سیاست
مدھیہ پردیش : اقلیتی طلبا کے مسائل کولیکر راج بھون میں پیش کیاگیا میمورنڈم
Group of people students with bags in school, back view. Meeting of young men and women before education. Vector
مدھیہ پردیش میں اقلیتی طلبا کے تعلیمی مسائل،اسکالرشپ اور اردو اساتذہ کی تقرری کے مطالبات کو لے کر بزم ضیا کے بینر تلے ایک اعلی سطحی وفد نے راج بھون جاکر گورنر کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کے نام میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں اقلیتی طلبا کی پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کی بند کی گئی اسکالرشپ کو دوبارہ جاری کرنے اور مدھیہ پردیش کے اسکولوں و کالجوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیاگیا۔ وفد میں شامل دانشوروں نے شیوراج سنگھ حکومت پر اقلیتی طلبا کے مسائل کو نظر انداز کرنے بلکہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کا بھی الزام لگایا۔
بزم ضیاکے صدر فرمان ضیائی نے کہا کہ اس سے زیادہ افسوسناک بات اور کیا ہوگی کہ ایک جانب حکومت وشو گرو بننے کی بات کر رہی ہے وہیں دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو تعلیم کے حق سے محروم کر رہی ہے ۔ ملک میں تعلیمی میدان میں سب سے زیادہ پسماندہ جو قوم ہے اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے مگر حکومت نے اسے ہی بند کردیا ہے۔
یہی نہیں مدھیہ پردیش میں بی جےپی حکومت کے اتنے سال ہوگئے ہیں لیکن اردو اساتذہ کی تقرری نہیں کی جارہی ہے ۔ طلبا کی بڑی تعداد اردو پڑھنا چاہتی ہی مگر اساتذہ کے اسکولوں و کالجوں میں نہیں ہونے کے سبب انہیں مایوسی ہوتی ہے۔
اردو کی کتابیں تک محکمہ تعلیم وقت پر فراہم نہیں کر رہا ہے ۔ ان سب مسائل کو لیکر ہم لوگوں نے صدر جمہوریہ ہند کے نام سے راج بھون میں گورنر صاحب کو میمورنڈم پیش کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اقلیتی طلبا کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھایا جائے گا۔
وہیں وفد میں شامل مائناریٹیز یونائیٹیڈ آرگناَ:زیشن کے صدر عبد النفیس کہتے ہیں کہ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ لگا رہی ہے مگر ووٹوں کی سیاست کےچلتے ایک بڑے طبقے کو تعلیمی حق سے محروم کرہرہی ہے۔ مرکزی وزیر خزٓانہ نرملا سیتا رمن جی پارلیمنٹ میں یہ کہہ رہی ہیں کہ اسکالرشپ بند نہیں ہوگی لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جو بات پارلیمنٹ کہی جارہی ہے وہ صرف زبانی وعدہ ہے ۔
حکومت سنجیدہہ ہے تو اس کا احکام جاری کرے ۔مدھیہ پردیش حکومت کی نیت صاف نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں سے وابستہ سبھی اداروں کے بجٹ میں کچھ سالوں میں تخیف کی گئی ہے۔ اقلیتیں چاہتی ہیں کہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں اور ملک کی ترقی کا حصہ بنیں اور جب تک اقلیتوں کو تعلیمی حقوق نہیں مل جاتے ہیں ہمارے تحریک جاری رہے گی۔
بزنس
اسٹاک مارکیٹس جمعہ کو ‘گڈ فرائیڈے’ کے لیے بند، ایکوئٹی سے لے کر اشیاء تک تمام شعبوں میں تجارت معطل۔

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹیں آج، جمعہ، 3 اپریل، 2026 کو گڈ فرائیڈے کی وجہ سے بند ہیں۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) میں کوئی تجارتی سرگرمی نہیں ہوگی۔ یہ اپریل کے مہینے کی پہلی اور اس ہفتے کی دوسری چھٹی ہے۔ اس سے پہلے 31 مارچ کو مہاویر جینتی کی وجہ سے بازار بند تھا۔ اسٹاک ایکسچینج کے چھٹی والے کیلنڈر کے مطابق، جمعہ کو ایکویٹی سیگمنٹ، ایکویٹی ڈیریویٹیوز، کرنسی ڈیریویٹوز، این ڈی ایس-آر ایس ٹی، اور سہ فریقی ریپو سیگمنٹس کے ساتھ ساتھ کموڈٹی ڈیریویٹیوز اور الیکٹرانک گولڈ رسیپٹس (ای جی آر) سیگمنٹس میں ٹریڈنگ مکمل طور پر معطل رہے گی۔ سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند ریلیف یہ ہے کہ مارکیٹ معمول کے مطابق دوبارہ کھل جائے گی اور تمام تجارتی سرگرمیاں پیر، 6 اپریل کو دوبارہ شروع ہو جائیں گی، کیونکہ 4 اور 5 اپریل بالترتیب ہفتہ اور اتوار کو پڑتے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑی مارکیٹیں بھی گڈ فرائیڈے کی وجہ سے بند رہیں گی۔ امریکہ سمیت کئی ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹس جمعہ کو بند رہیں گی جس سے عالمی تجارت متاثر ہوگی۔ کموڈٹی مارکیٹ کی بات کریں تو ملک کی معروف ایکسچینج ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) بھی آج مکمل طور پر بند رہے گی۔ صبح اور شام دونوں سیشنوں میں تجارت معطل رہے گی، جس کے نتیجے میں سونا، چاندی، خام تیل، تانبا اور دیگر دھاتوں میں کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ اسٹاک مارکیٹ میں اپریل میں دو چھٹیاں ہوتی ہیں۔ آج گڈ فرائیڈے کے بعد اگلی چھٹی 14 اپریل کو ہوگی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی یوم پیدائش کے موقع پر۔ 2026 میں اسٹاک مارکیٹ کی کل 20 تعطیلات طے کی گئی ہیں، جن میں سے چار ہفتے کے آخر میں ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ تجارتی اوقات کے دوران مارکیٹ کل 16 دنوں کے لیے بند رہے گی، جن میں سے پانچ پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر، آج سرمایہ کاروں کے لیے مکمل چھٹی ہے، اور مارکیٹ کی سرگرمیاں صرف اگلے تجارتی دن، پیر کو دوبارہ شروع ہوں گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : خود ساختہ وی آئی پی کے خلاف ٹریفک پولس کی کارروائی، ۸ گاڑیوں کی بتیاں اور سائرن ضبط، ٹریفک محکمہ کی رجسٹریشن منسوخی کی سفارش

ممبئی : ٹریفک پولس نے خودساختہ اہم اشخاص کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بلا کسی اجازت کے وی آئی پی کلچرل فلش بتی اور سائرن کے استعمال کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہے, اس میں ایسی گاڑیوں اور بتیوں پر کاروائی کی گئی جو خود کو وی آئی پی ثابت کرنے کے لیے گاڑیوں پر بتیاں لگاتے تھے. خصوصی مہم کے تحت یکم اپریل اور ۲ اپریل کو پولس نے شہر میں گاڑیوں پر جبرا سرخ، نیلا، پیلا اور پیلا دیم لائٹ فلش لائٹ کی گاڑیوں پر تنصیب کرنے والوں پر کارروائی کی ہے. اس دوران ۸ گاڑیوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد لائٹ بتیاں ضبط کی گئیں اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت جرمانہ کی بھی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کوئی پرائیوٹ گاڑیوں پر دیم لائٹ کی تنصیب کرتا ہے تو اس کے گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کے ساتھ زائد جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ٹریفک محکمہ اس گاڑی کا رجسٹریشن منسوخی کی سفارش آر ٹی او کو کرے گی۔ ٹریفک پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کوئی پرائیوٹ گاڑی پر لال بتی صرف فلش لائٹ نظر آتی ہے تو وہ اس کی شکایت ٹریفک پولس یا ایکس ٹوئٹر ہنڈل پر کر سکتے ہیں۔ ٹریفک میں ان گاڑیوں سے خلل پیدا ہوتی ہے ایسی متعدد شکایت موصول ہوئی تھی جس کے بعد ٹریفک محکمہ نے یہ کارروائی کی ہے۔ ممبئی شہر میں یہ کارروائی اب جاری رہے گی۔
بین الاقوامی خبریں
یو اے ای نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے داخلے اور ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے نئی سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت انہیں ملک میں داخل ہونے یا اس کے ہوائی اڈوں کے ذریعے دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
تازہ ہدایات کے مطابق ایئر لائنز کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے باعث ایرانی شہری اب یو اے ای کے لیے پروازیں بک نہیں کر پا رہے اور نہ ہی دبئی یا ابوظہبی جیسے اہم ٹرانزٹ مراکز استعمال کر سکتے ہیں۔ ویزا اور سفری قواعد کے ذریعے اس پابندی کو مؤثر بنایا گیا ہے۔
اگرچہ یہ پابندی وسیع دکھائی دیتی ہے، تاہم کچھ افراد کو اس سے استثنا حاصل ہو سکتا ہے۔ ان میں طویل مدتی رہائشی ویزا رکھنے والے، خصوصی اجازت یافتہ افراد یا وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جن کے یو اے ای میں خاندانی یا پیشہ ورانہ روابط ہیں۔ ایسے معاملات میں اضافی جانچ پڑتال اور منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
حکام نے اس پابندی کو مستقل قرار نہیں دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ایک عارضی اقدام ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تحت احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے۔
اس فیصلے سے بہت سے ایرانی مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ افراد جو بین الاقوامی سفر کے لیے یو اے ای کو ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ایئر لائنز نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سفری اہلیت کی جانچ کریں اور فی الحال متبادل راستوں پر غور کریں۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سفر کی منصوبہ بندی سے قبل تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
