Connect with us
Thursday,06-August-2026

سیاست

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات، بی جے پی میں شامل

Published

on

Amarinder-Singh-meets-Prime-Minister

پنجاب کی سیاست میں بڑی سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ ریاست کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اب بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں، جو پارٹی سے الگ اپنی زمینی پکڑ رکھتے ہیں۔ ان کے قد کے سامنے پارٹیاں بونی ثابت ہو رہی ہیں۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس سے الگ ہو کر اپنی پارٹی بنانے والے امریندر سنگھ اپنی پارٹی پنجاب لوک کانگریس کا بھی بی جے پی میں انضمام کر دیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے سیاسی کیریئر میں یہ دوسری بار ہے، جب وہ اپنی پارٹی کا انضمام کروا رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایسا کانگریس کے ساتھ بھی کر چکے ہیں۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے اکالی دل سے الگ ہوکر شرومنی اکالی دل (پنتھک) بنائی تھی اور اس کا 1992 میں کانگریس میں انضمام کروایا تھا۔ اس بار بھی کچھ ایسی صورتحال ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ان کی پارٹی کی کارکردگی بے حد خراب رہی تھی۔ پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنے گڑھ کہے جانے والے پٹیالہ میں الیکشن ہار گئے۔

کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک بار نیوز 18 سے بات چیت میں کہا تھا، ’میں ایک فوجی ہوں، میں کبھی میدان نہیں چھوڑتا۔ میں لڑتے رہتا ہوں‘۔ انہوں نے یہ بات تب کہی تھی، جب انہیں کانگریس پارٹی نے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے وزیراعلیٰ عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اپنی پارٹی بنائی۔ اپنی ہر ریلی میں وہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرتے رہے۔ حالانکہ انہوں نے اس حملے میں بھی ’لشکمن ریکھا‘ طے کر رکھی تھی۔ انہوں نے راہل اور پرینکا کی تنقید کرتے وقت بھی سونیا گاندھی اور راجیو گاندھی کا نام نہیں لیا۔ ممکنہ طور پر راجیو گاندھی کے ساتھ ان کی دوستی کا یہ تقاضا تھا۔

دراصل، سونیا گاندھی کے خلاف کیپٹن امریندر سنگھ کے نہ بولنے کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ سال 2017 میں اسمبلی الیکشن میں سونیا گاندھی نے راہل گاندھی کے اعتراض کے باوجود کیپٹن امریندر سنگھ کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا تھا اور ان کی قیادت میں الیکشن لڑا۔ ناچاہتے ہوئے بھی راہل گاندھی کو پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ کو لیڈر کے طور پر قبول کرنا پڑا۔

سب سے پہلے جہاں تک کیپٹن امریندر سنگھ کا سوال ہے تو ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنی سیاسی اہمیت بنائے رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے اور پوتے کو پنجاب کی سیاست میں جگہ ملے۔ ابھی تک یہ دونوں ریاست کی سیاست پر کوئی چھاپ نہیں چھوڑ پائے ہیں۔

دوسری طرف، بی جے پی کو امید ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کے آنے سے اسے 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں فائدہ ملے گا۔ کیونکہ زرعی قوانین کو لے کر پیدا ہوئی ناراضگی اب ختم ہوچکی ہے۔ یہی نہیں، اب تک وہ اکالی دل کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے دم پر ریاست میں اپنی موجودگی درج کروائے۔ بی جے پی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر عام آدمی پارٹی کو ہرائے، جس سے کہ اس کے ایک سب سے جارح مخالف پارٹی کو خاموش کیا جاسکے اور اس کی جیت کے راستے (وجے مارچ) کو روکا جاسکے۔

ایسا امکان ہے کہ بی جے پی جلد ہی کیپٹن امریندر سنگھ کو راجیہ سبھا بھیج دے۔ اس طرح بی جے پی کیپٹن امریندر کے چہرے کے ذریعہ کانگریس کو یہ یاد دلاتی رہے گی کہ اس نے پنجاب میں کیا غلطی کی۔ دوسری طرف راہل گاندھی جس طرح سے اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں لگے ہوئے ہیں، اس کی ایک کاٹ بھی کیپٹن ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف بھی ایک بلند آواز ہوسکتے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کی مانخورد شیواجی نگر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مضافاتی ضلع کلکٹر کے ساتھ اہم میٹنگ

Published

on

Abu-Asim-A.

ممبئی : مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ممبئی کے مضافاتی ضلع کلکٹر (آئی اے ایس) سوربھ کٹیار سے ملاقات کی تاکہ مانخورد شیواجی نگر (گوونڈی) اسمبلی حلقہ میں مختلف زیر التواء اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔ ملاقات میں علاقے میں تعلیم، سماجی بہبود اور بحالی سے متعلق اہم مسائل کے حوالے سے تعمیری بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران ایم ایل اے اعظمی نے ضلع کلکٹر کے سامنے کلیدی مطالبات پیش کیے، جن میں مانخورد گوونڈی علاقے میں ڈگری کالج کے لیے سرکاری اراضی مختص کرنا، شیعہ مسلم کمیونٹی کے لیے تعزیہ کی تدفین کے لیے مناسب جگہ کی فراہمی، اور ٹرانزٹ کیمپوں میں رہنے والے مکینوں کی بحالی کے مسائل کا فوری حل شامل ہے۔ میٹنگ کے بعد ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، “عوامی مفاد اور حلقہ کی ہمہ جہت ترقی میرے بنیادی مقاصد ہیں۔ ضلع کلکٹر کے ساتھ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ جلد ہی اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں سازگار فیصلے کرے گی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا : صدر ٹرمپ

Published

on

D.-Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “وہ جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے، چاہے کیسے بھی ہو۔ یہ کوئی زیادہ پیچیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔”

لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں۔ باقی تمام مذاکرات کار ایران میں ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا، “ایرانی قیادت انتہائی دوغلی ہے، پہلے وہ ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں اور پھر کھل کر کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔”

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے پار واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، یہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط تہران مذاکرات میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملے کی اطلاعات سے گھبرا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا اور شدید ترین حملہ ہوگا۔ “ہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان