(جنرل (عام
حکومت ہند نے ہندوستانی نظام طب بشمول یونانی طب کی کثیر جہتی ترقی کو بہت اہمیت دی ہے : سربانند سونووال
یونانی طب پربین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کابینی وزیر برائے آیوش، بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہ، حکومت ہند سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حکومت ہند نے ہندوستانی نظام طب بشمول یونانی طب کی کثیر جہتی ترقی کو بہت اہمیت دی ہے۔ یہ بات انہوں نے سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم)، وزارت آیوش، حکومت ہند کے زیر اہتمام یونانی ڈے 2022 تقریبات کے حصے کے طور پرشیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقدہ پروگرام میں کہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نریندر مودی کی قابل قیادت کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ہندوستان میں گلوبل سنٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ محققین اور طلباء کو روایتی طب میں دنیا کی قیادت کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکیم اجمل خان کے یوم پیدائش پر یونانی ڈے منایا جاتا ہے۔ جو کہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ یہ جامع طبی نظام ان کی اور دیگر بہت سے دانشوران کی خدمات کی وجہ سے ہمیں ورثے میں ملا ہے۔
جموں وکشمیر خطے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس خوبصورت خطہ پر فخر ہے جو دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے ایک کشش کے طور پر جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر پودوں کے وسائل سے مالا مال ہے، جس نے دواؤں کے استعمال کے لیے تحقیق کرنے اور دریافت کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ بنی نوع انسانی مستفید ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، سری نگر میں آیوش سنٹر آف ایکسیلنس فار ریجیمینل تھریپی کی توسیع کے لیے سات کڑور سے زائد رقم فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ وزیر اعظم کی قیادت میں جموں و کشمیر کے مختلف شعبہ جات میں ہو رہی ترقیاتی کاموں سے فائدہ اٹھائے۔
اپنے خطاب میں وزیر ڈاکٹر منجپرا مہندر بھائی نے کہا کہ غذا بہت اہم ہے، کیونکہ یہ توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونانی طب صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں سے تحفظ کیلئے صحت مند غذا کے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ادویات اور ادویاتی غذا کے ذریعے قوت مدافعت میں اضافہ اور کووڈ۔19 کے خلاف جنگ میں آیوش نظام کے کردار کی پذیرائی کی۔ انہوں نے یونانی طب میں تحقیق و ترقی میں سی سی آر یو ایم کے تعاون کی بھی تعریف کی۔
افتتاحی تقریب میں جناب پرمود کمار پاٹھک، اسپیشل سکریٹری، وزارت آیوش، شری وویک بھاردواج، ایڈیشنل چیف سکریٹری، محکمہ صحت و طبی تعلیم، جموں وکشمیر، وید جینت دیوپجاری، چیئرمین، نیشنل کمیشن فار انڈیا سسٹم آف میڈیسن، پروفیسر طلعت احمد، وائس چانسلر، کشمیر یونیورسیٹی، پروفیسر اکبر مسعود، وائس چانسلر، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسیٹی، پروفیسر عاصم علی خان، ڈائریکٹر جنرل، سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم) اور ڈاکٹر مختار احمد قاسمی، ایڈوائزر (یونانی)، وزارت آیوش نے بھی اظہار خیال کیا۔
دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ذیلی موضوعات ”غذا اور غذائیت۔ صحت کے شعبے کی ایک اہم شاخ“، ”عالمی صحت کے لیے یونانی طب“، ”غذا اور غذائیت۔ یونانی طب میں قوت مدافعت میں بہتری کا اہم عنصر“، ”دوران وباء کے اسباق“، ”اچھی صحت و تندرستی کی پائیدار ترقی کا ہدف-3 کا حصول“، ”غیر متعدی امراض کے لیے روایتی طبی نظام“ اور ”صحت و تندرستی“ پر ایک مذاکرہ اور آٹھ سائنسٹفک اجلاس منعقد کئے گئے۔
کانفرنس میں طب اور متعلقہ سائنس سے تعلق رکھنے والے متعدد قومی اور بین الاقوامی ماہرین اور نامورحضرات اپنے علم، تجربات اور مہارت سے شرکاء کو مستفید کیا۔ اس موقع پر یونانی طب اور متعلقہ سائنس کی ترقی میں کوشاں صنعتی، اکادمی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ افرادنے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس میں سی سی آر یو ایم کے ذریعہ شائع کردہ کانفرنس سووینئر اور آٹھ کتابوں کا اجراء، حیدرآباد میں سی سی آر اے ایس کے تحت کام کرنے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج کے ذریعہ تیار کردہ دو یونانی ای کتابوں کا اجراء، یوگا انسٹرکٹرز کو مبارکباد دینے کے لیے وائی سی بی سرٹیفکیٹس کی تقسیم، یوگا ایم او یو کا تبادلہ اور لائیو یوگا پرفارمنس، سی سی آر یو ایم ایپس کی ریلیز اور آر آر آئی یو ایم، سری نگر کو این اے بی ایچ کی ایکریڈیشن سرٹیفکیٹ پیش کی گئی۔
سی سی آر یو ایم کی کتابیں ’اور ینٹیشن گائیڈ لائنز فار کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز (انڈریونانی اسٹریم)‘، ’اینٹی آرتھرائٹس پلانٹس ان یونانی میڈیسن‘ ’ہیپاٹو پروٹیکٹو پلانٹس ان یونانی میڈیسن‘، ’گلمپسیس آف اکٹیوٹیز اینڈ اچیومینٹس‘، ’ایڈوانسڈ انالائٹکل میتھڈ س فار کوائلیٹی کنٹرول آف یونانی ڈرگس- عرقیات (ڈسٹللیٹس)‘، ’ریاض الادویہ(اردو ترجمہ)‘، ’ادویہ کبیدیہ-قدیم وجدید تحقیقات کی روشنی میں‘ اور ’نیشنل فارمولری آف یونانی میڈیسن، جلد چہارم، سکینڈ ایڈیشن‘ کا اجرا عمل میں آیا۔
’سنگل یونانی ڈرگس‘، ’یونانی ٹریٹمنٹ گائیڈلائنز فار کامن ڈسیزز‘ اور ’نو یور ٹیمپرامنٹ‘ ایپس کو لانچ کیے جانے پر وزیر آیوش جناب سربانند سونووال کی یونانی و دیگر شراکت داروں نے ستائش کی کیونکہ یہ سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن، وزارت آیوش کی جانب سے یونانی طب کے میدان میں اپنی نوعیت کا پہلا پیش رفت ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔
مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔
(جنرل (عام
بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟
مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔
اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔
مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
