سیاست
اگلے سال بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ بنگال میں حکومت سازی کرے گی:امت شاہ

اس دعویٰ کے ساتھ کہ بنگال میں تبدیلی ناگزیر ہے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج کہ ہے کہ اگلے سال2021میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کرے گی مغربی بنگال کے بانکوڑہ ضلع کے پوباگن میں انقلابی لیڈربرسا منڈا کے مجسمے پرگل پوشی کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کے تئیں عوامی مقبولیت نظر آرہی ہے اس سے یہ قوی امید پیدا ہوگیا ہے کہ اگلے سال اسمبلی انتخاب میں تبدیلی ضرور ہوگی اور ممتا بنرجی کا زوال یقینی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مغربی بنگال کو ’’ سونار بنگلہ ‘‘ میں تبدیل کردیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی غریبوں کے لئے مرکزی حکومت کی تمام اسکیموں کو روک دی ہے۔کسانوں کو فنڈ نہیں مل رہا ہے اور ایوشمان بھارت جیسی مقبول اسکیم سے بھی عوام کو محروم کردیا گیا ہے ۔مرکزی حکومت کی 80اسکیمیں جسے بنگال نے نافذ نہیں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ممتا بنرجی یہ سمجھتی ہےں کہ مرکزی اسکیموں کو روک کر وہ یہ سمجھتی ہیں کہ بنگال میں بی جے پی کو روک لیں گی تو وہ غلطی پر ہیں ۔ہم یقینا دو تہائی اکثریت سے 2021 میں بنگال میں حکومت بنانے جا رہے ہیں۔
شاہ جمعرات کی صبح بانکوڑہ پہنچے اور ضلع کے پوباگن میں برسا منڈا کے مجسمے کی گل پوشی کی اور اس کے بعدجنگل محل بانکوڑہ، پرولیا، جھاڑگرام اور مدنی پور اضلاع کے بی جے پی کارکنان کے ساتھ میٹنگ میں شرکت کیلئے روانہ ہوگئے ۔
میٹنگ کے بعد امیت شاہ سے بانکوڑہپولیس اسٹیشن کے تحت واقع چتردیہی گاؤں کا دورہ کیا اور یومیہ مزدوروی کرنے والے سنتھالی خاندان کے بی بیشن منڈی کے گھر دوپہر کا کھانا کھایا۔اس کے بعد امیت شاہ قبائلی نمائندوں کے ساتھ ملاقات کریں اور ان کے مسائل و مطالبات پر کو سنیں گے۔
6 نومبر کو وہ ہندوستانی کلاسیکی گلوکار پنڈت اجئے چکرورتی سے ملنے کے علاوہ شمالی 24پرگنہ ضلع کے جیوتی نگر میں متوا کے کنبہ کے ایک ممبر کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔
خیال رہے کہ جنگل محل کے علاقے میں بڑی تعداد میں شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کی آبادی ہے ۔ان کے ووٹ کی حصہ داری 40فیصد ہے ۔گزشتہ دس سالوں سے یہ طبقات ترنمول کانگریس کے ساتھ تھے مگر لوک سبھا انتخاب میں یہاں سے پرولیا، بانکوڑہ ،بشنو پور ، جھاڑ گرام اور مدنی پور لوک سبھا حلقے سے بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔اس لحاظ سے امیت شاہ کا یہ دورہ بہت ہی اہم ہے۔
ایک دن قبل ہی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی متوا سماج اور دیگر قبائلی رہنمائوں سے ملاقات کی تھی اور ان کےلئے مختلف اسکیموں کا اعلان کیا تھا۔
متوا کمیونٹی مغربی بنگال کا ایک بہت ہی اہم مذہبی گروہ ہے۔ 100کے قریب اسمبلی حلقوں میں متوا سماج کے ووٹر اثرانداز ہوتے ہیں۔ترنمول کانگری اور بی جے پی دونوں متوا سماج کا اعتمادجیتنے کی کوشش کررہی ہے ۔اسی کے تحت کل امیت شاہ متواج سماج سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے گھرکھانا کھائیں گے۔
کل وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے متوا سماج سے اپنے تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے متوا سماج سے قدیم تعلقات رہے ہیں اور کچھ لوگ صرف ووٹ حاصل کرنے کےلئے متوا سماج کی بات کررہے ہیں اور اب ان کےلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں متواج سماج کی ترقی کےلئے بہت سے اقدامات کئے ہیں ۔متواج سماج کی سربراہ بڑی ماں سے متعلق ممتا بنرجی نے کہا کہ میں ان کے پاس آتی جاتی رہتی تھی اور ان کی ہمدردی اور آشیرواد مجھے حاصل تھا۔کل ممتا بنرجی متواسماج کےلئے ترقیاتی بورڈ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے دس کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ممتا بنرجی نے امیت شاہ کے ذریعہ شہریت ترمیمی ایکٹ سے متعلق کچھ بھی بولنے سے قبل ہی یہ اعلان کیا کہ ریاستی ومرکزی حکومت کی زمین پر گھربناکررہنے والے تمام رفیوجیوں کو مالکانہ حق حاصل ہوگا اور انہیں کوئی بھی زمین سے محروم نہیں کرسکتا ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ میں نے ریلوے اسٹیشن، کالج اور یونیورسٹی بنائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹھاکرباری سے ملحقہ پورے علاقے کی ترقی کے لئے محکمہ سیاحت سے ایک خصوصی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انکول ٹھاکر کے آشرم چکلہ اور کچوا لوک ناتھ مندروں کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہا کہ میں ذات پات، مذہبی تفریق سے اوپر اٹھ کر کام کرنے میں یقین رکھتی ہوں ۔
سیاست
شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔
انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔
سیاست
وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔
ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا