Connect with us
Thursday,13-August-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

ہلدوانی فساد معاملہ : گرفتار مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد شروع

Published

on

Arshad-Madani

نئی دہلی (8 جون 2024) : ہلدوانی فساد کو لیکر پولس زیادتی کا شکار20 مسلم نوجوانوں کی ضمانت کی عرضی پر گزشتہ روز اتراکھنڈ ہائی کورٹ (نینی تال) میں سماعت عمل میں آئی جس کے بعد ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے اسے سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو تین ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور معاملہ کی سماعت 4 جولائی تک کے لئے ملتوی کردی، جسٹس منوج کمارتیواری اور جسٹس پنکج پروہت پر مشتمل دورکنی بینچ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ کی سینئر ایڈوکیٹ نتیارامن کرشنن نے مدلل بحث کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیشی ایجنسی نے 90 دن کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی عدالت میں چارشیٹ نہیں داخل کی اور ملزمین وان کے وکلاء کے علم میں لائے بغیر عدالت سے مزید 28 دنوں کی مہلت طلب کرلی جو قانونا غلط ہے لہذا کریمنل پروسیجر کورٹ کی دفعہ 167 اور یو اے پی اے قانون کی دفعہ 43 ڈی (2) کے تحت ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت منظور کی جائے، جس پر سرکاری وکیل نے ضمانت کی عرضی پر اعتراض داخل کرنے کے لئے وقت طلب کیا واضح ہوکہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نتیارامن کرشنن کے ہمراہ ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ نیتن تیواری، ایڈوکیٹ منیش پانڈے، ایڈوکیٹ وجے پانڈے ودیگر پیش ہوئے جبکہ اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جے ایس ورک اور ایڈوکیٹ آر کے جوشی پیش ہوئے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 90 دن کی مقررہ مدت گزر جانے کے بعد چارج شیٹ داخل نہ کرنا یہ بتاتا ہے کہ پولس قانون وانصاف کو بالائے طاق رکھ کر جانبدارای کا مظاہرہ کررہی ہے، اس سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملزمین اور ان کے وکلاء کے علم میں لائے بغیر حیلوں بہانوں سے عدالت کے ذریعہ مزید 28 دنوں کی مہلت طلب کرلی گئی، انہوں نے کہا کہ پولس اور تفتیشی اداروں کے تعصب اور جانبداری کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے مسلمانوں سے جڑے زیادہ ترمعاملوں میں تقریبا ہر ریاست کی پولس کا رویہ یکساں ہوتا ہے، قانون کے مطابق 90 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کردی جانی چاہئے تاکہ ملزم بنایا گیا شخص اپنی رہائی کے لئے قانونی عمل شروع کرسکے، لیکن یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ اس ہدایت پر عمل نہیں کیا جاتا، مولانا مدنی نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیوں اورپولس کا یہ طرز عمل انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس سے انصاف کے حصول میں تاخیر ہوجاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ان گرفتار شدگان میں 7 خواتین بھی شامل ہیں، اور ان سب پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق کردیا گیا ہے، ایسے میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اپنے اسکول اور اپنی عبادت گاہ کو بچانے کے لئے احتجاج کرنے والے کیا دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟ جب کہ پولس کی بلاجواز فائرنگ سے جو 7 بے گناہ مارے گئے ان کے بارے میں مکمل خاموشی ہے گویا پولس اور حکومت کی نظر میں انسانی زندگیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اس معاملہ پر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد اور اداروں کی خاموشی بھی ایک بڑا سوال ہے ہمیں عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے ابھی پچھلے دنوں اترپردیش اے ٹی ایس کی جانب سے متعینہ مدت کے اندر چارج شیٹ نہیں داخل کرنے پر لکھنو ہائی کورٹ نے 11 مسلمانوں کو ضمانت دیدی، اس فیصلہ کی بنیاد پر ہمیں یقین ہے کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے ان ملزمین کو اور ہلدوانی متاثرین کو بھی انصاف ملے گا، انشاء اللہ۔ مولانا مدنی نے ملک کے تمام انصاف پسندوں سے سوال کیا کہ ایک مخصوص فرقہ کے خلاف ظلم واستبداد اور ناانصافی کا یہ خطرناک سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر ان کے ساتھ اس طرح کا سوتیلا رویہ اپنا کر ان پر انصاف کے دروازہ بند کر دینے کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ اور ہر بار جمعیۃ علماء ہند کو انصاف کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کیوں ہونا پڑتا ہے؟ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے اس پر سب کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی درمیان جمعیۃ علماء ضلع نینی تال کے ایک وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی اور قانونی مشیر شاہد ندیم ایڈوکیٹ سے نئی دہلی میں ملاقات کی اور مقدمہ کی تازہ صورتحال کی تفصیل دی، وفد میں مولانا مقیم قاسمی صدر جمعیۃ علماء نینی تال، مولانا محمد قاسم قاسمی سکریٹری، مولانا محمد عاصم قاسمی صدر جمعیۃ علماء ہلدوانی اور مولانا محمد سلمان ندوی سکریٹری شامل تھے، واضح رہے کہ اس معاملہ میں 101 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے، جن میں 7 خواتین بھی شامل ہیں، جمعیۃ علماء 65 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کررہی ہے جبکہ 69 ملزمین کے گھریلو اخراجات بھی گرفتاری سے لیکر اب تک برداشت کررہی ہے، اخراجات میں راشن، بچوں کی فیس، ادویات مکان کا کرایہ وغیرہ شامل ہیں، فساد میں زخمی ہوئے 15 ملزمین کے علاج کا مکمل خرچ بھی مقامی جمعیۃ علماء نے برداشت کیا، ملزمین کی پیروی کے علاوہ ان کے اہل خانہ کی دادرسی بھی مفتی لقمان، مولانا یونس، عبدالحسیب، مولانا فرقان ودیگر صاحبان کررہے ہیں، ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے بتایاکہ ملزم بنائی گئی خواتین سمیت دیگر ملزمین کی ضمانت کی عرضیاں بھی چند روز میں نچلی عدالت میں داخل کردی جائیں گی، اس کے ساتھ نچلی عدالت میں پولس کی گولی سے 7 مسلم نوجوانوں کی ہلاکت پر رپورٹ طلب کرنے کی گزارش کی گئی، جس پر عدالت نے پولس سے رپورٹ طلب کی ہے، اس معاملہ میں پولس انتہائی جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے ملزمین کو ضمانت سے محروم رکھنے کے لئے ان کے خلاف یو اے پی اے یعنی دہشت گردی کے قانون کا اطلاق کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

Published

on

landslide

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں چار دنوں کے اندر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو مکمل کرے : چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم

Published

on

SIR

ممبئی : 17 اگست، 2026، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حصے کے طور پر گھر گھر جا کر وزٹ (حاضری) کرنے اور گنتی کے فارم بھرنے کا آخری دن ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے ممبئی میں تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) کو زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے اور بقیہ چار دن کی مدت کے اندر پورے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چوکلنگم نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ کوارٹر میں آج (12 اگست 2026) کو منعقدہ میٹنگ کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے (ممبئی سٹی اور مضافات) کے اندر خصوصی گہری نظرثانی پروگرام سے متعلق جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران عہدیداروں سے خطاب کیا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما-لاونگیرے بھی موجود تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگرایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ) آنچل گوئل، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ضلع کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار کے ساتھ تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) اور ممبئی کے متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے کہا کہ ووٹرز کے سوالات کو فوری طور پر حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ذریعے ‘بک اے کال’ کی سہولت کے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التواء گنتی فارموں کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پورا طریقہ کار مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ‘نشان زدہ انتخاب کنندگان’ کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ مستعدی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے کہ اہل نشان زد ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل ہوں جبکہ فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کو خارج کر دیا جائے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گنتی کے فارموں کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن اور گھر گھر دوروں میں صرف چند دن باقی ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے دوران اس پورے عمل کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فرضی سرٹیفکیٹ و سرکاری دستاویزات تیار کرنے والا گروہ بے نقاب، دستاویزات اور دیگر اسباب بھی ضبط، 4 گرفتار ایک ملزم فرار

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ممبئی کے باندرہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۹ کروڑ ۴۰ لاکھ کا ایم ڈی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عنبر ہوٹل باندرہ ایک ٹپری کے سامنے ایک مشتبہ شخص پایا گیا جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے قبضے سے ۲۰۵۰ گرام ایم ڈی میفیڈون برآمد ہوا, جس کے بعد کالا چوکی اے ٹی ایس نے کیس درج کر کے اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس مشتبہ دو غیر ملکی خواتین کو بھی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے اس آپریشن میں پیش رفت کے دوران گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے ۲۶۸۸ گرام مفیڈون ضبط کیا گیا اور اس معاملہ میں دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا اس معاملہ میں یو پی پولس کی مدد سے جس فیکٹری سے ایم ڈی خریدی جاتی تھی اس پر بھی کریک ڈاؤن کر کے پانچ کروڑ کی ایم ڈی ضبط کی ہے پولس اس معاملہ میں مزید کارروائی کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان