Connect with us
Tuesday,28-April-2026

جرم

بھارت بند میں ادھوری منصوبہ بندی کے تحت دھولیہ بند کو ناکام بنانے کی سازش کا پردہ فاش

Published

on

(عطاؤالرحمٰن)
دھولیہ شہر میں بھولے بھالے علمائے کرام کا کچھ لوگوں نے غلط استعمال کیا ہے۔ ہر بڑے محاذ میں علمائے کرام کے نام پر روٹی سینکھنے والے قلیل تعدا د میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی کرسی بچانے کے لیے علماء کا نام استعمال کرتے ہیں تو کچھ لوگ جھوٹی شہرت کے لیے عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے علمائے کرام کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ آج دھولیہ بند کے موقعہ پرعلمائے کرام نے بذات خود چل کر بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن دوپہر میں کچھ لوگوں نے بغیر مشورے کے جمعیۃ کا لیٹر ہیڈ کے بغیر سادے کاغذ پر اپنا نام اور دستخط کرکے عوام سے کاروبار شروع کرنے کی اپیل کی ۔ عوام میں کچھ سمجھدار لوگوں نے اس اپیل کا بائیکاٹ کیا، کیونکہ لیٹر ہیڈ اور علمائے کرام کا نام حذف تھا۔ جب کہ جمیعۃ علمائے کرام کی تنظمیم ہے۔ سوشل میڈیا سے جی نہ بھرنے کی صورت میں کچھ عہدیداران اور سیاست داں لوگوں کے درمیان بولتے پھر رہے تھے کہ بند کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوگیا ہے لہذا کاروبار شروع کردیا جائے۔ اتنے پر بھی بس نہیں کیا گیا مسجد کے ٹرسٹیان سے بغیراجازت کے مسجدوں سے کاروبار شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ممبئی پریس نے جب ان لوگوں سے بات چیت کی تو وہ معقول وجہ بتانے سے قاصر رہے۔ انہوں نے کہا کہ سو فٹ روڈ پر ماحول خراب ہورہا ہے، امن وامان غارت ہونے کے امکانات ہیں۔ پولس کو پہلے سے ہی علم تھا کہ بھارت بند ہے تو پولس انتظامات کیوں نہیں ؟ سو فٹ روڈ علاقہ پر نشے کے عادی بیٹھتے ہیں اس سے قبل بھی وہاں سے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ چند سماج دشمن عناصر کی وجہ سے پورے شہر میں ڈھنڈورا پیٹنے کی ٗضرورت کیا ہے ؟ شام تک پولس شر پسندوں کو اٹھاکر جمع کرسکتی تھی ان کے لیے مقصد کو کیوں پس پشت ڈالنے کی کوشش کی گئی؟ سیاسی لوگوں کو کیوں ساتھ میں لے کر بند کی مخالفت کرنا پڑی ؟ کیونکہ سماج دشمن عناصر بھی ان کی ووٹ بینک ہیں، وہ ناراض نہ ہو اس لیے شہر میں کہا جارہا ہے کہ مقصد پورا ہوگیا اور کاروبار شروع کردو۔ کیا مقصد پورا ہوا؟ سی اے اے واپس لے لیا گیا؟ این آر سی واپس لینے کو حکومت راضی ہوگئی؟ آج جب بند میں عوام نے مکمل تعاون کیا تو انہیں کشمکش میں کیوں مبتلا کیا جارہا ہے؟ اگر شہر کے ماحول کی فکر تھی تو ایک ہفتہ پشتر سے ہی کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی گئی تھی ؟ بند کے اوقات میں پروگراموں انعقاد کیوں نہیں کیا گیا؟ آئیۃ کریمہ اور این آر سی، سی اے اے بیداری کے متعلق عوام کو مصروف کیوں نہیں رکھا گیا ؟ جن لوگوں نے بند میں تعاون کیا وہ لوگ امن غارت کرسکتے ہیں ؟ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے مطابق کاروبار شروع رہے اور ان کے مطابق بند رہے ، اس تناشاہی سوچ اور نامکمل منصوبہ بندی، مشورے کی کمی والے کام سے لوگوں نے انکار کردیا ہے اور اپنے کاربار کو پورا دن مکمل طور سے بند کرنے کے فیصلے پر اٹل رہے ہیں۔ عوام کا فیصلہ اپنی جگہ بالکل درست ہے، اگر ایسا ہوجاتا تو آئندہ بند کے اعلان میں تعاون ملنا مشکل ہوجاتا۔ چند لوگ علمائے کرام کا غلط استعمال کرتے ہیں ، جمیعۃ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جمعیۃ کے ریاستی اور مرکزی عہدیداران کو اس جانب توجہ مرکوز کرکے کاروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جرم

اندھیری میں سنسنی خیز واردات… رشتہ کا تقدس پامال، بہن کے قتل میں بھائی بھابھی گرفتار, لاوارث لاش کی شناخت

Published

on

ممبئی : ممبئی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں خونی رشتہ ہی ایک بہن کی جان لے لی۔ ممبئی پولس نے اپنی کی بھابھی کو موت کے گھاٹ اتارنے والے بھائی بھابھی کو گرفتارکرنے کا دعوی کیا ہے ممبئی اندھیری مرول کے گٹر سے پولس نے ایک نامعلوم لاوارث برآمد کی تھی جو پوری طرح سے مسخ ہو چکی تھی اس کی شناخت کےلیے پولس نے محنت کی اور پھر زیورات اور گمشدہ رپورٹ کی بنیاد پر متوفی کی شناخت کر لی پولس کو اندھیری مرول ناکہ کی گٹر کے ڈھکن نکالنے کے بعد لاش برآمد ہوئی۲۲ اپریل کو لاش کی برآمد گی کے بعد پولس نے کیس درج کر لیا اور پھر متوفی کی شناخت بیلنس سیکورہ ۸۰ سالہ کے طور پر ہوئی ۱۰ جنوری کو ۲۰۲۶ میں مقتولہ کی گمشدہ کی شکایت سہار پولس اسٹیشن میں درج کی گئی یہ شکایت اس کے بھائی جوزف تھامس کوئلہ نے درج کروائی تھی۔ مقتولہ اپنی بھائی بھابھی کے ساتھ مقیم تھی اور قتل سے ایک روز اس کا ۹ جنوری کو بھائی جوزف اور بھابھی ماریا کے زور دار تنازع اور جھگڑا ہوا تھا پولس نے پڑوسیوں سے باز پرس کی تو معلوم ہوا کہ اکثر بھائی بھابھی اور مقتولہ کا جھگڑا اور تنازع ہوا کرتا تھا اس دوران پولا نے جوزف ، ماریا اور اس کا فرزند کولٹن کو زیر حراست لیا۔ تفتیش میں ملزمین نے اعتراف کیا کہ وہ روز روز کی حجت اور تنازع سے تنگ اور عاجز آچکے تھے جس کے بعد ماریا نے قتل کی سازش رچی اور پھر مقتولہ کو قتل کر کے اس کی لاش مین ہول میں ڈال دیا اندھیری پولس نے جوزف تھامس کویلو ۶۵ سالہ ، ماریا جوزف ۶۳ سالہ مرول پائپ لائن کے ساکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اندھیری پولس نے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے کی سربراہی تفتیش کے بعد اس سنسنی خیز قتل کا خلاصہ کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : انگڑیا کا دس لاکھ کاندیولی میں پارکنگ سے چوری کرنے والے دو شاطر چور کی گرفتاری مزید کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی انگڑیا کا دس لاکھ روپے چوری کرنے کے معاملہ میں پولس نے ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کاندیولی علاقہ میں شکایت کنندہ نکھل اروند شاہ ۴۴ سالہ ملاڈ کا رہائشی انگڑیا سے ۱۰ لاکھ روپے لے کر بلڈنگ میں اسکوٹر پارک کر کے گیا تھا, اسی دوران دو افراد کے اسکوٹی کی ڈگی میں موجود نقدی رقم لے کر فرار ہو گئے. معاملہ میں پولس نے معاملہ درج کر لیا اور چوروں کی تلاش کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی گئی اور کاندیولی کے ۱۲۴ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور پولس ٹیم کو ملزمین کو سراغ گجرات ملا. یہاں پہنچ کر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے چوری کے ۱۰ لاکھ میں سے ۷ لاکھ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے. ملزمین نے اعتراف جرم کر لیا ہے. اس کے ساتھ ملزمین نے تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اس چوری میں دو مزید افراد نے مدد کی تھی, ان دونوں کی بھی پولس تلاش کرُرہی ہے. ممبئی پولس نے اس معاملہ میں ملزمین کو گرفتار کر کے کیس کو حل کر لیا ہے. پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ایڈیشنل کمشنر ششی کمار مینا اور ڈی سی پی سندیپ جادھو نے کیس حل کیا

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے عشائیہ کے موقع پر ہونے والی شوٹنگ سے ’پریشان‘ نہیں تھا، ایجنسیوں کی فوری کارروائی کی تعریف کی۔

Published

on

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ پریشان نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ کافی نروس تھیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “میں پریشان نہیں تھا۔ میں زندگی کو سمجھتا ہوں۔ ہم ایک پاگل دنیا میں رہتے ہیں۔” اس نے اپنا ردعمل اس وقت بیان کیا جب سیکیورٹی گارڈز اسے باہر لے گئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پہلے صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی اور پھر سیکرٹ سروس کی ہدایات پر عمل کیا۔ “میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ گارڈز نے کہا، ‘براہ کرم نیچے اتریں، فرش پر آ جائیں۔’ چنانچہ میں خاتون اول بھی نیچے اتر گئی۔” خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “وہ جو کچھ ہوا اس سے وہ بہت پریشان لگ رہی تھیں۔ ایسی صورتحال میں کون پریشان نہیں ہوگا؟ انہوں نے صورتحال کو بہت اچھی طرح سے سنبھالا، وہ جانتی تھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔” دریں اثنا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری کارروائی پر ایجنسیوں کی تعریف کی۔ اس نے بتایا کہ ملزم کو کتنی جلدی پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا، “وہ (حملہ آور) بہت چالاک تھا، لیکن انہوں نے (سیکیورٹی اہلکاروں) نے جلدی سے اسے قابو کر لیا۔” صدر نے نوجوان ملزم کی سیکورٹی کی خلاف ورزی پر بھی تبصرہ کیا۔ اس نے کہا، “یہ لوگ بیوقوف نہیں ہیں، اور یہ چیزیں جلدی سمجھ لیتے ہیں۔ حملہ آور بھی کافی اناڑی تھا، اسی لیے پکڑا گیا۔” واقعے کے باوجود، ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایونٹ جاری رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کا دوبارہ انعقاد جلد ہوگا۔ ایک 31 سالہ مشتبہ شخص نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کی۔ وہ حفاظتی حصار توڑ کر ہوٹل میں داخل ہوا۔ عشائیہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر اور سینئر حکام سمیت 2500 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کے فوری بعد ملزم کو گرفتار کر لیا۔ تحقیقاتی ایجنسیاں فی الحال 31 سالہ ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان