سیاست
غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر میں سیاسی لیڈران کی نظربندی کو ‘زیادتی’ قرار دیا

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے قائد غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر میں سیاسی لیڈران کی نظربندی کو ‘زیادتی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈران کی نظربندی ختم کرکے یہاں جمہوریت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے’۔ ساتھ ہی کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹریٹری بنانا یہاں کے لوگوں کی توہین اور بے عزتی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں منصہ شہود پر آنے والی ‘اپنی پارٹی’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے’۔
غلام نبی آزاد نے یہ باتیں ہفتہ کے روز یہاں نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہمراہ ان کی گپکار رہائش گاہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔
سینئر کانگریس لیڈران نے فاروق عبداللہ اور دوسرے لیڈران کی نظربندی پر بات کرتے ہوئے کہا: ‘فاروق صاحب کو نظربند رکھا گیا تھا جس کی وجہ ہمیں اب بھی معلوم نہیں ہے۔ عام طور پر نظربند ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہوں نے قانون کی کوئی خلاف ورزی کی ہو۔ ملک یا حکومت کے خلاف کوئی جلسہ جلوس نکالا ہو۔ لیکن انہوں نے دفعہ 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی فاروق صاحب، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور دیگر سینکڑوں لیڈروں کو بند رکھا’۔
انہوں نے فاروق عبداللہ کی رہائی پر کہا: ‘ہم قریب 42 برسوں سے ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ دوستی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ میں اپنی، اپنی پارٹی اور لوک سبھا و راجیہ سبھا کے ان تمام اراکین کی طرف سے بھی آیا ہوں جنہوں نے پچھلے ساڑھے سات ماہ کے دوران پارلیمان کے اندر اور پارلیمان کے باہر یہاں کے سیاسی لیڈران اور جیلوں میں بند عام شہریوں کے حق میں آواز اٹھائی’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘میں نے فاروق صاحب کو یہ جانکاری دی کہ کس طرح اپوزیشن جماعت کے لیڈران ان کی رہائی کے منتظر تھے۔ آپ کی رہائی بہت خوشی کی بات ہے۔ آپ نظربندی کے دوران بیمار رہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے میرا ماننا ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے بہت بڑی زیادتی تھی۔ لیکن اللہ جس کے ساتھ ہوتا ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے’۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ سیاسی لیڈران کو طوطے کی طرح پنجرے میں بند رکھنے سے جموں وکشمیر میں ترقی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا: ‘کشمیر کو اگر ترقی کرنی ہے۔ اس کو آگے بڑھنا ہے۔ جموں وکشمیر میں اگر ہمیں خوشحالی لانی ہے۔ لیڈروں کو طوطے کی طرح پنجرے میں بند کرنے سے ترقی نہیں ہوگی۔ لیڈران کو چھوڑ دینا ہوگا۔ رہا کرنا ہوگا۔ سیاسی عمل بحال کرنا ہوگا۔ سیاسی عمل کی بحالی سے یہاں انتخابات ہوجائیں گے۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اپنی سرکار چننے کا حق ہے’۔
غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ‘جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ 1947 میں 560 ریاستوں کو ملاکر 12 ریاستیں بنائی گئی تھیں۔ لیکن جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست تھی جس کے ساتھ کسی دوسری ریاست کو ملانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ یہ اپنے آپ میں ایک بڑی ریاست ہے۔ مغلوں کے زمانے میں یہ ایک ریاست تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ایک ریاست تھی۔ اتنی بڑی ریاست کو یونین ٹریٹری بنانا جموں وکشمیر کے لوگوں کی توہین اور بے عزتی ہے’۔
آزاد نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ترقی تعطل کا شکار ہے اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘یہاں تین سال سے نہ کسی سڑک پر کام ہورہا ہے نہ کسی پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ بے روزگاری اپنے عروج ہے۔ سیاحتی شعبہ ٹھپ ہے۔ ہینڈی کرافٹ ٹھپ ہے۔ فروٹ ختم ہوگیا۔ دوسرے کاروبار ختم ہیں۔ چھوٹی انڈسٹریاں تبائے کے دھانے پر ہیں۔ جموں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ اس کا صرف ایک ہی حال ہے کہ تمام سیاسی لیڈران کو فوری طور پر رہا کردیا جائے اور سیاسی عمل شروع ہو’۔
انہوں نے جموں وکشمیر میں جمہوریت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا: ‘ہندوستان پوری دنیا میں اپنے سائز کے لئے مشہور نہیں ہے۔ ہم دنیا میں جمہوریت کے لئے مشہور ہیں۔ لیکن ایسی جمہوریت نہیں جہاں تین سابق وزرائے اعلیٰ ساڑھے سات ماہ سے جیلوں میں بند ہوں اور چوتھا سابق وزیر اعلیٰ سپریم کورٹ کی اجازت سے یہاں آئے جائے۔ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہاں جمہوریت بحال کرنا ہے۔ جموں وکشمیر میں جیلوں میں بند لیڈران کی رہائی کے بعد جمہوریت بحال ہوگی’۔
غلام نبی آزاد نے حال ہی میں منصہ شہود پر آنے والی ‘اپنی پارٹی’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے۔ ایسی جماعتوں کھڑا کرنے کی کوششیں سن 1947 سے جاری ہیں۔ لوگوں کی چنی ہوئی سرکار سے یہاں کا انتظام چلنے چاہیے۔ ایجنسی پارٹی سے حکومت چلتی ہے نہ جمہوریت’۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاست
وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا