ممبئی پریس خصوصی خبر
نچلی عدالتوں کو مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل مقدمات پر سماعت کرنے سے سپریم کورٹ روکے، جمعیۃ علماء ہند
نئی دہلی 11/ جولائی 2023: پلیس آف ورشپ ایکٹ یعنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو ختم کرنے والی عرضداشتوں پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت سے گذارش کہ وہ ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اسٹے لگائے کیونکہ پلیس آف ورشپ قانون پر اسٹے نا ہونے کی وجہ سے اس قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے نچلی عدالتیں ہندو فریقین کی جانب سے مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل عرضداشتوں پر سماعتیں کررہی ہیں جو سراسر غیر آئینی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈوکیٹ ورندہ گروور کو کہا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر کسی بھی طرح کا اسٹے نہیں ہے لہذا نچلی عدالتوں کو اس تعلق سے مطلع کرنا چاہئے اور ان سے اسٹے کی گذارش کرنا چاہئے جس پر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے کہا کہ نچلی عدالتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس خصوصی قانون پر اسٹے نہیں ہے مقدمہ کی سماعت کررہی ہیں لہذا سپریم کورٹ کو عبوری حکم نامہ جاری کرنا چاہئے تاکہ نچلی عدالتیں ایسے مقدمات کی سماعت کرنے سے گریز کریں جو پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تحت ممنوع ہے، ورند گروور نے چیف جسٹس آف انڈیا سے گذارش کی کہ وہ کم از کم آج کی عدالتی کارروائی میں یہ تبصرہ ہی کردیں کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر اسٹے نہیں ہے جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ انہیں یہ نہیں پتہ نچلی عدالتوں میں کس نوعیت کے مقدمات زیر سماعت ہیں لہذا عدالت ان مقدمات کی نوعیت جانے بغیر اسٹے کا حکم یا اسٹے کے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتی۔
ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت کو مزید بتایا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کے حقیقی نفاذ کے لیئے جمعیۃ علماء ہند نے ایک خصوصی پٹیشن بھی داخل کی اس کے باوجود نچلی عدالتوں میں مقدمات سماعت کے لیئے قبول کیئے جارہے جس سے مسلمانو ں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن کو عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ آج اس اہم معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی نرسہما اور جسٹس منوج مشراء پر مبنی تین رکنی بینچ کے روبرو ہوئی ہوئی۔مرکزی حکومت نے آج بھی عدالت میں حلف نامہ داخل نہیں کیا، سالیسٹر جنرل آف انڈیاتشار مہتا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی سماعتوں سے مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے لیکن حلف نامہ کو تیار کیا جارہا ہے جس کے لیئے انہیں مزید وقت درکار ہے۔تشار مہتا نے بینچ کو یقین دلایا کہ مرکزی حکومت جمعیۃ علماء ہند سمیت تمام عرضداشتوں پر حلف نامہ داخل کریگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے تشار مہتا کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت 31/ اکتوبر سے قبل عدالت میں حلف نامہ داخل کریں تاکہ حتمی سماعت کا آغاز کیا جاسکے۔اسی درمیان ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ اس مقدمہ کی حتمی سماعت کے لیئے تاریخ متعین کرے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں اگلی سماعت پر بھی حلف نامہ داخل نہیں کریگی کیونکہ ہر تاریخ پر وہ سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا نے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کو کہا کہ اس مرتبہ مرکزی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیئے عدالت نے مناسب وقت دیا ہے لہذا مرکزی حکومت کے حلف نامہ آنے کے بعد عدالت حتمی سماعت کے لیئے شیڈول طئے کریگی۔
اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک جانب جہاں پلیس آف ورشپ قانو ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی مخالفت کرنے کے لیئے مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے وہیں سول پٹیشن داخل کرکے عدالت سے پلیس آف ورشپ قانو ن کے تحفظ اور اس کے حقیقی نفاذ کی عدالت سے درخواست کی ہے ۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ ورندا گروور، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل سول رٹ پٹیشن کا ڈائری نمبر 28081/2022 ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے داخل کیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کردہ رٹ پٹیشن اور مداخلت کار کی دونوں درخواستوں میں جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، اشونی کمار اپادھیائے اور دیگر لوگوں نے پلیس آف ورشپ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیاہے اور عدالت سے ان کا مطالبہ ہیکہ اس قانون کی وجہ سے وہ کاشی متھرا، گیان واپی اور دیگر دوہزار ایسی مسلم عبادت گاہوں کو ہندو عباد ت گاہوں میں تبدیل نہیں کرا پارہے ہیں کیونکہ یہ قانونی عبادت گاہوں کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل سول رٹ پٹیشن میں یہ تحریر ہیکہ پلیس آف ورشپ قانون 1991 نافذکرنے کا دو مقصد تھا، پہلا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی مذہبی مقام کی تبدیلی کو روکنا اور دوسرا مقصد یہ تھا 1947 کے وقت عبادت گاہیں جس حال میں تھی اسی حال میں اسے رہنے دینا اور ان دونوں مقاصد کو بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے مانا ہے۔ پلیس آف ورشپ قانون آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے اس بات کا ذکر بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں کیا گیا ہے(پیرگراف 99، صفحہ 250)نیز اس قانون کی حفاظت کرنا سیکولرملک کی ذمہ داری ہے اور سیکولر ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے۔عرضداشت میں مزیدکہاگیا ہے کہ بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے پلیس آف ورشپ قانون کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق یہ قانون آئین ہند کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے نیز اس قانون کی دفعہ 4 عبادت گاہوں کی تبدیلی کو روکتا ہے اور یہ قانون بنا کر حکومت نے آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے گی اور یہ قانون بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سیکولر ازم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے لہذا سپریم کورٹ آف انڈیا پل یس آف ورشپ ایکٹ کی حقیقی حفاظت کرے اور اس کے موثر نفاذ کے لیئے فوری اقدامات کرے تاکہ ایک مخصوص طبقے کی جانب سے کی جانے والی بے لگام قانونی چارہ جوئی پر لگام لک سکے۔ عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ پلیس آف ورشپ قانون کا موثر نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے مسلم عبادت گاہوں بشمول گیان واپی مسجد، قطب مینار، متھرا کی عیدگاہ کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے نیزملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے مسلمانوں کوپریشان کیا جارہا ہے جبکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا لہذا پلیس آف ورشپ قانون کو چیلنج کرنے والی تمام عرضداشتوں کو خارج کیا جائے اور اس خصوصی قانون کے حقیقی نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسلم عبادت گاہوں کے خلاف قائم مقدمات پر روک لگ سکے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
غیر شفاف طریقہ کار اور ساتھی کمشنروں کی آراء کو نظر انداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جواب دہی طے کی جائے : پروف۔ سلیم انجینئر

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے دو دیگر الیکشن کمشنروں کی شمولیت کے بغیر ہی اہم فیصلے لیے جانے کی اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے اس اہم آئینی ادارے کی آزادی، شفافیت اور کارکردگی پرسنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج اور بحالی، ووٹر ڈیٹابیس، فارم 6 اور اسپیشل سمری ریویژن سے متعلق اہم معاملات پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات اٹھائے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اہم فیصلوں سے انہیں الگ رکھا گیا۔ یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1995 میں ٹی این سیشن معاملے میں اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر دیگر کمشنروں کے مابین مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس طرح کا طرز عمل نہیں اختیار کرسکتے کہ جیسے الیکشن کمیشن ان کا ذاتی ادارہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو آزادانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ان فیصلوں سے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر لسٹ سے خارج کئے جاچکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ایس آئی آر کا طریقۂ کار نہایت پیچیدہ ہے اور اس میں ایسے دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں جو بہت سے شہریوں کے پاس موجود نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے ذریعے تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دئے گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 16.1 لاکھ ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے اپیلیں دائر کی گئیں جن کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے کے لیے کلیئر ہوچکے تھے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ فارم 6 کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ فارم 6 ان شہریوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جن کی عمر 18 سال مکمل ہوچکی ہو اور جو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہوں۔ الیکشن کمیشن نے درخواست دہندگان کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے والدین یا دادا دادی۔ نانا نانی کے نام اس طرح فراہم کریں جیسے وہ گزشتہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں درج تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو، دونوں نے خبردار کیا تھا کہ قواعد میں ترمیم کئے بغیر فارم 6 میں اس طرح کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے یہ تبدیلی برقرار رکھی۔ اگر ووٹ دینے کے حق کو متاثر کرنے والے قانون میں ترمیم ضروری ہے تو بھی الیکشن کمیشن خود سے اس طرح کی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر وہ قانونی طور پر مجاز افسر ہے جو انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج، اخراج اور تصحیح کے ذمہ دار ہے۔ تاہم دونوں الیکشن کمشنروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ای سی آئی نیٹ ڈیٹابیس کو الیکشن کمیشن میں منتقل کیا جارہا تھا جبکہ ان افسران کو اسے چلانے کے لیے مناسب رسائی نہیں دی جارہی تھی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اسپیشل سمری ریویژن (ایس یس آر) میں غیر معمولی تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس آر انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ رکھنے اور ووٹ کے اہل 18 سالہ نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا ایک اہم سالانہ عمل ہے۔ یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر، ان چارتاریخوں میں نوجوان شہری سال کے مختلف اوقات میں ووٹ دینے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے جنوری 2024 کے بعد سے سالانہ ایس ایس آر نہیں کرایا ہے یہ تاخیر صورت حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے دوران یہ جاننے کے لیے قانونی رائے طلب کی کہ آیا ایس ایس آرکرانا ضروری ہے، جبکہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس کی بحالی کی پُر زور وکالت کی تھی۔ ایس ایس آر محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ انتخابی فہرستوں کو تازہ ترین اور درست رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔ اس کے ذمہ دار عہدے داروں کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ووٹر لسٹ کا تحفظ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد کا تحفظ ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پراپرٹی سیل اور کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک کیس میں مزید چار گرفتار

ممبئی : مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) نے 22 مارچ 2026 کو ڈرگ انسپکٹر، گروپ بی، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کیڈر کی 154 آسامیوں کے لیے مہاراشٹر کے چھ امتحانی مراکز میں اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔ کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج تھااس کے تحت امتحانی سوالیہ پرچہ کی رازداری کی خلاف ورزی اور مالی فائدے کے لیے سوال سیٹ کے غیر مجاز لیک ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر غیر قانونی طریقوں سے سوالیہ پرچہ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو دو درمیانی افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ماہرین کے ذریعہ منتخب کردہ سوالات کے سیٹوں کی کاپیاں ایم پی ایس سی کے خفیہ کمرے میں تیار کی گئیں اور پھر مالی فائدہ کے لیے غیر قانونی طور پر لیک کی گئیں۔ اس سے پہلے، انڈر سکریٹری ابھیجیت لینڈوے، اسسٹنٹ روم آفیسر وشویشور نکٹے، اسسٹنٹ روم آفیسر گوپال مراٹھے، کوٹیلیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروین پاٹل، درمیانی امرت پاٹل، لوکیش عرف گورو پاٹل، اور امیدوار ریتوجا پاٹل کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید تفتیش کے نتیجے میں امیدواروں ساجد سانڈھے (سانگلی) اور وجے کنگر (بلڈھانہ) کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے غیر قانونی طریقوں سے سوالات کے سیٹ حاصل کیے، اور سندیپ خلتے اور بھیروناتھ کدم (نوی ممبئی) جنہوں نے ثالث کے طور پر کام کیا، کو پراپرٹی سیل، کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 22 ستمبر، 2026 کو گرفتار کیا۔اس کارروائی کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کمبھارے، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) کرشناکانت اپادھیائے اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈٹیکشن راج تلک روشن کی رہنمائی میں کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سدانند رانے اور انچارج پولس انسپکٹر منگیش دیسائی نے تحقیقات کی قیادت کی اور برانچ کے پولیس افسران نے تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔
منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
