Connect with us
Tuesday,23-June-2026

(جنرل (عام

ممبئی کے ٹاٹا میموریل ہسپتال و دیگر مراکز میں گزشتہ 5 سالوں میں بچوں کے کینسر میں 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا، علاج کے بعد 80 فیصد مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

Published

on

Childs

ممبئی : ممبئی کے ٹاٹا میموریل ہسپتال (ٹی ایم ایچ) میں بچوں کے کینسر کے علاج کے ادارے اور کھارگھر میں ایڈوانسڈ سینٹر فار ٹریٹمنٹ، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن ان کینسر (ایکٹریک) میں پچھلے 5 سالوں میں کینسر کے معاملات میں 2% اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ممبئی، بنارس، گوہاٹی، وشاکھاپٹنم، سنگرور، مظفر پور کے ان تمام مراکز میں 2019 میں 2981 بچے علاج کے لیے رجسٹرڈ ہوئے۔ جبکہ سال 2024 میں 3874 بچے رجسٹرڈ ہوئے۔ اس کا مطلب ہے کہ 5 سالوں میں رجسٹریشن میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ریاستوں میں قائم ٹاٹا مراکز میں بھی رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈین کینسر سوسائٹی کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 50,000 بچے کینسر کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بچوں میں کینسر کا علاج بہترین نتائج دیتا ہے بشرطیکہ مرض کی جلد شناخت کر کے علاج دیا جائے۔

ٹاٹا میموریل سنٹر کی توسیع سے مریض مستفید ہو رہے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مریضوں کو علاج کے لیے ممبئی جانا پڑتا تھا، لیکن دوسری ریاستوں میں ٹاٹا سینٹرز کھلنے سے ممبئی کے ساتھ ساتھ ان مراکز پر بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹاٹا میموریل سنٹر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، 2019 میں ممبئی میں کینسر کے شکار 2089 بچے رجسٹر ہوئے تھے، وہیں 2024 میں 2131 نئے مریض رجسٹر ہوئے تھے۔ ٹاٹا کے دیگر 5 مراکز میں، 2019 میں 892 مریض رجسٹرڈ ہوئے اور 2024 میں، یہ رجسٹریشن کی تعداد 1743 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ممبئی میں علاج کروانے والوں کی تعداد میں 5 سالوں میں 2% اور دیگر 5 مراکز میں 95% اضافہ ہوا ہے۔ ٹاٹا میموریل سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سدیپ گپتا نے کہا کہ بڑوں کی طرح بچوں میں بھی کینسر کے واقعات بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ بروقت علاج اچھے نتائج دے رہا ہے۔

ٹاٹا میموریل ہسپتال کے اکیڈمک ڈائریکٹر اور پیڈیاٹرک میڈیکل آنکولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شری پد بنوالی نے کہا کہ خون کے کینسر میں مبتلا بچے علاج کے بعد بہت اچھے نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ تقریباً 80 فیصد مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں، کینسر کے ٹیومر میں مبتلا 70% بچے ٹھیک ہو جاتے ہیں، جبکہ 30% دوبارہ لگتے ہیں (کینسر کی واپسی)۔ ڈاکٹر بنوالی نے کہا کہ اگر کسی بچے کو دو ہفتوں سے زیادہ بخار ہو، وزن کم ہو، تھکاوٹ محسوس ہو، بھوک نہ لگ رہی ہو، خون بہہ رہا ہو، یہ خون کے کینسر کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر ہم برین ٹیومر کی علامات کی بات کریں تو سر درد، قے، چکر آنا، ہڈیوں کا درد طویل عرصے تک رہے تو تحقیق ضروری ہے۔

یہ 5 کینسر بچوں میں عام ہیں۔

  • 25% لیوکیمیا کا شکار ہیں۔ یہ خون کے سفید خلیوں کا کینسر ہے۔ یہ بون میرو میں بننے والے خون کے خلیات کو متاثر کرتا ہے۔
    25% برین ٹیومر کا شکار ہیں۔ دماغ میں کینسر والی گانٹھ بنتی ہے۔
  • 20% بچے لیمفوما میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ یہ خون کے کینسر کی ایک قسم ہے جو لمفی نظام کو متاثر کرتی ہے۔
  • 10% ہڈیوں کے ٹیومر کا شکار ہیں۔ یعنی کینسر ہڈیوں میں ہوتا ہے۔
  • دیگر ٹھوس ٹیومر 10 فیصد میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کینسر کی گانٹھ جسم کے کسی بھی حصے میں بن سکتی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان