Connect with us
Sunday,21-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ تفتیشی افسر کی گواہی جاری، گواہ استغاثہ نے ملزمین کی آواز کے نمونوں کی شناخت کی

Published

on

Malegaon 2008 bomb blast

ممبئی 17/ جون : مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں چیف تفتیشی افسر کی گواہی جاری ہے، سبکدوش اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس موہن کلکرنی نے خصوصی جج اے کے لاہوٹی کو خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم میجر رمیش اپادھیائے کو گرفتار کرنے کے بعد دو پنچوں کی موجودگی میں اس کی آواز کا نمونہ حاصل کیا گیا تھا، جسے بعد میں فارینسک سائنس لیباریٹری جانچ کے لئے بھیجا گیا تھا۔ آج عدالت میں ملزم رمیش اپادھیائے کی آواز کے نمونے کی کیسٹ کو بجایا گیا اور موہن کلکرنی سے اس کی شناخت کرنے کو کہا گیا، آواز سننے کے بعد موہن کلکرنی نے ملزم رمیش اپادھیائے کی آواز کی شناخت کی، ملزم میجر اپادھیائے کی آواز کے نمونے کی کیسٹ کی کوالیٹی پر دفاعی وکلاء نے شدید اعتراض کیا اور عدالت سے کہا کہ انہیں آواز صاف سنائی نہیں دے رہی ہے جس پر خصوصی جج نے انہیں کہا کہ آواز دھیمی ہے اور ملزم نے جلدی جلدی میں تحریر پڑھی ہے، اور عدالت کو آواز کے نمونے میں کوئی خامی نظر نہیں آئی، عدالت نے دفاعی وکلاء کے اعتراض کو خارج کر دیا اور آواز کے نمونے کے دستاویزات کو اپنے ریکارڈ پر لے لیا۔

موہن کلکرنے نے عدالت کو مزید بتایا کہ 10/نومبر 2008 کو ملزم سوامی دیانند پانڈے عرف شنکر اچاریہ کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتار کر کے پہلے اسے لکھنؤ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں اس نے اے ٹی ایس کے ذریعہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی شکایت کی جس کے بعد عدالت نے ملزم کا طبی معائنہ کیئے جانے کا حکم جاری کیا، ملزم کا طبی معائنہ کیئے جانے کے بعد ڈاکٹروں نے عدالت میں رپورٹ دی کہ ملزم کے ساتھ کسی بھی طرح کا تشدد نہیں کیا گیا۔ لکھنؤ مجسٹریٹ کی اجازت سے ملزم کو ناشک لایا گیا اور اسے ناشک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم نے ایک بار پھر اس کے ساتھ تشدد کیئے جانے کی شکایت کی۔ ناشک مجسٹریٹ نے ملزم کو اپنے چیمبر میں طلب کر کے اس کا بذات خود معائنہ کیا اور پھر ملزم کو اے ٹی ایس کی تحویل میں دیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ اس طرح ملزم سوامی دیانندپانڈے کا اے ٹی ایس کے ذریعہ تشدد کیئے جانے کا دعوی دونوں مرتبہ غلط ثابت ہوا۔ موہن کلکرنی نے عدالت کو مزید بتایا کہ ایڈیشنل کمشنر آف پولس سکھوندر سنگھ کے حکم پر اے پی آئی گری گوساوی کو پنچ مڑھی آرمی ایجوکیشن سینٹر بھیجا گیا تاکہ ملزم کرنل پروہت کا لیپ ٹاپ ضبط کیا جاسکے۔ موہن کلکرنی نے عدالت کو مزید بتایا کہ 11/ نومبر 2008 کو ملزم سدھاکر دھر دویدی نے اقبالیہ بیان دینے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد عدالت کی اجازت سے اس وقت کے ڈی سی پی زون دو سنجے موہتے نے اس کا اقبالیہ بیان درج کیا تھا۔

موہن کلکرنی نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم سدھاکر دھر دویدی کی آواز کا نمونہ دو پنچوں کی موجودگی میں حاصل کیا گیا تھا۔ عدالت میں آج آواز کے نمونے کی کیسٹ بجائی گئی، آواز سننے کے بعد گواہ استغاثہ موہن کلکرنی نے آواز کی شناخت کی۔ موہن کلکرنی نے خصوصی جج کو مزید بتایا کہ 26/ نومبر 2008 کو شہید ہیمنت کرکرے نے رات نو بجے انہیں ٹائمز آف انڈیا بلڈنگ ممبئی کے پاس اپنے اسٹاف کے ساتھ بلایا تھا، اس وقت ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ اس حملہ میں ہیمنت کرکرے، ایڈیشنل کمشنر کامٹے، پی آئی وجے سالسکر شدید زخمی ہوئے تھے، جنہوں نے بعد میں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔

موہن کلکرنی نے مزید بتایا کہ ہیمنت کرکرے کے شہید ہوجانے کے بعد 29/ نومبر 2008 کو اے ڈی جی کے پی رگھوونشی نے اے ٹی ایس کا چارج سنبھالا، جس کے بعد ان کی سربراہی میں اس مقدمہ کی مزید تفتیش انجام دی گئی۔

گواہ استغاثہ سے سوالات پوچھنے کا سلسلہ آج ختم نہیں ہوسکا جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی ملتوی کر دی۔ دوران سماعت عدالت میں بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ کرتیکا اگروال و دیگر موجود تھے۔

گذشتہ کل ملزم کرنل پروہت کے وکیل نے خصوصی عدالت میں ایک عرضداشت داخل کی جس میں تحریر ہے کہ عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد بھی موہن کلکرنی خصوصی وکیل استغاثہ اویناس رسال اور این آئی اے کے افسران کے ہمراہ کمرہ عدالت میں بہت دیر تک موجود تھے، جبکہ گواہ نے عدالت سے ناسازی طبیعت کی وجہ سے سماعت جلد ختم کرنے کی گذارش کی تھی، اور عدالت نے گواہ کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی تھی۔ کرنل پروہت کے وکیل نے گواہ استغاثہ موہن کلکرنی کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے کرنل پروہت کے وکیل کی جانب سے داخل عرضداشت کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے این آئی اے کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔

ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر، کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر چترویدی کے خلاف قائم مقدمہ میں گواہوں کے بیانات کا اندراج کررہی ہے، ابتک 319 گواہوں کی گواہی عمل میں آچکی ہے اور عدالتی کارروائی روز بہ روز کی بنیاد پر جاری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان