Connect with us
Tuesday,14-April-2026

(جنرل (عام

ریلوے بھرتی امتحان میں کسی کا نقصان نہیں : وزارت ریلوے

Published

on

Ministry-of-Railways

ریلوے کی وزارت نے آج غیر تکنیکی زمرہ میں تقریباً 35 ہزار بھرتیوں کے تعلق سے سوشل میڈیا کے ایک حصے میں آنے والی مبینہ گمراہ کن خبروں کی سلسلے وار طریقے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی بھی امیدوار کے لیے مقابلے کے مواقع کم نہیں ہوئے، اور نہ ہی کسی کا کوئی نقصان ہوسکتا ہے۔

ریلوے کی وزارت نے یہاں کہا کہ دوسرے مرحلے میں کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کے لئے امیدواروں کے انتخاب کا عمل 28 فروری 2019 کو شائع کئے گئے نوٹی فکیشن میں تفصیل سے بتایا گیاتھا۔ 13 زمروں کے عہدے گریجویٹ اور چھ زمروں کے عہدے 12ویں پاس لوگوں کے لئے نوٹیفکیشن کیے گئے تھے۔ ان 13 زمروں کی آسامیوں کو 7ویں پے کمیشن کے پے اسکیل میں پانچ گروپوں میں درجہ بند کیا گیا تھا، اور ہر زمرے کے لیے ہر مرحلے کے عمل کی بھی سینٹرلائزڈ ایمپلائمنٹ نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہر امیدوار کو اپنی اہلیت کے مطابق تیرہ زمروں میں سے سبھی یا کسی ایک کا انتخاب کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ نتائج کے بارے میں بھی التزامات دیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس بات کے تعلق سے تشویش ظاہر کی گئی کہ ریلوے بورڈ نے نوٹی فکیشن میں کہا تھا کہ کمپیوٹر پر مبنی امتحان کا پہلا مرحلہ صرف کوالیفائنگ امتحان ہوگا، اور کمپیوٹر کی بنیاد پر دوسرے مرحلے کے لیے 20 گنا امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر ریلوے نے کہا کہ پہلے مرحلے کا امتحان سب کے لیے عام ہوگا، جب کہ نوٹیفکیشن کے ضابطے 13.2 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر گروپ کے لیے الگ سے امتحان لیا جائے گا، اور ان میں مشکل کی سطح بھی عہدے کے مطابق مختلف ہوگی۔ اس کے مطابق، دوسرے مرحلے کے کمپیوٹر پر مبنی امتحان میں، ایک سطح میں درجہ بند کی گئی تمام آسامیوں کے لیے ایک ہی امتحان ہوگا۔ لہذا، اگر کوئی امیدوار اہل ہے اور اس نے ایک سے زیادہ سطح کے امتحان میں شرکت کرنے کے متبادل کا انتخاب کیا ہے تو اسے علیحدہ امتحانات میں شرکت کرنا ہوگی۔ ان امتحانات کے لیے مشکل کی سطح بھی مختلف ہوگی۔

سوشل میڈیا میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ گریجویٹ امیدواروں کو گریجویٹ اور 10+2 لیول کے عہدوں کے لیے اہل ہونے کا ناجائز فائدہ مل رہا ہے۔ اگر پہلے کی طرح گریجویٹ اور 10+2 لیول کی پوسٹوں کے لیے علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشن ہوتے تو انہیں دو الگ الگ امتحانات میں کامیاب ہونا ہوتا۔ اس پر ریلوے بورڈ نے کہا کہ وقت اور توانائی کی بچت کے لیے گریجویٹ اور 10+2 لیول کی آسامیوں کے لیے بھرتی کو مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے مرحلے کے کمپیوٹر پر مبنی امتحان کے معیارات کو 10+2 کی سطح پر رکھا گیا ہے تاکہ 10+2 سطح کے طلباء کو نقصان نہ پہنچے اور صرف دوسرے مرحلے کے امتحان میں ہی سطح مختلف ہوں گی۔

ریلوے بورڈ کے افسران نے امتحان میں شرکت کرنے والے امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے بہکاوے میں نہ آئیں اور دل لگا کر امتحان میں شرکت کریں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جدید ہندوستان کی تشکیل کے خالق، ممبئی کے چیتیہ بھومی پر گورنر جشنودیوورما کا خطاب، خراج عقیدت

Published

on

Dr.-Baba-Sahab

ممبئی : جدید ہندوستان کی تشکیل میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا تعاون بے مثال ہے۔ بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے تعلیم کو آزادی کے سب سے مؤثر ذریعہ کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے ایسے کالج قائم کیے جو سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طلباء کو پورا کرتے تھے اور معاشرے کے کمزور طبقات میں تعلیم کو پھیلانے میں بہت اہم اور متاثر کن کردار ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آئین کی مسودہ سازی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے، بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے بنیادی حقوق، چھوت چھات کے خاتمے جیسی آئینی دفعات کو یقینی بنایا۔ ڈاکٹر امبیڈکر مساوات کے علمبردار تھے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کی حمایت کی، تعلیم، جائیداد اور شخصی آزادی میں مساوی مواقع کی وکالت کی۔ گورنر جشنو دیو ورما نے اس عظیم انسان کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے ہی ہندوستان نے اپنے جمہوریہ کے پہلے دن سے ہی خواتین کو ووٹنگ کے مساوی حقوق دیئے۔

اس موقع پر گورنرجشنو دیو ورما نے کہا، “انڈو مل کمپاؤنڈ میں بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے لیے وقف ایک عظیم الشان یادگار کی تعمیر کی پیش رفت کے بارے میں جان کر مجھے خوشی ہوئی۔ سنیترا اجیت پوار، میئر ریتو تاوڑے، وزراء پرکاش امبیڈکربھیم راؤ امبیڈکر، اور دیگر معززین نے آج دادر میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر چیتیا بھومی یادگار پر گلہائے عقیدت پیش کیا ۔

قانون ساز کونسل کے چیئرمین پروفیسر رام شندے، قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انا بنسودے، ثقافتی امور اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اور ممبئی مضافاتی ضلع کے سرپرست وزیر آشیش شیلار، وزیر برائے ہنر روزگار کاروباری اور اختراع اور ممبئی مضافاتی ضلع کے جوائنٹ سرپرست وزیر منگل پربھات لودھا، خوراک، شہری فراہمی اور صارفین کے تحفظ کے وزیر جچھگن بھجبل، سماجی انصاف کے وزیرسنجے شرسات، مٹی اور پانی کے تحفظ کے وزیر سنجے راٹھوڑ، سابق وزیر وجے (بھائی) گرکر، ریاست مہاراشٹر کے چیف سکریٹری راجیش اگروال، سماجی انصاف ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ہرشدیپ کامبلے، سابق ایم پی راہل شیوالے، آل انڈیا بھیکھو سنگھ کے صدر ڈاکٹر راہل بودھی مہاتھرو، سابق وزیر دیپک کیسرکر، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے، کونکن ڈویژنل کمشنر روبل اگروال، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر سدانند دتے، ڈپٹی کمشنر (زون 2) پرشانت ساپکلے، جی نارتھ ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر ونائک ویزپوتے، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے پوتے بھیم راؤ امبیڈکر، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مہاپری نروان ڈے کوآرڈینیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری ناگسین کامبلے وغیرہ کے ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین اور ڈاکٹر باباصاحب کے پیروکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس موقع پر کہا کہ “ہم ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کو جتنا زیادہ سلام کریں گے، اتنی ہی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے ہمیں دکھایا ہے کہ ایک شخص کتنا انقلاب برپا کرسکتاہے۔ بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ایک ایسی شخصیت ہیں کہ اگر دنیا بھر میں کسی بھی شخص کی یوم ولادت موقع پر سب سے زیادہ پروگرام منعقد کیے جائیں تو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر” رتنا ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ہمیں دنیا کے کونے کونے میں یہ پروگرام دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ پروگرام ایک طرح سے ان کے کام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے اپنے مقالے “ہندوستانی روپے کے مسائل” میں ہندوستان میں ایک مرکزی بینک کی ضرورت کا ذکر کیا تھا۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی تھی کہ برسوں سے ہماری کرنسی (کرنسی) چاندی کے معیار پر چلی آرہی ہے، اسے ختم کرکے سونے کا معیار بنایا جائے۔ اور تیسرا، انہوں نے کہا تھا کہ یعنی شرح مبادلہ کو نہ دیکھو، کرنسی کی قوت خرید کو دیکھو۔

بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے 1923 میں جو تجویز پیش کی تھی وہ آج کی عالمگیر معیشت میں سب سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے آئین نے ہماری معیشت کی تعمیر کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب ہم دنیا کی تیسری معیشت ہیں اور جلد ہی ہم دوسرے اور پہلی کی طرف پوزیشن مقام حاصل کریں گے۔ ہمارا آئین اس ترقی کی سمت ہے اور اس آئین کے مصنف بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ہیں۔

نائب وزیراعلی ایکناتھ شندے نے آج کے پروگرام میں حاضرین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، “آج، بھیم ساگر چیتیا بھومی پر پرواز کر گیا ہے۔ اور میں اس تمام بھیم ساگر کو سلام کرتا ہوں۔ آج، ہم سب ایک حکمت کے سورج کو سجدہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، ہم اسے سلام کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں یہ صرف امبیڈکر کا یوم ولادت ہی نہیں پورے ہندوستان کے ضمیر اور عزت نفس کا جشن ،باباصاحب نے ملک کو عزت نفس دی ،مساوات اور انسانیت کی سمت دکھانے کا کام بابا صاحب نے کیا۔ باباصاحب نہ صرف آئین کے معمار ہیں بلکہ وہ سب سے پہلے انسانیت کے معمار بھی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدات متاثر، رئیس شیخ کا ریاست سے پیکج کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے بھارت کی ٹیکسٹائل کی برآمدات متاثرہے اور سوتی اور دھاگے جیسے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اس صنعت میں ہفتے میں تین دن لاک ڈاؤن ہے۔ اس لیے اس صنعت کو بچانے کے لیے بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریاست کی عظیم اتحاد حکومت سے خصوصی مالی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور ٹیکسٹائل کے وزیر سنجے ساوکرے کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے فوری خصوصی مالیاتی پیکج کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ اسٹیٹ ٹیکسٹائل کارپوریشن کی جانب سے کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مارچ 2026 کے مہینے میں 4000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریاست میں 9 لاکھ 48 ہزار پاور لومز اور 4 ہزار ہینڈلوم ہیں۔ ملک میں 39 فیصد پاور لومز اکیلے مہاراشٹر میں ہیں۔ اگر حکومت نے اس صنعت کی مدد نہ کی تو کورونا کے دور کی طرح مزدوروں کی ریورس مائیگریشن شروع ہو جائے گی ٹیکسٹائل انڈسٹری واحد صنعت ہے جو زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتی ہے۔ بھیونڈی، مالیگاؤں اور اچل کرنجی ٹیکسٹائل کی صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے اس صنعت کا خام مال اور برآمدی سلسلہ تباہ ہو گیا ہے اور ہفتے میں دو دن پیداوار معطل ہے۔ اس پس منظر میں ایم ایل اے رئیس شیخ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس صنعت کو فوری مالی پیکیج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
بنیادی طور پر یہ صنعت مہنگی بجلی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ اقتصادی لحاظ سے اہم اس صنعت کی برآمدات رک جانے سے تباہی کا خدشہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست میں لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ایم ایل اے رئیس شیخ نے خط میں پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مالیاتی پیکج کا اعلان کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ڈونگری میں مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں پر حملہ، 4 ملزمین گرفتار، کشیدگی امن قائم

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈونگری میں مولانا سید خالد اشرف المعروف خالد میاں پر حملہ کے بعد ممبئی نے اقدام قتل کا کیس درج کر چار ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے خالد اشرف اوران کے فرزند پر حملہ سے ممبئی میں کشیدگی پھیل گئی ان کے مریدین جوق درجوق پولس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد آج علما اہلسنت والجماعت نے خالد اشرف پر حملہ کے تناظر خاطیوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ آج علما اہلسنت اور آل انڈیا جماعت العلما نے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے پولس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملزمین پر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں کی سربراہی میں ایک وفد نے دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی۔ مولانا خالد اشرف نے کہا کہ مجھے ڈرگس فروشوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جس وقت ان حملہ آور منشیات فروشوں مجھ پر اور میرے فرزند پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ وہی مولانا ہے جو ڈرگس کے خلاف موومنٹ چلاتا ہے۔ اس لیے پولس کمشنر سے مولانا خالد اشرف نے یہ درخواست کی ہے کہ علما پر حملہ کرنا سراسر غلط ہے ایسے میں ان غنڈوں پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ پولس کی کارروائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی علما کرام اور عمائدین شہر کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس مصبیت کی گھڑی میں میں تنہا ہوں, اس لئے سبھی کا شکریہ اس کے ساتھ مولانا خالد اشرف نے مریدین اور متعلقین سے یہ درخواست کی کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے, اتنا ہی نہیں اشتعال انگیزی سے بھی اجتناب کرے جو بھی ہمارے مداح اور چاہنے والے ہیں وہ قطعی غلط حرکت نہیں کریں گے۔
علما منشیات فروشوں کے نشانے پر :
حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے آج خالد اشرف پر حملہ کے معاملہ میں پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب علما کرام اور سفید پوش منشیات فروشوں کے نشانے پر ہے۔ اس کا مقصد عام عوام میں دہشت پیدا کرنا ہے اس لئے پولس سے مولانا معین میاں نے درخواست کی ہے کہ ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی ہو جو علما کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں مولانا خالد اشرف نے منشیات کے خلاف تحریک شروع کی تھی, اس کا اثر ممبئی میں بھی منشیات فروشوں پر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منشیات فروشوں کا ایک ریکیٹ کام کرتا ہے جو منشیات فروشی کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف مہم چلا کر اسے سوشل میڈیا میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے منشیات فروش گینگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے معین میاں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولس نے جو کارروائی کی ہے وہ اطمینان بخش ضرور ہے۔ لیکن ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ اس وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری اور مولانا انیس اشرفی بھی شامل تھے۔ مولانا خالد اشرف پر حملہ کے الزام میں ڈونگری پولس نے مجید لالہ پٹھان، راحیل پٹھان، ساحل پٹھان اور پیرو کو گرفتار کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ان حملہ آوروں نے مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں کو ڈنڈوں لاٹھی سے حملہ کر کے زدوکوب کیا جس کے سبب وہ اب بھی زخمی ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان