Connect with us
Sunday,05-April-2026
تازہ خبریں

جرم

مالیگاؤں : سابق یوا جنتادل کے صدر سابق کارپورٹر پروفیسر رضوان سر کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں اس وقت غنڈہ عناصر افراد کے حوصلے کافی بلند ہیں. اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہر میں جہاں کرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے. روزانہ کسی نہ کسی پر قاتلانہ حملہ, مرڈر اور اس طرح کی کوئی نہ کوئی سرگرمی سامنے آتی رہتی ہیں. آج رات 2 بجے جب ہورا شہر محو خواب تھا. رات کے اندھیرے میں سابق یوا جنتادل کے صدر سابق کارپورٹر پروفیسر رضوان سر کے گھر کچھ غنڈہ عناصر افراد نے فاٸرنگ کی جس میں اہل خانہ اور رضوان سر بال بال بچ گئے. پروفیسر رضوان سر کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پورے مالیگاؤں میں سنسنی پیدا ہوگئی ہے. عوام میں خوف و ہراس کا ماحول دیکھا جارہا ہے. اس سے قبل امین کارپوریٹر پر دن دہاڑے پستول تاننے کا معاملے میں کسی طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی. پولس کی عدم توجہی سے غنڈہ عناصر افراد کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں. امین کارپوریٹر معاملے میں چونکہ پولس کے سامنے سے ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور پولس اپنا سا منہ لے کر رہ تھی. جب پولس کو پتہ چل چکا تھا کہ کوئی غنڈہ عناصر شخص منہ پر رومال باندھے پستول لے کر امین کارپوریٹر کا پیچھا کر رہا ہے تب ایک پستول بردار کے سامنے نہتے پولس والے بھیجنے گا نتیجہ سب نے دیکھ لیا کہ کس طرح پستول کی نوک پر 2 پولس والوں کو رکھ کر وہ شخص فرار ہوگیا. اب پروفیسر رضوان خان سر کے گھر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی. تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رات کے 2 بجے 2نامعلوم افراد نےمہش نگر میں واقع رضوان سر کے گھر. کی ڈور بیل بجائی. ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی. تب پروفیسر رضوان خان دروازہ کھولنے گئے. انہیں لگا کہ اتنی رات کو کون ہے جو مسلسل بیل بجا رہا ہے. ان کے گھر کے 2 دروازے ہے. رضوان خان ایک دروازہ کھول چکے تھے. تبھی ان کی بیوی آگئی اور اس نے دروازہ بند کر کے کہا کہ لائٹ بند کرکے کھڑکی سے دیکھے کہ کون ہے؟ حب رضوان خان سر نے کھڑکی سے دیکھا تو دو افراد ریوالور اور راڈ لئے کھڑے تھے. ایک کپڑے سے انہوں نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا. وہ لوگ گھبراکر پیچِھے ہٹے. اسی وقت آواز آئی. رضوان. رضوان. باہر نکل اور اسی کے ساتھ گولیاں چلنے لگیں. اس اچانک افتادہ سے رضوان خان سر گھبراگئے. کیونکہ وہ نامعلوم افراد فائرنگ کے ساتھ مسلسل چیخ چلا رہے تھے کہ باہر نکل آج تجھے مار ڈالے گے. تیرا بہت ہوگیا. فائرنگ کرنے والے دونوں افراد گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئے ہیں.
اس واردات کی اطلاع رضوان سر نے اپنے پڑوسی مستقیم ڈگنیٹی کو دی تو پتہ چلا کہ وہ مفتی صاحب کے ساتھ ممبئی پہنچے ہے. کسی طرح فائرنگ کی اطلاع شہر ایس پی سندیپ گھوگھے کو دی گئی. آدھی رات کو فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی ڈی وائے ایس پی رتناکر نولے اپنی ٹیم کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گئے. ڈی وائے ایس پی کی پوری ٹیم نے رضوان سر کے گھر کی چھان بین کی. جہاں انہیں 4 بندوق کے فالتو کارتوس ملے. اس ضمن میں ملی مزید تفصیلات کے مطابق رضوان خان سر کے گھر چاروں طرف سے فائرنگ کی گئی. بیڈروم, کچن, ڈرائنگ روم غرض ہر جگہ گولیاں چلائی گئیں. 9 راؤنڈ فائرنگ گھر کے اندر ہوئی ہے جس کے کارتوس پولس نے برآمد کئے. یہ فائرنگ ایڈوانس ریوالور سے کی گئی تھی. کچن میں جو گولی چلی ہے وہ فریج کے آر پار ہوگئی ہے. نامعلوم ملزمین پوری منصوبہ بندی اور تیاری سے رضوان سر کے گھر حملہ آور ہوئے تھے. گھر کے 2 دروازے ہیں. جس میں سے ایک کو راڈ کی مدد سے توڑ نے کی کوشش کی گئی. شہر میں ہوئی اس 9 راؤنڈ فائرنگ سے کئی سوالات کھڑے ہورہے ہیں. کیا شہر کا ماحول اس قدر خراب ہوگیا ہے کہ ایک کارپوریٹر و پروفیسر کی جان کو خطرہ لاحق ہے؟ کیا شہر میں لاء اینڈ آرڈر ختم ہوگیا ہے؟
نمائندے نے فائرنگ کی اس واردات کے بارے میں ڈی وائے ایس پی تمسخر نولے سے بات کرنی چاہی تو موصوف نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہے بعد میں کال کریں.

بین الاقوامی خبریں

ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو ایک پروجیکٹائل حملے کا خطرہ، جس سے تابکاری پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے سخت انتباہ۔

Published

on

Bushehr-N.-P.-Plant

تہران : امریکا اور اسرائیل نے ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب حملہ کیا ہے۔ ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک اور پلانٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ تاہم پلانٹ کا اہم حصہ محفوظ ہے اور پیداوار متاثر نہیں ہوئی ہے۔ جنگ کے دوران پلانٹ کو نشانہ بنانے کا یہ چوتھا موقع ہے، جس سے نیوکلیئر پلانٹ کی حفاظت اور تابکاری کی نمائش کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اس واقعے پر ایک بیان جاری کرکے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ہفتے کی صبح ایک میزائل بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے مضافات میں گرا، جس سے ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک اور پلانٹ کی ایک معاون عمارت کو نقصان پہنچا۔ بوشہر جنوبی ایران میں خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے اور یہ ملک کا پہلا تجارتی ایٹمی بجلی گھر ہے۔

ہفتے کی سہ پہر آئی اے ای اے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اسے ایران سے اطلاع ملی ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ (این پی پی) کے احاطے کے قریب ایک پراجیکٹائل گرا ہے۔ سائٹ کے جسمانی تحفظ کے عملے کا ایک رکن ایک ٹکڑے سے ہلاک ہو گیا تھا، اور سائٹ پر ایک عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ تابکاری کی سطح میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں یہ چوتھا ایسا واقعہ ہے جس سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این پی پی سائٹس پر یا اس کے قریب حملے نہیں کیے جانے چاہئیں۔ سائٹ کی معاون عمارتوں میں اہم حفاظتی سامان ہو سکتا ہے۔ جوہری حادثے اور تابکاری کے خطرے سے بچنے کے لیے انتہائی فوجی تحمل کی ضرورت ہے۔ گروسی نے کہا کہ کسی بھی تنازع کے دوران جوہری تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے “7 ستونوں” کی پابندی ضروری ہے۔

ایران میں 28 فروری سے جاری جنگ میں حالیہ دنوں میں شدت آنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے، پلوں اور پاور پلانٹس پر حملوں سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے انفراسٹرکچر پر پہلے ہی سنگین حملے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں تباہی بڑھ سکتی ہے۔ ایران نے اس ہفتے اپنے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرا کر امریکہ کو بڑا دھچکا پہنچایا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حالت جنگ میں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ فوجی طیارے کی تباہی سے ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایران نے ٹرمپ کی بیان بازی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے پل، پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا تو وہ اس کا سخت جواب دے گا۔ ایران نے امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے انفراسٹرکچر پر حملوں سے خبردار کیا ہے جو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔

Continue Reading

جرم

ممبئی اے ٹی ایس نے لکڑی کی اسمگلنگ کیس میں عاقب ناچن اور دو دیگر کو گرفتار کیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کھیر کی لکڑی اسمگلنگ کیس میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں عاقب ناچن ولد ثاقب ناچن، داعش سے وابستہ دہشت گرد بھی شامل ہے۔ ممبئی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بتایا کہ دونوں مشتبہ افراد کو 29 مارچ کو غیر قانونی اسمگلنگ کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان کی شناخت عاقب ناچن اور ساحل چکھلیکر کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں مشتبہ افراد کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا اور مزید تفتیش کے لیے 6 اپریل تک اے ٹی ایس کی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ یہ مقدمہ 24 جولائی 2025 کو ممبئی کے اے ٹی ایس کالاچوکی پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی کئی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں چوری، دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش، مشکوک جائیداد کا قبضہ اور دیگر متعلقہ جرائم شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں اسمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں جاری تحقیقات کا حصہ ہیں جو مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد سے منسلک ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس کیس کے دہشت گردی کی فنڈنگ ​​سے تعلق کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عاقب ناچن کے والد ثاقب ناچن پر داعش کے کارندے ہونے کا الزام تھا۔ تاہم ثاقب ناچن کا انتقال ہو چکا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ اس اسمگلنگ ریکیٹ سے کمائی گئی رقم ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے استعمال کی گئی ہو گی۔ ایجنسیاں خیری لکڑی کی اسمگلنگ کیس اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے مشتبہ نیٹ ورکس کے درمیان ممکنہ روابط کی چھان بین کر رہی ہیں، بشمول مالی اور لاجسٹک کنکشن۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران جنگ کے درمیان، ‘گریٹر اسرائیل’ پر کام شروع؟ آئی ڈی ایف نے لبنان پر ‘قبضہ’ کرنے کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی ہے۔

Published

on

Greater Israel

تل ابیب : جہاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں، وہیں مبینہ طور پر اسرائیل بھی “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ اسرائیل لبنان پر حملہ کر رہا ہے جس کا مقصد ایران کی پراکسی تنظیم حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیل اب حزب اللہ کے خلاف “بفر زون” بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے یہ سوالات اٹھے ہیں کہ آیا اسرائیل نے اپنے “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ “گریٹر اسرائیل” ایک یہودی ریاست کے قیام کا تصور کرتا ہے جو مصر میں دریائے نیل سے عراق میں دریائے فرات تک پھیلی ہوئی ہے، جس میں فلسطین، لبنان اور اردن کے ساتھ ساتھ شام، عراق، مصر اور سعودی عرب کے بڑے حصے شامل ہیں۔ یہ خیال سب سے پہلے 19ویں صدی میں یہودی اسکالر تھیوڈور ہرزل نے پیش کیا تھا، اور یہ عبرانی بائبل میں دی گئی یہودی زمین کی تعریف پر مبنی ہے، جو مصر کی سرحدوں سے لے کر دریائے فرات کے کنارے تک پھیلے ہوئے علاقے کو بیان کرتی ہے۔

مغربی کنارے پر کنٹرول سخت کرنا اور لبنان میں بفر زون بنانے کی کوششوں کو “عظیم تر اسرائیل” سے جوڑا جا رہا ہے۔ بھارت میں، کانگریس کے رہنما جیرام رمیش نے الزام لگایا ہے کہ “مغربی ایشیا میں جاری جنگ اسرائیل کو “عظیم تر اسرائیل” کے خواب کو آگے بڑھانے اور فلسطینی ریاست کی کسی بھی امید کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کور فراہم کر رہی ہے۔ “گریٹر اسرائیل” کا نظریہ بائبل کے وعدوں پر مبنی ہے، لیکن اس پر پہلی بار تھیوڈور ہرزل نے جدید سیاسی تناظر میں بحث کی تھی۔ یہ پیدائش 15:18-21 میں خدا کے وعدے کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں، خدا ابرام سے کہتا ہے، “میں یہ ملک تمہاری اولاد کو دیتا ہوں۔ مصر کے دریا سے لے کر اس عظیم دریا، فرات تک، یہ سرزمین کنیتیوں، کنیتیوں، قدمونیوں، حِتّیوں، فرزّیوں، رفائیوں، اموریوں، کنعانیوں، گرگاشیوں اور یبوسیوں کی ہے۔” گریٹر اسرائیل کے خیال نے 1967 کی جنگ کے دوران اہم کرشن حاصل کیا۔ اس میں چھ عرب ممالک، بنیادی طور پر مصر، شام اور اردن کے ساتھ اسرائیل کی بیک وقت جنگ شامل تھی۔ اس فتح کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی، جزیرہ نما سینائی، مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔

اگرچہ اسرائیل کے پاس “عظیم تر اسرائیل” کے قیام کے لیے کوئی سرکاری پالیسی نہیں ہے، لیکن یہ 2022 کے کنیسٹ (پارلیمنٹ) انتخابات کے بعد سے ایک عام خیال بن گیا ہے، جس میں لیکوڈ پارٹی کی قیادت میں ایک اتحاد کو اقتدار حاصل ہوا اور بینجمن نیتن یاہو کو وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ 2023 میں، رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے پیرس میں ایک تقریر کے دوران ایک “گریٹر اسرائیل” کا نقشہ دکھایا جس میں اردن اور مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنایا گیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان