سیاست
مہاراشٹر کا نیا ان لاک منصوبہ , کہاں لاک ڈاؤن میں ہوگی نرمی اور کہاں لگے گی پابندی
ملک بھر کی مختلف ریاستوں میں کورونا کیسز کی تعداد کم ہونے کے بعد انلاک کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اسی سلسلے، مہاراشٹر حکومت نے بھی ریاست کے لئے ایک ان لاک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، ریاست کے کچھ شہروں میں ہر چیز کا آغاز کردیا جائے گا جبکہ کچھ شہروں میں اب بھی پابندیاں نافذ رہیں گی۔ تو آئیے جانتے ہیں کہ مہاراشٹر حکومت کا نیا ان لاک منصوبہ کیا ہے؟ کن جگہوں پر رعایت ملی ہے اور کہاں پابندیاں نافذ رہے گی۔ کچھ دن پہلے ہی مہاراشٹر کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے وزیر وجے وڈیٹیوار نے حکومت کے ایک منصوبے کو میڈیا کے سامنے رکھا تھا، یہ منصوبہ زیادہ تر وہی ہے۔ ریاست کو غیر مقفل کرنے کے لئے مہاراشٹر حکومت نے تمام شہروں کو مختلف مرحلوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان شہروں کو درجہ بندی کرکے کورونا مریضوں کی تعداد، اسپتالوں میں بیڈ کی تعداد، آکسیجن بیڈ، وینٹیلیٹر اور اسپتال میں داخل کورونا مریضوں کی تعداد کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ ریاست کو ان لاک کرنے کے لئے بنائے گئے مرحلے مندرجہ ذیل ہیں۔
لیول 1 : ایسے شہر جہاں مثبتیت کی شرح 5 فیصد سے کم ہو اور آکسیجن بیڈ 25 فیصد سے کم ہو۔
لیول 2 : ایسا شہر جہاں مثبتیت کی شرح 5 فیصد ہے اور آکسیجن بیڈ 25 فیصد سے 40 فیصد تک فل ہیں –
لیول 3 : ایسا شہر جہاں مثبتیت کی شرح 5فیصد سے 10 فیصد کی حد تک ہے اور آکسیجن بیڈ 40 فیصد سے زیادہ فل ہیں۔
لیول 4 : ایسا ضلع جہاں مثبتیت کی شرح 10 فیصد سے 20 فیصد تک ہے اور آکسیجن بیڈ 60 فیصد تک فل ہیں۔
لیول 5 : ایسا شہر جہاں مثبتیت کی شرح 20 فیصد سے زیادہ ہے اور آکسیجن بیڈ 75 فیصد سے زیادہ ہیں
حکومت کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق لیول 1 میں ، ملٹی پلیکس ، تھیٹر ، ریستوراں کو شروع کیا جاسکتا ہے ۔ مقامی انتظامیہ یا ڈیزاسٹر مینجمنٹ فیصلہ کرے گی کہ لوکل سروس شروع کی جائے یا نہیں۔ عوامی میدان کھلیں گے ، چلنے پھرنے اور سائیکل چلانے کی اجازت ہے۔ سرکاری دفاتر 100 فیصد صلاحیت کے ساتھ کھلیں گے ، کھیل ، شوٹنگ ، سماجی اور ثقافتی پروگراموں کی اجازت ہوگی۔ شادی کی تقریب ، آخری رسومات پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ جیمز ، سیلون ، اسپا بیوٹی پارلر کی اجازت ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ خدمات بھی شروع کی جائیں گی۔ یہاں لاک ڈاؤن کا کوئی اصول نہیں ہوگا۔
لیول 3 میں ضروری خدمات سے متعلق دکانیں شام 4 بجے تک کھلی رہیں گی۔ باقی دکانیں پیر سے جمعہ شام 4 بجے تک کھلی رہیں گی۔ یہ دکانیں سنیچر اور اتوار کو بند رہیں گی۔ لیول 4 میں ضروری خدمات سے متعلق دکانیں شام 4 بجے تک کھلی رہیں گی۔ ضروری خدمات کے علاوہ دیگر دکانیں بند رہیں گی۔ لیول 5۔ ضروری خدمات سے متعلقہ دکانیں پیر سے جمعہ شام 4 بجے تک کھلی رہیں گی۔ ویک اینڈ پر میڈیکل کے علاوہ دیگر دکانیں بند رہیں گی۔ اس کے علاوہ لیول 3/4/5 کے لئے بھی دیگر پابندیاں نافذ رہے گی
پہلے مرحلے میں جن اضلاع کو ان لاک کیا جائے گا وہ ہیں احمد نگر ، بھنڈارہ ، بلڈانہ ، چندر پور ، دھولیہ ، گونڈیا ، جلگاؤں ، جالنہ ، لاتور ، ناگپور ، ناندیڑ ، تھانہ ، وردھا
لیول 2 میں ، ممبئی مضافات ، نندوربار ، ناسک ، عثمان آباد ، پالگھر, پربھنی ،
لیول 3 میں اکولہ ، امراوتی ، بیڑ ، پونے ، واشیم ، ایوت محل ، –
لیول 4 – رائے گڑھ ، رتناگری ، سانگلی ، سندھودرگ ، لیول 5 میں – کولھا پور
بین الاقوامی خبریں
امریکا سے واپسی پر چھوٹے بھائی نے جائیداد کے لیے بڑے بھائی کو قتل کردیا۔

جے پور : جے پور میں دو بھائیوں کے درمیان جائیداد کا تنازعہ منگل کو اس وقت جان لیوا ہو گیا، جب بنی پارک علاقے میں جھگڑے کے دوران ایک 58 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے بڑے بھائی کو چاقو مار دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ سنت کنور رام پارک کے پیچھے سندھی کالونی میں بھائیوں کی رہائش گاہ سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر رام پارک کے قریب پیش آیا۔ ایس ایچ او سریش یادو کے مطابق 65 سالہ شیام بگانی اپنے گھر سے سکوٹر پر مندر جانے کے لیے نکلے تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی مرلی بگانی نے مبینہ طور پر رام پارک کے قریب ان پر حملہ کر دیا۔ ایک چھڑی کے ساتھ شیام. اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر چاقو نکالا اور اپنے بڑے بھائی پر وار کیا۔ شیام شدید زخمی ہو گیا اور اسے ایس ایم ایس ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کئے۔ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں دونوں بھائیوں کے درمیان آبائی جائیداد پر جاری تنازع کا اشارہ ملتا ہے۔ پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا جائیداد کی تقسیم کا تنازعہ حملہ کا سبب بنا۔
خاندان میں تین بھائی تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی پرکاش بگانی کا 2014 میں امریکہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ شیام بگانی دوسرے سب سے بڑے جبکہ مرلی بگانی سب سے چھوٹے تھے۔ واقعہ کے وقت شیام خاندان کے گھر میں رہ رہا تھا۔ اس کا بیٹا چراغ بگانی آن لائن کام کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق مرلی بگانی تقریباً 24 سال سے بیرون ملک مقیم تھا اور وسطی امریکہ کے بیلیز سٹی میں چرچ اسٹریٹ پر مقیم تھا۔ اس کی بیوی اور بچے اس وقت امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرلی تقریباً 11 ماہ قبل کاروبار میں نقصان اٹھانے کے بعد جے پور واپس آیا تھا۔ تب سے وہ سیکر روڈ پر شیخاوتی نگر میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک جانے سے پہلے مرلی کے خلاف جے پور کے مہیلا نارتھ پولس اسٹیشن میں جہیز کے لیے ہراسانی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسے اس کیس میں 6 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق رہائی کے بعد مرلی اور شیام کے درمیان آبائی جائیداد کی تقسیم کو لے کر دوبارہ تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ پولیس منگل کے حملے تک کے حالات کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں مبینہ جائیداد کا تنازع اور چھرا گھونپنے سے فوراً پہلے کے واقعات شامل ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

ممبئی29/ ستمبر ، دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک،کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
