جرم
مالیگاؤں : سابق یوا جنتادل کے صدر سابق کارپورٹر پروفیسر رضوان سر کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ
(وفا ناہید)
مالیگاؤں میں اس وقت غنڈہ عناصر افراد کے حوصلے کافی بلند ہیں. اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہر میں جہاں کرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے. روزانہ کسی نہ کسی پر قاتلانہ حملہ, مرڈر اور اس طرح کی کوئی نہ کوئی سرگرمی سامنے آتی رہتی ہیں. آج رات 2 بجے جب ہورا شہر محو خواب تھا. رات کے اندھیرے میں سابق یوا جنتادل کے صدر سابق کارپورٹر پروفیسر رضوان سر کے گھر کچھ غنڈہ عناصر افراد نے فاٸرنگ کی جس میں اہل خانہ اور رضوان سر بال بال بچ گئے. پروفیسر رضوان سر کے گھر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پورے مالیگاؤں میں سنسنی پیدا ہوگئی ہے. عوام میں خوف و ہراس کا ماحول دیکھا جارہا ہے. اس سے قبل امین کارپوریٹر پر دن دہاڑے پستول تاننے کا معاملے میں کسی طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی. پولس کی عدم توجہی سے غنڈہ عناصر افراد کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں. امین کارپوریٹر معاملے میں چونکہ پولس کے سامنے سے ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور پولس اپنا سا منہ لے کر رہ تھی. جب پولس کو پتہ چل چکا تھا کہ کوئی غنڈہ عناصر شخص منہ پر رومال باندھے پستول لے کر امین کارپوریٹر کا پیچھا کر رہا ہے تب ایک پستول بردار کے سامنے نہتے پولس والے بھیجنے گا نتیجہ سب نے دیکھ لیا کہ کس طرح پستول کی نوک پر 2 پولس والوں کو رکھ کر وہ شخص فرار ہوگیا. اب پروفیسر رضوان خان سر کے گھر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی. تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رات کے 2 بجے 2نامعلوم افراد نےمہش نگر میں واقع رضوان سر کے گھر. کی ڈور بیل بجائی. ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی. تب پروفیسر رضوان خان دروازہ کھولنے گئے. انہیں لگا کہ اتنی رات کو کون ہے جو مسلسل بیل بجا رہا ہے. ان کے گھر کے 2 دروازے ہے. رضوان خان ایک دروازہ کھول چکے تھے. تبھی ان کی بیوی آگئی اور اس نے دروازہ بند کر کے کہا کہ لائٹ بند کرکے کھڑکی سے دیکھے کہ کون ہے؟ حب رضوان خان سر نے کھڑکی سے دیکھا تو دو افراد ریوالور اور راڈ لئے کھڑے تھے. ایک کپڑے سے انہوں نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا. وہ لوگ گھبراکر پیچِھے ہٹے. اسی وقت آواز آئی. رضوان. رضوان. باہر نکل اور اسی کے ساتھ گولیاں چلنے لگیں. اس اچانک افتادہ سے رضوان خان سر گھبراگئے. کیونکہ وہ نامعلوم افراد فائرنگ کے ساتھ مسلسل چیخ چلا رہے تھے کہ باہر نکل آج تجھے مار ڈالے گے. تیرا بہت ہوگیا. فائرنگ کرنے والے دونوں افراد گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئے ہیں.
اس واردات کی اطلاع رضوان سر نے اپنے پڑوسی مستقیم ڈگنیٹی کو دی تو پتہ چلا کہ وہ مفتی صاحب کے ساتھ ممبئی پہنچے ہے. کسی طرح فائرنگ کی اطلاع شہر ایس پی سندیپ گھوگھے کو دی گئی. آدھی رات کو فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی ڈی وائے ایس پی رتناکر نولے اپنی ٹیم کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گئے. ڈی وائے ایس پی کی پوری ٹیم نے رضوان سر کے گھر کی چھان بین کی. جہاں انہیں 4 بندوق کے فالتو کارتوس ملے. اس ضمن میں ملی مزید تفصیلات کے مطابق رضوان خان سر کے گھر چاروں طرف سے فائرنگ کی گئی. بیڈروم, کچن, ڈرائنگ روم غرض ہر جگہ گولیاں چلائی گئیں. 9 راؤنڈ فائرنگ گھر کے اندر ہوئی ہے جس کے کارتوس پولس نے برآمد کئے. یہ فائرنگ ایڈوانس ریوالور سے کی گئی تھی. کچن میں جو گولی چلی ہے وہ فریج کے آر پار ہوگئی ہے. نامعلوم ملزمین پوری منصوبہ بندی اور تیاری سے رضوان سر کے گھر حملہ آور ہوئے تھے. گھر کے 2 دروازے ہیں. جس میں سے ایک کو راڈ کی مدد سے توڑ نے کی کوشش کی گئی. شہر میں ہوئی اس 9 راؤنڈ فائرنگ سے کئی سوالات کھڑے ہورہے ہیں. کیا شہر کا ماحول اس قدر خراب ہوگیا ہے کہ ایک کارپوریٹر و پروفیسر کی جان کو خطرہ لاحق ہے؟ کیا شہر میں لاء اینڈ آرڈر ختم ہوگیا ہے؟
نمائندے نے فائرنگ کی اس واردات کے بارے میں ڈی وائے ایس پی تمسخر نولے سے بات کرنی چاہی تو موصوف نے کہا کہ وہ میٹنگ میں ہے بعد میں کال کریں.
جرم
سائبر مجرموں نے ایک ریٹائرڈ مینیجر کو دہلی دھماکہ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر 40.90 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔

ممبئی کے بھنڈوپ علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں ایک ریٹائرڈ بینک مینیجر کو پھنسانے کی دھمکی دیتے ہوئے، دھوکہ بازوں نے اسے 54 دنوں تک “ڈیجیٹل گرفتاری” کے تحت رکھا اور 40.90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ شکایت کے بعد، ممبئی سائبر سیل نے تحقیقات شروع کی. 10 مارچ کو، متاثرہ، راجیندر (مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ریٹائرڈ مینیجر) کو سگنل ایپ پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو کال موصول ہوئی جس کا لیبل “اے ٹی ایس ڈیپارٹمنٹ” تھا۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت “پی ایس آئی سنگھ” کے طور پر کروائی، جو دہلی اے ٹی ایس کے ایک افسر تھے، اور دعویٰ کیا کہ اس کا نام جنوری کے دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں سامنے آیا تھا۔ دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مطلع کیا کہ اس کے آدھار اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس میں کل 2.65 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دی۔ خوف کا ماحول بنا کر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو گھر کے الگ کمرے میں رہنے، کسی سے بات کرنے سے گریز کرنے اور مسلسل ویڈیو کال کرنے پر مجبور کیا۔ ذہنی دباؤ کے تحت متاثرہ نے ابتدائی طور پر 2.90 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے اسے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی ₹29 لاکھ کی سرمایہ کاری کو بیچنے پر مجبور کیا، جس سے ₹28 لاکھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے “بیل سیکیورٹی” کے نام پر ₹ 10 لاکھ بھتہ وصول کیا، جو متاثرہ کی بیوی نے قرض کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ دو دن میں پوری رقم واپس کر دی جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے رقم ملتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ کئی دنوں تک انتظار کرنے اور کوئی جواب نہ ملنے کے بعد متاثرہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نے 3 مئی کو سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی اور 4 مئی کو سائبر سیل میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ممبئی پولیس کے مطابق، یہ کیس سائبر کرائم کے ایک خطرناک نئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے جسے “ڈیجیٹل گرفتاری” کہا جاتا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی طور پر دباؤ ڈالتے ہیں اور بڑی رقم بٹورتے ہیں۔ سائبر سیل اس وقت متعلقہ بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہا ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
جرم
پونے میں ایک اور شرمناک واقعہ: نابالغ لڑکی کو اس کے نانا نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پونے: مہاراشٹر کے پونے ضلع سے ایک بار پھر شرمناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ 9 سالہ بچی کو اس کے نانا نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔ پولیس نے حالات کو قابو میں کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پونے کے پاروتی کچی آبادی میں پیش آیا جہاں منگل کو نانا نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاروتی پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس کے جوائنٹ کمشنر رنجن کمار شرما نے بتایا کہ ملزم کے نانا کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن لایا گیا ہے، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مجرم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ غور طلب ہے کہ پونے ضلع میں ابھی کچھ دن پہلے ایک اور ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔ یکم مئی کو تحصیل بھور کے علاقے نصرپور میں 65 سالہ شخص نے کم سن لڑکی کو کسی بہانے اپنے ساتھ لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ ملزمان نے لاش کو گوبر کے ڈھیر کے نیچے چھپانے کی بھی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے 7 مئی تک پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ نصرا پور علاقے میں اس واقعہ کے بعد سے عوامی غم و غصہ جاری ہے۔ دریں اثنا، پونے کے پاروتی سلم علاقے میں اس نئے واقعے نے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
جرم
پونے ضلع کے داؤنڈ میں ایک باپ نے اپنی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا۔

پونے، پونے کے نصرا پور میں ایک لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ بمشکل نمٹا ہے جب ضلع کے داؤنڈ تعلقہ کے دیولگاؤں راجے گاؤں میں اب ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ باپ نے اپنی ہی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ ملزمان نے لڑکی پر لکڑی کاٹنے والی مشین سے حملہ کر دیا۔ قتل کے بعد لاش کو کپڑے میں لپیٹ کر شواہد مٹانے کے لیے گھر کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ ہنومان بستی، کالے وستی علاقہ میں پیش آیا۔ ملزم شانتارام دوریودھن چوان (33) کو شک تھا کہ اس کی بیٹی نے اپنے بھائی کے اسکول کی مارک شیٹ میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اس شک نے اسے مشتعل کر کے لڑکی کو قتل کر دیا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد گھر کو آگ لگا دی، لاش چھپانے اور تلف کرنے کا ارادہ کیا۔ چنگو شندباد بھوسلے نامی ایک خاتون پر اس واقعے میں مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔ داؤد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے ملزم شانتارام چوان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ معاملے کی جانچ سب انسپکٹر سنیل اوگلے کر رہے ہیں۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے واقعے کی خبر سن کر خوفزدہ ہو گئے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کو اس کے اپنے باپ کے ہاتھوں اس طرح قتل کیا جائے گا۔ عوام انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (بی این ایس 2023) کی دفعہ 103(1)، 238، اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ سیکشن قتل، شواہد کو تباہ کرنے اور دیگر جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ آگ لگنے سے مکان کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پڑوسیوں نے دھواں اور آگ کے شعلے دیکھ کر اطلاع دی اور مدد کے لیے پہنچ گئے لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
