Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر میں سیاسی لیڈران کی نظربندی کو ‘زیادتی’ قرار دیا

Published

on

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے قائد غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر میں سیاسی لیڈران کی نظربندی کو ‘زیادتی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈران کی نظربندی ختم کرکے یہاں جمہوریت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے’۔ ساتھ ہی کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹریٹری بنانا یہاں کے لوگوں کی توہین اور بے عزتی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں منصہ شہود پر آنے والی ‘اپنی پارٹی’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے’۔
غلام نبی آزاد نے یہ باتیں ہفتہ کے روز یہاں نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہمراہ ان کی گپکار رہائش گاہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔
سینئر کانگریس لیڈران نے فاروق عبداللہ اور دوسرے لیڈران کی نظربندی پر بات کرتے ہوئے کہا: ‘فاروق صاحب کو نظربند رکھا گیا تھا جس کی وجہ ہمیں اب بھی معلوم نہیں ہے۔ عام طور پر نظربند ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہوں نے قانون کی کوئی خلاف ورزی کی ہو۔ ملک یا حکومت کے خلاف کوئی جلسہ جلوس نکالا ہو۔ لیکن انہوں نے دفعہ 370 کو ختم کرنے سے قبل ہی فاروق صاحب، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور دیگر سینکڑوں لیڈروں کو بند رکھا’۔
انہوں نے فاروق عبداللہ کی رہائی پر کہا: ‘ہم قریب 42 برسوں سے ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ دوستی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ میں اپنی، اپنی پارٹی اور لوک سبھا و راجیہ سبھا کے ان تمام اراکین کی طرف سے بھی آیا ہوں جنہوں نے پچھلے ساڑھے سات ماہ کے دوران پارلیمان کے اندر اور پارلیمان کے باہر یہاں کے سیاسی لیڈران اور جیلوں میں بند عام شہریوں کے حق میں آواز اٹھائی’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘میں نے فاروق صاحب کو یہ جانکاری دی کہ کس طرح اپوزیشن جماعت کے لیڈران ان کی رہائی کے منتظر تھے۔ آپ کی رہائی بہت خوشی کی بات ہے۔ آپ نظربندی کے دوران بیمار رہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے میرا ماننا ہے کہ یہ حکومت کی طرف سے بہت بڑی زیادتی تھی۔ لیکن اللہ جس کے ساتھ ہوتا ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے’۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ سیاسی لیڈران کو طوطے کی طرح پنجرے میں بند رکھنے سے جموں وکشمیر میں ترقی نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا: ‘کشمیر کو اگر ترقی کرنی ہے۔ اس کو آگے بڑھنا ہے۔ جموں وکشمیر میں اگر ہمیں خوشحالی لانی ہے۔ لیڈروں کو طوطے کی طرح پنجرے میں بند کرنے سے ترقی نہیں ہوگی۔ لیڈران کو چھوڑ دینا ہوگا۔ رہا کرنا ہوگا۔ سیاسی عمل بحال کرنا ہوگا۔ سیاسی عمل کی بحالی سے یہاں انتخابات ہوجائیں گے۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اپنی سرکار چننے کا حق ہے’۔
غلام نبی آزاد نے جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ‘جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ 1947 میں 560 ریاستوں کو ملاکر 12 ریاستیں بنائی گئی تھیں۔ لیکن جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست تھی جس کے ساتھ کسی دوسری ریاست کو ملانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ یہ اپنے آپ میں ایک بڑی ریاست ہے۔ مغلوں کے زمانے میں یہ ایک ریاست تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ایک ریاست تھی۔ اتنی بڑی ریاست کو یونین ٹریٹری بنانا جموں وکشمیر کے لوگوں کی توہین اور بے عزتی ہے’۔
آزاد نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ترقی تعطل کا شکار ہے اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘یہاں تین سال سے نہ کسی سڑک پر کام ہورہا ہے نہ کسی پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ بے روزگاری اپنے عروج ہے۔ سیاحتی شعبہ ٹھپ ہے۔ ہینڈی کرافٹ ٹھپ ہے۔ فروٹ ختم ہوگیا۔ دوسرے کاروبار ختم ہیں۔ چھوٹی انڈسٹریاں تبائے کے دھانے پر ہیں۔ جموں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ اس کا صرف ایک ہی حال ہے کہ تمام سیاسی لیڈران کو فوری طور پر رہا کردیا جائے اور سیاسی عمل شروع ہو’۔
انہوں نے جموں وکشمیر میں جمہوریت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا: ‘ہندوستان پوری دنیا میں اپنے سائز کے لئے مشہور نہیں ہے۔ ہم دنیا میں جمہوریت کے لئے مشہور ہیں۔ لیکن ایسی جمہوریت نہیں جہاں تین سابق وزرائے اعلیٰ ساڑھے سات ماہ سے جیلوں میں بند ہوں اور چوتھا سابق وزیر اعلیٰ سپریم کورٹ کی اجازت سے یہاں آئے جائے۔ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہاں جمہوریت بحال کرنا ہے۔ جموں وکشمیر میں جیلوں میں بند لیڈران کی رہائی کے بعد جمہوریت بحال ہوگی’۔
غلام نبی آزاد نے حال ہی میں منصہ شہود پر آنے والی ‘اپنی پارٹی’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایجنسی پارٹی سے جموں وکشمیر نہیں چل سکتی ہے۔ ایسی جماعتوں کھڑا کرنے کی کوششیں سن 1947 سے جاری ہیں۔ لوگوں کی چنی ہوئی سرکار سے یہاں کا انتظام چلنے چاہیے۔ ایجنسی پارٹی سے حکومت چلتی ہے نہ جمہوریت’۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان