ممبئی پریس خصوصی خبر
نچلی عدالتوں کو مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل مقدمات پر سماعت کرنے سے سپریم کورٹ روکے، جمعیۃ علماء ہند
نئی دہلی 11/ جولائی 2023: پلیس آف ورشپ ایکٹ یعنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو ختم کرنے والی عرضداشتوں پرآج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت سے گذارش کہ وہ ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اسٹے لگائے کیونکہ پلیس آف ورشپ قانون پر اسٹے نا ہونے کی وجہ سے اس قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے نچلی عدالتیں ہندو فریقین کی جانب سے مساجداور عید گاہوں کے خلاف داخل عرضداشتوں پر سماعتیں کررہی ہیں جو سراسر غیر آئینی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈوکیٹ ورندہ گروور کو کہا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر کسی بھی طرح کا اسٹے نہیں ہے لہذا نچلی عدالتوں کو اس تعلق سے مطلع کرنا چاہئے اور ان سے اسٹے کی گذارش کرنا چاہئے جس پر ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے کہا کہ نچلی عدالتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس خصوصی قانون پر اسٹے نہیں ہے مقدمہ کی سماعت کررہی ہیں لہذا سپریم کورٹ کو عبوری حکم نامہ جاری کرنا چاہئے تاکہ نچلی عدالتیں ایسے مقدمات کی سماعت کرنے سے گریز کریں جو پلیس آف ورشپ ایکٹ کے تحت ممنوع ہے، ورند گروور نے چیف جسٹس آف انڈیا سے گذارش کی کہ وہ کم از کم آج کی عدالتی کارروائی میں یہ تبصرہ ہی کردیں کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ پر اسٹے نہیں ہے جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ انہیں یہ نہیں پتہ نچلی عدالتوں میں کس نوعیت کے مقدمات زیر سماعت ہیں لہذا عدالت ان مقدمات کی نوعیت جانے بغیر اسٹے کا حکم یا اسٹے کے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتی۔
ایڈوکیٹ ورندہ گروور نے عدالت کو مزید بتایا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کے حقیقی نفاذ کے لیئے جمعیۃ علماء ہند نے ایک خصوصی پٹیشن بھی داخل کی اس کے باوجود نچلی عدالتوں میں مقدمات سماعت کے لیئے قبول کیئے جارہے جس سے مسلمانو ں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل پٹیشن کو عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ آج اس اہم معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی نرسہما اور جسٹس منوج مشراء پر مبنی تین رکنی بینچ کے روبرو ہوئی ہوئی۔مرکزی حکومت نے آج بھی عدالت میں حلف نامہ داخل نہیں کیا، سالیسٹر جنرل آف انڈیاتشار مہتا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی سماعتوں سے مرکزی حکومت نے حلف نامہ داخل نہیں کیا ہے لیکن حلف نامہ کو تیار کیا جارہا ہے جس کے لیئے انہیں مزید وقت درکار ہے۔تشار مہتا نے بینچ کو یقین دلایا کہ مرکزی حکومت جمعیۃ علماء ہند سمیت تمام عرضداشتوں پر حلف نامہ داخل کریگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے تشار مہتا کو حکم دیا کہ وہ مقدمہ کی اگلی سماعت 31/ اکتوبر سے قبل عدالت میں حلف نامہ داخل کریں تاکہ حتمی سماعت کا آغاز کیا جاسکے۔اسی درمیان ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ اس مقدمہ کی حتمی سماعت کے لیئے تاریخ متعین کرے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں اگلی سماعت پر بھی حلف نامہ داخل نہیں کریگی کیونکہ ہر تاریخ پر وہ سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتی ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا نے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کو کہا کہ اس مرتبہ مرکزی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیئے عدالت نے مناسب وقت دیا ہے لہذا مرکزی حکومت کے حلف نامہ آنے کے بعد عدالت حتمی سماعت کے لیئے شیڈول طئے کریگی۔
اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک جانب جہاں پلیس آف ورشپ قانو ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی مخالفت کرنے کے لیئے مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے وہیں سول پٹیشن داخل کرکے عدالت سے پلیس آف ورشپ قانو ن کے تحفظ اور اس کے حقیقی نفاذ کی عدالت سے درخواست کی ہے ۔ سپریم کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ ورندا گروور، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ سیف ضیاء، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل سول رٹ پٹیشن کا ڈائری نمبر 28081/2022 ہے جسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے داخل کیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کردہ رٹ پٹیشن اور مداخلت کار کی دونوں درخواستوں میں جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، اشونی کمار اپادھیائے اور دیگر لوگوں نے پلیس آف ورشپ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیاہے اور عدالت سے ان کا مطالبہ ہیکہ اس قانون کی وجہ سے وہ کاشی متھرا، گیان واپی اور دیگر دوہزار ایسی مسلم عبادت گاہوں کو ہندو عباد ت گاہوں میں تبدیل نہیں کرا پارہے ہیں کیونکہ یہ قانونی عبادت گاہوں کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل سول رٹ پٹیشن میں یہ تحریر ہیکہ پلیس آف ورشپ قانون 1991 نافذکرنے کا دو مقصد تھا، پہلا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی مذہبی مقام کی تبدیلی کو روکنا اور دوسرا مقصد یہ تھا 1947 کے وقت عبادت گاہیں جس حال میں تھی اسی حال میں اسے رہنے دینا اور ان دونوں مقاصد کو بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کے فیصلہ میں عدالت نے مانا ہے۔ پلیس آف ورشپ قانون آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے اس بات کا ذکر بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں کیا گیا ہے(پیرگراف 99، صفحہ 250)نیز اس قانون کی حفاظت کرنا سیکولرملک کی ذمہ داری ہے اور سیکولر ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے۔عرضداشت میں مزیدکہاگیا ہے کہ بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے پلیس آف ورشپ قانون کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق یہ قانون آئین ہند کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے نیز اس قانون کی دفعہ 4 عبادت گاہوں کی تبدیلی کو روکتا ہے اور یہ قانون بنا کر حکومت نے آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے گی اور یہ قانون بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سیکولر ازم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے لہذا سپریم کورٹ آف انڈیا پل یس آف ورشپ ایکٹ کی حقیقی حفاظت کرے اور اس کے موثر نفاذ کے لیئے فوری اقدامات کرے تاکہ ایک مخصوص طبقے کی جانب سے کی جانے والی بے لگام قانونی چارہ جوئی پر لگام لک سکے۔ عرض داشت میں مزید تحریر ہے کہ پلیس آف ورشپ قانون کا موثر نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے مسلم عبادت گاہوں بشمول گیان واپی مسجد، قطب مینار، متھرا کی عیدگاہ کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے نیزملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے مسلمانوں کوپریشان کیا جارہا ہے جبکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا لہذا پلیس آف ورشپ قانون کو چیلنج کرنے والی تمام عرضداشتوں کو خارج کیا جائے اور اس خصوصی قانون کے حقیقی نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسلم عبادت گاہوں کے خلاف قائم مقدمات پر روک لگ سکے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔
مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کی مانخورد شیواجی نگر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مضافاتی ضلع کلکٹر کے ساتھ اہم میٹنگ

ممبئی : مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ممبئی کے مضافاتی ضلع کلکٹر (آئی اے ایس) سوربھ کٹیار سے ملاقات کی تاکہ مانخورد شیواجی نگر (گوونڈی) اسمبلی حلقہ میں مختلف زیر التواء اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔ ملاقات میں علاقے میں تعلیم، سماجی بہبود اور بحالی سے متعلق اہم مسائل کے حوالے سے تعمیری بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران ایم ایل اے اعظمی نے ضلع کلکٹر کے سامنے کلیدی مطالبات پیش کیے، جن میں مانخورد گوونڈی علاقے میں ڈگری کالج کے لیے سرکاری اراضی مختص کرنا، شیعہ مسلم کمیونٹی کے لیے تعزیہ کی تدفین کے لیے مناسب جگہ کی فراہمی، اور ٹرانزٹ کیمپوں میں رہنے والے مکینوں کی بحالی کے مسائل کا فوری حل شامل ہے۔ میٹنگ کے بعد ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، “عوامی مفاد اور حلقہ کی ہمہ جہت ترقی میرے بنیادی مقاصد ہیں۔ ضلع کلکٹر کے ساتھ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ جلد ہی اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں سازگار فیصلے کرے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
