Connect with us
Wednesday,15-April-2026

سیاست

میں نے وزیرا عظم کی بے عزتی نہیں کی : ممتا بنرجی

Published

on

mamta

وزیر اعظم کی توہین کرنے اور انہیں 15 منٹ تک انتظار کرانے کے الزام کے درمیان ممتا بنرجی نے کہا کہ جان بوجھ کر مرکزی حکومت اور بی جے پی لیڈران بنگال حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ وزیرا عظم کے احترام میں ہی کائگنڈہ گئی تھیں، مگر بی جے پی کی میٹنگ میں ملاقات کے وقت میں تبدیلی کی گئی ہے۔

ممتا بنرجی نے آج پریس کانفرنس کے ذریعہ کل کے واقعے کی تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے دورے کے اعلان سے قبل میں نے طوفان سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی ترقی اور اس کے مفادات کے لئے اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام میں تبدیلی کر کے میں وزیرا عظم سے ملاقات کرنے کے لئے کالائیگنڈہ گئی تھیں۔ مگر بی جے پی اس پورے معاملے میں بھرم پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، اور وزیر اعظم بھی کنفیوژن کو ہوا دے رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر بنگال، میری اور چیف سیکریٹری کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لئے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم کے دورے کا اعلان بعد میں ہوا ہے۔ جب کہ طوفان آنے کے فوری بعد ہی میں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر وزیر اعظم کا خیال رکھتے ہوئے ہنگل گنج اور ساگر میں اپنے پروگرام کو مختصر کرکے میں نے کائیکونڈ جاکر وزیر اعظم سے ملاقات کی۔

ممتا نے شکایت کی کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے باوجود، انہیں جمعہ کے دنکالا کُنڈا کے لئے روانہ ہونے سے پہلے 20 منٹ تک سمندر میں انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہیلی کاپٹر کو کلایکنڈہ میں اترنے سے پہلے کچھ وقت انتظار کریں اس کے نتیجے میں، ان کا ہیلی کاپٹر آسمان میں چکر لگا تارہا تاہم وزیر اعلی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی سلامتی کی فکر ہے اس لئے کو بھی برداشت کرئیا۔ کالائکونڈا کے ہوائی اڈے پر ایک کمرے میں تقریبا 15 منٹ انتظار کرنا پڑا۔ پھر وزیر اعظم وہاں آئے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے بار بار درخواست کی۔ وزیر اعلی نے الزام لگایا کہ ایس پی جی نے انہیں ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو کہا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایس پی جی نے انہیں مطلع کیا تھا کہ وزیر اعظم کی میٹنگ شروع ہو گئی ہے، اور اس وقت ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ سب سے پہلے وزیرا علیٰ اور وزیرا عظم کے درمیان میٹنگ ہوتی ہے۔ مگر مجھے معلوم ہوا کہ اس میٹنگ میں بی جے پی کے تمام لیڈران ہیں۔ میں تنہا تھی۔ اس لئے میں وہاں سے چلی گئی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ انہیں میٹنگ میں مرکزی وزرا کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ممتا نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بی جے پی کے ممبران اسمبلی کیوں موجود تھے۔

ممتا بنرجی نے کہاکہ دیگھا کا پروگرام تھا۔ وہ تاخیر کا شکار ہو رہا تھا۔ ایک کمرے میں وزیر اعظم مودی اور چیف سیکریٹری کے درمیان میٹنگ ہو رہی تھی۔ وزیرا عظم کی اجازت کے بعد وہ اس کمرے میں داخل ہوئیں، اور ان سے کہا کہ مجھے دیگھا جانا ہے اور موسم ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم سمندری راستے سے کلائیگنڈہ پہنچے ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو نقصانات کی تفصیل پیش کردوں۔ وزیرا عظم نے اس رپورٹ کو قبول کرلیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اس بعد میں نے وزیر اعظم کو بول کر وہاں سے آ گئی۔ میں ان سے تین تین مرتبہ بتایا کہ میں جا رہی ہوں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ وزیرا عظم کااحترام کرتی ہیں۔ مگر ان کی جانب سے بے رحمانہ انداز میں پروٹوکول کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ آج بی جے پی اپوزیشن کی بات کر رہی ہے۔گزشتہ دو مرتبہ سے پارلیمنٹ میں کسی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ مودی جی گجرات گئے تھے، کیا وہاں ان کے ساتھ اپوزیشن لیڈر تھا۔ آخر گجرات کے اپوزیشن لیڈر کو طوفان سے متاثرہ علاقے پر بات کرنے کے لئے کیوں نہیں بلایا گیا ہے۔ اڑیسہ میں اپوزیشن لیڈر کو کیوں نہیں بلایا گیا۔ بنگال میں آکر کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیرا عظم کے دورے کے بعد سے ہی بی جے پی لیڈران ممتا بنرجی پر حملہ آور ہیں۔ ایک فوٹو شیئر کی جا رہی ہے کہ جس میں دیکھا گیا ہے، وزیر اعظم کے ساتھ دو کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جب میں روم میں داخل ہوئی، تو صرف ایک کرسی تھی، جس پر وزیر اعظم بیٹھے ہوئے تھے۔ چیف سیکریٹری کھڑے تھے۔ کوئی بھی خالی کرسی نہیں تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں درختوں کی سائنسی کٹائی اور درختوں کی گنتی پر تربیتی کیمپ

Published

on

Garden-and-Zoo

ممبئی : بائیکلہ کے ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کے پینگوئن روم آڈیٹوریم میں آج (15 اپریل 2026) ایک روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مانسون سے قبل خطرناک درختوں کی سائنسی طریقے سے کٹائی کیسے کی جائے اور درختوں کی گنتی کے دوران جدید مشینری کا استعمال کیسے کیا جائے۔ باغات کے سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی نے بتایا کہ درختوں کی گنتی اگلے ہفتے سے شروع ہوگی۔

اس کیمپ میں باغات کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب راؤ گاویت، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ باغات اویناش یادو، آربرسٹ وویک رانے، یوگیش کوٹے، پارکس ڈپارٹمنٹ کے افسران، ٹرینی ملازمین، ٹھیکیداروں کے ذریعہ مقرر کردہ باغ کے ماہرین موجود تھے۔ ہر سال مانسون شروع ہونے سے پہلے ممبئی میں خطرناک درختوں کی شاخوں کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے۔ ماحول کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ان کاموں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ مہم مزید وسیع پیمانے پر چلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کی مدد سے ممبئی میں درختوں کی گنتی کی جائے گی۔ جتیندر پردیشی نے کیمپ میں موجود ٹرینی ملازمین کو درختوں کی کٹائی، درختوں کی مردم شماری کے بارے میں جانکاری دی۔ اسسٹنٹ پارکس سپرنٹنڈنٹ اویناش یادو نے درختوں کے سائز، مٹی کی نمی، ہوا کی رفتار اور تعمیر کے دوران درختوں کی حفاظت کے موضوعات پر رہنمائی کی۔

آربورسٹ وویک رانے نے ان کی رہنمائی کی کہ درختوں کی کٹائی کے ذریعے درختوں کا انتظام کیسے کیا جائے اور سائنسی انداز میں درختوں کی کٹائی کرتے وقت حالات کا اندازہ لگایا جائے۔ درختوں کی وجہ سے سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کو کیسے روکا جائے، بدلتی ہوئی آب و ہوا کے دوران درختوں کی حفاظت کیسے کی جائے اور درختوں کی جسامت اور صحت کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں، کے بارے میں جدید تصورات پیش کیے گئے۔ جناب یوگیش کوٹے نے ایک مظاہرے کے ساتھ رہنمائی کی کہ درختوں کی مردم شماری کیسے کی جائے، اس کے لیے کس طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور اس مردم شماری کے لیے کس طرح ڈرون کا استعمال کیا جائے گا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی مضافاتی علاقوں میں نالیوں کی صفائی کا کام جنگی پیمانے پر جاری، ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کا دورہ

Published

on

Clean

ممبئی : ممبئی مانسون سے قبل کاموں کے جائزہ کے ایک حصے کے طور پر، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں بڑے اور چھوٹے نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج ( مورخہ 15 اپریل 2026) ایچ ایسٹ ڈویژن، ایچ ویسٹ ڈویژن، کے شمالی اور کے جنوبی ڈویژنوں میں ڈرین کی صفائی کے کاموں کا معائنہ کیا۔

شرما نے بذات خود بڑے نالوں جیسے موگرا نالہ، وکولا نالہ، کرشنا نگر نالہ، اندھیری بھواری مارگ، ایس این ڈی ٹی نالہ کے ساتھ ساتھ باندرہ میں بازار نالہ، گروارے نالہ، اپیکس نالہ کا دورہ کیا اور نالوں سے گاد ہٹانے کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ضروری ہدایات بھی دیں۔ نالے میں تیرتے کچرے اور فضلا کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ڈرین کی صفائی کا کام کسی بھی صورت میں 31 مئی 2026 تک 100 فیصد مکمل ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ شرما نے میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ تال میل پیدا کریں اور انہیں وقتاً فوقتاً ڈرین کی صفائی کے بارے میں جانکاری دیں۔ مقامی کارپوریٹر اور مارکیٹ اینڈ گارڈن کمیٹی کی چیئرپرسن ہیتل گالا، کارپوریٹر چنتامنی نواتی، کارپوریٹر راجہ رہبر خان، کارپوریٹر ۔ رتیش رائے، کارپوریٹر روہنی کامبلے، کارپوریٹر ۔ انجلی ساونت، اسسٹنٹ کمشنر دنیش پلاواد، اسسٹنٹ کمشنرمہیش پاٹل، اسسٹنٹ کمشنر نتن شکلا، اسسٹنٹ کمشنر مردولا آندے کے ساتھ متعلقہ افسران موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی میں کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے چوری، ۲۰ ہزار کی نقدی نکالی گئی، سیکورٹی پر سوالیہ نشان..؟

Published

on

ممبئی: میونسپل کارپوریشن کی سٹینڈنگ کمیٹی میں چوری کی واردات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے پارٹی کی کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے 20,000 روپے کی نقدی چوری کر لی گئی۔ واقعہ کے سامنے آنے کے بعد کہرام مچ گیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس آج ہوا۔ اس میں بھاٹیہ نے بھی شرکت کی تھی اور اپنا پرس اسٹینڈنگ کمیٹی ہال میں رکھا ہوا تھاوہ اپنا پرس وہیں چھوڑ کر کھانا کھانے چلی گئی تھی۔ لیکن لذت کام دہن کے بعد جب اس نے پرس کی طرف دیکھا تو پرس کی چین کھلی ہوئی تھی۔ جب اس نے پرس چیک کیا تو پایا کہ اس میں سے 20،000 روپے چوری ہو چکے ہیں۔ اس نے اپنے ساتھی میونسپل کارپوریٹروں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ لیکن چونکہ یہ واقعہ جس جگہ پیش آیا وہاں کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا، اس لیے واقعے کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ پولیس کو اس مبینہ چوری کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں محکمہ ایم ایس اور سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میئر، اپوزیشن جماعت اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لکشمی بھاٹیہ کو شبہ ہوا کہ پرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، اس نے یہ معاملہ دوسرے ساتھی کارپوریٹروں کی توجہ میں بھی لایا۔ اس وقت لکشمی بھاٹیہ نے دیکھا کہ پرس سے رقم چوری ہو گئی ہے۔ کمیٹی ہال میں چوری کی یہ پہلی واردات ہے۔ پولیس اب اس معاملے میں کیا کارروائی کرے گی؟ دیکھنا ضروری ہے۔ لکشمی بھاٹیہ نے اس واقعہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا خزانہ سمجھا جاتا ہے، اگر اس جگہ ایسا ہو رہا ہے تو ہم سیکورٹی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ لکشمی بھاٹیہ نے غصے میں سوال اٹھایا۔ دریں اثنا، ایم این ایس گروپ کے سربراہ یشونت کلیدار نے بھی اس واقعہ پر میونسپلٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’اگر ہال میں ہی سیکورٹی کی صورتحال ایسی ہے تو عام ممبئی والوں کی سیکورٹی کا کیا ہوگا؟‘‘ اس نے کہا۔ اس واقعہ کی وجہ سے میونسپل عمارت میں حفاظتی انتظامات کا معاملہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا ہے اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ “آج ہماری اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ تھی، میٹنگ کے بعد ہم سب لنچ کے لیے گئے، اس وقت میرا پرس وہاں تھا، اندر کچھ اسٹاف موجود تھا، کسی نے میرا پرس کھول کر میرے پرس میں سے 20 ہزار روپے نکال لیے، اس بارے میں ہم نے ایم ایس ڈیپارٹمنٹ کی خواتین سے ملاقات کی، ہم نے انہیں سارا واقعہ بتایا، اس لیے ہم نے ان سے کہا کہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں، لیکن وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ معاملہ وہاں آیا، ہم نے ان کے ساتھ شکایت درج کرائی ہے،” لکشمی بھاٹیہ نے بتایا۔میں نے میئر اور باقی سب سے ملاقات کی، میں نے میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کو اس معاملے کے بارے میں بتایا، مجھے کسی پر شبہ نہیں ہے لیکن اگر میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹر محفوظ نہیں ہیں تو باقی کیا ہوگا؟ تمام کارپوریٹر ہمیشہ پانچ سے دس منٹ میں لنچ پر چلے جاتے ہیں، خواتین کارپوریٹروں کے پرس کھولنا کتنا درست ہے؟ صرف نقدی چوری کی گئی بقیہ چارجر اور دیگر سامان باہر رکھا گیا تھا”۔ کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ نے کہا، “میری ایک ساتھی کارپوریٹر ہے جو اسٹینڈنگ کمیٹی میں میرے ساتھ ہے، اس نے دیکھا ہے کہ وہ چیزیں کیسے پڑی تھیں۔ اس نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب میں چلی گئی تو پرس کس حالت میں تھا اور جب میں پہنچی تو وہ کیسے تھے۔ اگر کارپوریٹروں کے پرس میونسپل کارپوریشن میں محفوظ نہیں تو عام عوام کا کیا ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان