Connect with us
Friday,16-October-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی میں ’ایس آئی آر‘ کے دوران 49 فیصد ووٹروں کے نام حذف

Published

on

ممبئی : بھیونڈی ایسٹ میں انتخابی فہرستوں کی ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) یعنی ’خصوصی تفصیلی نظرثانی‘ کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ فہرستوں سے 1.84 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ شیخ نے مزید بتایا کہ ’ایس آئی آر‘ کے عمل سے قبل اس حلقے میں 3,76,138 ووٹرز تھے، جن میں سے 1,91,097 (51 فیصد) کی تصدیق (میپنگ) ہوئی، جبکہ 1,84,716 (49 فیصد) ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے۔ رئیس شیخ نے مزید کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) میں شکایت درج کرائی ہے، انتخابی دھاندلی کے ثبوت پیش کیے ہیں اور غیر قانونی طور پر ہٹائے گئے ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمعرات کو اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ایک ’پاور پوائنٹ پریزنٹیشن‘ پیش کی جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ان کے انتخابی حلقے ’بھیونڈی ایسٹ‘ میں ’ایس آئی آر‘ کے عمل کے دوران کس طرح انتخابی دھاندلی کی گئی ۔انہوں نے اس سلسلے میں معاون ثبوت بھی فراہم کیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ “بھیونڈی میں ایس آئی آر (ایس آئی آر) عمل کے دوران 42,430 ووٹروں سے متعلق بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 25,230 ووٹروں کے ریکارڈ میں تضادات پائے گئے۔ صرف 191,097 ووٹروں کی ہی میپنگ (اندراج/نشاندہی) کی گئی، جبکہ 17,200 ووٹرز اس عمل سے باہر رہ گئے۔”

ایم ایل اے رئیس شیخ نے جاری ایس آئی آر عمل کو ‘انتخابی دھاندلی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات میں ایک مخصوص نظریے کی حامل سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔ شیخ نے مطالبہ کیا کہ “اس عمل کے دوران جن ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ہیں انہیں بحال کیا جائے، ایس آئی آر عمل کو من مانے طریقے سے نافذ کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں، اور جو بھی ذمہ دار پایا جائے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔” مسئلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ جو ووٹرز بدستور بھیونڈی میں رہائش پذیر ہیں، انہیں ایس آئی آر عمل کے دوران غلطی سے ‘مستقل طور پر نقل مکانی کرنے والا’ (یعنی علاقہ چھوڑ کر جانے والا) ظاہر کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اگرچہ ہزاروں ووٹروں نے ‘انومریشن فارمز’ (ای ایف ایس) پُر کیے تھے، پھر بھی ان کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹا دیے گئے۔ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کی تحویل میں موجود کئی ‘انومریشن فارمز’ (درخواستیں) غائب ہو گئیں۔”شیخ نے مزید کہا کہ بھیونڈی ایسٹ حلقے میں ایس آئی آر عمل کے دوران کئی من مانی کارروائیاں کی گئیں۔ شیخ نے بتایا کہ “علاقے کے رہائشی ووٹروں کے خلاف ‘فارم 7’ کے تحت اعتراضات دائر کیے گئے۔ یہ اعتراضات ان لوگوں کی جانب سے دائر کیے گئے جو مقامی رہائشی نہیں تھے اور متعلقہ ووٹروں کو جانتے تک نہیں تھے۔ ایک مخصوص سیاسی نظریے سے وابستہ کارکنوں نے مسلم، دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ووٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے ‘فارم 7’ کی درخواستیں دائر کیں۔”

بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے ایس) میں کی گئی تبدیلیوں کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ نے کہا کہ اگست 2023 میں جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے ایس) کا تقرر کیا تھا، تو یہ لازمی قرار دیا تھا کہ ان کے نام متعلقہ علاقے کی انتخابی فہرست میں شامل ہونے چاہئے۔ “بی ایل ایز (بی ایل اے ایس) کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 10 درخواستیں جمع کرانے کی اجازت تھی۔ تاہم، یکم نومبر 2025 کو ایک تبدیلی متعارف کرائی گئی جس کے تحت متعلقہ اسمبلی حلقے میں کہیں سے بھی بی ایل ایز کو مقرر کیا جا سکتا تھا۔ شیخ نے مزید کہا کہ اس تبدیلی کی وجہ سے ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس سے دلت، مسلم اور آدیواسی ووٹر غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے۔” شیخ نے بتایا کہ ایس آئی آر (ایس آئی آر) عمل کے دوران ووٹروں کو اپنے ناموں کی حیثیت (اسٹیٹس) جانچنے میں مدد دینے کے لیے، ان کی ٹیم نے raisshaikh137.mahatalent.org نامی ویب سائٹ تیار کی۔ سماج وادی پارٹی کے کارکنوں نے زمینی حقائق جاننے اور ایس آئی آر عمل میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے گھر گھر جا کر لوگوں سے ملاقات بھی کی۔شیخ نے کہا، “ووٹر شدید برہم تھے اور انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ووٹ چوری کر لیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بھیونڈی میں ‘ووٹ چور، گدی چھوڑ’ کے نعرے کے ساتھ احتجاج کیا گیا۔ ووٹروں نے ازخود ایس آئی آر عمل میں ہونے والی ان بے قاعدگیوں کے خلاف دستخطی مہم شروع کر دی۔ ان دستخطوں پر مشتمل ایک یادداشت جلد ہی مہاراشٹر کے گورنر کو پیش کی جائے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

منشیات کے خلاف ممبئی پولس کا سخت کریک ڈاؤن، منشیات فروشوں کے گھر اور املاک بھی منہدم

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی میں منشیات کے خلاف پولس نے سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایسے ملزمین کے گھروں اور املاک کو مسمار کیا ہے جو منشیات فروشی میں ملوث تھے اس میں پولس نے کئی ملزمین کو گرفتار بھی کیا ہے یہ کارروائی منشیات مخالف دستہ سیل اور ممبئی کرائم برانچ نے کی ہے ۔ممبئی میں 30 جولائی 2026 سے شروع کی گئی ڈرگ فری ممبئی مہم کے تحت، اور مرکزی حکومت کی 2 اگست 2026 کو شروع کی گئی نشہ مکت بھارت ابھیان کے مقصد کے مطابق، ممبئی پولیس نے 14 اور 15 اکتوبر 2026 کو ممبئی شہر میں منشیات مخالف مہم میں شدت پیدا کی اور اس مہم کے تحت چھاپہ مار کارروائی کی گئی اس میں قانونی کارروائی، املاک کی ضبطی، احتیاطی تدابیر اور عوامی بیداری ان تین ستونوں پر مبنی مہم میں کامیابی ملی ہے ۔ اس خصوصی مہم میں این ڈی پی ایس قانون کے تحت منشیات رکھنے/فروخت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنا، پہلے سے درج مقدمات میں فرار اور مطلوب ملزمان کو گرفتار کرنا اور ملزمان کے خلاف حاصل غیر ضمانتی وارنٹ کی تعمیل کرنا، ان تین اہم باتوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔پولیس تھانہ، منشیات مخالف دستہ نے مشترکہ طور پر کی گئی کارروائی میں 72 مقدمات درج ہیں اس کے علاوہ 21 فرار اور مطلوب ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح عدالت سے حاصل غیر ضمانتی وارنٹ کی تعمیل کرکے کل 40 ملزمان کو اس مہم کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ مہم کے دوران گانجا، میفیڈرون (ایم ڈی)، ہیروئین / براؤن شوگر، چرس، ایل ایس ڈی پیپر، کوکین، ہشیش اور ہائیڈروپونک گانجا ایسے کل46.16 کلو املی مادہ اور کوڈین پر مبنی کف سیرپ کی کل 9,540 بوتلیں کل اندازاً روپے 15.87 کروڑ قیمت کا مال 9.57 لاکھ نقد رقم ضبط کی گئی ہے۔خصؤصی مہم کے دوران پہلے منشیات مخالف معاملات میں ملزم اپنے دیگر 04 ساتھیوں کے ساتھ منظم گروہ بنا کر منشیات کا کاروبار کر رہا ہے ایسا ثابت ہونے سے مذکورہ 05 ملزمان کے خلاف کرائم برانچ کی طرف سے مذکورہ مقدمے میں مہاراشٹرمکوکا ایم سی او سی اے کے تحت کارروائی کی گئی۔

اسی طرح احتیاطی کارروائی کے حصے کے طور پر این ڈی پی ایس مقدمات میں ایک عادی ملزم کو پی آئی ٹی – این ڈی پی قانون کے تحت ایک سال کے لیے ناسک جیل میں نظر بند کیا گیا ہے۔ سال 2026 میں اب تک کل 14 افراد کے خلاف پی آئی ٹی – این ڈی پی قانون کے تحت کارروائی کرکے نظر بند کیا گیا ہے۔خصوصی مہم کے دوران این ڈی پی ایس مقدمات میں ملزمان کے 20 غیر قانونی گھر اور 145 غیر قانونی تعمیراتکو مسمار کیا گیا۔ املاک کی ضبطی اور احتیاطی کارروائی کے ساتھ ساتھ املی مادہ کے مضر اثرات کے بارے میں عوامی بیداری پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اسکول، کالج، گنیش اتسو نوراتری اتسو اور عوامی مقامات پر منعقد گربا پروگرام سمیت9,031 مقامات پر چلائے گئے عوامی بیداری مہم میں 9,82,928 شہری شامل ہوئے ہیں۔منشیات کے خلاف مسلسل کارروائی، احتیاطی تدابیر اور عوامی شراکت داری کے ذریعے ڈرگ فری ممبئی کا مقصد حاصل کرنے کے لیے ممبئی پولیس پرعزم ہے اور منشیات سے متعلق کوئی بھی معلومات قومی منشیات مخالف ہیلپ لائن ایم اے این اے ایس ) 1933 کے ذریعے پولیس کو دے کر اس مہم میں تعاون/شامل ہونے کی اپیل شہریوں سے کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ورلی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا 63 فیصد کام مکمل، مقررہ وقت پر تکمیل کے لیے افرادی قوت بڑھانے کی ہدایت

Published

on

ممبئی سیوریج ڈسپوزل پروجیکٹ کے تحت ورلی میں 500 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) صلاحیت والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تعمیر 63 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر نے ہدایت کی ہے کہ منصوبے کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے اور سول، مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کے کاموں کی رفتار تیز کی جائے۔ پروجیکٹ سائٹ کے دورے کے دوران، انہوں نے جاری کام کا معائنہ کیا اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ورلی پروجیکٹ کے معائنے کے دوران، بنگر نے مختلف ٹریٹمنٹ ٹینکوں، ان لیٹ اور آؤٹ لیٹ سسٹمز، پمپ ہاؤس، سلج ٹریٹمنٹ یونٹ، اندرونی پائپ لائنوں اور دیگر تعمیراتی ڈھانچوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پمپس، ایریشن بلورز، اسکریننگ اور سلج ٹریٹمنٹ مشینری، مختلف مکینیکل پرزوں اور پائپنگ سسٹمز کی تنصیب کا بھی معائنہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کے کاموں کا بھی جائزہ لیا۔سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں، ایک پمپنگ اسٹیشن کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ بنگر نے ہدایت کی کہ اس سہولت کو فوری طور پر فعال کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے زور دیا کہ پرانے ڈھانچوں کو گرانے اور نئے ڈھانچے تعمیر کرنے کے کاموں کو یکے بعد دیگرے (مرحلہ وار) کرنے کے بجائے، جہاں بھی تکنیکی طور پر ممکن ہو، ان کاموں کو بیک وقت (متوازی طور پر) انجام دیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کی مجموعی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے انہدام، تعمیر اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کی مناسب منصوبہ بندی کی جائے۔

بنگر نے اکتوبر سے مئی تک کے آٹھ ماہ کے عرصے کے دوران کام کی منصوبہ بندی، افرادی قوت کی دستیابی اور ضروری سامان کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ہدایت کی۔ فی الحال، پروجیکٹ سائٹ پر تقریباً 1,000 افراد کام کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ منصوبے کو مقررہ ڈیڈ لائن کے اندر مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر نے کام کی جگہ پر معیار، حفاظت اور کارکردگی کو ترجیح دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سمندری پانی کے معیار میں بہتری ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ممبئی میٹروپولیٹن علاقے میں ماحول کے تحفظ کی اپنی کوششوں کے حصے کے طور پر ورلی (ورلی) میں یہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ سمندری پانی کے معیار کو بہتر بنانے اور سمندری حیات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، فورٹ، بائیکلہ، پیڈر روڈ، گام دیوی، حاجی علی، پربھادیوی، دادراور ورلی سمیت دیگر علاقوں کے رہائشی اس منصوبے سے مستفید ہوں گے۔

اس منصوبے میں ‘میمبرین بائیو ری ایکٹر’ (ایم بی آر) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اسے روزانہ 500 ملین لیٹر سیوریج کی ثانوی سطح (سیکنڈری لیول) کی صفائی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں سے 250 ملین لیٹر سیوریج کو تیسرے درجے (ٹیٹریری لیول) کی صفائی کے عمل سے گزارا جائے گا۔ اس کے علاوہ، سیوریج سے نکلنے والے فضلے (سلج) کو ‘کلاس اے’ (کلاس اے) معیارات کے مطابق پروسیس کیا جائے گا، اور صفائی کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی بائیو گیس کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس اہم منصوبے کی تکمیل کی حتمی تاریخ 30 ستمبر 2027 مقرر کی گئی ہے۔ کام کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے، کام کی رفتار، افرادی قوت کی دستیابی، تعمیراتی سامان کی فراہمی اور مختلف اداروں کے مابین باہمی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ موجودہ پلانٹ بدستور فعال ہے ورلی میں موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، سیوریج کی ابتدائی سطح (پرائمری ٹریٹمنٹ) کی صفائی کرتا ہے—جس میں خاص طور پر کچرے کو چھاننا (اسکریننگ) اور ریت/کنکر وغیرہ کو الگ کرنا (ڈی گرِٹنگ) شامل ہے۔ اس کے بعد، سیوریج کو ایک ‘میرین آؤٹ فال’ (سمندر میں خارج کرنے والے نظام) کے ذریعے گہرے سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں یہ پانی میں گھل مل کر پھیل جاتا ہے۔ نئی ٹریٹمنٹ تنصیب کی تعمیر جاری رہنے کے باوجود، موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا آپریشن اور دیکھ بھال کا کام بدستور جاری ہے۔ اس معائنے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر (انجینئرنگ) ششانک بھورے، چیف انجینئر (ممبئی سیوریج ڈسپوزل پروجیکٹ) راجیندر پراب، اور دیگر متعلقہ انجینئرز اور کنسلٹنٹس موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں ‘ایم-ڈی’ نشہ آور اسمگلنگ کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی آزاد میدان یونٹ ۱۴اکتوبر کو چیمبور علاقے میں گشت کر رہی تھی تب دو افراد مشکوک حالت میں گھومتے ہوئے نظر آئے۔ ان کی تلاشی لے کر مذکورہ کارروائی میں دوملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوئ کیا ہے . ملزمین کے قبضے سے 117.58 گرام وزنی ‘ایم-ڈی’ (میفیڈرون) یہ نشہ آور چیزملزم نمبر 2 کے پاس سے 213.91 وزنی ‘ایم-ڈی’ (میفیڈرون) یہ نشہ آور چیز کل 331.49 گرام وزنی ‘ایم-ڈی’ (میفیڈرون) یہ نشہ آور چیز ضبط مال مقدمہ کی کل قیمت (قیمت کا اندازہ روپے 10,14,470/-مذکورہ ملزمین پر دفعہ-8(ک) سہ 22(ک) 29 این ڈی پی ایس قانون1985 کے تحت جرم داخل کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔مذکورہ کامیاب کارکردگی یہ پولس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر جرائم انل کنبھارے،ایڈیشنل کمشنر کرشن کانت ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرینگی، ممبئی نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان