Connect with us
Sunday,27-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں انہدامی کاروائی پر سپریم کورٹ کے فوری مداخلت کا مولانا ارشد مدنی نے خیر مقدم کیا، جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر سماعت جمعرات کو

Published

on

Maulana Arshad Madani

دہلی کے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے بلڈوزر پر فوری روک لگانے کے لئے سپریم کورٹ کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ کورٹ کے اس ابتدائی حکم کا ہم استقبال کرتے ہیں، اور یہ امید کرتے ہیں کہ فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہوگا۔ یہ عرضی جمعیۃ علمائے ہند (مولانا ارشد مدنی) نے داخل کی ہے۔

جمعیۃ کی جاری ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ نے روک لگانے کے احکامات جاری کئے۔ جس سے دہلی کے متاثرہ علاقہ جہاگیر پوری میں غریب ومزدور پیشہ لوگوں کو فوری راحت حاصل ہوئی ہے، چیف جسٹس کے روبرو آج جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے بھی چیف جسٹس کو کہا کہ غیر قانونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے املاک پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔ جس پر روک لگانی چاہئے۔ سینئر وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے چیف جسٹس نے انہدام پر فوری روک لگانے کے لئے احکامات جاری کرتے ہوئے کل (جمعرات) کو اس معاملے کی سماعت کا فیصلہ کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹیٹس (جیسا ہے ویسا ہی رہے) کو برقرار رکھا جائے یعنی کہ بلڈوزر چلانا بند کیا جائے۔ سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے دائر پٹیشن ڈائری نمبر 11955/2022 عدالت سے جلد از جلد سماعت کئے جانے کی گذارش کی گئی تھی، جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ افسوس کہ جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے اطراف میں سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد دیڑھ گھنٹہ تک دکانوں اور مکانوں کا انہدام ہوتا رہا، اس درمیان متاثرین پولس کو کہتے رہے کہ ٹی وی پر بتا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم آگیا ہے لہذا انہدامی کارروائی روکی جائے۔ سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد بھی دیڑھ گھنٹہ تک بلڈوزر کی کارروائی چلتی رہی، جس کی شکایت کل سپریم کورٹ سے کی جائیگی۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کی فوری مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کے اس ابتدائی آرڈر کا ہم استقبال کرتے ہیں، اور یہ امید کرتے ہیں کہ فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہوگا انشاء اللہ۔ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں کسی بھی گورنمنٹ اور کورٹ کے فیصلہ کا جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ استقبال کرتی رہی ہے، اور کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں جرائم کی روک تھام کی آڑ میں سرکاری طور پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر دینے کی غرض سے بلڈوزر کی جو خطرناک سیاست شروع ہو رہی ہے، اس کے خلاف قانونی جددوجہد کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی تھی، جس میں جمعیۃ علماء ہند قانونی امدادی کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی مدعی ہیں۔ اس پٹیشن میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ ریاستوں کو حکم جاری کرے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کے گھر یا دوکان کو مسمار نہ کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اترپردیش میں بلڈوزر کی سیاست شروع ہوئی، لیکن اب یہ مذموم سلسلہ بی جے پی حکمرانی والی ریاست گجرات اور مدھیہ پردیش، دہلی میں بھی شروع ہوچکی ہے، واضح رہے کہ ان معاملات میں سپریم کورٹ سے مداخلت کی گذارش کی گئی ہے کہ یکے بعد دیگر ریاستیں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گجرات میں بھی غیر قانونی طریقوں سے مسلمانوں، دلتوں اور آدیواسیوں کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس پر قدغن لگنا ضروری ہے۔ پٹیشن میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات ریاستوں کو فریق بنایا گیا تھا اور گلزار احمد اعظمی کی طرف سے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے دہلی کو بھی اس پٹیشن میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جہاں آج 20/اپریل کو مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ پٹیشن ایڈوکیٹ صارم نوید نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل سے صلاح و مشورہ کہ بعد تیار کی ہے، جبکہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کبیر ڈکشت نے داخل کی ہے جس پرکل سماعت ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان