Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مالیگاؤں کی اہم شاہراہ کسمبا روڈپر دن اوقات میں بڑی گاڑیوں کی آمدورفت بند کی جائے: ایم ڈی ایف‎‎

Published

on

Truck-no-in-malegaon

مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر جب سے کارپوریشن میں تبدیل ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں اور کارپوریشن انتظامیہ کو شہر کی کوئی پروا ہی نہیں ہے کیونکہ کارپوریشن کے باہر وائٹ کالر والے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تو کارپوریشن کے اندر اے سی میں بیٹھے سرکاری نوکر عوام کو دلاسہ دے رہے ہیں۔ ایک جانب شہر کی حالت بد سے بتر ہوچکی ہے۔ شہر کی تمام اہم شاہراوں سے جان ہتھیلی پر لیکر گذرنا پڑرہا ہے۔ جونا آگرہ روڈ، مولانا آزاد روڈ، شہید عبدالحمید روڈ اور ایسی تمام اہم سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہیں۔ بارش کے ایام میں شہر کے کچے علاقوں اور اطراف کی بستوں میں پیر رکھنے کیلئے بھی جگہ نہیں ہوتی اور اگر میت ہو جائے تو قبرستان تک لے کر جانے کیلئے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہر یان بنیادی سہولیات او ر مسائل سے پریشان ہے تو دوسری جانب کارپوریشن میں جشن کاماحول دیکھا جارہا ہے۔ کارپوریشن پربھاگ کے نو منتخب چیئرمن اور کمشنرایک دوسرے کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ کارپوریشن کی پوری بلڈنگ میں معمولی چپراسی سے لیکر اعلی افیسران تک میٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اسطرح کا منظرمالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی ٹیم نے کارپوریشن کمشنر سے ملاقات کے دوران دیکھا تو بہت دکھ ہوا۔

گذشتہ کئی دنوں سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ شہید عبدالحمید عرف کسمبا روڈ پر سے دن اور رات کے اوقات میں مسلسل بڑی گاڑیوں، مال ٹرک، ٹرالا اور دیگر ہیوی لوڈیڈ گاڑیوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔ کسمباروڈ کے اطراف لاکھوں کی آبادی ہے اور یہ روڈجونا آگرہ روڈ کے بعد شہر کی دوسری سب سے اہم شاہراہ ہے۔ اس روڈ کے بیچ ڈیوائڈر بنا دیا گیا ہے جس سے روڈ مزید باریک ہوجاتا ہے اگر ایک جانب سے کوئی ایک مال گاڑی آجائے تو راستہ بلاک ہوجاتا ہے۔ جس روڈ پر پیدل چلنا دشوار گزار ہے وہاں سے روزانہ دن کے اوقات میں سینکڑوں بڑی گاڑیوں کا گزر ہو رہا ہے جس سے حادثات ہوسکتے ہیں۔اس علاقے کے فعال نوجوان سوشل ورکر قطب الدین عرف ببو ماسٹر نے اس مدعے پر کارپوریشن، پولس انتظامیہ اور میڈیا میں اس جانب توجہ دلائی۔

ببو ماسٹر نے بتایا کہ نیا بس اسٹینڈ سے لیکر دیانہ گاؤں تک کسمبا روڈ کی حالات انتہائی خراب ہے۔ روڈ پر جگہ جگہ گڑھے بن چکے ہیں اور ڈیوائڈر کی وجہ سے مزید دشواریاں ہوتی ہیں۔ کسمبا روڈ سے لگ کر مرچنٹ نگر، سلیم نگر، کریم نگر، ہنگلاج نگر، ہڈکو کالونی، دیانہ، رمضان پورہ، نیا اسلام پورہ اور دیگر علاقوں کی عوام روزانہ اس روڈ کا استعمال کرتی ہیں۔ جھیں جان ہتھیلی پر رکھ کر کسمبا روڈ سے گزرنا پڑ رہا ہے اور اب تو لوگ بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھ کر ڈر رہے ہیں کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ پیش آئے۔ اسی لئے مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی ٹیم کے ہمراہ ببو ماسٹر نے کارپوریشن کمشنر کو بروز پیر 26جولائی 2021کو ایک میمورنڈیم پیش کیا۔ جس میں کمسبا روڈ پر بڑی گاڑیوں کی آمدورفت کی دن کے اوقات میں بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اس روڈ کو نئے سیرے سے بنانے کی اپیل بھی کی گئی۔

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے صدر احتشام بیکری والا نے کارپوریشن کمشنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فرنٹ کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں اور گلی محلوں کی سڑکوں کی درستگی کیلئے کئی مکتوب دئیے گئے لیکن ابتک خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ ایسی لئے فرنٹ کی جانب سے اب آر ٹی آئی لگا کر معلومات طلب کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کارپوریشن کمشنرجلد از جلد شہر کی اہم شاہراہوں کی تزائین کار کرے اور عوام کو راحت دے۔ اسی طرح سے کسمبا روڈ معاملہ پر فوری کاروائی کی جائے ورنہ روڈ بند کر آندلولن کیا جائے گا اورکسمبا روڈ سے ایک بھی بڑی گاڑی کو پاس نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایم ڈی ایف ٹیم میں نائب صدر عمران راشد، پروفیسر وسیم بیگ، شیخ ندیم اور دیگر ممبران موجود رہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com