Connect with us
Tuesday,02-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات، بی جے پی میں شامل

Published

on

Amarinder-Singh-meets-Prime-Minister

پنجاب کی سیاست میں بڑی سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ ریاست کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اب بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں، جو پارٹی سے الگ اپنی زمینی پکڑ رکھتے ہیں۔ ان کے قد کے سامنے پارٹیاں بونی ثابت ہو رہی ہیں۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس سے الگ ہو کر اپنی پارٹی بنانے والے امریندر سنگھ اپنی پارٹی پنجاب لوک کانگریس کا بھی بی جے پی میں انضمام کر دیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر میں یہ دوسری بار ہے، جب وہ اپنی پارٹی کا انضمام کروا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایسا کانگریس کے ساتھ بھی کر چکے ہیں۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے اکالی دل سے الگ ہوکر شرومنی اکالی دل (پنتھک) بنائی تھی اور اس کا 1992 میں کانگریس میں انضمام کروایا تھا۔ اس بار بھی کچھ ایسی صورتحال ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ان کی پارٹی کی کارکردگی بے حد خراب رہی تھی۔ پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنے گڑھ کہے جانے والے پٹیالہ میں الیکشن ہار گئے۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک بار نیوز 18 سے بات چیت میں کہا تھا، ’میں ایک فوجی ہوں، میں کبھی میدان نہیں چھوڑتا۔ میں لڑتے رہتا ہوں‘۔ انہوں نے یہ بات تب کہی تھی، جب انہیں کانگریس پارٹی نے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے وزیراعلیٰ عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اپنی پارٹی بنائی۔ اپنی ہر ریلی میں وہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرتے رہے۔ حالانکہ انہوں نے اس حملے میں بھی ’لشکمن ریکھا‘ طے کر رکھی تھی۔ انہوں نے راہل اور پرینکا کی تنقید کرتے وقت بھی سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی کا نام نہیں لیا۔ ممکنہ طور پر راجیو گاندھی کے ساتھ ان کی دوستی کا یہ تقاضا تھا۔

دراصل، سونیا گاندھی کے خلاف کیپٹن امریندر سنگھ کے نہ بولنے کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ سال 2017 میں اسمبلی الیکشن میں سونیا گاندھی نے راہل گاندھی کے اعتراض کے باوجود کیپٹن امریندر سنگھ کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا تھا اور ان کی قیادت میں الیکشن لڑا۔ ناچاہتے ہوئے بھی راہل گاندھی کو پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ کو لیڈر کے طور پر قبول کرنا پڑا۔

سب سے پہلے جہاں تک کیپٹن امریندر سنگھ کا سوال ہے تو ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنی سیاسی اہمیت بنائے رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے اور پوتے کو پنجاب کی سیاست میں جگہ ملے۔ ابھی تک یہ دونوں ریاست کی سیاست پر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائے ہیں۔

دوسری طرف، بی جے پی کو امید ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کے آنے سے اسے 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں فائدہ ملے گا۔ کیونکہ زرعی قوانین کو لے کر پیدا ہوئی ناراضگی اب ختم ہوچکی ہے۔ یہی نہیں، اب تک وہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے دم پر ریاست میں اپنی موجودگی درج کروائے۔ بی جے پی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر عام آدمی پارٹی کو ہرائے، جس سے کہ اس کے ایک سب سے جارح مخالف پارٹی کو خاموش کیا جاسکے اور اس کی جیت کے راستے (وجے مارچ) کو روکا جاسکے۔

ایسا امکان ہے کہ بی جے پی جلد ہی کیپٹن امریندر سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج دے۔ اس طرح بی جے پی کیپٹن امریندر کے چہرے کے ذریعہ کانگریس کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ اس نے پنجاب میں کیا غلطی کی۔ دوسری طرف راہل گاندھی جس طرح سے اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں لگے ہوئے ہیں، اس کی ایک کاٹ بھی کیپٹن ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف بھی ایک بلند آواز ہوسکتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : آرے کالونی درگاہ شہید… کریٹ سومیا کی مسلسل لینڈ جہاد کی مہم کے بعد بی ایم سی کی کارروائی، وارث پٹھان کا یکطرفہ کاروائی کا الزام

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی : ممبئی کے گوریگاؤں آرے کالونی میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی, جب یہاں واقع قدیم درگاہ بابا سید برکت علی پیر کے مزار کو شہید کردیا گیا۔ دو ماہ قبل کریٹ سومیا نے اس مزار کو غیر قانونی قرار دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا, جس کے بعد انتظامیہ نے آج اس درگاہ کو شہید کر دیا۔ اس دوران پولس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ یہ معاملہ فرقہ وارانہ شکل اختیار نہ کرے اس لئے پولس نے سخت پہرہ لگایا تھا اور بالآخر درگاہ کو شہید کر دیا گیا۔ جس کے بعد یہاں پر حالات پرامن ضرور ہے, لیکن کشیدگی برقرار ہے اس انہدامی کارروائی درگاہ کے ساتھ اطراف کے غیر امانی ڈھانچوں کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ اس انہدامی کارروائی پر ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان نے اعتراض کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ جو انہدامی کارروائی کی گئی, اس میں صرف درگاہ کو ہی ہدف بنایا گیا۔ اس کے اطراف میں جو غیر قانونی چار سو سے زائد مکانات اور دیگر ڈھانچے ہیں, اس پر کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اگر قانون مساوی ہے تو انہیں بھی منہدم کیا جائے۔ کریٹ سومیا نے اس کارروائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے وہ مسلسل اس متعلق کوشش کر رہے تھے۔ آج بی ایم سی اور پولس و انتظامیہ نے اس غیر قانونی لینڈ جہاد اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کی ہے۔ درگاہ کی آڑ میں یہاں لینڈ جہاد اور لینڈ مافیا فعال تھے۔ اس کارروائی پر کریٹ سومیا نے اظہار اطمینان کیا۔

مقامی ڈی سی پی راج گجانن راج مانے نے کہا کہ جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹایا گیا۔ پولس کا بندوبست مامور تھا یہاں نظم و نسق کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس غیر قانونی ڈھانچوں کو نوٹس بھی ارسال کی تھی, اس پر کوئی جواب نہ ملنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ فی الوقت بندوبست تعینات ہے امن قائم ہے لیکن کشیدگی بھی برقرار ہے۔ پولس نے حالات پر نظر رکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔ درگاہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں غم و غصہ اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر کی کابینہ کی میٹنگ میں دیویندر فڑنویس حکومت نے کسانوں کے لیے قرض معافی کی اسکیم کو منظوری دی۔

Published

on

CM-Fadnavis

ممبئی : مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ منگل کو ریاستی کابینہ کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے دوران ایک فیصلہ کیا گیا جس سے کسانوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔ کسانوں کے قرضوں کی معافی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں زرعی قرضہ معافی اسکیم کی منظوری دی گئی۔ اس پیش رفت کے حوالے سے مختلف میڈیا رپورٹس نے خبریں شائع کیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ریاست میں قانون ساز کونسل کے انتخابات چل رہے ہیں۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات کی وجہ سے ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ چنانچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان آج ہونے کا امکان نہیں ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس معاملے پر ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، بہت جلد ایک اعلان متوقع ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 2 لاکھ تک کے قرضوں کی معافی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں لیے گئے فیصلے کے مطابق ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان فوری طور پر جاری نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے پہلے کہا تھا کہ کسانوں کے قرض کی معافی 30 جون تک نافذ ہو جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد، اب خبریں سامنے آرہی ہیں کہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں فارم لون معافی اسکیم کو باضابطہ منظوری مل گئی ہے۔ امید ہے کہ کسانوں کو 2 لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے گا۔ تاہم موجودہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس وقت کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا جائے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، کل 36,585 کروڑ روپے کی قرض معافی کو لاگو کیا جانا ہے۔ اس قرض معافی سے ریاست بھر کے 5.6 ملین کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

‘مکھی منتری گرام سڑک یوجنا’ کے تیسرے مرحلے کے تحت کاموں کی حمایت کے لیے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) سے یو ایس 500 ملین قرض کے ساتھ ساتھ ریاستی مالی امداد کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ سڑکوں کی بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) اور نیو ڈیولپمنٹ بینک (این ڈی بی) سے مالی امداد حاصل کی گئی۔ مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کو دونوں بینکوں سے 8,700 کروڑ روپے کی مالی امداد ملنے والی ہے۔ اس سے ریاست بھر میں سڑکوں کی بہتری اور ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔ کابینہ نے حیدرآباد (سندھ) نیشنل کالجیٹ یونیورسٹی – ممبئی میں واقع ایک کلسٹر یونیورسٹی میں چھ کالجوں کو شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان اداروں کو جزوی کالجوں کے طور پر شامل کیا جائے گا: پرنسپل کے ایم کنڈانی کالج آف فارمیسی، ممبئی، کشن چند چیلارام لاء کالج، ممبئی، شریمتی میتھی بائی موتیرام کنڈانی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس، ممبئی، رشی دیارام اور سیٹھ ہسارام ​​نیشنل کالج اور سیٹھ وسیم الماسومل اور انجینئرنگ کالج، ممبئی، سائنس کالج، ممبئی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اندھیری اولا ڈرائیور بنی ڈرگس اسمگلر، دو منشیات فروش گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی ساکی ناکہ پولس نے ایک ایسے ڈرگس فیکٹری کو بے نقاب کیا, جس میں ایم ڈی سازی کی جاتی تھی۔ اس معاملہ میں اہم ملزم وجہہ القمر چودھری ۵۴ سالہ کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمہ مسکان سمیر ۲۶ سالہ کو اندھیری علاقہ میں ۲۱ مئی کو ۱۰۱ گرام ایم ڈی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ خود ساختہ اولا ڈرائیور بھی تھی, اس کے ملزم وجہہ القمر سے تھے اور یہ کلب میں اس سے ملاقات کرتی تھی۔ اس معاملہ میں پولس نے تفتیش کی اور ایم ڈی فیکٹری کو بے نقاب کیا۔ وجہہ القمر ابولفاچودھری عرف پاپا یہاں ایک ایم ڈی فیکٹری چلایا کرتا تھا اور ممبئی سمیت مضافاتی علاقے میں دونوں ڈرگس منشیات فروشی کیا کرتے تھے۔ وجہہ المقمر چودھری گجرات نرمدا میں ایک کرایہ کے مکان میں ایم ڈی سازی کیا کرتا تھا۔ یہ اطلاع آج یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑا نیٹ ورک کو پولس نے نقاب کیا ہے اور ایم ڈی سازی کے ساز وسامان سمیت ۷۵ لاکھ سے زائد کی منشیات ضبط کی ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی بھی ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں جس نے مکان کرایہ فراہم کیا تھا اور ملزمین کے کتنے لوگ رابطے میں تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمین کا ڈرگس فروشی کاُ ریکیٹ ہے۔ ملزمہ یہاں ممبئی میں برائے نام اولا چلایا کرتی تھی, لیکن اس کا اہم کام ڈرگس اسمگلنگ ہی تھا, جبکہ وجہہ القمر چودھری کے ڈی آر آئی میں بھی ڈرگس فروشی کا کیس درج ہے۔ ۲۰۰۱ میں اس کے قبضے سے پالگھر میں ۲۳۲ گرام منشیات ملی تھی۔ ۲۰۰۱ کو وہ مراد آباد جیل میں بند تھا اور ۱۱ سال تک قید تھا۔ اس کے ساتھ ۲۰۱۷ سے ۲۰۲۳ تک وہ تھانہ جیل میں رہا, وہ ڈرگس کے نیٹ ورک کو آپریٹ کیا کرتا تھا اور اس کام میں مسکان اس کی ساتھی تھی۔ مسکان کو اندھیری سے گرفتار کرنے کے بعد پولس نے نشہ کے اس ریکیٹ کو ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے مزید گرفتاریوں کا بھی امکان روشن ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان