Connect with us
Wednesday,12-August-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلمانوں کو وقف کی ملکیت سے کوئی فائدہ میسر نہیں آیا، وقف کی املاک کی شرعی حیثیت سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کی کوشش : مفتی منظور ضیائی

Published

on

Mufti-Manzoor-Ziai

‎ممبئی : وقف ایکٹ کے نفاذ کے بعد مفتی منظور ضیائی کی تصنیف وقف شریعت، سیاست اور اصلاحات۔ ہندوستانی تناظر میں کا رسم اجرا ممبئی کے پریس کلب میں منعقد کیا گیا, جس میں مفتی منظور ضیائی نے تصنیف سے متعلق برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف وقف ایکٹ کے تناظر میں وقف کی شرعی حیثیت اور دیگر امور پر توجہ مرکوز کرتی ہے, انتہائی عرق ریزی سے اس تصنیف میں اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے وقف سے متعلق مدلل بحث کی گئی ہے، مفتی منظور نے کہا کہ وقف ایکٹ پر احتجاجات کا سلسلہ دراز ہے, لیکن اب تک وقف کی املاک کی بندر بانٹ اور خرد برد بھی جاری تھی۔ اس ایکٹ پر احتجاج جمہوری حق ہے, لیکن اس سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا کہ اب تک وقف کی ملکیت کا کیا حشر ہوا ہے اور کون لوگ اس کی ملکیت پر قابض ہے۔ وقف کی ملکیت سے قبضہ جات کا خاتمہ بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ یہ وقف راہ خدا میں ہوتی ہے, لیکن اس وقف کی ملکیت کا عام مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ بڑے بڑے احتجاجات جلسے جلوس تو منعقد کئے جارہے ہیں, لیکن آج تک وقف کی ملکیت پر کوئی اسپتال، تعلیمی ادارے اور طبی ادارے تعمیر کیوں نہیں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظائف تک قوم کے ہونہاروں کو میسر نہیں ہے۔ اماموں کی حالت زار ہے, ایک امام کا ۱۲ سالہ بچہ موت و زیست کے درمیان سرکاری اسپتال میں تڑپ رہا ہے, انہیں وہ امام طبی امداد میسر نہیں کرواسکتا کیونکہ اس کے پاس کوئی وسائل نہیں ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ کے تناظر میں جو تصنیف منظر عام پر لائی گئی ہے, اس میں حتی المقدور وقف کی حیثیت کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ مفتی منظور ضیائی سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ وقف ایکٹ کے نفاذ کے بعد ہی یہ تنصیف منظر عام پر لانے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے کہا کہ وقف کی ملکیت اور اس کے شرعی تقاضوں سے متعلق تصنیف کی تیاری کا سلسلہ پہلے سے ہی جاری تھا, یہ اتفاق ہے کہ وقف ایکٹ کے بعد اس کا اجرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کی املاک مسلمانوں کے لئے مختص ہے, لیکن وہ اس سے بے آج بے فیض ہے, کیونکہ اس میں خرد برد سے لے کر بدعنوانی عام ہے۔ ان سے یہ دریافت کیا گیا کہ اب وقف ایکٹ کے نفاذ سے مسلمانوں کو اب فائدہ ہوگا, تو انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس لئے اس پر مزید کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا, اس رسم اجرا کی تقریب میں کانگریس لیڈر نظام الدین راعین، انجمن باشندگان بہار محمود الحسن حکیمی سمیت علما کرام، عمائدین شہر و معززین موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

Published

on

landslide

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں چار دنوں کے اندر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو مکمل کرے : چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم

Published

on

SIR

ممبئی : 17 اگست، 2026، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حصے کے طور پر گھر گھر جا کر وزٹ (حاضری) کرنے اور گنتی کے فارم بھرنے کا آخری دن ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے ممبئی میں تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) کو زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے اور بقیہ چار دن کی مدت کے اندر پورے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چوکلنگم نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ کوارٹر میں آج (12 اگست 2026) کو منعقدہ میٹنگ کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے (ممبئی سٹی اور مضافات) کے اندر خصوصی گہری نظرثانی پروگرام سے متعلق جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران عہدیداروں سے خطاب کیا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما-لاونگیرے بھی موجود تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگرایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ) آنچل گوئل، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ضلع کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار کے ساتھ تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) اور ممبئی کے متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے کہا کہ ووٹرز کے سوالات کو فوری طور پر حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ذریعے ‘بک اے کال’ کی سہولت کے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التواء گنتی فارموں کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پورا طریقہ کار مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ‘نشان زدہ انتخاب کنندگان’ کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ مستعدی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے کہ اہل نشان زد ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل ہوں جبکہ فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کو خارج کر دیا جائے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گنتی کے فارموں کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن اور گھر گھر دوروں میں صرف چند دن باقی ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے دوران اس پورے عمل کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فرضی سرٹیفکیٹ و سرکاری دستاویزات تیار کرنے والا گروہ بے نقاب، دستاویزات اور دیگر اسباب بھی ضبط، 4 گرفتار ایک ملزم فرار

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ممبئی کے باندرہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۹ کروڑ ۴۰ لاکھ کا ایم ڈی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عنبر ہوٹل باندرہ ایک ٹپری کے سامنے ایک مشتبہ شخص پایا گیا جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے ۲۰۵۰ گرام ایم ڈی میفیڈون برآمد ہوا, جس کے بعد کالا چوکی اے ٹی ایس نے کیس درج کر کے اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس مشتبہ دو غیر ملکی خواتین کو بھی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے اس آپریشن میں پیش رفت کے دوران گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے ۲۶۸۸ گرام مفیڈون ضبط کیا گیا اور اس معاملہ میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا اس معاملہ میں یو پی پولس کی مدد سے جس فیکٹری سے ایم ڈی خریدی جاتی تھی اس پر بھی کریک ڈاؤن کر کے پانچ کروڑ کی ایم ڈی ضبط کی ہے پولس اس معاملہ میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان