Connect with us
Sunday,19-April-2026

(جنرل (عام

مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا کا ڈائریکٹر سے مطالبہ

Published

on

maharashtra-urdu

کھام گاؤں (نامہ نگار )

پری میٹرک اسکالرشپ کے درخواست کے ساتھ منسلک کاغذات کی جانچ کرنے کے احکامات 15 جنوری کو اقلیتی اور تعلم بالغان کے ڈائریکٹر نے ویڈیو کانفرنس مٹینگ میں ریاست کے تمام متعلقہ افسران کو دیئے جس سے پوری ریاست میں کھلبلی مچ گئی۔ معلوم رہے کہ ریاست مہاراشٹر میں مذہبی اقلیتی طلباء کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت 1000 روپئے سالانہ رقم منتخب طلباء کو دی جاتی ہے۔ اسکالرشپ کے ان لائن درخواست کے ساتھ جو کاغذات منسلک کیئے جاتے ہیں ان میں سرپرستوں کے انکم سرٹیفکیٹ بھی ہے۔ جو گزشتہ تین چار سالوں سے سرپرستوں کے خود کے اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ ہوتے تھے۔ کورونا وبا ، اور مالی پریشانی کے تحت امسال بھی سرپرستوں نے خود کے اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ درخواست فارم کے ساتھ منسلک کئے۔جیسے محکمہ تعلیم نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ انہیں تحصیلدار کے اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ چاہئے۔ یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے سرپرستوں کے تقریباً تین سے چار سو روپئے تک خرچ ہوتے۔ سرپرست کو تحصیل آفیس کے چار پانچ چکر لگانے پڑھتے، کام دھنے بند رکھنا پڑھتا ۔ اس لئے اکثر سرپرست تحصیلدار کے انکم سرٹیفکیٹ کی پریشانی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پری میٹرک اسکالرشپ سے محروم رکھتے ہے۔وہ فارم ہی نہیں بھرتے۔اگر بھرتے تو خود کا اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ریاست مہاراشٹر کی اردو اساتذہ،و طلباء کے مسائل حل کرنے والی فعال تنظیم مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا نے اس مسئلے کو اٹھا یا ہے سنگھٹنا کے ریاستی صدر ایم اے غفار نے اس ضمن میں سنیل چوہان ڈائریکٹر آف اقلیتی اور بالغ تعلیم کو عرضداشت دیکر مطالبہ کیا کہ اقلیتی طلباء کے پری میٹرک اسکالرشپ کے دستاویزات جانچ کرنے والے عملے کو ہدایت دی جائے کہ سرپرست کے خود اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ کو قبول کریں۔ تاکہ طلبا عین وقت پر اسکالرشپ سے محروم نہ رہےجائیں۔ سنگھٹنا کے بانی و ریاستی صدر ایم اے غفار اس تعلق سے متعلقہ افسران سے تحریری طور پر رابطے میں ہیں۔ مزید یاد دیانی کے لئے 22 جنوری کو بھی ایک عرضداشت دیکر اس اہم مطالبہ کی طرف متعلقہ افسران کی توجہ مرکوز کرائی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو سال قبل تک سرپرستوں کے خود اعلان کردہ انکم سرٹیفکیٹ قبول کئے گے۔ اب جبکہ ریاست میں ایک سیکولر حکومت ہے تو پھر اقلیتی طلباء کو یہ پریشانی کیوں۔؟؟؟
مہاراشٹر راجیہ اردو شکشک سنگھٹنا کے ساتھ ساتھ ریاست کے مسلم رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کو بھی اس مسلئہ کو حل کرنے کے لئے آگے آنا ضروری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈونگری 9 غیر مجاز دکانوں پر محکمہ بی کی انہدامی کارروائی

Published

on

Dongri

ممبئی بی’ ڈپارٹمنٹ کے تحت، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری علاقے میں 9 غیر مجاز دکانوں، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر لگائے گئے لوہے کے ستون، دکانوں کی غیر مجاز نام کی تختیوں اور دیگر تجاوزات پر بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی میں اسسٹنٹ کمشنر یوگیش دیسائی کی قیادت میں کی گئی۔یہ پایا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری کے علاقے میں ‘بی’ ڈپارٹمنٹ میں فٹ پاتھ پر غیر مجاز دکانیں اور تجاوزات پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ انتظامی ڈویژن (وارڈ) کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول اور لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹس نے مشترکہ طور پر ایک مہم چلائی۔ اس آپریشن کے دوران 9 غیر مجاز دکانیں، فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات، دکانوں کی غیر مجاز اضافی تعمیرات، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر نصب لوہے کے ستون اور دکانوں کی غیر مجاز نام تختیاں ہٹا دی گئیں۔ اس دوران علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔

اس آپریشن میں ’بی‘ ایڈمنسٹریٹو ڈویژن کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول، لائسنسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ اس وقت ڈونگری پولس اسٹیشن کی طرف سے مناسب سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر انتظامیہ واضح کر رہی ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان