Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

مہاراشٹر حکومت نے 1300 آبادی والے یاوتمال گاؤں میں 27,000 فرضی پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹس کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی

Published

on

ممبئی، مہاراشٹر کے محکمہ داخلہ نے یاوتمال ضلع کے ارنی تعلقہ کے شیندورسانی گرام پنچایت میں پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ بنانے میں سنگین بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔

یہ اقدام سول رجسٹریشن سسٹم (سی آر ایس) میں خطرناک تضادات کا پتہ چلنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ابتدائی نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شیندورسانی گاؤں کی آبادی تقریباً 1,300 ہے، تقریباً 27,000 پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ سی آر ایس سافٹ ویئر کے ذریعے بنائے گئے تھے- ایک ایسی بے ضابطگی جس نے ڈیجیٹل رجسٹریشن کے نظام کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال یا ہیرا پھیری کا قوی شبہ پیدا کیا ہے۔

انکشافات کے بعد، یاوتمال سٹی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کے ذریعے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس)، 2023 کی دفعہ 318 (4)، 337، 336 (3) اور 340 (2) کے تحت ایک مجرمانہ مقدمہ درج کیا گیا، ساتھ ہی انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 65 اور 66 کے تحت ابتدائی طور پر سپر ٹکنالوجی ایکٹ، 20 کے تحت کارروائی کی گئی۔ سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او)، یاوتمال۔

معاملے کی سنگینی اور اس کے ممکنہ ریاست گیر مضمرات کو دیکھتے ہوئے، محکمہ داخلہ نے تحقیقات کو تیز کیا اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، مہاراشٹر سائبر کی سربراہی میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ٹیم کا ممبر بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے مہاراشٹر سائبر کے اے ڈی جی پی اور ہیلتھ سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت سینئر حکام کے درمیان ایک رابطہ میٹنگ منعقد کی گئی۔ اجلاس کے دوران اہم مشاہدات ریکارڈ کیے گئے اور تفتیشی افسران کو سخت نگرانی کی ہدایات جاری کی گئیں۔

ایس آئی ٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تفصیلی تکنیکی تحقیقات کرے جس میں آئی پی لاگس کا تجزیہ اور ان افراد کی جانچ شامل ہے جن کے ناموں سے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے سرٹیفکیٹ بنائے گئے تھے، تاکہ طریقہ کار کو بے نقاب کیا جاسکے اور ذمہ داروں کی شناخت کی جاسکے۔

ٹیم نے اس ہفتے کے آخر میں شیندورسانی گرام پنچایت کے فیلڈ وزٹ کا بھی منصوبہ بنایا ہے تاکہ زمینی سطح کی تصدیق کی جا سکے، انتظامی طریقہ کار کی جانچ کی جا سکے، اور نظامی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے جن کا شاید استحصال کیا گیا ہو۔

حکام نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج سے ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم کی سالمیت کی حفاظت اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات اور احتیاطی رہنما خطوط وضع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ایس آئی ٹی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی جو ہیرا پھیری، غیر مجاز رسائی، یا جعلی پیدائش اور موت کے ریکارڈ بنانے میں ملوث پایا جائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان