیا گیا؟ مولانا مدنی نے آگے کہا کہ گستاخی کرنے والے لیڈروں کی معطلی کا جو خط بی جے پی کے دفتر کی طرف سے لکھا گیا تھا اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ پارٹی ملک کے آئین پر عمل کرتی ہے، اور تمام مذاہب کے تئیں احترام کا جذبہ رکھتی ہے، اگر ایسا ہے تو گستاخی کرنے والے لیڈر اب تک آزاد کیوں ہیں؟ جو لوگ گستاخی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کریں، انہیں سنگین دفعات لگا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، اور جن لوگوں کی دریدہ دہنی کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے وہ اب بھی آزاد ہیں، کیا قانون کے دوہرے استعمال کی اس سے بدترین کوئی دوسری مثال ہوسکتی ہے؟

مولاںا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کا ملک بھر میں پرتشدد احتجاج حکومت کے لئے ایک انتباہ ہے، اگر ملک کی ترقی کے بارے میں نہیں سوچا گیا، روزگار کے وسائل نہیں پیدا کئے گئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے تمام نوجوان سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ مذہب کا نشہ پلاکر عوام کو بہت دنوں تک بنیادی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا، روٹی کپڑا اور مکان انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جسکو نظر انداز کیا جانا ملک کی فلاح وبہبود کے لئے اچھی علامت نہیں، اب بھی وقت ہے حکومت ہوش کے ناخن لے مذہب اور نفرت کی سیاست ترک کر کے عوام بالخصوص نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے ورنہ وہی سب کچھ یہاں بھی شروع ہو سکتا ہے، جس کا نظارہ پوری دنیا سری لنکا میں کر چکی ہے۔ مولانا مدنی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا حل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ملک میں نفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جو طوفان برپا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹی وی چینلوں پر جو نفرت سے بھری شرانگیز بحثیں ہوتی ہیں، اس پر پابندی لگائی جائے اس سلسلہ میں حکومت کو بہت پہلے سے سخت موقف اختیار کرنا چاہئے تھا، لیکن ہمارے تمام تر مطالبوں کے باوجود حکومت نے ایسا نہیں کیا؛ چنانچہ مجبور ہو کر جمعیۃ علماء ہند کو اس کے خلاف عدالت میں پٹیشن داخل کرنی پڑی، اس پٹیشن پر اب تک 13/ سماعتیں ہو چکی ہیں؛ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ اس پر اب تک حتمی بحث نہیں ہوسکی ہے، انہوں نے کہاکہ ملک سے اس وقت تک نفرت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک ان متعصب ٹی وی چینلوں پر ہونے والی یکطرفہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ اور بحثوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی انہوں نے آخر میں کہا کہ اب پانی سر سے اوپر ہوتا جارہا ہے، اگر اب بھی حکومت نے اس تعلق سے کچھ نہیں کیا تو ملک میں امن واتحاد خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند سیاسی جماعتوں، ملک کے دانشوروں، سماجی تنظیمیں اور مختلف شعبہئ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ اپنے اثرات کا استعمال کر کے ملک کے بگڑتے ہوئے ماحول کو بچانے کی کوشش کریں، جس نے ملک کی یکجہتی، آئین ودستور اور سلامتی کے شدید خطرات پیدا کر دیئے گے ہیں۔

اجلاس میں جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا گیا، شرکاء میں مولانا عبد العلیم فاروقی لکھنو، جناب گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر، مفتی غیاث الدین احمدرحمانی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق احمد عنفر، مولانا عبد الہادی پرتاپ گڑھی، مولانا سید اسجد مدنی دیوبند، فضل الرحمن قاسمی، مولانا عبدالرشید قاسمی، مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی، مولانا قاری شمس الدین، حاجی سلامت اللہ دہلی، مفتی اشفاق احمد سرائے، مولانا بدر احمد مجیبی، مفتی عبد القیوم منصوری، جناب فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کے علاوہ مولانا حلیم اللہ قاسمی، مولانا عبد القیوم قاسمی، مفتی محمد احمد، مفتی محمد راشد، مولانا محمد مسلم قاسمی، جناب شاہد ندیم ایڈوکیٹ، مفتی حبیب اللہ قاسمی راجستھان، مولانا محمد خالد قاسمی اور مولانا مکرم الحسینی بیگوسرائے بطور مدعو خصوصی شریک ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پرجا فاؤنڈیشن کی رپورٹ : 15ویں اسمبلی میں ممبئی کے اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات میں 72 فیصد کمی

Published

on

ممبئی، 25 اگست 2026 : پرجا فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ ‘ممبئی ایم ایل اے رپورٹ کارڈ 2026’ کے مطابق، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں ممبئی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کی تعداد میں 12ویں اسمبلی کے مقابلے میں 72 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ونٹر سیشن 2024 سے مونسون سیشن 2025 کے دوران ممبئی کے 33 اراکین اسمبلی کی کارکردگی، ایوان میں حاضری، پوچھے گئے سوالات کے معیار اور آئینی ذمہ داریوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 33 اراکین میں سے صرف تین نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور حاصل کیا ہے، اور ان تینوں سرفہرست مقامات پر انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندے براجمان ہیں۔

بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اراکین اسمبلی :
پہلا مقام : امین پٹیل (کانگریس) — اسکور : 82.89

دوسرا مقام : اسلم شیخ (کانگریس) — اسکور : 80.58

تیسرا مقام : جیوتی گائیکواڑ (کانگریس) — اسکور : 80.30

رپورٹ کے اہم نکات :
سوالات میں بھاری کمی : 15ویں اسمبلی (ونٹر 2024 تا مونسون 2025) کے دوران اراکین اسمبلی نے صرف 2,213 سوالات پوچھے، جبکہ 12ویں اسمبلی (2009-2010) میں 7,955 سوالات پوچھے گئے تھے۔

سوالات کے معیار میں گراوٹ : پوچھے گئے سوالات کے معیار کا اوسط اسکور 12ویں اسمبلی کے 50 فیصد سے گھٹ کر 15ویں اسمبلی میں 33 فیصد رہ گیا ہے۔

کام کے دنوں میں کمی : 15ویں اسمبلی کے پہلے سال میں ایوان کا اجلاس صرف 40 کاری دنوں (working days) کے لیے ہوا، جبکہ 12ویں اور 13ویں اسمبلی میں بالترتیب 47 اور 50 دن اجلاس ہوا تھا۔

مجموعی اوسط اسکور : اراکین اسمبلی کا مجموعی اوسط کارکردگی اسکور 12ویں اسمبلی میں 61 تھا، جو 14ویں اسمبلی میں گھٹ کر 54 ہو گیا اور 15ویں اسمبلی میں معمولی بہتری کے ساتھ 55 درج ہوا۔

اراکین کی اوسط عمر : ممبئی کے اراکین اسمبلی کی اوسط عمر وقت کے ساتھ بڑھی ہے : 12ویں اسمبلی میں 52 سال، 13ویں میں 51 سال، 14ویں میں 53 سال اور 15ویں اسمبلی میں یہ بڑھ کر 57 سال ہو گئی ہے۔

جمہوری جوابدہی پر تشویش :
پرجا فاؤنڈیشن کے سی ای او ملند مہاسکے نے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے شہریوں کے مسائل کو ایوان تک پہنچانے میں کتنے موثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اراکین کی مجموعی کارکردگی کے اوسط اسکور میں کوئی مثبت رجحان نہیں دیکھا گیا ہے۔ پرجا فاؤنڈیشن کے مینیجر آصف خان نے خبردار کیا کہ اگر ایوان کی نشستیں کم ہوں گی، سوالات کم پوچھے جائیں گے اور ان کا معیار ناقص ہوگا، تو بالآخر شہری حکومت سے حساب مانگنے کا ایک اہم ذریعہ کھو دیں گے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مدھیہ پردیش: ودیشا میں خاتون اور دو بیٹیوں کی موت، پولیس کو زہر دینے کا شبہ

Published

on

Death

ایک خاتون اور اس کی دو نابالغ بیٹیاں مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع کے ایک میڈیکل کالج میں بیمار پڑنے کے بعد دم توڑ گئیں، پولیس کو شبہ ہے کہ انہوں نے کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے، ایک اہلکار نے منگل کو بتایا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات ریتھا پھاٹک روڈ پر پیش آیا۔ مرنے والوں کی شناخت رتیش ڈانگی کی بیوی ورشا ڈانگی اور کچی محلہ کے رہائشی اور اس کی بیٹیاں سیجل اور سانوی کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق سیجل پہلی بار بیمار ہوئی تھی۔ اہل خانہ نے اسے پیر اور منگل کی درمیانی شب میڈیکل کالج پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ بعد میں رتیش اپنی بیوی ورشا اور چھوٹی بیٹی سانوی کو اسپتال لے کر آئے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں اس رات بعد میں علاج کے دوران فوت ہوگئے۔

رتیش کے چھوٹے بھائی نیلیش نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ پیر کی شام گھر پہنچا تو اس نے ورشا کو قے کرتے ہوئے پایا جبکہ سانوی بے ہوش پڑی تھی۔ وہ فوراً سانوی کو میڈیکل کالج لے گیا۔رتیش نے گھر والوں کو بتایا کہ اس نے شام 6 بجے کے قریب ورشا سے فون پر بات کی۔ پیر کو، اور اس نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ تاہم، جب وہ بعد میں گھر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی حالت بگڑ چکی ہے، پولیس کے مطابق۔” ابتدائی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تینوں نے کوئی زہریلی چیز پی لی ہو گی۔ تاہم، موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے معائنے اور مزید تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی،” کوتوالی پولیس اسٹیشن کے اے ایس آئی محمد شاہد نےبتایا۔

شاہد نے کہا کہ پولیس نے اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیے ہیں اور جائے وقوعہ پر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تفتیش کار اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کونسی چیز استعمال کی گئی ہو گی اور اسے کن حالات میں لیا گیا تھا۔
شاہد نے مزید کہا، “تفتیش ابتدائی مرحلے پر ہے۔ ہم جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں اور اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” اہل خانہ نے بتایا کہ رتیش اور ورشا کی شادی کو تقریباً 13 سال ہو چکے ہیں۔ رتیش کپڑے کی دکان چلاتا ہے، اور اس جوڑے کی دو بیٹیاں تھیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

لاپتہ 15 سالہ لڑکے کی لاش چار دن کی تلاش کے بعد جسولا نالے سے برآمد

Published

on

جنوب مشرقی دہلی کے جسولا گاؤں میں ایک کھلے نالے میں گرنے کے بعد لاپتہ ہونے والے 15 سالہ متھون، کلاس 8 کے طالب علم کی لاش منگل کو برآمد کی گئی، جس سے چار دن تک جاری رہنے والی تلاشی مہم کا ایک افسوسناک خاتمہ ہوا۔ متھون مبینہ طور پر ہفتے کی صبح اپنے گھر کے قریب ایک پتنگ نکالنے کی کوشش میں نالے میں گر گیا۔ نوجوان رات 11 بجے کے قریب لاپتہ ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کے اہل خانہ کو خدشہ ہے کہ وہ نالے میں بہہ گیا ہے۔ اس کا خاندان، اصل میں اتر پردیش سے ہے، اس علاقے میں رہتا ہے اور یہاں یومیہ مزدوری کرتا ہے۔

واقعے کے فوراً بعد متعدد ایجنسیوں پر مشتمل ایک وسیع سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ دہلی فائر سروس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، دیگر ریسکیو ٹیموں اور غوطہ خوروں نے لڑکے کا سراغ لگانے کی کوشش میں نالے اور متصل علاقوں کی تلاش کی۔ مسلسل کوششوں کے باوجود، کئی دنوں تک متھن کا پتہ نہیں چل سکا۔ بالآخر اس کی لاش منگل کو برآمد ہوئی اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

اس واقعے نے بھی غم و غصے کو جنم دیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں مبینہ طور پر متھن کے والد کو اپنے بیٹے کو نالے کے اندر تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں پریشان باپ کو ہاتھ میں چھڑی لیے نالے میں داخل ہوتے اور تلاشی مہم کے دوران نوجوان کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا گیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس سے قبل اس واقعے پر گہرے دکھ اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ایک گھنٹے کے اندر نالے کے دائرہ اختیار اور ذمہ داری کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں اور کسی بھی کوتاہی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس واقعے کے بعد، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے ساؤتھ ایسٹ (سنٹرل) زون کے ایک جونیئر انجینئر کو ڈیوٹی میں لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا۔ شہری ادارے نے کہا کہ اہلکار کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ کارروائی کھلے اور غیر محفوظ نالے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر سوالات کے درمیان ہوئی جہاں مبینہ طور پر نوجوان گرا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان