Connect with us
Saturday,28-March-2026

سیاست

ہندوستان متوازن تجارتی نظام کے حق میں ہے : پیوش

Published

on

Piyush

مرکزی وزیر صنعت و تجارت پیوش گویل نے بدھ کے روز کہا کہ ہندوستان تجارت اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر ایک متوازن، بلند نظر، وسیع اور باہمی طور پر سود مند معاہدے کے لیے مذاکرہ شروع کرنے کے حق میں ہے۔

مسٹر گویل نے عالمی معاشی اسٹیج کے عالمی تجارت سیشن سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) ایک متوازن معاہدہ نہیں تھا، کیونکہ اس سے ہندوستان کے کسانوں، چھوٹی صنعتوں-ایم ایس ایم ای، ڈیری صنعت کو نقصان ہوگا اور اس لیے حکومت کے لیے آر سی ای پی میں شامل نہ ہونا ایک سمجھ داری تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک کے عوام کے لیے معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے مذاکرات اور امکانات کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان، برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک اور ادارے جمہوریت، شفافیت، قانون کی حکمرانی، عدالتوں کی آزادی، سرمایہ کاری کے قواعد، وغیرہ کے معاملے میں یکساں ہیں، نیز ان ممالک کے ساتھ ہندوستانی تجارت متوازن ہے۔

مسٹر گویل نے کہا کہ ہم یقینی طور پر کچھ ممالک کے محدود ایجنڈے کو قبول نہیں کرسکتے کیونکہ تجارتی نظام، سبسڈی نظام اور فائدہ جو ترقی یافتہ دنیا اٹھا رہی ہے‘ اسے ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن میں زیادہ سنجیدگی اور زیادہ ایمانداری کے ساتھ حل کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ایجنڈے کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کے حقیقی جذبے سے غیر جانبدار، منصفانہ طور پر تیار کرنا ہوگا۔

کووڈ۔19 کے مسئلے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان آج وباء کی دوسری لہر کا سامنا کر رہا ہے، اور اس لہر کی ہولناکی سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بلا روک ٹوک اس وباء کا مقابلہ کر رہا ہے۔ حکومت اہم سپلائی کی خریداری، ریاستوں میں آکسیجن کی سپلائی کی تقسیم اور اصل وقت کی نگرانی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیہم جدد وجہد کے ساتھ، ہم جلد ہی اس عالمی چیلنج سے نمٹ لیں گے اور مضبوط بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان لچیلا عالمی سپلائی چین کا ایک لازمی حصہ بننا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ وباء کی پہلی لہر کے دوران بھی‘ ملک نے اپنے تمام بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

ممبئی میں ڈیلیوری گاڑی سے 27 گیس سلنڈر چوری، تحقیقات جاری

Published

on

ممبئی: ایران اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد اچانک گیس سلنڈروں کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ توانائی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، کاندیولی ویسٹ کے چارکوپ علاقے میں چوروں نے ڈلیوری گاڑی میں گھس کر 27 سلنڈر چوری کر لیے۔ پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ یہ واقعہ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب پیش آیا۔ ملزمان نے گیس کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپو کو نشانہ بنایا اور 5 بھرے اور 22 خالی سمیت 27 سلنڈر لے کر فرار ہوگئے۔ ممبئی پولیس نے کہا کہ چارکوپ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ شکایت کنندہ نند کمار رام راج سونی (35) جو ملاڈ ویسٹ کے جئے جنتا نگر کا رہنے والا ہے، گزشتہ سات سالوں سے چارکوپ میں شری جی گیس سروس کے ساتھ ڈیلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ وہ ٹیمپو کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کو گھر گھر ایل پی جی سلنڈر فراہم کرتا ہے۔ 25 مارچ کو، نند کمار نے اپنا روزانہ ڈیلیوری کا کام مکمل کیا اور رات 11 بجے کے قریب گھر واپس آنے سے پہلے ٹیمپو کو چارکوپ کے علاقے میں کھڑا کیا۔ گاڑی اگلے دن تقسیم کے لیے سلنڈروں سے لدی ہوئی تھی۔ جب وہ 26 مارچ کی صبح 8 بجے کے قریب اسی مقام پر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ گاڑی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا اور پیچھے کا تالا ٹوٹ گیا۔ جانچ کرنے پر نند کمار کو پتہ چلا کہ تمام سلنڈر چوری ہو گئے ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کی کل قیمت تقریباً 15,500 روپے بتائی جاتی ہے۔ ابتدا میں، نند کمار نے اپنے ساتھی کارکنوں سے یہ معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا کہ آیا سلنڈر کہیں اور منتقل کیے گئے ہیں، لیکن جب انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی تو انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور شکایت درج کرائی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں کچھ مشکوک افراد کو گاڑیوں کے ساتھ پکڑا گیا ہے اور ان کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش کار اسکریپ مارکیٹس اور گیس کے غیر قانونی تجارتی نیٹ ورک سے منسلک افراد سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

Continue Reading

بزنس

خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے درمیان ایک ہفتے میں سونے کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ کا اضافہ، جبکہ چاندی کی قیمت میں معمولی کمی آئی ہے۔

Published

on

ممبئی: عالمی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے درمیان اس ہفتے سونے کی قیمتوں میں 5.77 فیصد اضافہ ہوا۔ جمعہ کو ایم سی ایکس گولڈ اپریل فیوچر میں 0.15 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایم سی ایکس سلور مئی فیوچرز میں 0.09 فیصد کی معمولی کمی ہوئی۔ سونے کا فیوچر فی الحال ₹144,500 اور چاندی کا فیوچر ₹227,750 فی کلوگرام پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کے اعداد و شمار کے مطابق، جمعہ کو 999 خالص سونے کی قیمت ₹142,942 فی 10 گرام تھی، جو پیر کے ₹135,141 سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ تاہم، آخری کاروباری دن سپاٹ گولڈ میں معمولی کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکی ڈالر کی مضبوطی برقرار رہی، جس سے قیمتوں پر دباؤ پڑا۔ ہندوستان میں ایم سی ایکس گولڈ نے اپنی ہفتہ وار کم ترین ₹129,595 فی 10 گرام سے اچھی ریکوری دکھائی۔ دریں اثنا، بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیکس سونا 4,500 ڈالر فی ٹرائے اونس سے اوپر بند ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں حالیہ معمولی کمی کی وجہ سرمایہ کاروں نے نقصان کو پورا کرنے کے لیے نقد رقم اکٹھا کرنے کے لیے سونا فروخت کیا تاہم مجموعی طور پر سونے میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ مرکزی بینک مسلسل سونا خرید رہے ہیں، اور عالمی تناؤ بھی قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ مزید برآں، یو ایس ٹریژری کی بڑھتی ہوئی پیداوار نے سونے جیسی غیر سود والی سرمایہ کاری کی کشش کو کسی حد تک کم کیا ہے، قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ دریں اثنا، برینٹ کروڈ کی قیمتیں اس ہفتے تقریباً 120 ڈالر فی بیرل سے گر کر 93 ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے افراط زر کے بارے میں خدشات کم ہوئے اور سونے کو اس کی کم ترین سطح سے بحال کرنے میں مدد ملی۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ آنے والے دنوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ سے آنے والی خبریں، خام تیل کی قیمتیں اور مرکزی بینک کے فیصلے مارکیٹ پر اثر انداز ہوں گے۔ ایک تجزیہ کار نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی شدید گراوٹ کے بعد اب کموڈٹی مارکیٹ مستحکم ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور قیمتیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں۔ فی الحال، ایم سی ایکس گولڈ 1,36,000 روپے سے 1,40,000 روپے کی سطح کے ارد گرد مضبوط حمایت حاصل کر رہا ہے، جبکہ اوپر کی طرف، 1,55,000 روپے سے 1,60,000 روپے کی سطح کو اہم مزاحمت سمجھا جاتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : این سی بی کے امیت گھوٹے اور دو دیگر کے خلاف نئی ممبئی میں کنسٹرکشن کمپنی کے مالک کی بیوی کی شکایت پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج۔

Published

on

ممبئی این سی بی کے زونل ڈائریکٹر امیر گھاؤ ٹے سمیت سمیت دو افسران کے خلاف نئی ممبئی پولس میں تعمیراتی کمپنی کے مالک بلڈر گروناتھ چچلکرکی اہلیہ کی شکایت پر خودکشی پر مجبور کرنے کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمین پر چچلکر کو خودکشی پر مجبور کرنے کا الزام اہلیہ کرن چچلکر نے عائد کیا اپریل میں چچلکر نے اپنے گھر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی جس کے بعد اہلیہ نے اسے خودکشی نہیں قتل قرار دیا تھا اور درخواست دی تھی این سی بی کے افسران پر کیس درج کیا جائے اسی پر اب ۲۵ مارچ کو این سی پی کے زونل ڈائریکٹر امیت گھاؤٹے، آکاش ملک، سندیپ نیگڑے کے خلاف خودکشی پر اکسانا، ہفتہ وصولی، تذلیل کرنا سمیت دیگر دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ۔ چچلکر نے ۲۵ اپریل ۲۰۲۵ کو اپنی ریوالور سے گولی مار کر خود کو ہلاک کر لیا تھا اہلیہ نے الزام لگایا کہ ۲ فروری کو این سی بی کی ٹیم نے گھر کی تلاشی لی تھی اور دستاویزات سمیت دو لاکھ کی گھڑی بھی ضبط کی گی اس کے بعد متعدد مرتبہ دھمکی دے کر ۱۰ سے ۱۵ کروڑ روپے طلب کئے تھے اور بصورت دیگر کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی۔ اس معاملہ میں جب این سی بی کے زونل ڈائریکٹر امیت گھاؤٹے سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ڈرگس سنڈیکیٹ کے معاملہ میں اب تک این سی بی نے جن ملزمین کو بھی گرفتار کیا ہے ان کی ضمانت نہیں ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی این سی بی کے طریقہ تفتیش پر بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ بدنیتی پرمبنی ہے انہوں نے این سی بی نے ڈرگس کیس میں جو تفتیش کی ہے وہ صحیح سمت میں تھی اور اسی وجہ سے اس معاملہ میں تفتیش میں پیش رفت بھی ہوئی ہے کروڑوں روپے کی املاک بھی اس کیس میں ضبط کی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان