Connect with us
Thursday,18-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

قومیں مشکل حالات سے نبرد آزما ہو کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں : سید سعادت اللہ حسینی

Published

on

S.-Saadatullah-Hussaini

ممبئی : جماعت اسلامی مہاراشٹر کے زیر اہتمام اور مجلس العلما تحریک اسلامی مہاراشٹر کے اشتراک سے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی راہیں ڈھونڈنے اور ملت کو مایوسی سے نکال کر راہ عمل میں مصروف کرنے کے مقصد سے ممبئی کے اسلام جمخانہ میں ’’موجودہ حالات میں ملت کی تمکین و ترقی کا لائحہ عمل‘‘ عنوان سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں منعقد اس مذاکرہ میں عمائدین شہر، سماجی کارکنان اور صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ لائحہ عمل کے ساتھ عمل پر سختی سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا اللہ تعالیٰ اس امت کو مستحکم امت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ اس کافائدہ دنیائے انسانیت کو پہنچے۔ خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان عالم انسانیت کیلئے خود کو بہتر ثابت کریں۔ امت کیلئے قابل شکر بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایک دین ہے جس میں ہمارے لئے رہنمائی ہے۔ ہمارے سامنے نبی کا مدنی ماڈل ہے جس نے انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا۔موجودہ حالات میں اگر ہم نے امت کی درست سمت میں رہنمائی کی تو یقین جانیں یہ حالات بدلیں گے۔ موجودہ نفرت کے ماحول میں جہاں بہت سے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں تو کیا اس صورتحال میں ہمارا رویہ منفی ہونا چاہئے؟ ہم تو خیر امت ہیں ہمارا کام تو خیر و فلاح ہے۔ نبی کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین رہنمائی ہے کہ اخلاقی بگاڑ کے انتہا کے دور میں اللہ نبوت عطا کی لیکن نبی نے ان حالات کو کیسے تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی اللہ پر ایمان اپنے رب سے خصوصی تعلق اور وسیع تر منصوبے کے ساتھ میدان عمل میں آنا۔

امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’یقینا ہم تاریخ کے مشکل ترین حالات میں سے یہ دور بھی ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ لیکن قوم میں یہ مزاج پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کیلئے حالات ان کی تبدیلی ان کے عروج یا نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے ایک پروفیسر کے حوالے سے یہ بات کہی کہ قوموں کا عروج کبھی عام حالات میں نہیں ہوتا وہ مشکل ترین حالات سے لڑ کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں۔ قوموں پر وہ وقت آتا ہے جب ان کا وجود خطرے میں ہو تو اس سے نکلنے کیلئے نئی راہیں تلاش کرتی ہیں جس سے وہ مشکل حالات سے نکلتی ہیں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے موجودہ حالات اللہ تعالیٰ کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہوسکتا ہے امت کو جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی اور اسے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی۔ میرا مشورہ جوانوں کو ہے وہ ان حالات میں خود کو بچانے کی تدبیر کے ساتھ ہی اس کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کمزوریاں اور خرابیاں دور کریں گے، اپنی توانائیوں کو نیا رخ دیں گے۔ ہم مسائل کا رونا چھوڑ کر حالات سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں یہی ہمارے مصائب کے خاتمہ کا سبب بنے گا۔ امت میں مقصد کا شعور جگانا اور مقصد کی اساس پر پوری امت کو متحد کرنا یہ ہماری کوشش اور ترجیح ہو۔ امیر جماعت نے بعض احباب کی اس بات اتفاق کیا کیا امت تعلیم کی جانب متوجہ ہوئی تو اس کے نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔اب اسی طرح سے ہماری منظم کوشش معاشی ترقی کیلئے ہو۔ جماعت اسلامی ہند اس سلسلے میں ملت کی معاشی ترقی کیلئے کئی کوشش کررہی ہے۔

انقلاب ممبئی کے مدیر شاہد لطیف نے مسلمانوں میں در آئی بعض بری رسموں پر گفتگو کی، مسلمانوں کو ان کا مقصد یاد دلایا، ساتھ ہی انہوں نے ملک و قوم کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پربھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر کہیں موجود بھی ہیں تو اس کی تفصیلات خود ہمیں نہیں معلوم, ہم صرف دشمنوں کو کوستے ہیں لیکن ہمیں جو عملی قدم اٹھانا چاہئے وہ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ امت اپنے مقصد حقیقی سے کیسے واقف ہوگی اور وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کی پوزیشن میں کب آئے گی۔ انہوں نے تین طلاق کے معاملہ میں سوال کیا کہ ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں اس کے اعداد و شمار بھی ہمارے پاس نہیں کہ ہم الزام لگانے والوں اور عدالت یہ باور کراسکتے کہ تین طلاق کے سلسلے میں مفروضے محض قیاس ارائیاں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے ہمیں اس سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا ظہیر عباس رضوی نے مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف علما و ائمہ مساجد کی ہی ذمہ داری نہیں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں، ان کی خبر گیری کریں کہ ان کا بچہ رات کے دوبجے تک کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں کے اخلاقی بگاڑ پر بہت سختی کے ساتھ کہا کہ ہم میں اگر اخلاق نہیں تو ہم مسلمان ہی نہیں۔ معروف سماجی کارکن سلیم الوارے نے کہا آج جو حالات ہیں یہ پہلی بار نہیں آئے ہیں نہ ہی اچانک حالات نے کروٹ بدلی بلکہ یہ آزادی ہند کے وقت سے ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بتایا کہ آزادی کے سال لے کر چار پانچ سالوں تک مسلم گائوں محلوں کے افراد راتوں کو کسی ممکنہ حملہ کے خدشہ کے تحت راتوں کو پہرہ دیتے تھے۔ مولانا محمود دریا آبادی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ حالات تو یقینا پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کیلئے گفتگو کریں اور مسلسل کرتے رہیں نیز کسی بھی ایسے معاملہ میں جس میں مسلمانوں کیخلاف ظلم و تشدد ہوا ہو، عدالت کا رخ کریں خواہ فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مولانا نے کہا کہ جلد یا بدیر مسلسل کوششوں سے کامیابی مل سکتی ہے۔ اجلاس میں بوہرہ کمیونٹی کے شبیر بھوپال والا اور مولانا منظر احسن سلفی سمیت کئی سماجی کاررکنان نے اپنی رائے رکھی۔ نظامت کے فرائض مولانا نصیر اصلاحی ناظم اعلیٰ مجلس العلما نے انجام دیئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان