مہاراشٹر
بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور بریج کی گزشتہ سے اب تک کی بدعنوانی کی تاریخ
بھیونڈی: (نامہ نگار )
بھیونڈی کے راجیو گاندھی فلائی اوور کے حوالے سے بدعنوانی کی گزشتہ سے لیکر آج تک کی ایک لمبی داستان ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس پل کی مرمت کو لے کر شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کیونکہ ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے ایک سال قبل مرمت کے لئے ملے کروڑوں روپے فنڈ کے باوجود فلائی اوور کی تزئین و مرمت کا کام ابھی تک شروع نہیں ہو پایا ہےجو باعث تشویش ہے ۔
واضح ہو کہ بھیونڈی راجیو گاندھی فلائی اوور کی تعمیر کے لئے میونسپل کارپوریشن کے پبلک ورکس محکمہ کے ذریعے گزشتہ سن 2 اکتوبر 2002 کو لوک ستہ ، ٹائمز آف انڈیا ، اور انڈین ایکسپریس میں اشتہارات کے ذریعے 25 نومبر 2002 کو ٹینڈر طلب کیا گیا تھا۔ جس میں میسرز وطن سنگھ اینڈ کمپنی ، میسرز جے کمار اینڈ کمپنی ، میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ ، میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ ، میسرز یوپی اسٹیٹ برج کارپوریشن ، میسرز ناگ ارجن کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ اور میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی سمیت کل سات ٹھیکیدار کمپنیوں نے ٹینڈر جمع کرایا تھا۔ لیکن اس میں میسرز کریسنٹ کنسٹرکشن کمپنی کے ٹینڈر میں غلطی ہونے کی وجہ سے اس کا ٹینڈر قبول نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد اس کمپنی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس کی وجہ سے 25 نومبر 2002 کو کھلنے والے ٹینڈر کو 3 جنوری 2003 کو کھولنا پڑا۔
اس ٹینڈر میں میونسپل کارپوریشن کے ذریعے مقررہ ایسٹیمیٹ سے پہلا میسرز جے کمار اینڈ کمپنی نے (0.99) فیصد ، دوسرے میسرز جے ایم سی پروجیکٹ لمیٹڈ (1) فیصد اور تیسرا میسرز والیچا انجینئرنگ لمیٹڈ (1.11) فیصد زیادہ تھا۔ جس میں میسرز جے کمار کی 0.99 فیصدی سب سے کم شرح ہونے کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے گزشتہ مقررہ بجٹ 14 کروڑ 79 لاکھ 90 ہزار 25 روپے سے بڑھا کر 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے میں ٹھیکہ دینے کی تجویز 29 جنوری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں لایا گیا تھا۔ اس وقت اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری تھے۔ لیکن اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس پر دوبارہ غور و فکر کرنےکے لئے میونسپل انتظامیہ کو واپس بھجوا دیا۔ پھر یہ تجویز 11 فروری 2003 کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس نمبر 23 میں ایک بار پھر لائی گئی۔ اس کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسے منظور کرکے اس تجویز کو جنرل بورڈ کے اجلاس میں لانے کے لئے اس وقت کے میئر سریش ٹاورے کے پاس بھیج دیا گیا تھا ۔ وہاں بھی اس میں ترمیم کے لئے بہت ساری تجاویز آئیں۔ لیکن انہیں قبول نہ کرتے ہوئے تجویز کو جوں کے توں منظور کردیا گیا۔ تب تک آر ڈی شندے کی جگہ بی کے نائیک میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے عہدے پر آچکے تھے۔ واضح ہو کہ اس وقت کے کئی ممبر آج بھی میونسپل کارپوریشن میں موجود ہیں۔
اس وقت اس فلائی اوور کی تعمیر کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں اس وقت کے انجینئر مرحوم شان علی کے ذریعے زبردست دھوکہ دہی کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس فلائی اوور کی تکنیکی گارنٹی کی مدت 10 سال کے ساتھ ہی اس کی لمبائی باغ فردوس مسجد کے آگے الائٹ پٹرول پمپ تک تھی اور اس کے منٹ کے تمام صفحات پر اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کے دستخط بھی تھے۔ لیکن اس پرانے معاہدے کو پھاڑ کر شان علی نے اتنی بڑی رقم والے پروجیکٹ کو محض سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر نیا بوگس معاہدہ تیار کرکے اس میں فلائی اوور کی لمبائی کو تقریباً 100 میٹر سے بھی زائد کم کرکے اس کو الائٹ پٹرول پمپ کے بجائے باغ فردوس مسجد کے پہلے ہی اتارنے کے ساتھ ساتھ گارنٹی کی مدت بھی 10 سال سے کم کرکے 5 سال کرنے کے علاوہ معاہدے کی تمام شرائط و ضوابط میں نرمی کردی۔ تاکہ اس میں جم کر بدعنوانی کی جاسکے۔
ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق اس فلائی اوور کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہوا ہے۔ کیونکہ کسی بھی طرح کی مستند اور باقاعدہ منظوری کے بغیر چور دروازے سے اس کا اصل بجٹ 14 کروڑ 94 لاکھ 55 ہزار 126 روپے سے بڑھا کر 21 کروڑ 97 لاکھ 62 ہزار 68 روپے کردیا گیا۔ اس طرح اس فلائی اوور کی تعمیر میں چوطرفہ بدعنوانی کرتے ہوئے جہاں ایک طرف سات کروڑ تین لاکھ چھ ہزار 942 روپے کا اضافی بوجھ میونسپل کارپوریشن پر ڈال دیا گیا۔ وہیں دوسری طرف فلائی اوور کی لمبائی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاہدے میں مذکور رامیشور مندر سے لے کر باغ فردوس مسجد تک فلائی اوور کے نیچے دونوں جانب کی سڑک کی تعمیر بھی ٹھیکیدار کمپنی کے ذریعے نہیں کرائی گئی۔ آخر میں میونسپل کارپوریشن کو اسے اپنے اخراجات پر تعمیر کرنا پڑا۔
اس ضمن میں اس وقت کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین انصاری کا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے تخمینے سے زیادہ بجٹ میں اضافے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی میں آنا چاہئے تھی لیکن وہ نہیں آئی۔ نہ ہی اس کے لئے اسٹینڈنگ کمیٹی یا جنرل بورڈ کی کسی بھی طرح کی کوئی منظوری ہی لی گئی۔ لہذا یہ ایک بہت بڑا اقتصادی گھوٹالہ ہے۔ اس کے خلاف معاملہ درج ہونے کے ساتھ ساتھ کسی آزاد ایجنسی کے ذریعہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
اس طرح اس وقت کے انجینئر شان علی کے ذریعے ایجاد کی گئی اس بدعنوانی کی بہتی ہوئی گنگا میں سبھی لوگوں نے ہاتھ دھویا ہے جس سے ا نکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ شہر کے اول شہری میئر سریش ٹاورے کے دفتر سے شروع ہوا فلائی اوور کی تعمیر کا کام دوسرے میئر ولاس پاٹل کے دور تک جاری رہا۔ اس ٹینڈر کے وقت آر ڈی شندے میونسپل کمشنر تھے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر بی کے نائیک کے دور میں اس کی پہلی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد اگلے میونسپل کمشنر کالے سے لے کر شیومورتی نائیک تک سبھی نے مل کر اقتصادی فائدہ اٹھایا ۔ اس وقت پروین جین نامی ایک چیف اکاؤنٹنٹ ہوا کرتے تھے اس کے کاروبار اور کردار کے بارے میں اسی بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے جین کو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
یہاں اس بات کا واضح کرنا ضروری ہے کہ جب 2013 میں ہی مذکورہ فلائی اوور میں خرابی پیدا ہونے لگی تو بنا جنرل بورڈ ، اسٹینڈنگ کمیٹی ، یا میونسپل کمشنر کو اعتماد میں لئے اس وقت کے سٹی انجینئر شان علی نے ایک سازش کے تحت 17 اگست 2013 کو فلائی اوور تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار میسرز جئے کمار اینڈ کمپنی کو مکتوب لکھ کر راجیو گاندھی فلائی اوور کے ہلنے اور اندر سے کچھ آواز آنے کی اطلاع دی تھی۔ جس کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار کمپنی نے ایم ایس فسکے اینڈ ایسوسی ایٹس کے انجینئروں کی ایک ٹیم کے ذریعے اس کی جانچ کے لئے کچھ دنوں کے لئے فلائی اوور کے استعمال پر پابندی عائد کرکے اس فلائی اوور کے جائزے کی نوٹنکی کروائی تھی۔
جانچ کے بعد کنسلٹنگ انجینئر کے ذریعے 28 اگست 2013 کو لیٹر نمبر ایم ایس پی / کلیان ناکہ فلائی / 5623 کے ذریعے جانچ رپورٹ دلوا کر ٹھیکیدار کمپنی کو کلین چٹ دیتے ہوئے اسے استعمال کے لئے محفوظ بتاتے ہوئے فلائی اوور پر پانی جمع نہ ہونے کی صلاح دی گئی تھی کہ فلائی اوور کی حفاظت کے لئے بارش سے قبل ہر سال پانی کی نکاسی کی پائپ لائن کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ اس میں بھی 10 سے 12 لاکھ روپے کی پائپ کی مرمت کا کام میونسپل کارپوریشن کے خزانے سے ہی کرانا پڑا تھا۔ صرف یہی نہیں اس دوران شان علی کے ذریعے جو شدید غلطی کی گئی اور جو فلائی اوور کے تباہ ہونے کا سبب بنی وہ یہ تھی کہ اسکریپر مشین لگا کر فلائی اوور کو کھرچ دیا گیا تھا۔ اسی وقت کھرچنے کے دوران ہی فلائی اوور کی آہنی سلیا باہر نکل آئی تھی۔ اسی وقت سے فلائی اوور کے ناقص ہونے کی شروعات ہوگئی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی میونسپل کمشنر یا ڈپٹی میونسپل کمشنر (ہیڈکوارٹر) کے بجائے شان علی نے ٹھیکیدار کمپنی کو کیوں خط لکھا؟ جب یہ فلائی اوور جانچ میں استعمال کے لئے موزوں پایا گیا تو پھر اس کی اسکریپنگ کیوں کی گئی؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جانچ محض ایک فریب اور ٹھیکیدار کمپنی کو بچانے کی سازش تھی۔ تاکہ مستقبل میں گڑبڑی کا سارا ٹھیکرا پانی جمع ہونے کے نام پر پھوڑا جاسکے۔ واضح ہو کہ اس پل کی مرمت پر میونسپل کارپوریشن اب تک 60 لاکھ روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے لیکن نتیجہ صفر ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گرمی سے بچنے کے لیے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر اور پینے کے پانی کا انتظام کیا جائے، میونسپل کمشنر کی ہدایت

ممبئی : ملازمین کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے پیدا ہونے والے دیگر صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایات دی ہیں کہ فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر (او آر ایس) اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔تاہم فیلڈ میں کام کرنے والے مختلف محکموں کے ملازمین گرمی سے خود کو بچانے کے لیے ضروری احتیاط کریں۔ ایسے میں بھیڈے نے بھی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی اپیل کی ہے۔
ممبئی میں بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ نیز شہریوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جارہی ہے۔ اس تناظر میں اشونی بھیڈے نے انتظامیہ کو فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین مختلف نامساعد حالات میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ممبئی میں صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 40 ہزار صفائی کارکن دن رات کام کر رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں فیلڈ پر کام کرنے والے سینی ٹیشن ورکرز کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تمام پوسٹوں پر فوری طور پر او آر ایس پاؤڈر اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔ نیز بھیڈے نے ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ نگرانی رکھی جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی موسم گرما میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ، شہریوں کو گرمی میں کوڑا کرکٹ اور دیگر فضلات عوامی مقامات پر نہ جلانے کی اپیل

ممبئی : موسم گرما کے دنوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے شارٹ سرکٹ، اوور لوڈنگ اور گھروں، دفاتر اور تجارتی اداروں میں بجلی کے نظام پر دباؤ جیسی دیگر وجوہات کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ لہذا ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اہلیان ممبئی سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر عمل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اشونی بھیڈے، ایڈیشنل میونسپل کارپوریشن کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ کو آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے چوکس اور لیس رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ممبئی شہر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گرمی شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ گھروں، دفاتر اور کمرشل کمپلیکس میں پنکھے، ایئر کولر، ایئر کنڈیشنر، فریج اور دیگر برقی آلات بڑی مقدار میں استعمال ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ گرم اور خشک ماحول، آتش گیر مواد کا غلط ذخیرہ، کوڑا کرکٹ کو جلانا اور گیس کا اخراج جیسے عوامل کی وجہ سے بھی آگ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہری گھر اور عمارت میں بجلی کی تاروں، سوئچ بورڈز اور پلگ پوائنٹس کو باقاعدگی سے چیک کریں اور ان کے کنکشن کو یقینی بنائیں۔ متعدد آلات کو ایک پلگ پوائنٹ سے جوڑ کر اوور لوڈنگ سے بچنا بھی ضروری ہےایئر کنڈیشنر، کولر وغیرہ جیسے آلات استعمال کرتے وقت محفوظ اور معیاری برقی کنکشن استعمال کیے جائیں۔ گھر یا گرد ونواح میں کچرا، درختوں کے سوکھے پتوں، بیلوں یا دیگر آتش گیر اشیاء کو نہ جلائیں۔ ایل پی جی گیس سلنڈر اور گیس پائپ کا متعلقہ ماہرین سے باقاعدگی سے معائنہ کرایا جائے۔ ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ ہر عمارت، مکان اور رہائشی/غیر رہائشی احاطے میں آگ بجھانے کے نظام اچھی حالت میں ہوں۔عمارتوں اور کمرشل کمپلیکس کی سیڑھیاں اور ہنگامی راستوں کو صاف رکھا جائے۔ تاکہ کسی واقعہ کی صورت میں شہری محفوظ طریقے سے باہر نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ان کی گاڑیاں مقررہ جگہوں پر کھڑی کی جائیں۔ آگ لگنے کے ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی آزادانہ اور ہموار نقل و حرکت کے لیے کافی جگہ خالی رکھی جائے۔ کسی بھی قسم کی آگ لگنے کی صورت میں، گھبرائیں نہیں اور فوری طور پر ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ سے 101 یا 022-23001390، 022-23001393 پر رابطہ کریں، چیف فائر آفیسر شری ۔ رویندر امبولگیکر نے اپیل کی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : تربوز کھانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کے علاج میں تاخیر سے موت، تربوز میں زہر خورانی سے متعلق ایف ڈی اے کی رپورٹ

ممبئی : ممبئی پائیدھونی میں تربوز تناول فرمانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی پر اسرار موت کے بعد ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد جے جے اسپتال میں ان کے علاج میں تاخیر و تامل برتا گیا, جس کے سبب ان کی حالت مزید خراب ہوگئی, بروقت معالج نہ میسر ہونے کے سبب چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔ تربوز تناول فرمانے کے سبب موت کے بعد اب ممبئی میں تربوز کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی دعوت میں تو تربوز پوری طرح سے غائب ہوگیا ہے۔ جے جے اسپتال میں اس معاملہ میں ڈیٹ ایڈٹ بھی شروع کی تھی۔ چاروں کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا, ان چاروں کو الٹی اور دست کی شکایت تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد تاخیر سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ فارنسک تفتیش میں زہر خورانی سے متعلق بھی شبہ ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے باقاعدہ طورپر حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے۔ 25 اپریل کو کنبہ نے بریانی تناول فرمایا اس کے بعد تربوز کھانے کے سبب ان کی موت واقع ہوئی, لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے۔ ایف ڈی اے کی تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ تربوز میں کوئی بھی زہریلی شئے کی آمیزش نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اب ایف ڈی اے اور دیگر ایجنسی غذائی سمیت کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
