Connect with us
Wednesday,15-April-2026

قومی خبریں

ممتا بنرجی نے کہا کہ میں عہدہ سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی، پارٹی نے قبول نہیں کیا

Published

on

بنگال میں بڑی شکست کاسامنا کرنے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کے سامنے وزارت اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی تھی مگر پارٹی نے قبول نہیں کیا ہے۔
ممتابنرجی نے کہا کہ میں نے پارٹی لیڈروں سے کہا کہ میں کام نہیں کرپارہی ہوں، بے اختیار وزیراعلیٰ بن چکی ہوں، میں اس کو قبول نہیں کرسکتی ہوں، اس لیے میں وزیراعلیٰ کے طور پر کام کرنا نہیں چاہتی ہوں، میرے لیے کرسی کچھ بھی نہیں ہے، پارٹی کا سمپل میرے لیے بہت ہی اہم ہے ۰
خیال رہے کہ لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، 42 لوک سبھا کی سیٹوں میں سے 18 سیٹوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی ہے اور ترنمول کانگریس محض 22 سیٹوں پر کامیابی درج کرپائی ہے۔ جب کہ گزشتہ انتخاب میں ترنمول کانگریس نے 34 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے مذہبی بنیاد پر بنگال میں انتخابی مہم چلائی اور اسے فائدہ ملا مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیں، ہم مذہبی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ پریس کانفرنس سے قبل ممتا بنرجی نے پارٹی لیڈروں کے ساتھ طویل میٹنگ کی اور شکست کا جائزہ لیا۔
تاہم ممتا بنرجی نے پریس کانفرنس میں بی جے پی کی بڑی کامیابی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کئی ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں کو ایک بھی سیٹ نہ ملے ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ کچھ غیر ملکی طاقیتں اس میں شامل ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی کی کامیابی کے بعد ملک میں ا یمرجنسی جیسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ممتا بنرجی نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی وہ اس مسئلے پر کھل کر بولیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس پر بولنے سے کترارہے ہیں مگر میں خوف زدہ ہونے والی نہیں ہوں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم اپنی اس شکست کا جائزہ لیں گے اور دوبارہ پارٹی کو بنگال میں کھڑا کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم جلد ہی واپس کریں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

‘ناری شکتی’ کو پی ایم مودی کا خط خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

Published

on

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر کی خواتین کو ایک خط لکھا ہے، جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کو ریزرویشن فراہم کرنے کے ان کے اقدام کے لیے ملنے والی حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے “خواتین کی طاقت” کو یقین دلایا کہ حکومت کئی دہائیوں سے زیر التوا اس اہم اقدام کو نافذ کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ خط میں وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ اپریل کا مہینہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بی آر کی یوم پیدائش ہے۔ امبیڈکر۔ باباصاحب بی آر کو یاد کرتے ہوئے امبیڈکر، انہوں نے کہا کہ آئین کے مسودے میں ان کی شراکت ملک کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔ وزیر اعظم نے لکھا کہ آج ہندوستانی خواتین ہر میدان میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں، اور یہ ہمارے دور کی سب سے دلکش نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اسٹارٹ اپس، سائنس، تعلیم، کھیل، فنون اور ثقافت جیسے شعبوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ خواتین کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر کھیلوں کی دنیا میں، چھوٹے شہروں کی ہندوستانی خواتین نئے معیارات قائم کر رہی ہیں، جو آنے والی نسلوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر بہت سے سیلف ہیلپ گروپس اور لکھپتی دیدی خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اجتماعی کوششوں سے اہم تبدیلی ممکن ہے۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ برسوں پہلے سردار پٹیل نے احمد آباد میونسپلٹی میں خواتین کے لیے سیٹیں ریزرو کرنے کی شروعات کی تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستان نے مردوں اور عورتوں کو یکساں ووٹنگ کا حق دیا جب کہ دنیا کے کئی ممالک کو اس کے لیے طویل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے کوششیں کی گئی ہیں، لیکن وہ پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ اس لیے قانون ساز اداروں میں خواتین کی مناسب نمائندگی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2047 میں آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، اور اس وقت تک “ترقی یافتہ ہندوستان” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خواتین کی شرکت بہت ضروری ہے۔ جب خواتین پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی تو ملک کی ترقی تیز ہوگی۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ اسی وژن کے ساتھ “ناری شکتی وندن ایکٹ” متعارف کرایا گیا، جو خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ آئینی ترمیم جلد پارلیمنٹ میں منظور ہو جائے گی۔ خط میں وزیر اعظم نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ کو خط لکھیں اور اس بل کی حمایت کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ قدم آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے آنے والے تہواروں کے لیے تمام خواتین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کے لیے اچھی صحت، خوشی اور خوشحالی کی خواہش کی۔

Continue Reading

سیاست

یو سی سی وقت کی ضرورت ہے، ممتا کو خوشامد کی سیاست ترک کرنی چاہئے : شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سخت حملہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں جھوٹی داستانیں پھیلانا بند کریں۔ ممبئی میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا، “یکساں سول کوڈ وقت کی ضرورت ہے۔ آپ ووٹ بینک کی سیاست کیوں کھیل رہے ہیں اور سیوڈو سیکولرازم کا کھیل کھیل رہے ہیں؟ ہم ایک یکساں سول کوڈ لانا چاہتے ہیں تاکہ تمام شہریوں کو یکساں انصاف ملے اور کوئی خوشامد نہ ہو۔” ناری شکتی وندن ایکٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کی خواتین کو اس تاریخی قدم کے لیے 27 سال انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں واضح سیاسی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ شائنا این سی نے کہا کہ یہ بل خواتین کو صنفی مساوات کو یقینی بنا کر تاریخ رقم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ شیوسینا کے رہنما نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان محض کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنے ملک میں پنپنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جنہیں وہاں محفوظ پناہ گاہیں مل رہی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں ثالثی کرنے پر غور کرے۔ نوآبادیاتی ذہنیت پر سوال اٹھاتے ہوئے، شائنا این سی نے پوچھا کہ ہم اب بھی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں۔ شہروں کے نام تبدیل کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔ شہروں کا نام چھترپتی شیواجی مہاراج اور اہلیہ بائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کے نام پر رکھنا ایک مثبت سمت ہے۔ مہاراشٹر میں، اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور احمد نگر کا نام بدل کر اہلیہ نگر کرنا اس سمت میں خوش آئند قدم ہے۔ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ خواتین ریزرویشن بل پر کانگریس کی میٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جس نے ’’ناری شکتی وندن‘‘ اور خواتین ریزرویشن بل کو سب سے زیادہ عرصہ تک روک رکھا تھا، اب وہ جھوٹے بہانے بنا رہی ہے۔ 27 سال گزرنے کے بعد بھی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی محض 13-14 فیصد ہے۔ ناری شکتی وندن ایکٹ کے تحت خواتین کے لیے 181 نشستیں مختص کی جائیں گی۔ اگر کانگریس واقعی ترقی پسند ہے تو اسے خواتین کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہیے، جو ہندوستان کی 50 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ پی ایم مودی کے دراندازی کے بیان کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ وہ جماعتیں جو دراندازوں کو پناہ دے رہی ہیں اور بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، انہیں سمجھنا چاہئے کہ مودی حکومت اور این ڈی اے ہندوستانی شہریوں کے مفادات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر دراندازوں کی حفاظت نہیں کریں گے، جو ہندوستان کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہیں۔

Continue Reading

سیاست

بی جے پی پارلیمانی پارٹی نے وہپ جاری کرتے ہوئے تین دن کے لیے اراکین کی ایوان میں حاضری کو لازمی قرار دیا ہے۔

Published

on

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پارلیمانی پارٹی نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے لیے وہپ جاری کیا ہے۔ پارٹی کے دفتر سکریٹری شیو شکتی ناتھ بخشی کے ذریعہ جاری کردہ ہدایت میں تین دن تک ایوان میں لازمی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وہپ کے مطابق جمعرات سے ہفتہ (16 سے 18 اپریل 2026) تک تمام اراکین پارلیمنٹ کے لیے حاضری لازمی ہوگی۔ مرکزی وزراء اور تمام ارکان کو خاص طور پر ان تین دنوں کے دوران ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بی جے پی کے وہپ میں کہا گیا ہے، “جمعرات سے ہفتہ (16 تا 18 اپریل 2026) لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام بی جے پی اراکین کے لیے تین سطروں کا وہپ جاری کیا جا رہا ہے۔ تمام مرکزی وزراء اور اراکین سے مذکورہ بالا تین تاریخوں کو ایوان میں موجود رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ایوان میں حاضری لازمی ہے۔ رکن کو سختی سے چھٹی کی درخواست نہیں دی جائے گی۔ کوڑے ماریں اور ایوان میں ان کی بلاتعطل موجودگی کو یقینی بنائیں ہم آپ کے تعاون کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں تمام پارٹیوں کے لیڈروں کو خط لکھ کر “ناری شکتی وندن ایکٹ” کی حمایت کی درخواست کی ہے۔ اپنے خط میں، وزیر اعظم نے کہا کہ اس ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے سب کو متحد ہونا چاہیے، اور زیادہ سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے۔ انہوں نے اسے کسی ایک جماعت یا فرد سے بالاتر معاملہ قرار دیا۔ ہفتہ کو لکھے گئے اپنے خط میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ پر 16 اپریل کو پارلیمنٹ میں تاریخی بحث شروع ہونے والی ہے۔ انہوں نے اسے جمہوریت کو مضبوط کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم کا اعادہ کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب خواتین کو آگے بڑھنے، فیصلے کرنے اور قیادت کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کو پورا کرنے کے لیے خواتین کی مکمل شرکت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آج ملک میں خواتین کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور ہندوستان کی بیٹیاں خلا، کھیل، مسلح افواج اور اسٹارٹ اپس سمیت ہر میدان میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ وہ اپنی محنت، عزم اور وژن کے ذریعے مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا، “ہم سب عوامی زندگی میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرکت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی بیٹیاں خلا سے لے کر کھیلوں تک اور مسلح افواج سے لے کر اسٹارٹ اپس تک ہر میدان میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ اپنی بڑی سوچ اور جذبے کے ساتھ، وہ سخت محنت کرتی ہیں اور خود کو ثابت کرتی ہیں۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان