(جنرل (عام
گوگل نے ڈاکٹر متھولكشمي ریڈی کی جینتی پر ان کا ڈوڈل بنا کر خراج عقیدت پیش کیا
گوگل نے منگل کو ملک کی مشہور ماہر تعلیم، ممبر اسمبلی، سرجن اور سماجی مصلح ڈاکٹر متھولكشمي ریڈی کی جینتی پران کا ڈوڈل بنا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر ریڈی کی آج 133 ویں یوم پیدائش ہے۔
ڈاکٹر ریڈی ایک استاد، سرجن اور سماجی مصلح تھیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی اصلاح میں لگادی۔انہیں ملک کی پہلی خاتون رکن اسمبلی ہونے کااعزاز حاصل ہے۔
ڈاکٹر ریڈی کو سماجی عدم مساوات، صنفی بنیاد پر تفریق اور لوگوں کو مکمل صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کی کوششوں کے لئے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ تمل ناڈو کے سرکاری اسپتال میں سرجن کے طور پر کام کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ تمل ناڈو حکومت نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ ہر سال 30 جولائی کو ’ہاسپٹل ڈے‘ کے طور پر منائے گی۔
ڈاکٹر ریڈی کی پیدائش 1886 میں تمل ناڈو کے’ پڈوك كوٹائی‘ میں ہوئی تھی۔ وہ 1912 میں ملک کی پہلی خاتون ڈاکٹربنی اور مدراس کے سرکاری زچگی اسپتال میں پہلی خاتون سرجن بنی۔
انہوں نے 1918 میں ویمن انڈیا ایسوسی ایشن کو پھر سے قائم کیا اور مدراس اسمبلی کی پہلی خاتون رکن (اور ڈپٹی اسپیکر) کے ساتھ ساتھ پہلی خاتون رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ انہوں نے لڑکیوں کی شادی روکنے کے لئے قوانین بنائے اور غیر اخلاقی اسمگلنگ کنٹرول ایکٹ اور دیوداسی روایت کے خاتمہ کیلئے بل منظور کرنے کے لئے قانون ساز کونسل پر زور دیا۔متھولكشمي کو ان کے ان تعاون کے لئے 1956 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 22 جولائی 1968 کو چنئی میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ملاڈ میں بھگوان کی مورتی لیجاتے وقت تنازع! دونوں جانب سے نعرہ بازی, کیس درج, حالات پرامن سیکورٹی سخت

ممبئی: ممبئی ملاڈ علاقہ میں گزشتہ شب رام بھگوان کی مورتی لیجانے کے دوران اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب جامع مسجد کے پاس کچھ شرپسندوں نے شور شرابہ کیا جس کے بعدیہاں حالات خراب ہوگئے پولیس نے حالات کو قابو میں کرلیا دونوں جانب سے نعرے بازی ہوئی ایک طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر تو دوسری طرف جئے شری رام کا نعرہ لگایا گیا گزشتہ رات جامع مسجد میں عشاء کی نماز جاری تھی اسی دوران بھگوان رام کی مورتی لیجاتے وقت شور شرابہ ہوا تو نمازیوں نے اعتراض کیا اس کے بعد حالات خراب ہوگئے پولیس نے فریقین کو قابو میں کیا اور پھر اب یہاں حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے پولیس نے جامع مسجد سمیت تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی ہے چونکہ شام میں رام نومی کا جلوس نکالا جاتا ہے اور رام نومی جلوس شوبھایاترا میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑی نہ ہو اس کو یقینی بنانے کیلئے چپہ چپہ پر فورسیز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے اس معاملہ میں پولیس کو سخت ہدایت جاری کی ہے جبکہ تنازع پیدا کرنے والوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں رام نومی پر تین سال قبل تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس کے بعد اب دوبارہ شرپسند عناصر یہاں ماحول خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں گزشتہ شب بھی یہاں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اسے ناکام بنا دیا اب حالات پرامن ہے پولیس نے افواہ پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیو شیئر کرنے والوں پر بھی کارروائی کا انتباہ دیا ہے اس کے ساتھ ہی پولیس اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ماحول خراب کیا ہے۔ فرقہ وارانہ تنازع کے بعد پولیس نے حساس علاقوں کی نشاندہی کے ساتھ محلہ کمیٹیوں اور امن کمیٹیوں کی میٹنگ بھی منعقد کی تھی۔ ملاڈ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی تنصیب کے ساتھ جلوس کی نگرانی ڈرون سے کی گئی چپہ چپہ پر فورسیز کی موجودگی کے سبب جلوس کے پرامن اختتام کا دعوی بھی پولیس نے کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کے سیکشن 154 میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے ترمیم، قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بل منظور

ممبئی: قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 154 میں ترمیم کو منظوری دی ہے تاکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی جاسکے۔ اس ترمیم سے رہائشی املاک کے مالکان اور کمرشل پراپرٹی مالکان پر ٹیکس کا بوجھ نہیں بڑھے گا۔ جس سے رہائشی اور کمرشل پراپرٹی مالکان کو راحت ملے گی ۔قطعہ اراضی لینڈ ٹیکس کی تشخیص کارپٹ ایریا انڈیکس کو چھوڑ کر کی جائے گی۔ اس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی جو تعطل کا شکار ہیں اور اس وقت جاری ہیں۔اس بل کی منظوری کے بعد، سال 2010 سے پورے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں تقریباً 10.5 لاکھ جائیدادوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور عدالتی معاملات کو روک دیا جائے گا۔ دفعہ 154 میں ترمیم نے ان جائیداد کے مالکان سے بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کی راہ ہموار کر دی ہے جو سال 2014 میں معزز ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق 50 فیصد پراپرٹی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں میونسپل کارپوریشن کے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ریاستی حکومت کے زیر التواء ٹیکس کی وصولی ہو گئی ہے اور محصولات کی وصولی کا راستہ صاف ہموار ہو گا۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
