Connect with us
Saturday,23-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جانئے کون ہے لکھنو کی برقع والی مسٹری وومین، کندھے پر سوئیگی کا بیگ لٹکاکر کئی کلومیٹر تک چلتی ہے پیدل

Published

on

Swiggy Girl

لکھنؤ : سوئیگی کے ڈیلیوری بیگ کے ساتھ برقع پہنی ہوئی ایک خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر جم کر وائرل ہو رہی ہے۔ تاہم اب اس خاتون کی کہانی سب کے سامنے آگئی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والی خاتون کا نام رضوانہ ہے، جو لکھنؤ شہر میں رہتی ہے۔ نیوز آوٹ لیٹ دی موک نائک کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ گزشتہ تین سالوں سے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے سخت محنت کر رہی ہیں۔ وہ اپنے تین بچوں سمیت خاندان کی روزی روٹی کی ذمہ داری اٹھارہی ہے۔

رضوانہ کی شادی 23 سال پہلے ہوئی تھی اور اس کا شوہر آٹو رکشہ چلاتا تھا۔ لیکن ایک دن اس کا آٹورکشہ چوری ہو گیا، جس کے بعد رضوانہ کے شوہر نے بھیک مانگنی شروع کر دی اور اسی دوران ان کا شوہر تناؤ میں گھر چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آیا ۔ رضوانہ کئی طرح کے چھوٹے موٹے کام کرتی ہیں، جس میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنا، چائے اور کافی کی دکانوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ وینڈرس کو ڈسپوزایبل کپ اور گلاس فراہم کرنا وغیرہ شامل ہے، اور پھر بھی بمشکل ہی اپنا گزارہ کرپاتی ہیں ۔

حالانکہ رضوانہ کا سوئیگی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ سوئیگی کے لئے کسی طرح کا کام کرتی ہیں۔ انہیں اپنا سامان رکھنے کے لئے ایک مضبوط بیگ کی ضرورت تھی اور انہوں نے اس کو ایک ریہڑی والے سے پچاس روپے میں خریدا تھا۔ سوشل میڈیا پر لوگ رضوانہ کی کہانی کافی متاثر نظر آرہے ہیں ۔ لوگوں نے سوئیگی کمپنی سے مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

رضوانہ کی ماہانہ آمدنی 5 سے 6 ہزار روپے تک ہوجاتی ہے۔ لیکن اتنی معمولی آمدنی سے ان کے گھر کے اخراجات بڑی مشکل سے پورا پاتے ہیں۔ رضوانہ کی دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ جبکہ بڑی بیٹی شادی شدہ ہے۔ رضوانہ اب بھی پر امید ہیں کہ ان کے شوہر واپس آجائیں گے اور ان کی زندگی معمول پر آجائے گی۔ رضوانہ نے بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کے سامنے مدد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان