Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

جہیز و نشہ کے خلاف جمعیۃ علماء میدان میں، رانی گنج اجلاس میں شرکاء کا نشہ نہ کرنے اور جہیز نہ لینے کا عہد

Published

on

Jamiat-Ulema

ملک اور خاص طور پر بہار میں نشہ اور جہیز کی لعنت کے خلاف جہد مسلسل کا اعلان کرتے ہوئے، جمعیۃ علمائے ہند رانی گنج ارریہ نے عہد کیا ہے، اس وقت تک یہ مہم جاری رکھیں گے۔ جب تک کہ سماج سے جہیز اور نشہ کی لعنت ختم نہیں ہو جاتی۔ یہ بات جمعۃ علمائے بہار کے نائب صدر اور ارریہ اصلاح معاشرہ کے سربراہ مفتی اطہرالقاسمی نے جمعیۃ علماء رانی گنج کے زیر اہتمام جہیز اور نشہ مخالف اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اپنا دامن پھیلاتے ہوئے کہا کہ سماج کے نوجوانوں کے ساتھ ان کے بوڑھے والدین اور رشتے دار برسوں سے جہیز میں بھیک مانگتے پھر رہے ہیں، ہم آج آپ سب سے جہیز کے کاروبار سے ہمیشہ کے لئے توبہ کرنے کی بھیک مانگنے آئے ہیں۔ آپ ہم سے جو قیمت لینا چاہیں لے لیں، مگر خدارا ہمیں یہ بھیک دے دیں۔ انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ چلئے ہم مسجد کی سیڑھیوں پر لیٹ جاتے ہیں، اور آپ میرے سینے پر جوتے پہن کر پار کر جائیں، میں اف نہیں بولوں گا، لیکن آج آپ اللہ کے پاک گھر میں اللہ کا پاک نام لیکر صرف ایک وعدہ کرلیجیے کہ آج سے مرتے دم تک جہیز کا کاروبار نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سماج سے یہ فتنہ ختم نہیں ہو جاتا تحریک جاری رہے گی۔

پھر عہد وپیمان کے بعد مفتی اطہر نے طریقہ کار بتایا کہ بلاک جمعیت کی نگرانی میں پنچایت کی جمعیت ایک اصلاح معاشرہ کمیٹی بنا کر جن لڑکوں کے گھر شادی کی تاریخ طے ہو وہاں جا کر انتہائی منت سماجت اور پیار ومحبت کے ساتھ انہیں بغیر لین دین اور شادی کے تمام تر لوازمات کے بجائے مسنون انداز میں نکاح کی پیشکش رکھے گی، اور جب تک نکاح ہو نہ جائے کوششیں جاری رکھے گی۔ اگر نکاح سے ایک دن پہلے تک بھی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی پیشکش کو لڑکے والوں کے ذریعے قبول کر لیا گیا، تو جامع مسجد سے جمعہ کے دن ایسے مسنون نکاح کرنے والے لڑکے اور ان کے والدین و رشتے داروں کو مبارکباد دی جائے گی، ورنہ پوری کمیٹی ان کی شادی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ان کی دعوت اور بارات وغیرہ میں شرکت نہیں کرے گی۔

جمعیۃ علماء بلاک رانی گنج کے سیکریٹری مفتی دلشاد احمد نعمانی نے مختلف علاقوں سے آئے تمام حاضرین اور ضلعی جمعیت کے مہمانان کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے سبھوں کا شکریہ ادا کیا۔

جمعیت علماء ارریہ کے نائب صدر مولانا شاہد عادل قاسمی نے کہا کہ جمعیت علماء ہند کوئی عام تنظیم نہیں بلکہ یہ ایک خاص فکر کے ساتھ سو سال پہلے قائم ہوئی تھی، اور آج بھی اس جماعت کے موجودہ اکابرین اسی فکر کے ساتھ میدان عمل میں ملک و ملت کے حق میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جہیز و نشہ مخالف مہم بھی اسی فکر کا نتیجہ ہے، جسے ہم سب کو آپس میں مل جل کر کامیابی سے ہم کنار کرنا ہے۔

جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ مفتی جنید احمد قاسمی نے کہاکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں بحثیت مفتی یہ فتویٰ دیتا ہوں کہ جہیز لینا حرام ہے، اور موجودہ ماحول میں دینابھی گناہ ہے۔ انہوں نے مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی نور اللہ مرقدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فرماتے تھے کہ لوگ میرے پاس تعویذ لینے کے لئے آتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچے پر جن یا آسیب ہے، حالانکہ بات دراصل یہ ہے کہ دل دکھا کر جہیز لینے کی نحوست وجہ سے یہ بچے ناقص اور ادھورے پیدا ہو رہے ہیں۔

اردو کے سینئر صحافی عابد انور (قاسمی) دہلی نے کہاکہ آپ اپنے اندر ایک سوچ پیدا کیجئے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے؟ آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا آپ واقعی مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو جمعیت کو جہیز و نشہ مخالف مہم چلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کاش ہم سچے پکے مسلمان ہوتے تو آج ہماری حالت چوک چوراہے پر پڑے ہوئے اس پتھر کے ٹکڑوں کی مانند نہیں ہوتی، جنہیں جب جو چاہتا ہے ٹھوکریں مار کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

جمعیت علماء ارریہ کے صدر ڈاکٹر عابد حسین نے کہا کہ جس طرح مسجد کے سارے بلب ایک کنکشن کی وجہ سے روشن ہیں اسی طرح ہمارا ایمان جب پختہ ہو جائے گا تو ایمانی رشتہ کی مضبوطی کی وجہ سے دل منور ہوگا، اور سماج سے خود بخود یہ بیماریاں دور ہو جائیں گی۔

نائب صدر جمعیت علماء ارریہ مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا کہ جمعیت علماء ارریہ جو پیغام آپ کے گھر تک لے کر آئی ہے۔ وہ شریعت کا بھی پیغام ہے اور ریاستی حکومت کا بھی فرمان ہے یہ خوشی کی بات ہے۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم شریعت کے پیغام کو بھی قبول کریں گے، اور حکومت کے اس قانون کو بھی مانگیں گے۔

جہیز و نشہ مخالف مہم کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء بلاک ارریہ کے سیکریٹری مفتی محمد خالد قاسمی نے کہا کہ ہم آج یہاں تقریر سننے نہیں آئے ہیں، بلکہ سماج میں جہیز ونشہ کی جو دو مہلک بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں وہ ختم کیسے ہوگی؟ اس کا لائحہ عمل تیار کرنے اور اس پر عمل کرتے ہوئے سماج کو ان دونوں برائیوں سے پاک کرنے کا عزم مصم کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں جمعیت علماء ارریہ کے نائب صدر مولانا فاروق مظہری فاربس گنج، جمعیت علماء رانی گنج کے نائب سیکریٹری مولانا محمد ساجد حسین ندوی، مسجد کے امام و خطیب مولانا محمد شفیع مفتاحی، حافظ حسیب الرحمن مفتاحی، مکھیا مولانا فاروق و مولانا مجاہد الاسلام قاسمی قابل ذکر ہیں، جبکہ دیگر اہم شرکاء میں جمعیت علماء بلاک فاربس گنج سے مولانا غیاث الدین نعمانی، مولانا عبد الجبار ندوی اور ماسٹر محمد عمر حسین بھی موجود تھے۔

اجلاس میں جمعیت علماء بہار کے نائب صدر، شعبہ اصلاح معاشرہ جمعیت علماء ارریہ کے صدر مفتی محمد اطہرالقاسمی کی بنیادی دینی تعلیم پر مشتمل نئی کتاب ’اسلامی آداب‘ اور جامعہ خانقاہ رحمانی مونگیر کے معروف استاذ مفتی جنید احمد قاسمی کی کتاب ’مروجہ سودی معاملات نقل و عقل کی روشنی‘ میں، کا رسم اجراء بھی عمل میں آیا۔
اجلاس کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء بلاک رانی گنج کے مذکورہ بالا ذمہ دارن کے علاوہ نائب سیکریٹری قاری شاہنواز عالم، نائب صدر مولانا ارشاد قاسمی، خازن امانت علی خان، مولانا داؤد ندوی، قاری امتیاز احمد، حافظ محمد حنیف وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بزرگ عالم دین مولانا دلاور صاحب مفتاحی بھی شریک تھے۔

اجلاس کا آغاز مولانا محمد آصف قاسمی ہر پوری کی تلاوت اور شاعر اسلام قاری قمر الزماں نعمانی و حافظ حسنین کی نعت رسول سے ہوا، جبکہ اجلاس کی نظامت کے فرائض جمعیت علماء بلاک رانی گنج کے صدر بزرگ عالم دین مفتی نعیم الدین ندوی نے بحسن وخوبی انجام دیا۔ واضح رہے کہ جمعیۃ علمائے ہند نے نشہ اور جہیز کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔

مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بامبے ہائی کورٹ نے عصمت دری کیس میں ترون تیج پال کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

Published

on

ARREST-7

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو تہلکا کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو 2013 میں ایک جونیئر ساتھی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ان کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت عصمت دری اور دیگر جرائم کا مجرم قرار دیا۔ جسٹس نیلا گوکھلے اور امیت جمسانڈیکر کی بنچ نے سزا کا اعلان کیا اور تیج پال کو جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی۔

اس سے قبل، جسٹس گوکھلے کی قیادت والی بنچ نے ماپوسا سیشن کورٹ کے مئی 2021 کے فیصلے کے خلاف گوا حکومت کی اپیل کی اجازت دی تھی، جس نے تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں، بامبے ہائی کورٹ نے تیج پال کو آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(ایف) اور 376(2)(کے) (ریپ)، 354اے (جنسی حملہ) اور 354بی کے تحت مجرم قرار دیا۔

سزا سنانے کی سماعت کے دوران تیج پال کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دینے کے لیے ان کی سزا پر آٹھ ہفتے کے لیے روک لگانے کی درخواست کی۔ اس نے دلیل دی کہ اس فیصلے نے ان کی بریت کو پلٹ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کے خلاف کوئی اور مجرمانہ کیس نہیں ہے۔ تیج پال نے جسٹس گوکھلے کی بنچ کے سامنے نرمی کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو شکار سمجھتے ہیں اور ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت ہمدردانہ رویہ اپنائے۔

اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ اس کیس میں جنسی تشدد کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس نے کہا، “جب کوئی لڑکی ‘نہیں’ کہتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ‘نہیں’۔” کیس میں ایک جونیئر ساتھی کے الزامات شامل تھے کہ نومبر 2013 میں گوا کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران تیج پال نے لفٹ کے اندر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف عصمت دری سمیت کئی جرائم کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس کے بعد، اسے نومبر 2013 میں گرفتار کر لیا گیا تھا جب ایک مقامی عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے جولائی 2014 میں انہیں باقاعدہ ضمانت دی تھی۔ مئی 2021 میں ایڈیشنل سیشن جج کشما جوشی نے تیج پال کو بری کر دیا۔ جج نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے تفتیش میں مبینہ کوتاہیوں کا بھی حوالہ دیا، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج جیسے کچھ شواہد پیش کرنے میں ناکامی بھی شامل ہے۔ گوا حکومت نے بریت کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ حکومت نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے میں غلطی کی ہے۔

اپیل کی سماعت کے دوران استغاثہ نے دلیل دی کہ سیشن کورٹ نے ملزم کے خلاف شواہد کا جائزہ لینے کے بجائے متاثرہ کے رویے اور واقعے کے بعد کے پس منظر پر زیادہ توجہ دی۔ استغاثہ نے یہ بھی استدلال کیا کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کیا، جس میں مبینہ طور پر تیج پال کی طرف سے بھیجی گئی معافی کی ای میل بھی شامل ہے جب شکایت کنندہ نے اشاعت کے اس وقت کے منیجنگ ایڈیٹر کے ساتھ الزامات اٹھائے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان