Connect with us
Friday,02-October-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : فوزیہ اسپتال کی لاپروائی سے مریضوں کی جان خطرے میں، ہوٹل اور اسپتال ایک ہی عمارت میں کیسے؟ لائسنس منسوخ، حاجی عرفات کی کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Foziya-Hospital

ممبئی : کرلا فوزیہ اسپتال کی لاپروائی کے سبب مریضوں کی زندگی خطرہ میں ہے. یہاں بی یو ایم ایس یونانی اور بی ایچ ایم ایس ڈاکٹر برسرپیکار ہے جنہیں میڈیکل پریکٹس کی اجازت حاصل نہیں ہے, اس لئے اسپتال انتظامیہ انور اسماعیل لکڑوالا، ان کا برادر عثمان لکڑوالا، ڈاکٹر انجم دیشمکھ سمیت پینل کے تمام ڈاکٹروں کی انکوائری کے بعد اسپتال کا اجازت نامہ لائسنس منسوخ کیا جائے, یہ مطالبہ بی جے پی لیڈر اور سابق اقلیتی کمیشن سربراہ حاجی عرفات شیخ نے وزیر نگراں صحت پرکاش آبٹکر سے کیا ہے. انہوں نے کہا کہ اسپتال کی غیر ذمہ داری اور بدعنوانی کے سبب مریضوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے اس لئے اس کی انکوائری ہو اور اہلیان کرلا کو انصاف ملے۔ کرلا ایل بی ایس مارگ پر فوزیہ اسپتال و میڈیکل پوری طرح سے فرضی ہے, اس اسپتال میں جو ڈاکٹر برسر روزگار ہے وہ ہومیوپیٹھی اور یویانی غیر رجسٹرڈ ہے اور اسپتال عملہ بھی غیر تربیت یافتہ عملہ ہے, اس کی انکوائری ضروری ہے. اس اسپتال میں نیچے ہوٹل بغل میں بھٹی اور بھٹیار خانہ کے ساتھ پہلی اور دوسری منزل پر اسپتال ٹیرس پر جم اور کینٹین کی اجازت کیسے ممکن ہے. یہ سوال اہلیان کرلا کر رہے ہیں۔ حاجی عرفات نے وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کا لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ ایسے بی ایم سی افسران اور میڈیکل افسران پر کارروائی ہو جنہوں نے اس اسپتال کو پروانہ دیا ہے۔ یہ اسپتال غیر قانونی تعمیرات پر آباد ہے. کیا وارڈ افسر اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہرلیکر، فائر افسر انیل پوار، ہیلتھ افسر ڈاکٹر ستیش تحصلیدار نے اب تک اس اسپتال پر کارروائی کیوں نہیں کی, کیا یہ افسران اب تک خواب خرگوش میں ہے۔ حاجی عرفات نے اسپتال میں کشادگی نہیں ہے اگر ہوٹل اور اسپتال میں آتشزدگی ہوئی تو فائر بریگیڈ اسپتال میں کیسے داخل ہوگی. یہاں مریضوں کو ایسے حالات میں بچانا مشکل ہوگا. انہوں نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے سبب مریضوں کی زندگی خطرہ میں ہے, کیونکہ انتہائی تشویشناک مریضوں کا علاج بھی ایم ڈی یا ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں بلکہ یہی ہومیوپیتھی اور یونانی ڈاکٹر ہی انجام دیتے ہیں. اسپتال کی اسی غفلت کے سبب کئی اموات ہوئی ہے ایسے میں اسپتال کے خلاف کارروائی ہو. فائر بریگیڈ بی ایم سی نے اسپتال کو کس بنیاد پر این او سی جاری کی ہے اور یہاں کمروں کی استطاعت سے زیادہ بیڈ ہے اور اسپتال میں مریضوں کے لئے جگہ کی قلت ہے, یہاں علاج بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہوتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گیانیش کمار کو ہٹانے کی حمایت میں 56 مقامات پر سے لاکھوں ووٹرز کے دستخطوں پر مشتمل یادداشت گورنر کو پیش کی جائے گی : رئیس شیخ

Published

on

MLA-Raees-Sheikh

ممبئی : بھیونڈی کے ووٹرز نے جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک دستخطی مہم شروع کی۔ یہ مہم بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کی قیادت میں چلائی جا رہی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ لاکھوں شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک یادداشت گورنر کو پیش کی جائے گی۔ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ دستخطی مہم کا آغاز آج نمازِ جمعہ کے بعد بھیونڈی ایسٹ کے 56 مقامات پر ہوا۔ مرد اور خواتین ووٹرز کے لیے دستخط کرنے کے الگ الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم کو پہلے ہی دن زبردست پذیرائی ملی۔ گیانیش کمار کے خلاف یہ دستخطی مہم اگلے آٹھ دنوں تک جاری رہے گی۔

سماج وادی پارٹی کا ایک وفد مہاراشٹر کے گورنرجشنو دیو ورما سے ملاقات کرے گا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھیونڈی کے لاکھوں ووٹرز کے دستخطوں پر مشتمل یادداشت پیش کرے گا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ صرف پہلے دن ہی 56 مراکز پر تقریباً 30 ہزار ووٹرز نے درخواست پر دستخط کیے۔

ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی اور تفصیلی نظرثانی’ (ایس آئی آر) کے دوران پائی جانے والی بے ضابطگیاں ایک سنگین معاملہ ہیں؛ اس عمل کے دوران ملک بھر میں 12 کروڑ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ ناموں کی تبدیلی اور اخراج کے عمل کے حوالے سے ‘ای آر او-نیٹ’ (ای آر او-نیٹ ) سسٹم میں بڑی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں؛ گزشتہ دس مہینوں کے دوران دو الیکشن کمشنرز نے 14 مختلف مواقع پر گیانیش کمار کے کام کرنے کے طریقوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ گیانیش کمار نے حکمراں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کیا ہے اور انہیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ سے میٹھی ندی گھوٹالہ بدعنوانی میں پوچھ گچھ، ای او ڈبلیو کی مسلسل باز پرس، ٹھیکہ اور رقومات منتقلی کی تفتیش

Published

on

dino-morea

ممبئی : بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ میٹھی ندی اسکینڈل کے سلسلے میں ممبئی کمشنر آفس پہنچ گئے جہاں ان سے بدعنوانی سے متعلق باز پرس جاری ہے موریہ سے گھوٹالے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ چند روز قبل میٹھی ندی اسکینڈل کی وجہ سے سرخیوں میں تھے۔ اداکار جمعہ کو اس کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کمشنر آفس پہنچے۔ میڈیا اہلکاروں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اداکار بغیر کچھ کہے سیدھے ممبئی پولیس کمشنر کے دفترمیں داخل ہو گئے۔

واضح رہے کہ ڈینو موریا سے دریائے میٹھی اسکینڈل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔ اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو ) بالی ووڈ اداکار کا بیان ریکارڈ کرے گا۔ اداکار سے پہلے بھی اس معاملے میں ای او ڈبلیو کی طرف سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔

کیا ہے سارا معاملہ؟
میٹھی ندی گھوٹالے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) شامل ہے۔ بی ایم سی نے پایا کہ اسے دریا کی دیکھ بھال، صفائی اور صفائی میں 65.54 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ جعلی ٹینڈرنگ کے بعد اس معاملے میں کیتن کدم نامی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کیتن ڈینو کے بھائی سینٹینو روکو موریا کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہوں نے رقم کا تبادلہ بھی کیا تھا۔ بتایا گیا کہ ڈینو موریا کے کھاتوں میں بھی رقم کا لین دین ہوا ہو گا۔ نتیجتاً، ای او ڈبلیو نے اداکار سے 26 مئی 2025 کو پوچھ گچھ کی۔ 28 مئی 2025 کو ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کی گئی۔ 12 جون 2025 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کئی گھنٹوں تک ڈینو موریا سے پوچھ گچھ کی۔ مزید برآں، ای ڈی نے اداکار کے گھر سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ اداکار کے بھائی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

ڈینو موریا کا کیریئر :
50 سالہ ڈینو موریا نے 1999 میں فلم ’’پیار میں کبھی کبھی‘‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ تاہم 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم “راز” سے انہیں خاصی پہچان ملی۔ اداکار نے “ہاؤس فل 5،” “ہیپی نیو ایئر،” “باز،” “اکسر”، “پلان” اور “گناہ” جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ مقبول ویب سیریز “تانڈو ” میں بھی نظر آئے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ مقدمہ : سپریم کورٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے مسلم ملزمین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگا دی

Published

on

نئی دہلی : مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی, جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔

آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین (دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے, لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی اور دیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ اپیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔ دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے, اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے, جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ 8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان