Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لارنس بشنوئی گینگ کے نام پر جوہری سے تاوان کی طلبی, گینگ ممبر کوکرلا سے ۲۰۰ میٹر تعاقب کے بعد کیاگرفتار، دفاعی وکلا نے الزامات کو کیا خارج

Published

on

ممبئی: میں لارنس بشنوئی گینگ کے نام پراب تاوان اور ہفتہ طلبی کے کیس بھی بڑھ گئے ہیں اس لئے پولس نے اسے انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولس نے لارنس بشنوئی گینگ کا ممبر ظاہر کرنے والے ملزمین کو دھر دبوچا۔ ممبئی پولس نے واٹس ایپ کے ذریعے “لارنس بشنوئی گینگ” کا ممبر ظاہر کرتے ہوئے ولے پارلے کے ایک جوہری سے 20 لاکھ روپے تاوان طلبی معاملے میں چار ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے وکیل آشیش رائے اور پنکج مشرا، پراچی پانڈے اس کیس میں ملزمین کی پیروی کررہے ہیں اس کیس کے تیسرے ملزم کو 21 فروری کو دوبارہ پولیس ریمانڈ کے تحت اندھیری کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملزمین کو لوک مانیہ تلک ٹرمینس (کرلا) سے 5 لاکھ روپے نقد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ۔پولس کے مطابق شکایت کنندہ اجیت سوہن لال جین (46) جو ویل پارلے ایسٹ میں زیورات کی دکان چلاتا ہے اسے 12 فروری 2026 سے واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ گفت و شنید کے بعد 5 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا۔ 15 اور 16 فروری کو مسلسل کالز اور میسجز کے ذریعے ملزمان نے رقم تیار رکھنے کو کہا۔ 16 فروری کو دوپہر 2 بجے کرلا ٹرمینس پر رقم پہنچانے کی ہدایات دی گئیں۔ تاجر نے اپنے دو ملازمین منیش پریہار (30) اور اشوک ترویدی (32) کو 5 لاکھ روپے کا بیگ دیا اور انہیں لوک مانیہ تلک ٹرمینس کے پارکنگ ایریا میں واقع ہلدیرام ریسٹورنٹ کے قریب کھڑے ہونے کو کہا۔ ‘لالپاری’ کوڈ ورڈ تھا۔ 4:30 بجے کے قریب، فون کرنے والے نے کہا کہ اس کا آدمی کوڈ ورڈ “لالپاری” بتائے گا۔ کچھ دیر بعد چار مشکوک نوجوان وہاں پہنچے۔ پہلی جاسوسی کے بعد، دو نوجوانوں نے کوڈ ورڈ “لالپاری” بولا اور ملازمین سے پیسوں سے بھرا بیگ چھین لیا۔ 200 میٹر تعاقب کے بعددھردبوچا ، سادہ لباس میں تعینات پولیس ٹیم نے تقریباً 200 میٹر تک ملزمان کا پیچھا کیا اور آٹو میں بیٹھ کر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں پکڑ لیا۔ تلاشی کے دوران 5 لاکھ نقدی اور متعدد موبائل فون برآمد ہوئے۔
گرفتار ملزمان ، پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت اس طرح ہوئی ہے۔
دیپک نریندر ڈنگول (19) پونے کے رہنے والے
ماجد ساجد خان (21) ساکن گوونڈی، ممبئی
فیضان فیروز خان (27) ساکن پونے
ساحل الیاز شیخ (20) ساکن گوونڈی، ممبئی ایک ملزم کے قبضے سے موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے امتیاز اوروشیر نامی افراد کے کہنے پر رقم لی۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزم کے خلاف تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اب موبائل ڈیٹا، کال کی تفصیلات اور بین ریاستی رابطوں کی جانچ کر رہی ہے۔ دریں اثناء مرکزی سازش کاروں کی تلاش جاری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان