Connect with us
Tuesday,05-May-2026

(جنرل (عام

نئی دہلی کے عالمی کتاب میلے میں اردو کتابوں کے شائقین

Published

on

سوشل میڈیا کے عروج کے زمانے میں بھی دہلی کے عالمی کتاب میلے کی شان حسب سابق برقرار ہے۔
میلے میں یوں تو مختلف زبانوں کی کتابیں دستیاب ہیں لیکن یہاں اردو کتابو ں کے اسٹالوں پر شائقین کی دلچسپی کے لئے منفرد موضوعات پر ایسی کتابیں زیادہ ہیں جنھیں سمجھنے اور خریدنے کے لئے لوگ بے تاب نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے عروج کے زمانے میں بھی لوگوں کی کتابوں میں اتنی دل چسپی موجب حیرت ہی نہیں اطمینان بخش بھی ہے۔
اگرچہ اس بار عالمی کتاب میلے میں اردو بک اسٹالوں کی کمی ہے لیکن جو پبلشر بھی یہاں شریک ہیں ان کے ہاں موضوعات کا تنوع اور تازہ بہ تازہ عنوانات کی کثرت ہے۔شعروادب کی سکہ رائج الوقت سمجھی جانے والی کتابوں کے علاوہ تاریخ‘ سیاست‘عمرانیات‘فکشن‘جاسوسی ادب اورعصری موضوعات پر بھی کتابیں دستیاب ہیں۔
ہمیشہ کی طرح غالب اور ساحر لدھیانوی کے مجموعوں کی رقنق کے ساتھ اس مرتبہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کے مجموعو ں کی لوگوں کو زیادہ تلاش ہے۔شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی جیسے موضوعات پر بھی لوگ کتابیں ڈھونڈتے نظر آئے۔
اجودھیا تنازعہ پر بالترتیب سرکردہ صحافی معصوم مرادآبادی اور معروف ہندی صحافی شیتلا سنگھ کی کتابیں ’بابری مسجد کا آنکھوں دیکھا حال‘ اور ’رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کا سچ‘ شائقین کی توجہ کا مرکزہیں۔’رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کا سچ‘ کا اردو ایڈیشن فاروس میڈیا نے شائع کیاہے جبکہ ’بابری مسجد کا آنکھوں دیکھا حال‘ کومعصوم مرادآبادی کی ۵۳ سالہ صحافتی زند گی کا نچوڑقرار دا جارہا ہے۔
میلے میں عالمی اردو ٹرسٹ کے اشتراک سے گیارہ جنوری کی شام مشاعرے کا انعقادسنسکرتی کنج میں کیا جائے گا جس کی صدارت روزنامہ انقلاب کے مدیر اعلیٰ شکیل شمسی کریں گے اور نطامت کے فرائض ڈاکتر وسیم راشد انجام دیں گی۔یہ اطلاع ٹرسٹ کے سربراہ اے رحمان نے دی ہے۔
ایشیا کے اس سب سے بڑے کتاب میلے میں قومی اردو کونسل‘ دہلی‘ مغربی بنگال اور راجستھان کی اردو اکیڈمیوں کے علاوہ اردو بک ریویو‘ مرکزی مکتبہ اسلامی‘ایم آر پبلی کیشنز جیسے اردواشاعتی ادارے شرکت کررہے ہیں۔یہ عالمی کتاب میلہ آئندہ ۲۱ جنوری تک جاری رہے گا۔اس میلے کا اہتمام نیشنل بک ٹرسٹ نے پرگتی میدان میں کیا ہے اور یہاں بزرگوں اور طلبا کا داخلہ مفت ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائن اسپتال میں زیر علاج مریض کے سر میں پیوست چاقو نکالا گیا، اسپتال انتظامیہ کی بہتر کارکردگی کے سبب مریض حالت مستحکم

Published

on

ICU

ممبئی ایک 27 سالہ مریض کو لوک مانیہ تلک میونسپل کارپوریشن جنرل اسپتال، سائن کے شعبہ حادثات میں 2 مئی 2026 کی اولین ساعتوں میں لایا گیا تھا۔ مریض کو ناریل کاٹنے والے چاقو سے سر پر مبینہ حملے کے بعد داخل کیا گیا تھا۔ مریض مکمل طور پر ہوش میں اور مستعد تھا اور داخلے پر اس میں کوئی اعصابی کمی نہیں تھی۔ مریض کو فوری طور پر ٹراما آئی سی یو (ایکسیڈنٹ انٹینسیو کیئر یونٹ) میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد مریض کے علاج کے مطابق ضروری طبی ٹیسٹ کرائے گئے۔ مریض کے ریڈیولاجیکل معائنے سے معلوم ہوا کہ ناریل کاٹنے والا چاقو بائیں جانب سے کھوپڑی میں داخل ہوا تھا اور دماغ میں تقریباً 1.5 انچ تک گھس گیا تھا۔ مریض کا فوری طور پر اسپتال کے سرجن نے آپریشن کیا۔ نیورو سرجری ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر بٹوک دیورا کی قیادت میں ٹیم اور اینستھیزیولوجسٹ ڈاکٹر شویتا مبرے کی قیادت میں ٹیم نے سر میں داخل ہونے والے چاقو کو کامیابی سے نکال دیا۔ مریض کی سرجری کامیاب رہی۔ مریض سرجری کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے اور ٹراما آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ مریض کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ مریض کی حالت بھی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سنسنی خیز واقعہ : سائن اسپتال کے آئی سی یو کے باہر سر میں چاقو گھسا ہوا شخص، علاج میں لاپرواہی کے الزامات

Published

on

ممبئی سے ایک نہایت چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے اسپتال کے احاطے میں موجود مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لوکمانیہ تلک میونسپل جنرل اسپتال (سائن اسپتال) کے ٹراما انٹینسو کیئر یونٹ (آئی سی یو) کے باہر ایک شخص سر میں چاقو گھسے ہوئے حالت میں کھڑا نظر آیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر وہاں موجود افراد میں افراتفری مچ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق، مذکورہ شخص شدید زخمی تھا، لیکن کچھ وقت تک اسے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ الزام ہے کہ وہ علاج کے لیے اسپتال پہنچا تھا، مگر کسی بھی ڈاکٹر نے اسے فوری ایمرجنسی کیس کے طور پر نہیں دیکھا اور مبینہ طور پر اسے نظر انداز کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں زخمی شخص کو آئی سی یو میں داخل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس واقعے نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت علاج فراہم کیا جاتا تو صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوتی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھولیہ مسلم بستی پر کارروائی سراسر ناانصافی، ابوعاصم اعظمی کا اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال، کاروائی اور نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کی درخواست

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے دھولیہ میں مسلم بستیوں کو غیر قانونی طریقے سے مکانات خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ اقلیتی کمیشن چیئرمین پیارے خان سے کیا ہے۔ انہوسن نے کہا کہ دھولیہ میں ۲۷۵ مسلمانوں کو بےگھر کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ سرکار نے وزیر اعظم آواس یوجنا کے معرفت ان کی باز آبادکاری کرنے کا جی آر بھی جاری کیا تھا, یہ کنبہ دھولیہ لال سردارنگر اینٹ بٹی علاقہ میں ۴۰ سے ۵۰ برسوں سے آباد تھا, لیکن انتظامیہ نے اچانک انہدامی کارروائی کر انہیں بے دخل کر دیا ہے, انہیں 21 اپریل کو غیر قانونی طریقے سے نوٹس ارسال کی گئی۔ ریاستی سرکار نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۶ کے جی آر کے مناسبت سے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مکینوں کی باز آبادکاری کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔ انتظامیہ کی اچانک کارروائی غیر انسانی او ر غیر قانونی ہے اس لئے اقلیتی کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی نوٹس پر اسٹے حکم امتناعی نافذ کرے اور مکینوں پر انصاف دے اس متعلق دھولیہ کے ایڈوکیٹ زبیر اور مکینوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں انصاف میسر ہو اور غیر قانونی انہدامی نوٹس پر اسٹے عائد ہو۔ ابوعاصم اعظمی نے مکینوں کے مطالبہ پر اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کر کے کارروائی پر روک اور اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان