Connect with us
Monday,27-April-2026
تازہ خبریں

جرم

12 سالہ معصوم ارسلان کے سنسنی خیز قتل کا معمہ حل, مالیگاؤں پولیس کو ملی بڑی کامیابی, قاتل فیضان اختر گرفتار!!!

Published

on

malegaon-arrest

خیال اثر مالیگانوی

ہر فتنہ, فساد اور قتل و خون کے پچھے زر, زن, زمین کا راز مضمر ہوتا ہے لیکن بہت سے واقعات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جن میں ان کا مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے. ایسے ہی واقعات میں قتل کا ایک ایسا واقعہ مالیگاؤں شہر میں بھی وقوع پذیر ہوا تھا جس نے سارے شہر میں نہ صرف سنسنی پھیلا دی تھی بلکہ والدین کو اپنے بچوں کی نگہداشت پر بھی مجبور کردیا تھا. جب 22 مئی کو صبح سویرے مضافاتی علاقے کی ایک زیر تعمیر عمارت کے باتھ روم سے 12 سالہ ارسلان شیخ سلیم کی خون میں لت پت نعش بر آمد ہوئی. ارسلان نامی یہ معصوم بچہ قتل سے دو دن پہلے مفقود الخبر ہو گیا تھا. والدین دو دنوں تک شہر بھر میں اس کی تلاش کے لئے سرگرداں رہنے کے بعد پولس میں اپنے بچے کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کر دی تھی. دوست احباب اور اقرباء تک پہنچنے کے بعد بھی جب ارسلان کی دستیابی نہیں ہوئی لیکن جب ارسلان کا پتہ چلا تو والدین ہی نہیں ساتھ سارے شہرکے رونگٹے کھڑے ہو گئے. زخموں اور خون سے لت پت ارسلان شیخ کی لاش دستیاب ہونے پر پولیس کے بھی کان کھڑے ہو گئے تھے. بے شمار افراد نے پولیس پر دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ایک معصوم بچے کے بے وجہ قتل کے اسباب کا نہ صرف پتہ لگایا جائے بلکہ اس بے رحم قاتل کو بھی گرفتار کرتے ہوئے سخت سے سخت سزا کا اہل قرار دیا جائے. تلاش بسیار کے باوجود قاتل قانون و پولیس کے لمبے ہاتھوں سے ہنوز دور تھا لیکن مشہور ہے کہ پولیس تو مٹی میں دبے ہوئے ہتھیاروں کا بھی پتہ لگا لیتی ہے کے مصداق جب پولیس نے اپنی تفیش کے دائرے وسیع کرتے ہوئے قتل کے مقام اور شاہراؤں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو کھنگالنا شروع کیا تو ایک کمیرے میں متقول ارسلان کو ایک شخص اپنی سرخ رینجر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بٹھائے اس زیر تعمیر عمارت کی جانب جاتا ہوا تو دکھائی دیا لیکن جب وہ اسی شاہراہ سے واپس ہوا تو ارسلان ندارد تھا. یہ فوٹیج دیکھ کر پولیس کے کان کھڑے ہو گئے اور بمشکل ہی وہ اس سرخ رینجر سائیکل والے تک پہنچ کر اس کے گرد اپنا گھیرہ تنگ کردیا. اور جب مشتبہ قاتل فیضان اختر عبدالرحمان ساکن دت نگر پولیس کے چنگل میں پھنسا تو مشہور ہے کہ پولیس کی گرفت میں آنے والا ہاتھی بھی خود کو چوہا تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پھر مشتبہ ملزم تو ایک انسان تھا وہ بھی ایک پیروں سے معذور.
پولیس کا رعب اور دبدبہ اور ڈنڈے کے خوف نے ملزم سے مجرم ہونے کا اقرار کروا ہی لیا.ملزم نے اقرار کیا کہ وہ اپنی ناجائز جنسی خواہشات کو اس معصوم لڑکے سے بجھانے کے لئے پہلے تو اسے بہلا پھسلا کر اغواء کیا لیکن جب ارسلان شیخ نامی بچہ بدفعلی پر کسی بھی صورت آمادہ نہ ہوا تو اس نے وزنی پتھر مار کر ارسلان کو قتل کردیا تھا تاکہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے کہ وہ اس گناہ کبیرہ کے ارتکاب کے لئے ارسلان شیخ کو مجبور کررہا تھا. دو دنوں کے بعد پولیس نے جب ملزم کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا تو کورٹ نے اسے پانچ دنوں کے لئے پولیس حراست میں دیتے ہوئے مزید تفیش کا حکم جاری کردیا. آج یہ بے رحم قاتل پولیس حراست میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے بعد بھی کسی بےبس پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے. ایک معصوم بچے کو اس طرح بے رحمی سے قتل میں قاتل فیضان اختر تنہا ذمہ دار ہے یا اس کے ہمراہ اور کوئی دوسرا بھی ملوث ہے ابھی تک یہ بھی عیاں نہیں ہوا ہے کہ آیا معصوم لڑکوں کو اپنے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے کسی گروہ سے منسلک قاتل فیضان اختر بھی تو نہیں ہے. لیکن پولیس حراست میں رہتے ہوئے جب پولیس اپنا ہاتھ بتائے گی تو یہ راز بھی سامنے آ جائے گا کہ قتل کے پچھے کون سی کہانی پوشیدہ ہے. کیا قاتل و مقتول کی آپسی رشتہ داری تھی یا کوئی خاندانی دشمنی قتل کی وجہ بنی تھی یا پھر قاتل نشہ یا بدفعلی کا عادی تھا اور وہ اس بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا چاہتا تھا. پولیس حراست کے دوران قاتل نے اقرار کیا کہ جب ارسلان شیخ اس کی جنسی پیاس بجھانے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہوا تو اس نے طیش کے عالم میں اس کے سر پتھر مارتے ہوئے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا تھا. رونگٹے کھڑا کردینے والا قتل کا یہ واقعہ والدین کے لئے لمحہ فکریہ تو رہا ہی لیکن کئ دنوں تک پولیس محمکہ کے لئے درد سر بنا رہا تھا.
ایک معصوم کا بے رحمانہ قتل ہوا. قاتل کو پولیس نے اپنی گرفت میں لیتے ہوئے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا بھی کردیا. قاتل نے قتل کا اقرار بھی کر لیا. ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالت قاتل کی سزا کا تعین بھی کردے. ہو سکتا ہے کہ قاتل سر دار لٹکا دیا جائے یا عمر قید کا اہل قرار پائے. قاتل کو ہزار برس قید تنہائی میں رکھا جائے یا ہزاروں بار پھانسی پر لٹکایا جائے. ان سب سے پرے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ لاکھ سزائیں قاتل کو دے دی جائیں. کیا مجبور و معذور والدین کو ان کا معصوم بچہ جیتا جاگتا ہوا دوبارہ مل سکتا ہے. قتل کا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ مسجدوں میناروں کے شہر کی پیشانی پر برسوں کسی کلنک کی طرح دلوں کو کچوکے لگاتا رہے گا کہ جس شہر میں ہزارہا علماء, مدرسین اور دینی و عصری درسگاہیں موجود ہوں. جس شہر کو چہار وانگ عالم میں شہرتیں حاصل ہوں وہاں کا کوئی باشندہ ایسا رزیل فعل بھی انجام دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے اور جب اس کی نفسانی خواہشات پایہ تکمیل تک نہ پہنچے تو وہ جنون کے عالم میں کسی معصوم کی جان لے کر اسے ہمیشہ ہمشیہ کے لئے خاموش بھی کر سکتا ہے.

بین الاقوامی خبریں

مالی میں خوف و ہراس : دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں فائرنگ اور دھماکے، القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ پر شبہ ہے۔

Published

on

Mali

بماکو : افریقی ملک مالی کے دارالحکومت بماکو میں ہفتے کے روز حملے ہوئے۔ دارالحکومت کے مودیبو کیتا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جو مالی ایئر فورس کے ایئر بیس کے قریب ہے۔ مسلح افراد نے ہفتے کی صبح دارالحکومت سے ملحقہ شہروں پر حملہ کیا۔ مقامی باشندوں اور حکام نے کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر منصوبہ بند حملہ تھا، جو بیک وقت کئی مقامات پر کیا گیا۔ حملوں میں القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، حالانکہ ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مالی کی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم مسلح دہشت گرد گروہوں نے دارالحکومت میں بعض مقامات اور بیرکوں کو نشانہ بنایا۔ فوجی اس وقت حملہ آوروں کو روکنے میں مصروف ہیں۔ مالی کو القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ سے منسلک گروپوں کے حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ فوج شمال میں علیحدگی پسند شورش کا مقابلہ کر رہی ہے۔

باماکو میں ایک ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافی نے اطلاع دی ہے کہ شہر کے مرکز سے 15 کلومیٹر (9 میل) دور واقع مودیبو کیٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھاری ہتھیاروں اور خودکار رائفل کی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ ہیلی کاپٹر بھی آس پاس کے علاقے میں گشت کرتے نظر آئے۔ مالی اور دیگر شہروں کے رہائشیوں نے فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاع دی، جو مسلح گروہوں کے ممکنہ مربوط حملے کی تجویز کرتے ہیں۔ کدال کے ایک سابق میئر نے بتایا کہ مسلح افراد شمال مشرقی شہر کدال میں داخل ہوئے اور فوج کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتے ہوئے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

ازواد لبریشن فرنٹ کے ترجمان محمد المولود رمضان نے فیس بک پر کہا کہ ان کی فورسز نے کدل اور گاؤ (شمال مشرقی شہر) کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ گاو کے ایک رہائشی نے بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنیچر کی صبح شروع ہوئیں اور صبح دیر تک سنی گئیں۔ مالی، اپنے ہمسایہ ممالک نائجر اور برکینا فاسو کے ساتھ طویل عرصے سے القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ سے منسلک مسلح گروپوں سے لڑ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مالی، نائیجر اور برکینا فاسو میں سیکیورٹی کی صورتحال خاصی خراب ہوئی ہے، حملوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، اور عام شہری تیزی سے نشانہ بن رہے ہیں۔

Continue Reading

جرم

جموں و کشمیر کی خاتون کرکٹر اور اس کے دو ساتھیوں کو جنسی استحصال اور بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے جموں و کشمیر ٹی 20 لیگ سے وابستہ ایک خاتون کرکٹر کو اس کے بھائی سمیت گرفتار کر لیا۔ انہیں نئی ​​دہلی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے ساتھی، الدین امتیاز وانی (22) کو سری نگر، جموں و کشمیر سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت فرخندہ خان (30) اور اس کے بھائی بازل خان (27) کے طور پر ہوئی ہے۔ کرائم برانچ کے مطابق شکایت کنندہ کولابا کا رہنے والا 28 سالہ تاجر ہے۔ 2024 میں، مغربی مضافات میں رہتے ہوئے، اس کی ملاقات فرخندہ خان سے ہوئی۔ انہوں نے موبائل چیٹس کے ذریعے ایک جان پہچان بنائی جس کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ نامناسب بات چیت شروع کی۔ بعد میں اس نے اسے اپنے ساتھی، الدین امتیاز وانی، اور اس کے بھائی، بازل خان سے ملوایا۔ پولیس کے مطابق 2024 میں فرخندہ نے مالی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت کنندہ سے رقم کا مطالبہ کیا۔ جب اس نے انکار کیا تو ملزم نے دھمکی دی کہ وہ ان کی پرائیویٹ چیٹس کو پبلک کر دے گا۔ دباؤ کے تحت، شکایت کنندہ نے 30 اپریل 2024 سے 13 جنوری 2026 کے درمیان 32 بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے کل ₹ 23.61 لاکھ روپے فرخندہ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس رقم کا بڑا حصہ الدین امتیاز وانی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔ تھوڑی سی رقم فرخندہ کے والد عبدالعزیز خان کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل کی گئی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وانی اور بازل خان نے شکایت کنندہ کو فرخندہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس کے ساتھ ڈرایا اور اسے قید سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے، شکایت کنندہ نے جنوری 2026 میں ملزم کو اضافی 40 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس معاملے میں پہلی بار اپریل 2024 میں 20،000 روپے کا لین دین ہوا تھا۔ ملزم فرخندہ، دہلی-این سی آر کے انکور وہار کی رہائشی ہے۔ الدین وانی جموں و کشمیر کے کھالا پور کا رہنے والا ہے۔ اور بازل خان جموں و کشمیر کے نورکھاو گاؤں کا رہنے والا ہے۔ شکایت کی بنیاد پر، ویسٹ ریجن سائبر پولس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 308(2)، 308(6)، 351(2)، 351(3) اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 61(2) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان