Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

مدھیہ پردیش : مسلم معاشرہ میں طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات پر علمائے دین اور دانشوروں کو تشویش

Published

on

marriage

مسلم معاشرہ میں طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات نے علمائے دین اور دانشوروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس تعلق سے دکھائی گئی تفصیلی رپورٹ کے بعد مساجد کمیٹی نے طلاق و خلع کے بڑھتے معاملات کو روکنے کے لئے جہاں پری میریج کونسلنگ کا سلسلہ آج سے شروع کیا ہے، تو وہیں سماجی بیداری کے لئے عوامی سطح پر بھی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علمائے دین اور دانشوروں کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد اپنے اپنے حقوق کی باتیں دولہا اور دلہن کے ذریعہ کثرت سے کی جاتی ہے، لیکن اس میں فرائض کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اگر فرائض کی ادائیگی کے ساتھ حقوق کی بات اعتدال کے ساتھ کی جائے تو سارے معاملات خود بخود حل ہو جائیں گے۔

بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی کی صدارت میں بھوپال مساجد کمیٹی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ پہلی پری میریج کونسلنگ پروگرام میں علمائے دین کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہوئے جو ازدواجی زندگی کا سفر شروع کرنے جا رہے ہیں۔ پری میریج کونسلنگ پروگرام میں بچوں کے ساتھ ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور مساجد کمیٹی کے ذریعہ شروع کی گئی پری میریج کونسلنگ کو وقت کی بڑی ضرورت سے تعبیر کیا۔

بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مادی خواہشات کی تکمیل اور اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب رشتوں میں تلخیاں پیدا ہورہی ہیں۔ جب نکاح کیاجائے تو زندگی بھر نبھانے کی نیت سے کیا جائے۔ جب بات زندگی بھر کے لئے ہے تو اسلام یہ کہتا ہے کہ آپ نکاح سے پہلے سبھی پہلوؤں کو دیکھ لیجئے اور سمجھ لیجئے۔ یہاں پری میریج کونسلنگ کرنے کا مقصد نکاح کے بعد دونوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں، دلہا دلہن کے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق کیا ہیں کہ اسے بھی جاننا ضروری ہے۔ آپ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کا نظام دو چیزوں پر چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سب سے بڑی خرابی معاشرے میں یہ آرہی ہے کہ ہمارے بچے اپنے فرائض کو ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں مگر حقوق کی باتیں بڑھ چڑھ کرکرتے ہیں۔ ہمارے پاس جو معاملے کونسلنگ کے لئے آتے ہیں اس میں دیکھا گیا ہے کہ آج کی نسل کو اپنے فرائض نہیں معلوم ہیں۔ ہمارا مقصد دونوں کو حقوق کے ساتھ ان کے فرائض سے آگاہ کرنا ہے۔ جب حقوق اور فرائض اعتدال کے ساتھ ادا کئے جائیں گے تو زندگی میں خوشحالی پیدا ہوگی اور معاشرہ بھی خوشحال ہوگا۔ اللہ کے حکم کی ادائیگی میں سبھی طرح کی کامیابی ہے۔

مساجد کمیٹی کے انچارج سکریٹری یاسر عرفات نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پری میریج کونسلنگ کے ذریعہ ہمارا مقصد سماج میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ بہت دنوں سے اس پر غور کیا جا رہا تھا، آج سے یہ بیداری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو بدستور علمائے دین اور ممتاز کونسلنگ کرنے والوں کی نگرانی میں جاری رہے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان