Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

خصوصی

موجودہ فارمیٹ میں این پی آر منظور نہیں، ریاستی حکومت 2010/11 کے مطابق مردم شماری کا فیصلہ کرے

Published

on

(خیال اثر)
اعلان کے مطابق رضا اکیڈمی کی تحریک پر مالیگاوں شہر میں اپن پی آر کے متعلق متفقہ فیصلہ لینے اور مشترکہ اقدام کے مقصد کے تحت ایک انتہائی اہم میٹنگ کا انعقاد حج ٹریننگ سینٹر میں کیا گیا، الحاج قاری زین العابدین رضوی کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں تمام مسلک سے وابستہ علما اور اہم شخصیات نے شرکت کی، میٹنگ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، حمد اور نعت پاک کے بعد پروگرام کے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے رضوی سلیم شہزاد نے این پی آر کے حوالے سے ملکی حالات کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ شہر سمیت ریاست اور ملک بھر کے مسلمان خصوصی طور پر جبکہ عمومی طور پر ہر پچھڑی جات جماعت اور طبقات میں این پی آر کو لے کر تشویش کا ماحول ہے. ایسے حالات میں ہماری چھوٹی سی کوشش ہے کہ کم از کم مالیگاؤں شہر کی سطح پر تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی عمائدین اور سرکردہ افراد ایک رائے ہوجائیں تاکہ عوامی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے. آپ نے حاضرین سے گزارش کی کہ این پی آر سے متعلق اختلاف رائے کی صورت میں احترامِ رائے ہم پر لازم ہے.
اس موقع پر سنی جمیعۃ الاسلام کے صدر اور کل جماعتی تنظیم کے ترجمان صوفی غلام رسول قادری نے کہا کہ پورا ملک سراپا احتجاج ہے، این پی آر کا بائیکاٹ پوری طاقت سے ہونا چاہیے، اس طرح کا فیصلہ آج کی اس اہم نشست میں ہونا چاہئے اور اس کا اعلان نماز جمعہ سے قبل شہر کی تمام مساجد سے بھی ہونا چاہیے، موصوف نے کہا کہ یہ وقت بیدار رہنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کا ہے، رضا اکیڈمی نے موقع کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے جو قدم اٹھایا، وہ قابل تعریف ہے،
دارالعلوم غوث اعظم کے بانی حافظ ساجد حسین اشرفی نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے اس بروقت اقدام کی سراہنا کی اور کہا کہ این پی آر کا سامنا کرنے کے لیے ایسے ہی اتحاد کی ضرورت ہے،
مقامی جماعت اسلامی کے امیر عبدالعظیم فلاحی نے اپنی بات رکھتے ہوئے این پی آر کے خلاف منصوبہ بند عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے نئے این پی آر فارمیٹ کی مخالفت کی لیکن یہ بھی کہا کہ کاغذات درست کروانے کی کارروائی ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن محمدی (جمیعت اہل حدیث) نے کہا کہ ملک بھر میں شہریان کی تشویش بجا ہے، این پی آر نے مسلمانوں سمیت تمام طبقات کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، اس لئے اس عنوان پر محلہ وائز ٹیمیں تیار کی جانی چاہیے اور جو کچھ بھی تجویز یہاں منظور ہو اس پر عمل آوری کے لئے گھر گھر بیداری مہم چلانا چاہیے.
جنتادل کے بزرگ لیڈر حنیف صابر نے موجودہ این پی آر کی مخالفت پوری طاقت سے کئے جانے کی حمایت کی اور کہا کہ صوبائی و مرکزی حکومتوں تک اپنے مطالبات پہنچانا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ موجودہ این پی آر کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، رسائٹ ٹو ڈے چینل کے روحِ رواں کاشف سمّن اور حفاظت گروپ کے عارف نوری نے مالیگاؤں میونسپل کمشنر سے ہوئی ملاقات اور این پی آر کے ضمن میں گفتگو کا خلاصہ سامعین کے روبرو پیش کیا، اور واضح کیا کہ مردم شماری اور قومی آبادی کا رجسٹر دو الگ الگ فارمیٹ ہیں. اس لئے ہمیں دونوں فارمیٹ پر گفتگو کرنا چاہئے.
مشہور محقق و ادیب اور این آر سی گائیڈ نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی نے اس موقع پر اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی رائے پیش کی اور کہا کہ موجودہ این پی آر فارمیٹ کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے سے قبل ہمیں حکومتی سطح پر دباؤ بناتے ہوئے کوشش کرنا چاہیے کہ 2010 کے فارمیٹ کے مطابق سروے ہو. اگر اس کوشش میں ہم ناکام ہوتے ہیں تو پھر بائیکاٹ کے متعلق متفقہ طور پر کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے، جمیعتہ علماء ناسک ضلع کے صدر مولانا عبدالباری قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ نے اس موقع پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اگر متنازعہ کالم حکومت ہٹا دیتی ہے تو پرانے فارمیٹ پر ہمیں پہلے بھی آبجیکشن نہیں تھا اب بھی نہیں ہونا چاہیے.
شہر کے معروف سیاست داں اور صنعت کار الحاج جمیل کرانتی نے کہا کہ اس میٹنگ میں سبھی مسلک سے وابستہ علماء اور ذمہ داران شہر کی موجودگی امید کی ایک روشن کرن ہے، میں رضااکیڈمی کی اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیتا ہوں، موصوف نے کہا کہ جو بھی فیصلہ کرنا ہو وہ ہم بے خوف ہوکر کریں اور پھر اس پر قائم رہیں، اس موقع پر آپ نے شہر کے اہم سیاسی قائد اور بیباک رہنما ساتھی نہال احمد کو بھی یاد کیا، اور ان کی مضبوط قوت ارادی کی تعریف کی، موصوف نے کہا کہ کسی طرح کی ڈُھل مُل پالیسی نہیں ہونا چاہیے اگر یہاں سے متفقہ طور پر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوتو پھر اپنا مطالبہ پورے ہونے تک ہمیں اس پر ڈٹے رہنا چاہیے، پھر چاہے اس کے لیے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
سنّی کونسل کے حاجی یوسف الیاس نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ این پی آر کو ہلکے میں نہ لیا جائے، یہ این آر سی تک پہنچنے کا چور راستہ ہے، اس لئے مسلمانوں کو اکیلے تحریک نہ چلاتے ہوئے غیر مسلم افراد، ادیباسی، دلت جیسے برادرانِ وطن کو بھی ساتھ لینا چاہیے، ہمارا احتجاج موجودہ این پی آر کے مکمل بائیکاٹ کا ہونا چاہیے اور پوری طاقت اور اتحاد کے ساتھ ہونا چاہیے، موصوف نے کہا کہ جمہوری ملک میں غیر جمہوری قوانین لانے والی مودی حکومت اس وقت بہت دباؤ میں ہے، اگر ہم نے اتحاد و اتفاق کے ساتھ این پی آر کا بائیکاٹ کردیا تو اسے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہونا پڑے گا، سابق نائب مئیر اور مشہور صنعت کار جمیل سیٹھ زر والا نے اس موقع پر بیباکی سے اپنی رائے رکھتے ہوئے شہر کے سیاسی نمائندگان پر تنقید کی اور کہا کہ اس حساس موضوع پر رضا اکیڈمی نے جو پہل کی وہ قابل مبارکباد ہے، ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ شہر کی مذہبی اور سیاسی قیادت، دانشوران شہر کے ساتھ مل بیٹھ کر اس نازک اور حساس مسئلہ پر متفقہ طور پر کوئی ٹھوس فیصلہ لیتی، اس کے لیے یہ بڑا بہتر موقع تھا، لیکن سیاسی نمائندگان کی غفلت قابلِ افسوس ہے. انہیں سیاست سے ہی فرصت نہیں ہے، اس موقع پر آپ نے علمائے اسلام کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے قائد بھی علماء تھے اور آج این پی آر کے خلاف جو جدوجہد اور کوشش ہو رہی ہے اس کی قیادت بھی علماء ہی کر رہے ہیں. آپ نے کہا کہ اس مسئلہ پر غور و فکر کے بعد اتفاق رائے سے یہاں جو بھی فیصلہ ہو اس پر ہم سب سختی سے عمل کریں.
رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے کہا کہ یہ ایک بڑا مشکل فیصلہ تھا، جسے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہم نے کافی غور وخوص کے بعد کیا، موصوف نے تمام مسلک کے علماء اور دانشورانِ شہر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ این پی آر کے متعلق جو متفقہ فیصلہ یہاں ہوگا، رضا اکیڈمی اس فیصلے کی پرزور تائید وحمایت کرے گی، دارالعلوم محمدیہ کے ذمہ دار قاری طفیل احمد نے قوم و ملت کی بروقت رہنمائی پر رضا اکیڈمی کو مبارکباد دی اور این پی آر کے اضافی کالموں کی مخالفت کرتے ہوئے دیگر مقررین کی طرح مرحوم بزرگ رہنما ساتھی نہال احمد کو یاد کیا، اور اس نشست میں موجود عمائدینِ شہر کے فیصلوں سے ہر طرح کے اتفاق کا اظہار کیا.
نوجوان صحافی مختار عدیل نے این پی آر سے متعلق اس حساس نشست کی نظامت بھی کی اور زیر غور آنے والے نکات کی وضاحت بھی دورانِ گفتگو کرتے رہے. آپ نے مردم شماری اور قومی آبادی کے رجسٹر کی تاریخی حیثیت پر گفتگو بھی کی.
سابق صدر بلدیہ محترمہ ساجدہ نہال احمد نے صوبائی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مختلف حوالہ جات سے این پی آر کے مکمل بائیکاٹ کی تجویز رکھی اور کہا کہ وزیر داخلہ ہند کی زبانی یقین دہانیوں پر بالکل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا. ان کی نیتوں میں خرابی ہے. اس لئے جب تک حکومتی سطح پر نوٹیفکیشن کی صورت میں کوئی بات سامنے نہیں آ جاتی، اس وقت تک ہمیں اپنے احتجاج کو جاری رکھنا چاہیے، محترمہ ساجدہ نہال احمد صاحبہ نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن این پی آر تو مکمل طور پر مشکوک ہے.
ماہر معاشیات پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے اس نشست میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ این پی آر کے متعلق اتفاق رائے سے یہاں جو بھی فیصلہ لیا جائے گا میں اور میری تنظیم سی سی آئی اس فیصلے کے ساتھ رہے گی، لیکن کاغذات درستی کے کام کو روکا نہیں جانا چاہیے، آپ نے کہا کہ حکومت مہاراشٹر نے نئے کالموں کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی بنائی ہے تو ہمیں اس کمیٹی سے ملاقات کرکے حکومت تک اپنی بات رکھنا چاہیے اور اپنے مطالبات کو پوری طاقت سے منوانے کی کوشش کرنا چاہیے. آپ نے اپنے ادارہ سی سی آئی کی جانب سے رضا اکیڈمی کے اقدام کی سراہنا کی اور ہر تحریک پر ساتھ دینے کا وعدہ کیا.
مسجد تاج الشریعہ کے خطیب و امام حافظ انیس الرحمن رضوی نے بھی اس بات کی حمایت کی کہ پہلے حکومت پر دباؤ بنانے کر اپنے مطالبات منوانے کی کوشش ہو، ناکامی کی صورت میں عدم تعاؤن اور بائیکاٹ کا اعلان ہو.
کل جماعتی تنظیم اور راشٹریہ مسلم مورچہ کے قومی صدر مولانا عبدالحمید ازہری نے مختلف صوبوں میں جاری بامسیف کی اپنی تحریکی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ اس حکومت پر کسی بھی درجے میں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا. اس لئے پوری طاقت کے ساتھ پورے ملک کے ادیباسی سماج، او بی سی، دلت اور سیکولر غیر مسلم افراد بھی این آر سی کے مکمل بائیکاٹ کا ذہن بنائے ہوئے ہیں. اس لئے اجتماعیت کا ساتھ لے کر ہمیں اس ناکارہ حکومت کو اس کے ارادوں میں ناکام بنانا چاہئے، اور این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کیا جانا چاہیے.
ڈھائی گھنٹے تک مسلسل جاری رہنے والی اس میٹنگ میں 23 شرکاء نے این پی آر کے متعلق اپنی رائے پیش کی، ان تمام آراء کے پیش نظر جو تجویز تیار گئی، اسے ڈاکٹر الیاس صدیقی نے پڑھ کر سنایا،
تجویز :ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ گذشتہ 2010 میں ہوئے این پی آر کے مقابل اس مرتبہ 2020 کے این پی آر فارمیٹ میں جو زائد کالمس بڑھائے گئے ہیں حکومت مہاراشٹر اور مرکزی حکومت ان زائد کالموں کو ختم کرے، یعنی 2010 کے فارمیٹ کے مطابق اگر این پی آر تیار کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی افراد عوام سے گزارش کریں گے کہ پرانے فارمیٹ کے مطابق این پی آر کا استقبال کیا جائے اور حکومتی ملازمین سے مکمل تعاؤن کریں، بصورت دیگر ہم خود کو مجبور پاتے ہیں کہ این پی آر کے تعلق سے عدم تعاؤن Non Co operation کا رویہ اپنائیں. اس تجویز کے پیش ہونے کے بعد صوفی غلام رسول قادری، مولانا عبدالاحد ازہری، حاجی یوسف الیاس، حاجی حنیف صابر اور کل جماعتی تنظیم کی جانب سے یہ کہا گیا کہ مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنانا چاہیے، جبکہ ڈاکٹر الیاس صدیقی، جمیل سیٹھ زر والے، پروفیسر عبدالمجید صدیقی اور صدر میٹنگ قاری زین العابدین وغیرہ کی رائے یہ تھی کہ وزیر اعلیٰ مہاراشٹر نے خاص این پی آر کے مسئلے پر وزراء کی 6 رکنی کمیٹی بنائی ہے اس لیے پہلے اس کمیٹی کے اراکین اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا مطالبہ پیش کیا جائے، اور اگر مطالبات منظور نہیں ہوتے ہیں تو پھر بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے، اس اختلاف رائے کی وجہ سے مذکورہ تجویز منظور نہیں کی جا سکی اور نا ہی تمام حاضرین کی دستخطوں کے ساتھ کوئی متفقہ اعلان جاری کیا جاسکا، لیکن اس بات پر سبھی شرکاء نے اتفاق کیا کہ این پی آر کا موجودہ فارمیٹ ہمیں منظور نہیں، مہاراشٹر حکومت اسے واپس لے، اور 2010 کے فارمیٹ کے مطابق این پی آر کروایا جائے، اسی طرح اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ریاستی حکومت تک فوری طور پر اپنی گزارشات اور مطالبات کو پہنچایا جانا چاہیے اور ایک بڑے وفد کے ساتھ وزیراعلیٰ مہاراشٹر سے ملاقات کی کوشش بھی کرنا چاہیے، حافظ ساجد حسین اشرفی کی دعا پر خوشگوار ماحول میں اس عزم کے ساتھ اس میٹنگ کا اختتام ہوا کہ این پی آر کے خلاف ہماری یہ مشترکہ جدو جہد جاری رہے گی، عبدالحلیم صدیقی نے اظہار تشکر کیا- شرکا ئے میٹنگ، صوفی غلام رسول قادری (سنی جمیعت الاسلام)، مولانا عبدالباری قاسمی(جمیعةالعلماءضلع ناسک)، میڈم ساجدہ نہال احمد (سابق صدر بلدیہ)، مولانا عبدالحمید ازھری (مسلم پرسنل لاء بورڈ )، حاجی محمدیوسف الیاس (سنی کونسل)، جمیل کرانتی، قاری زین العابدین (سنی جمیعةالعلماء) مولانا عبدالعظیم فلاحی(صدر جماعت اسلامی)، شکیل احمد فیضی(جمیعت اہلحدیث )، حافظ اشفاق احمد محمدی(جمیعت اہلحدیث)، سمیع اللہ انصاری (مسلم لیگ )،جمیل سیٹھ زروالے، پروفیسر عبدالمجید صدیقی، ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی، عبدالحلیم صدیقی (سنیئر صحافی )، حافظ ساجد حسین اشرفی (دارالعلوم غوث اعظم )، محمد حنیف صابر (سیکریڑی ٹی ایم ہائی اسکول )، حافظ انیس الرحمن رضوی ( خطیب و امام مسجد تاج الشریعہ) حافظ احسان رضا ( مسجد مولانا یونس مالیگ )، قاری طفیل احمد محمدی (دارالعلوم محمدیہ)، مختار عدیل (صحافی )، خلیل عباس (صحافی )، محمد عارف نوری (حفاظت گروپ )، محمد کاشف سمن (رسائٹ ٹو ڈے)، عطاء الرحمن نوری ( جرنلسٹ )، حافظ محمد اسماعیل اشرفی، خیال اثر (صحافی) راحیل حنیف (انڈیا اگینس ہیٹ)، ندیم انجم چشتی، رضوان ربانی(ربانی چینل)، عمران راشد، (MAH ,MSO)، خیال انصاری (مدیر خیر اندیش)، سہیل احمد ڈالریا، محمد مصطفی آفندی سر، وسیم احمد رضوی، محمد فاروق فردوسی، محمد سلیم غازیانی(سابق کارپوریٹر)، حاجی ریاض عبداللہ (المدینہ ٹورس)، محمد آصف پارس گروپ، سلمان قاری، وغیرہ کے علاوہ رضا اکیڈمی کے صدیقی سلیم شہزاد، غلام فرید، امتیاز خورشید، حافظ شریف رضوی، الطاف تابانی، حاجی حامد رضوی، ظہیر قریشی، قاسم رضوی وغیرہ بھی اس موقع پر موجود تھے.

خصوصی

سیکورٹی فورسز نے جموں میں دہشت گردوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا شروع، بیک وقت 20 مقامات پر تلاشی لی، آنے والے مہینوں میں تلاشی مہم کو تیز کرنے کا منصوبہ

Published

on

kashmir

نئی دہلی : گھنے جنگلات سے لے کر لائن آف کنٹرول کے ساتھ اونچے پہاڑی علاقوں تک، سیکورٹی فورسز نے منگل کو دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے تقریباً دو درجن مقامات پر بیک وقت بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔ تازہ ترین کارروائی ان دہشت گردوں کو نشانہ بناتی ہے جنہوں نے گزشتہ سال جموں صوبے میں کئی حملے کیے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ تلاشی کارروائیاں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور پاکستان میں مقیم دہشت گرد آقاؤں کی ایما پر جموں صوبے میں دہشت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

یہ آپریشن جموں و کشمیر پولیس اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز سمیت کئی سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں کے طور پر کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک وقت آپریشن شروع کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دہشت گرد سرچ پارٹیوں سے فرار ہونے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ آنے والے مہینوں میں سرچ آپریشن مزید تیز کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سب سے زیادہ 10 تلاشی آپریشن وادی چناب کے کشتواڑ، ڈوڈا اور رامبن اضلاع میں جاری ہیں۔ پیر پنجال کے سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں سات مقامات پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔ ادھم پور ضلع میں تین مقامات، ریاسی میں دو اور جموں میں ایک جگہ پر بھی آپریشن جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ تلاشی کارروائیاں گرمی کے موسم سے قبل علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کی مشق کا حصہ ہیں۔

جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات نے 23 جنوری کو کٹھوعہ، ڈوڈا اور ادھم پور اضلاع کے سہ رخی جنکشن پر واقع بسنت گڑھ کے اسٹریٹجک علاقوں کا دورہ کیا اور ایک جامع آپریشنل جائزہ لیا۔ مہم ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد شروع ہوئی۔ فارورڈ آپریٹنگ بیس (ایف او بی) پر تعینات اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ڈی جی پی نے امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے انتھک عزم کو سراہتے ہوئے ان کے مشکل کام کے حالات کو تسلیم کرتے ہوئے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ خطرات سے نمٹنا جاری رکھیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ مقامی آبادی کی حفاظت اور بہبود اولین ترجیح رہے۔

عسکریت پسندوں نے 2021 سے راجوری اور پونچھ میں مہلک حملے کرنے کے بعد گزشتہ سال جموں خطے کے چھ دیگر اضلاع میں اپنی سرگرمیاں پھیلا دیں، جن میں 18 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 44 افراد ہلاک ہوئے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز اور پولیس نے 13 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا۔ اگرچہ 2024 میں پیر پنجال کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں دہشت گردی کی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں، لیکن اپریل سے مئی کے بعد ریاسی، ڈوڈا، کشتواڑ، کٹھوعہ، ادھم پور اور جموں میں ہونے والے واقعات کا سلسلہ سیکورٹی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ایجنسیاں تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔

Continue Reading

خصوصی

وقف ترمیمی بل میں پارلیمانی کمیٹی نے کی سفارش، مرکزی اور ریاستی وقف بورڈ میں دو سے زیادہ غیر مسلم ممبر ہوسکتے، داؤدی بوہرہ اور آغا خانی ٹرسٹ قانون سے باہر

Published

on

Waqf-Meeting

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ اس میں مرکزی اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی تعداد بڑھانے کی تجویز ہے۔ سفارش میں کہا گیا ہے کہ بورڈز میں کم از کم دو غیر مسلم ممبران ہونے چاہئیں اور یہ تعداد 4 تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ داؤدی بوہرہ اور آغا خانی برادریوں کے ٹرسٹ کو بھی اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے اس رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے اور اسے حکومت کا من مانی رویہ قرار دیا ہے۔ ڈی ایم کے ایم پی اے۔ راجہ نے جے پی سی اور اس کے چیئرمین پر حکومت کے کہنے پر کام کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی وقف ایکٹ میں ترمیم کے لیے لائے گئے بل پر غور کر رہی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں چند اہم تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب وقف بورڈ میں کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چار غیر مسلم ارکان ہوسکتے ہیں۔ اگر سابق ممبران غیر مسلم ہیں تو وہ اس میں شمار نہیں ہوں گے۔ پہلے بل میں صرف دو غیر مسلم ارکان کی گنجائش تھی۔ اس کے علاوہ دو سابقہ ​​ممبران بھی ہوں گے۔ ان میں ایک مرکزی وزیر وقف اور دوسرا وزارت کا ایڈیشنل/جوائنٹ سکریٹری شامل ہے۔

اس کمیٹی نے شیعہ برادری کے دو فرقوں، داؤدی بوہرہ اور آغا خانی برادریوں کے مطالبات بھی تسلیم کر لیے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے ٹرسٹ کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے۔ ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ رپورٹ میں ایک شق شامل کی جا سکتی ہے کہ کسی بھی عدالتی فیصلے کے باوجود، کسی مسلمان کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے قائم کردہ ٹرسٹ پر لاگو نہیں ہوگا، چاہے وہ پہلے بنایا گیا ہو۔ یا اس ایکٹ کے شروع ہونے کے بعد۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق، غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے وقف کا انتظام مزید وسیع البنیاد اور جامع ہو جائے گا۔ کمیٹی نے وقف املاک کے کرایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کچھ اقدامات بھی تجویز کیے ہیں۔

کمیٹی کا اجلاس بدھ کو ہونے والا ہے جس میں رپورٹ پر بحث اور اسے قبول کیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے تقریباً تمام اراکین پارلیمنٹ نے اس رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ الگ سے اپنی رائے درج کریں گے۔ ڈی ایم کے ایم پی اے۔ راجہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ کمیٹی کے ارکان کو بتایا گیا کہ 655 صفحات پر مشتمل مسودہ رپورٹ پر بدھ کی صبح 10 بجے بحث کی جائے گی۔ رپورٹ ابھی بھیجی گئی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسے پڑھیں، تبصرے دیں اور اختلافی نوٹ جمع کرائیں۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر حکومت کو جو مرضی کرنا پڑے تو آزاد پارلیمانی کمیٹی کا کیا فائدہ؟

جے پی سی اور اس کے چیئرمین کو حکومت نے اپنے غلط مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔” انہوں نے این ڈی اے کے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا، ‘نام نہاد سیکولر پارٹیاں ٹی ڈی پی، جے ڈی یو اور ایل جے پی اس ناانصافی میں حصہ لے رہی ہیں اور خاموشی اختیار کر رہی ہیں۔’ راجہ کہتے ہیں، ‘حکومت اپنی اکثریت کی بنیاد پر من مانی طریقے سے حکومت چلا رہی ہے۔’ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی کا اجلاس محض ایک ‘دھوکہ’ تھا اور رپورٹ پہلے ہی تیار تھی۔ یہ معاملہ وقف بورڈ کے کام کاج اور ساخت سے متعلق ہے۔ وقف بورڈ مسلم کمیونٹی کی مذہبی جائیدادوں کا انتظام کرتا ہے۔ اس بل کے ذریعے حکومت وقف بورڈ کے کام کاج میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ معاملہ مستقبل میں بھی موضوع بحث رہے گا۔

Continue Reading

خصوصی

پونے میں گیلین بیری سنڈروم کے 101 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں 16 مریض وینٹی لیٹر پر اور دو کی موت ہوئی، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے مفت علاج کا کیا اعلان۔

Published

on

GBS

پونے : گیلین بیری سنڈروم بیماری نے مہاراشٹر کے پونے میں تباہی مچا دی ہے۔ اب ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ اسہال میں مبتلا تھے جب سے وہ کچھ دن پہلے سولاپور ضلع میں اپنے گاؤں گئے تھے۔ جب کمزوری بڑھی تو میں سولاپور کے ایک پرائیویٹ اسپتال پہنچا اور جی بی ایس کا پتہ چلا۔ ہفتہ کو جب ان کی حالت مستحکم ہوئی تو سی اے کو آئی سی یو سے باہر لے جایا گیا لیکن کچھ دیر بعد سانس لینے میں دشواری کے باعث ان کی موت ہوگئی۔ اس سے قبل ایک خاتون مریضہ کی موت بھی ہوئی تھی۔ 64 سالہ خاتون کا پمپری پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے یشونت راؤ چوان میموریل ہسپتال میں علاج چل رہا تھا۔ پونے میں اب تک اس بیماری کے 101 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 16 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ مرکز نے تحقیقات کے لیے ایک ٹیم پونے بھیجی ہے۔ ڈپٹی سی ایم اجیت پوار نے اتوار کو کہا کہ پونے میونسپل کارپوریشن کے کملا نہرو اسپتال میں جی بی ایس کے مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔

جی بی ایس جیسی نایاب لیکن قابل علاج حالت میں مبتلا سولہ مریض اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں۔ علامات والے تقریباً 19 افراد کی عمر نو سال سے کم ہے، جب کہ 50-80 کی عمر کے گروپ میں 23 کیسز ہیں۔ 9 جنوری کو ہسپتال میں داخل ایک مریض پر شبہ ہے کہ پونے کلسٹر کے اندر جی بی ایس کا پہلا کیس ہے۔ ٹیسٹوں میں ہسپتال میں داخل مریضوں سے لیے گئے کچھ حیاتیاتی نمونوں میں کیمپائلوبیکٹر جیجونی بیکٹیریا کا پتہ چلا ہے۔ سی.جیجونی دنیا بھر میں تقریباً ایک تہائی جی بی ایس کیسز کا سبب بنتا ہے اور سب سے زیادہ شدید انفیکشن کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔ اہلکار پونے میں پانی کے نمونے لے رہے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ٹیسٹ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پونے کے اہم آبی ذخائر، کھڈکواسلا ڈیم کے قریب ایک کنویں میں ای کولی نامی بیکٹیریا کی مقدار زیادہ تھی۔ لیکن حکام نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کنواں استعمال کیا جا رہا ہے۔ رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کھانے سے پہلے پانی ابالیں اور اپنا کھانا گرم کریں۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اتوار تک 25,578 گھرانوں کا سروے کیا گیا تھا، جس کا مقصد کمیونٹی میں مزید مریضوں کو تلاش کرنا اور جی بی ایس کیسز میں اضافے کی وجوہات کا پتہ لگانا ہے، جو کہ مہینے میں دو سے زیادہ نہیں ہوتے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جی بی ایس سے متاثرہ 80 فیصد مریض ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے چھ ماہ کے اندر بغیر مدد کے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو اپنے اعضاء کا مکمل استعمال دوبارہ حاصل کرنے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ جی بی ایس کا علاج بھی بہت مہنگا ہے۔ مریضوں کو عام طور پر امیونوگلوبلین (ایوگ) انجیکشن کے کورس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض کو اس کی بیماری کے مطابق انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔ ایک 68 سالہ مریض کو 16 جنوری کو داخل کیا گیا تھا۔ اسے 13 انجیکشنز کے ایوگ کورس کی ضرورت تھی، ہر شاٹ کی قیمت تقریباً 20,000 روپے تھی۔

شہر کے تین بڑے ہسپتالوں نے اس ہفتے کے شروع میں مقامی صحت کے حکام کو ایک الرٹ بھیجا جب انہوں نے صورتحال کو تشویشناک پایا۔ ہسپتال میں نئے داخل ہونے والے مریضوں میں جی بی ایس کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ 10 جنوری کو 26 مریضوں کو داخل کیا گیا۔ جمعہ تک یہ تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی۔ پونے میں بڑھتے ہوئے معاملات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے اعلان کیا، ‘علاج مہنگا ہے۔ ضلع انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے افسران سے بات چیت کے بعد ہم نے مفت علاج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پمپری چنچواڑ کے لوگوں کا علاج وائی سی ایم اسپتال میں کیا جائے گا، جبکہ پونے میونسپل کارپوریشن کے علاقوں کے مریضوں کا علاج کملا نہرو اسپتال میں کیا جائے گا۔ دیہی علاقوں کے شہریوں کے لیے پونے کے ساسون اسپتال میں مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔’

جب جی بی ایس ہوتا ہے، تو جسم کا مدافعتی نظام اپنے اعصاب پر حملہ کرتا ہے۔ یہ اچانک بے حسی، پٹھوں کی کمزوری یا فالج کا سبب بنتا ہے۔ پونے شہری ادارہ کے ایک ذریعہ کے مطابق، اس کی علامات میں اسہال، پیٹ میں درد، بخار، متلی اور الٹی شامل ہیں۔ یہ آلودہ پانی یا کھانے سے ہو سکتا ہے۔ محکمہ صحت نے لوگوں کو ابلا ہوا پانی پینے اور کھلا یا باسی کھانا کھانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک سینئر میڈیکل آفیسر نے کہا کہ حالیہ ویکسینیشن، سرجری اور نیوروپتی اس سنڈروم کو متحرک کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com