(جنرل (عام
جمعیۃ علماء ہند بھی سوسائٹی کا ایک حصہ، یوپی حکومت کے اعتراض پرسپریم کورٹ کا تبصرہ، اس طرح کے ظلم پرجمعیۃ علماء ہند خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی : مولانا ارشد مدنی
یوپی کے مختلف اضلاع میں ایک ہفتہ سے جاری غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ عرضی پر آج سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے یو پی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جمعیۃ علماء کے وکلاء نے عدالت سے اسٹے کی گذارش کی تھی، لیکن عدالت نے یہ کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب یو پی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بلڈوزر نہیں چلایا جائے گا، اور اگر کسی غیر قانونی عمارت کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانونی کارروائی مکمل کیئے بغیر کسی طرح کی انہدامی کارروائی انجام نہ دی جائے۔ آج تقریباً آدھا گھنٹے تک بحث چلی جس کے دوران فریقین کی جانب سے گرما گرم بحث ہوئی۔ دو رکنی تعطیلاتی بینچ کے جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن اور سی یو سنگھ پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ کارروائی پر عدالت نے غیر قانونی بلڈوزر انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی یوپی میں غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے، جس پر روک لگانا ضروری ہے، نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہے، جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑا کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران اور آزادی سے پہلے بھی ایسی بربریت نہیں ہوئی تھی، جیسی آج یو پی میں کی جا رہے۔ یوپی ریاست کے اعلی افسران نے میڈیا میں کھلے عام بیان دیا کہ بلڈوز کا استعمال فساد کرنے کا بدلا ہے، جسے ایک ایک ملزم سے لیا جائے گا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ جاوید نامی ایک شخص کا مکان منہدم کیا گیا جو اس کے نام پر تھا ہی نہیں، بلکہ مکان اس کی اہلیہ کے نام پر تھا، اسی طرح دیگر مکانات کو بھی غیر قانونی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کر کے دوسرے ہی دن سخت پولس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی، جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔
یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ آج عدالت میں متاثرین کی بجائے جمعیۃ علماء ہند آئی ہے، جس کی پراپرٹی کو نقصان نہیں ہوا ہے، جس پر بینچ نے انہیں کہا کہ لا قانونیت نہیں ہونا چاہئے، اس کو مدعا نہیں بنانا چاہئے کہ کون عدالت کے سامنے آیا ہے، جمعیۃ علماء بھی سوسائٹی کا ہی حصہ ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کا گھر بلڈوز کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ عدالت نہیں پہنچ پاتا۔ جسٹس بوپنا نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے سے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت کا مداخلت کرنا ضروری ہے اور اگر عدالت نے مداخلت نہیں کی تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ انصاف ہوتے ہوئے دکھائی دینا چاہئے، لہٰذا ابھی تک کی گئی انہدامی کارروائی پر اگلی سماعت پر عدالت میں حلف نامہ داخل کریں۔
وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ 1958 / کی دفعہ 10/ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے، اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اتھاریٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے، اس کے باوجود بلڈوز چلایا جا رہا ہے۔
یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے وکلاء نے بتایا کہ شو کاز نوٹس دینے کے بعد ہی انہدامی کاررائی انجام دی گئی ہے نیز حکومت کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جس پر اعتراض کیا جائے، یو پی حکومت اس تعلق سے حلف نامہ داخل کرنے کو تیار ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے عرضی پر سپریم کورٹ کی فوری مداخلت اور عدالت کے ذریعہ اتر پردیش سرکار کو تین دن کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ عبوری حکم خوش آئند ہے، اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں آئین اور دستور ہے، قانون پر عمل کرنا سبھی کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ پر امن احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہ دینا احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرنا، انہیں گرفتار کر لینا، پولس اسٹیشن میں جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا، اور ان کے مکانوں کو مسمار کر دینا کھلا ہوا جبر و استبداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو ان کے جمہوری اور دستوری حق سے محروم کرنے کی سازش ہے۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا یہ کہنا کہ جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ آنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ متاثرین کو خود آنا چاہیے۔ تشار مہتا کی یہ بات سراسر غلط ہے کیوں کہ جمعیۃ علما ہند کا ہمیشہ سے مظلوموں کو انصاف دلانے اور انسانیت کی بنیاد پہ بلا تفریق مذہب و ملت خدمت کرنا اس کا مشن ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسی مشن کے تحت میدان میں آئی ہے۔ جن علاقوں میں انہدامی کاروائی ہوئی ہے وہاں کے لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے متاثرین اور انصاف پسند عوام کی درخواست پر ہی سپریم سے کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت سیکولرزم کی حفاظت کے لئے مضبوط فیصلہ کرے گی تاکہ ملک امن وامان سے چلتا رہے، اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں وہ یہ جان لیں کہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کی جنگ آزادی میں ہراول دستے کے طور پر کام کیا تھا اور ہمارے بزرگوں نے وطن کی آزادی کے لئے ہنس ہنس کراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس لئے جمعیۃ علماء ہند ملک کی آئین کو تباہ و برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی اس طرح ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بن کر رہ سکتی ہے۔
سیاست
ممبئی بی ایم سی الیکشن : ناراض سماجوادی پارٹی کارکنان سے ابوعاصم اعظمی کی اپیل

ممبئی بلدیاتی انتخابات میں سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے پارٹی ٹکٹ سے محروم دعویداروں سے اپیل کی ہے کہ کسی وجہ سے اگر کسی امیدوار کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا ہے, آئندہ انہیں پارٹی قیادت موقع فراہم کرے گی, لیکن اس الیکشن میں عوام کے مسائل اور اس کے حق کے لئے سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ رہ کر اتحاد کا مظاہرہ کرے. انہوں نے کہا کہ بی ایم سی انتخاب میں سماجوادی پارٹی نے ۱۵۰ نشستوں کو امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ سماجوادی نظریہ کو فروغ ملے. پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں کو ٹکٹ میسر ہوئے اور امیدواروں نے چرچہ نامزدگی بھی داخل کیا, لیکن بدقسمتی سے کئی دعویداروں کو ٹکٹ نہیں ملی کیونکہ ٹکٹ فراہمی تقسیم میں کئی دشواریاں بھی تھیں. ممبئی میں پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے اور پارٹی کے نظریہ کو فروغ دینے کے لیے ہر ایک کا شکریہ کئی وارڈوں میں مرحلہ وار طریقے سے امیدواروں کا اعلان کیا گیا تھا اور انتخابی مرحلہ کے لیے ۱۵۰ امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا گیا ہے. ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ میری تمام کارکنان اور دعویداروں سے اپیل ہے کہ وہ ٹکٹ کی محرومی پر ناراض ہونے کے بجائے پارٹی امیدوار کے لئے کام کرے, کیونکہ پارٹی کو مستحکم بنانا اور سماج وادی پارٹی کے نظریہ کو فروغ دینا ہی ہماری ذمہ داری ہے. جس امیدواروں کو اس مرتبہ موقع فراہم نہیں ہوا ہے وہ نالاں نہ ہو, انتخاب صرف ایک امیدوار کا نہیں بلکہ پارٹی کا نظریہ ہے, ٹکٹ چاہے کسی کو بھی دی گئی ہے, وہ سماج وادی پارٹی کا چہرہ اور امیدوار ہے, اس لئے پارٹی امیدوار کا ساتھ دے کر پارٹی کو مستحکم کرے اتحاد کی فتح ہے, شہریوں کے مسائل پر آواز بلند کرنے کے لیے آپ تمام سماجوادی پارٹی کے لیے کام کریں گے اور مجھے پورا یقین ہے کہ سماج وادی پارٹی اس مرتبہ تاریخ رقم کرے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میونسپل کارپوریشن عام انتخابات : انتخابی اصولوں اور ضابطہ اخلاق کے رہنمایانہ اصولوں پرعمل آوری کی الیکشن افسر کی سخت ہدایت،حفاظتی انتظامات سخت

ممبئی : میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات جمہوریت کا بہت اہم عمل اس کو کامیابی، شفاف اور منصفانہ طریقے سے انجام دینے کی ذمہ داری تمام متعلقہ مرکزی اور ریاستی افسران اور ملازمین پر عائد ہوتی ہے۔ ضابطہ اخلاق کی مدت کے دوران قواعد کے مطابق ہر عمل کو درست اور بروقت ریکارڈ کرنا لازمی ہے۔ نظم و ضبط، امن اور انصاف انتخابی عمل کے بنیادی پہلو ہیں اور ان پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ میونسپل کمشنر اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسربھوشن گگرانی نے سخت وارننگ دی ہے کہ کسی بھی قسم کی غلطی، غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتخابی قوانین اور رہنما اصولوں پر ہر مرحلے پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ شری گگرانی نے یہ بھی بتایا کہ اگر ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو انتظامیہ پر شہریوں کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات 2025-26 کے سلسلے میں، میونسپل کمشنر اور ضلع انتخابی افسر بھوشن گگرانی نے آج چیف مانیٹرنگ کمیٹی کی میٹنگ کی۔ میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اس میٹنگ میں قبل از انتخابات کی تیاریوں، امن و امان، ضابطہ اخلاق کی سختی سے پابندی، مختلف فلائنگ اسکواڈز کے کام کے علاوہ مشکوک اور بڑے پیمانے پر ہونے والے لین دین کی نگرانی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گگرانی نے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات دیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنرڈاکٹر اشونی جوشی، جوائنٹ کمشنر آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) مسٹر ستیہ نارائن چودھری، میونسپل کارپوریشن کے اسپیشل ڈیوٹی آفیسر (الیکشن) مسٹر وجے بالموار، جوائنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) مسٹر وشواس شنکروار، ڈپٹی کمشنر (میونسپل آفس) کے ایڈیشنل کلکٹر مسٹر پرایش شنکروار۔ (کونکن ڈویژن) فروگ مکدم، اسسٹنٹ کمشنر (ٹیکس اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) مسٹر گجانن بیلے کے ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا، معروف ڈسٹرکٹ بینک، ایئر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا، سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس، سنٹرل ریزرو پولیس فورس، ریلوے پروٹیکشن فورس، انڈین کوسٹ گارڈ اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دیگر محکمہ جات کے نمائندے موجود تھے۔میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ضلع الیکشن آفیسر بھوشن گگرانی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ اور انتخابی مشینری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پابند عہد ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے عام انتخابات 2025-26 مکمل طور پر بے خوف، آزاد، شفاف اور نظم و ضبط کے ماحول میں منعقد ہو۔ اس سلسلے میں جامع اور وسیع تیاریاں کی گئی ہیں۔ پورے انتخابی عمل میں مختلف مشینری کا کردار بہت اہم ہے۔ جمہوری اقدار کو فروغ دینے اور انتخابی عمل کے منصفانہ، شفاف اور قابل اعتبار رہنے کو یقینی بنانے کے لیے تمام مرکزی اور ریاستی مشینری کو ریاستی الیکشن کمیشن کے وضع کردہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنا چاہیے اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔گگرانی نے اپیل کی کہ انتخابی عمل میں ایک مثبت، مثالی اور قابل تقلید مثال پیدا کرنے کے لیے اچھی منصوبہ بندی کی جائے۔جوائنٹ کمشنر آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے انتظامی ڈویژنوں میں قائم فلائنگ اسکواڈز کے لیے ضروری پولیس اہلکار دستیاب کرائے گئے ہیں۔ جس جگہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) رکھی گئی ہے اور گنتی کے مرکز پر ضروری سیکورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی نقل و حمل کے دوران پولیس سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ پولس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انتخابات کے لیے ممکنہ کارروائی کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اسلحہ ضبط کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے تمام ہتھیار رکھنے والوں کو نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ مقامی تھانے کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر اور ملک بدری کے ضروری مقدمات کو فوری طور پر نمٹا دیا جا رہا ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس انسپکٹر کو ضروری کارروائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا کی آزادانہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ چودھری نے بتایا کہ اس کی ذمہ داری پولیس کے سائبر سیل کو سونپی گئی ہے۔
ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر غیر قانونی رقوم کی منتقلی ہو رہی ہے تو اس حوالے سے باقاعدہ کارروائی کی جائے۔ مشتبہ اور بڑی مالیت کے لین دین کی اطلاع موجودہ طریقہ کار کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کو دینے کے لیے کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس میٹنگ میں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ بڑی اور مشکوک رقم نکالنے اور گفٹ کارڈز کی اطلاع بھی فوری طور پر محکمہ انکم ٹیکس کو دی جائے۔
(جنرل (عام
2026 امکانات کا سال : پورے سال میں چار چاند گرہن لگیں گے، لیکن ہندوستان میں صرف ایک سورج گرہن ہوگا۔

نئی دہلی، سال 2026 شروع ہو چکا ہے اور فلکیات کے شوقین افراد کے لیے کچھ خاص ہے۔ اس سال کل چار چاند گرہن ہوں گے: دو سورج گرہن اور دو چاند گرہن۔ تاہم چاروں چاند گرہن ہندوستان سے یکساں طور پر نظر نہیں آئیں گے۔
بھارت میں صرف ایک چاند گرہن دیکھا جاسکے گا۔ باقی تین یا تو ہمارے ملک سے نظر نہیں آئیں گے یا اتنے کمزور ہوں گے کہ انہیں دیکھنا مشکل ہو جائے گا۔
سال کا پہلا چاند گرہن 17 فروری کو ہوگا۔ یہ ایک سورج گرہن ہے، جسے اینولر سورج گرہن یا “رنگ آف فائر” کہا جاتا ہے۔ یہ گرہن سورج کے تقریباً 96 فیصد حصے پر محیط ہوگا اور تقریباً 2 منٹ اور 20 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ یہ گرہن جنوبی افریقہ، جنوبی ارجنٹائن اور انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔ یہ ہندوستان میں نظر نہیں آئے گا، اس لیے سوتک کی مدت لاگو نہیں ہوگی۔
اس کے بعد سال کا پہلا چاند گرہن 3 مارچ 2026 کو ہوگا اور یہ بھارت سے مکمل طور پر نظر آئے گا۔ یہ واحد چاند گرہن ہے جسے ہم براہ راست دیکھ سکیں گے۔ یہ چاند گرہن تقریباً 58 منٹ تک جاری رہے گا اور اس دوران چاند سرخ رنگ میں نظر آئے گا۔ اسے بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی طور پر، یہ 2029 سے پہلے کا آخری مکمل چاند گرہن ہوگا۔ ہندوستان میں اس گرہن کے سوتک کی مدت درست ہوگی، یعنی اس کی مذہبی اور روایتی اہمیت بھی ہوگی۔
تیسرا چاند گرہن 29 جولائی کو ہوگا۔ یہ سورج گرہن بھی ہوگا لیکن بدقسمتی سے یہ ہندوستان میں نظر نہیں آئے گا۔ اسے دیکھنے کے لیے، کسی کو افریقہ، جنوبی امریکہ اور انٹارکٹیکا کے کچھ حصوں میں ہونا پڑے گا۔ چونکہ یہ ہندوستان میں نظر نہیں آئے گا، اس لیے اس کا سوتک دور بھی یہاں درست نہیں ہوگا۔
سال کا چوتھا اور آخری چاند گرہن 28 اگست کو ہوگا۔ یہ دوسرا چاند گرہن ہے، جو شمالی اور جنوبی امریکہ، یورپ اور افریقہ کے کچھ حصوں میں نظر آئے گا، لیکن ہندوستان سے نظر نہیں آئے گا۔ اس کی سوتک کی مدت بھی ہندوستان میں درست نہیں ہوگی۔
سال 2026 میں مجموعی طور پر چار چاند گرہن ہوں گے لیکن بھارت میں صرف 3 مارچ کو مکمل چاند گرہن ہی نظر آئے گا۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم5 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
