Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

زیر سماعت قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کے مظاہرے کی ضرورت : مودی

Published

on

MODI.

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلی عدالتوں کی کارروائی میں علاقائی زبانوں کو شامل کرنے اور عدالتی عمل کو آسان اور کم خرچ والا بنانے کے لیے جدید وسائل اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔

مسٹر مودی نے جیلوں میں انصاف کے منتظر قیدیوں کے معاملات میں حساس طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو زیر سماعت قیدیوں کے مقدمات کا فیصلہ انسانی جذبات اور قانون کی بنیاد پر ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے، اور اگر ممکن ہو تو اس طرح کے قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

مسٹر مودی ہفتہ کو وگیان بھون میں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ افتتاحی اجلاس سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور وزیر قانون کرن رجیجو نے بھی خطاب کیا۔

جسٹس رمنا نے مسٹر مودی کے سامنے اپنے بیان میں عدالتی عمل میں ہندوستانی زبانوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح کی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ججوں اور عدالتی افسران کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم مودی نے وزرائے اعلیٰ سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ لوگوں کو غیر ضروری قوانین کے چنگل سے نجات دلانے کے لیےان قوانین کو ختم کرنے کی پہل کریں جو اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں مرکزی حکومت نے 1,800 ایسے قوانین کی نشاندہی کی تھی جو اپنی اہمیت وافادیت گنوا چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے 1450 قوانین کو مرکز نے ختم کر دیا ہے، لیکن ریاستوں کی طرف سے صرف 75 قوانین ختم کئے گئے ہیں۔

مسٹر مودی نے زیر سماعت قیدیوں کی حالتِ زار کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 3.5 لاکھ قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر غریب یا عام لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں تمام وزرائے اعلیٰ، ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز سے اپیل کروں گا کہ وہ انسانی جذبات اور قانون کی بنیاد پر ان معاملات کو ترجیح دیں۔‘‘

اس تناظر میں مسٹر مودی نے کہا کہ ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہوتی ہے جو اس طرح کے معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، زیر سماعت قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

مسٹر مودی نے عدالتوں میں مقامی زبانوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا، “اس سے ملک کے عام شہریوں کا نظام انصاف میں اعتماد بڑھے گا اور وہ اس سے جڑے ہوئے محسوس کریں گے۔” انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سوراج کی بنیاد انصاف ہے۔ انصاف عوام کی زبان میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان سماجی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی وجہ سے عدالتی فیصلوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عام لوگ عدالتوں کے فیصلوں اور حکومتی احکامات میں فرق نہیں کر پاتے۔

مسٹر مودی نے کہا، ’’سماجی انصاف کے لیے عدلیہ کے ترازو تک جانے کی ضرورت نہیں ہوتی، کئی بار زبان بھی سماجی انصاف کا ذریعہ ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ بہت سی ریاستوں نے مادری زبان میں تکنیکی اور طبی تعلیم فراہم کرنے کی پہل کی ہے۔

مسٹر مودی نے عدلیہ میں ٹکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “حکومت ہند بھی عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کو ڈیجیٹل انڈیا مشن کا ایک لازمی حصہ سمجھتی ہے۔” انہوں نے کہا ای – عدالت منصوبوں کو آج ایک مہم کی طرح نافذ کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نےہندوستان میں ہو رہے ڈیجیٹل انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں اور یہاں تک کہ دیہاتوں میں بھی ڈیجیٹل لین دینا عام ہو گیا ہے۔ دنیا کے تمام ڈیجیٹل لین دین میں سے 40 فیصد لین دین ہندوستان میں ہوئے۔ اسی تناظر میں انہوں نے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق قانونی کورسز میں نئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آج کل بہت سے ممالک کی لاء یونیورسٹیوں میں بلاک چین، الیکٹرانک ڈسکوری، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، آرٹیفیشل کلاؤڈ اور بائیو ایتھکس جیسے مضامین پڑھائے جانے لگے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے ملک میں بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی تعلیم ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں معاملات کے تصفیہ کے لئے ثالثی اہم ہے، ملک میں ثالثی کے ذریعہ اختلافات کو ختم کرنے کی پرانی روایت ہے۔ یہ انصاف کا ایک مختلف انسانی تصور ہے اور یہ روایت آج بھی ملک میں جاری ہے۔ ملک نے ان روایات کو کھویا نہیں ہے، ہمیں انہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے انصاف سستا اور قابل رسائی ہوتا ہے اور بروقت ملتا ہے۔ اس سے انسانی رشتوں کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔

مسٹر مودی نے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ثالثی بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا میں ثالثی کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس ہمارے آئینی حسن کی زندہ عکاسی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وزرائے اعلیٰ اور چیف جسٹسز کی یہ کانفرنس ملک میں ایک موثر اور وقت کے پابند عدالتی نظام کے لئے آگے کا خاکہ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھانے کے لیے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور آئی ٹی کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر ججوں کی اسامیوں کو پر کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اس میں ریاستوں کا بڑا رول ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کا کردار آئین کے محافظ کا ہے اور مقننہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ آزادی کے امرت میں ہمیں ایک ایسے عدالتی نظام کا خواب دیکھنا چاہیے جس میں انصاف فوری اور سب کے لیے ہو۔ مجھے یقین ہے کہ آئین کی ان دو ندیوں کا یہ سنگم، ملک میں موثر اور وقت کے پابند عدالتی نظام کے مستقبل کا نقشہ تیار کرے گا۔ آزادی کے گزشتہ 75 برسوں میں عدلیہ اور ایگزیکٹو دونوں کے کردار اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ جب بھی ضرورت پڑی دونوں کے درمیان تعلقات مسلسل اس طرح پروان چڑھے کہ ملک کو درست سمت ملتی رہی۔

انہوں نے کہا، “ہماری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو کس طرح اس قابل بنائیں کہ یہ 2047 کی امنگوں پر پورا اتر سکے۔”

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔

مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔

Continue Reading

سیاست

چیف جسٹس کو کور کمیٹی پر ہنگامہ آرائی کا سامنا دو نوجوانوں نے ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔

Published

on

Abhijeet-Dipke

چھترپتی سنبھاجی نگر : مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں سی جے پی کی کور کمیٹی کو لے کر ایک تنازعہ چھڑ گیا ہے۔ نوجوانوں کا ایک گروپ ابھیجیت ڈپکے کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوا، پارٹی قیادت پر اقربا پروری اور جانبداری کا الزام لگا۔ انہوں نے جنتر منتر طلبہ تحریک سے وابستہ تمام رابطہ کاروں کی نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جنتر منتر پر طلبہ تحریک کے آغاز سے ہی سرگرم ہیں اور کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حالیہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں ابھیجیت ڈپکے کے قریبی اور جاننے والوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا، جبکہ تحریک سے وابستہ بہت سے کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کی تحریک تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 450 لوگ جنتر منتر تحریک سے کوآرڈینیٹر کے طور پر وابستہ تھے، لیکن انہیں میٹنگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ نوجوانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا کے ساتھ میٹنگ اور تحریک کو لے کر دیر رات تک بات چیت جاری رہی، لیکن انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ مظاہرین نے انتباہ دیا ہے کہ وہ ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر بھوک ہڑتال کریں گے اور اس وقت تک دھرنا اور بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک تحریک میں شامل تمام نوجوانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جاتی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے CJP کے کارکن منیش برہم بھٹ نے کہا، “ایک گروپ بنایا گیا ہے، اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر معاملات جمہوری طریقے سے آگے بڑھے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔ ہمیں آپ کے سامنے یہ بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی، اور ہمیں اس پر برا لگتا ہے۔ لیکن جب تک ہم آواز نہیں اٹھائیں گے، ہماری بات نہیں سنی جائے گی۔ ہمیں یہ احساس ہوا کہ رات کے 1 بجے کے قریب ہمیں یہ بات ہوئی۔” آج سے یہ قدم اٹھائیں، جب تک تمام فیصلے شفاف طریقے سے نہیں ہوتے، تب تک ہم اس تحریک کو ملک کے لیے حقیقی تحریک نہیں کہہ سکتے۔

منیش برہم بھٹ نے کہا، “میرا مقصد اور ہمارے تمام ساتھیوں کا مقصد واضح ہے، بشمول 100، 200، یا 500 لوگ وہاں بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ صرف چند ایک ہی فیصلے کیوں کر رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، تو فیصلے جمہوری طریقے سے ہونے چاہئیں۔ میٹنگوں میں خاندان کے افراد اور دوستوں کو بٹھانا اور دوسروں کو سننے کے قابل نہ ہونے سے روکنا اور غیر اہم مسائل کو قبول کرنے سے روکنا ہے۔ اس تحریک میں شروع سے ہی جانبداری کو ناگوار ہونا چاہیے تھا۔”

منیش برہم بھٹ نے کہا، “حال کچھ بھی ہو، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جو لوگ شریک ہوئے انہیں سمجھنا چاہیے کہ کل راہول گاندھی نے پانچ لوگوں کو مدعو کیا تھا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے، انہیں مدعو کر کے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ اگر ہم اس طرح تحریک جاری رکھتے تو کب تک چلے گا؟”

منیش برہم بھٹ نے کہا، “حالات کچھ بھی ہوں، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جن لوگوں نے شرکت کی انہیں سمجھنا چاہیے- راہول گاندھی نے کل پانچ لوگوں کو بلایا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگ تکلیف میں ہیں، انہیں بلایا جانا چاہئے تھا اور مشورہ کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر ہم یہ تحریک کتنی دیر تک جاری رہے گی؟”

چیف جسٹس کے کارکن نے کہا، “ہم یہاں بیٹھے ہیں، ہم یہیں رہیں گے جب تک ٹیم تمام رضاکاروں، ہر ریاست کے نمائندوں کو تحریک میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کرتی، بغیر کسی اقربا پروری یا جانبداری کے، اور فیصلے جمہوری طریقے سے کیے جاتے ہیں، تب تک یہ ایک قومی تحریک نہیں بنے گی، ملک کو مستقبل میں دوبارہ دھوکہ دینے سے روکنے کے لیے، ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کا احتساب کریں، تحریک انصاف کے لیے اب ہم سب کا احتساب کرنا چاہتے ہیں۔ شفاف تحریک”

Continue Reading
Advertisement

رجحان