Connect with us
Wednesday,05-August-2026

(جنرل (عام

قومیں مشکل حالات سے نبرد آزما ہو کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں : سید سعادت اللہ حسینی

Published

on

S.-Saadatullah-Hussaini

ممبئی : جماعت اسلامی مہاراشٹر کے زیر اہتمام اور مجلس العلما تحریک اسلامی مہاراشٹر کے اشتراک سے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی راہیں ڈھونڈنے اور ملت کو مایوسی سے نکال کر راہ عمل میں مصروف کرنے کے مقصد سے ممبئی کے اسلام جمخانہ میں ’’موجودہ حالات میں ملت کی تمکین و ترقی کا لائحہ عمل‘‘ عنوان سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں منعقد اس مذاکرہ میں عمائدین شہر، سماجی کارکنان اور صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ لائحہ عمل کے ساتھ عمل پر سختی سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے امیر حلقہ مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا اللہ تعالیٰ اس امت کو مستحکم امت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ اس کافائدہ دنیائے انسانیت کو پہنچے۔ خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان عالم انسانیت کیلئے خود کو بہتر ثابت کریں۔ امت کیلئے قابل شکر بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایک دین ہے جس میں ہمارے لئے رہنمائی ہے۔ ہمارے سامنے نبی کا مدنی ماڈل ہے جس نے انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کیا۔موجودہ حالات میں اگر ہم نے امت کی درست سمت میں رہنمائی کی تو یقین جانیں یہ حالات بدلیں گے۔ موجودہ نفرت کے ماحول میں جہاں بہت سے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوگئے ہیں تو کیا اس صورتحال میں ہمارا رویہ منفی ہونا چاہئے؟ ہم تو خیر امت ہیں ہمارا کام تو خیر و فلاح ہے۔ نبی کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین رہنمائی ہے کہ اخلاقی بگاڑ کے انتہا کے دور میں اللہ نبوت عطا کی لیکن نبی نے ان حالات کو کیسے تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی اللہ پر ایمان اپنے رب سے خصوصی تعلق اور وسیع تر منصوبے کے ساتھ میدان عمل میں آنا۔

امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’یقینا ہم تاریخ کے مشکل ترین حالات میں سے یہ دور بھی ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ لیکن قوم میں یہ مزاج پید اکرنے کی ضرورت ہے کہ قوموں کیلئے حالات ان کی تبدیلی ان کے عروج یا نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہوں نے ایک پروفیسر کے حوالے سے یہ بات کہی کہ قوموں کا عروج کبھی عام حالات میں نہیں ہوتا وہ مشکل ترین حالات سے لڑ کر ہی عروج پر پہنچتی ہیں۔ قوموں پر وہ وقت آتا ہے جب ان کا وجود خطرے میں ہو تو اس سے نکلنے کیلئے نئی راہیں تلاش کرتی ہیں جس سے وہ مشکل حالات سے نکلتی ہیں۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے موجودہ حالات اللہ تعالیٰ کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہوسکتا ہے امت کو جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کی اور اسے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی۔ میرا مشورہ جوانوں کو ہے وہ ان حالات میں خود کو بچانے کی تدبیر کے ساتھ ہی اس کی بھی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کمزوریاں اور خرابیاں دور کریں گے، اپنی توانائیوں کو نیا رخ دیں گے۔ ہم مسائل کا رونا چھوڑ کر حالات سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں یہی ہمارے مصائب کے خاتمہ کا سبب بنے گا۔ امت میں مقصد کا شعور جگانا اور مقصد کی اساس پر پوری امت کو متحد کرنا یہ ہماری کوشش اور ترجیح ہو۔ امیر جماعت نے بعض احباب کی اس بات اتفاق کیا کیا امت تعلیم کی جانب متوجہ ہوئی تو اس کے نتائج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔اب اسی طرح سے ہماری منظم کوشش معاشی ترقی کیلئے ہو۔ جماعت اسلامی ہند اس سلسلے میں ملت کی معاشی ترقی کیلئے کئی کوشش کررہی ہے۔

انقلاب ممبئی کے مدیر شاہد لطیف نے مسلمانوں میں در آئی بعض بری رسموں پر گفتگو کی، مسلمانوں کو ان کا مقصد یاد دلایا، ساتھ ہی انہوں نے ملک و قوم کی ترقی میں مسلمانوں کے کردار پربھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر کہیں موجود بھی ہیں تو اس کی تفصیلات خود ہمیں نہیں معلوم, ہم صرف دشمنوں کو کوستے ہیں لیکن ہمیں جو عملی قدم اٹھانا چاہئے وہ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ امت اپنے مقصد حقیقی سے کیسے واقف ہوگی اور وہ اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کی پوزیشن میں کب آئے گی۔ انہوں نے تین طلاق کے معاملہ میں سوال کیا کہ ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں اس کے اعداد و شمار بھی ہمارے پاس نہیں کہ ہم الزام لگانے والوں اور عدالت یہ باور کراسکتے کہ تین طلاق کے سلسلے میں مفروضے محض قیاس ارائیاں ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے ہمیں اس سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا ظہیر عباس رضوی نے مسلمانوں میں اخلاقی بگاڑ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف علما و ائمہ مساجد کی ہی ذمہ داری نہیں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کریں، ان کی خبر گیری کریں کہ ان کا بچہ رات کے دوبجے تک کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں کے اخلاقی بگاڑ پر بہت سختی کے ساتھ کہا کہ ہم میں اگر اخلاق نہیں تو ہم مسلمان ہی نہیں۔ معروف سماجی کارکن سلیم الوارے نے کہا آج جو حالات ہیں یہ پہلی بار نہیں آئے ہیں نہ ہی اچانک حالات نے کروٹ بدلی بلکہ یہ آزادی ہند کے وقت سے ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بتایا کہ آزادی کے سال لے کر چار پانچ سالوں تک مسلم گائوں محلوں کے افراد راتوں کو کسی ممکنہ حملہ کے خدشہ کے تحت راتوں کو پہرہ دیتے تھے۔ مولانا محمود دریا آبادی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ حالات تو یقینا پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کیلئے گفتگو کریں اور مسلسل کرتے رہیں نیز کسی بھی ایسے معاملہ میں جس میں مسلمانوں کیخلاف ظلم و تشدد ہوا ہو، عدالت کا رخ کریں خواہ فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مولانا نے کہا کہ جلد یا بدیر مسلسل کوششوں سے کامیابی مل سکتی ہے۔ اجلاس میں بوہرہ کمیونٹی کے شبیر بھوپال والا اور مولانا منظر احسن سلفی سمیت کئی سماجی کاررکنان نے اپنی رائے رکھی۔ نظامت کے فرائض مولانا نصیر اصلاحی ناظم اعلیٰ مجلس العلما نے انجام دیئے۔

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان