Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

ساوتھ ممبئی کا مشہور بلڈر دلاوار خان فرار ۔ تھانے پولیس کو ہے تلاش۔

Published

on

ممبئی – ساوتھ ممبئی کا مشہور بلڈر دلاور خان ان دنوں ممبئی سے فرار چل رہا ہے ایسی جانکاری تھانے کرائم برانچ کے افسران سے ملی ہے۔ وہی دلاور خان کی کمپنی ڈی کے ریالیٹر کے ذریعے کیے گئے سبھی لین دین کی جانکاری تھانے کرائم برانچ جمع کر رہی ہے۔ دلاور کے ذریعے بننے والی سبھی عمارتوں کا کام فلحال بند ہے۔

دراصل بلڈر دلاور خان کا نام جب سامنے آیا جب تھانے کرائم برانچ ایک بینک اکاؤنٹ ہیکنگ کی جانچ کر رہی تھی۔ پولیس نے ہیکنگ کیس کی تحقیقات کرتے ہوئے 16,180 کروڑ روپے کے حوالا لین دین کا پردہ فاش کیا۔

تھانے پولیس سائبر سیل نے کمپیوٹر ہیکنگ اسکینڈل کی تحقیقات کرتے ہوئے کل 16,180 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین کا پتہ لگایا ہے۔ تحقیقات کے دوران احکام نے انکشاف کیا کہ 260 پارٹنرشپ فرم کے بینک اکاؤنٹس جھوپڑپٹی آبادیوں کے ناموں پر بنائے گئے تھے۔

ریحیل انٹرپرائزز نامی ایک کمپنی کے دفتر میں تلاشی کے دوران بینک اکاؤنٹس سے متعلق دستاویزات برآمد ہوئیں۔ پولیس نے اس معاملے میں چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کے جن لوگوں کے نام کمپنی درج کی گئی تھی اس کے مالکان میں سے کسی کو بھی ان کھاتوں یا کمپنیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ پارٹنرشپ فرموں کے کچھ بینک کھاتوں میں جن پتے کا ذکر کیا گیا ہے وہ تھانے ریلوے اسٹیشن کے قریب بال گنیش ٹاور کے تھے، جو ایک تجارتی ٹاور ہے جس میں کئی دفاتر ہیں۔ جب پولیس اس پتے پر پہنچی تو صرف ایک آفس بوائے اس آفس میں ملا، جسے ان فرضی کمپنیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، بینک کی چیک بک اور کارڈ جمع کرنے کے لیے اسے وہاں بٹھایا گیا تھا۔

مزید جب ان بینک کھاتوں کی تفصیلات جمع کی گئیں تو پولیس نے پایا کہ جون سے اب تک ان کھاتوں کے ذریعے 16,180 کروڑ روپے سے زیادہ کے لین دین ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کثیر رقم بیرون ملک بھی بھیجی گئی۔

دراصل یہ معاملہ سری نگر پولیس اسٹیشن کی جانب سے پے گیٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (سیف ایکس پے ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ) کی جانب سے درج کی گئی شکایت کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا، یہ ایک پیسوں کی ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔

اس کمپنی کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سال جون میں کچھ نامعلوم لوگوں نے ان کا سسٹم ہیک کرکے 25.18 کروڑ روپے نکال لیے۔ پولیس حکام نے پایا کہ اس اکاؤنٹ سے 1.39 کروڑ روپے ریحیل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی فرم کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے تھے، جو کہ واشی اور بیلا پور میں امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والی فرم ہے۔

تھانے سائبر سیل کے سینئر پولیس انسپکٹر ستیش راٹھوڑ نے کہا، “ہم نے ریحیل انٹرپرائزز کے دفتر کی تلاشی لی اور پتہ چلا کہ کئی باونس شدہ چیک پتے، کچھ پاٹنر شپ کمپنیوں کی کتابیں اور 97 کمپنیوں کے ایگریمینٹ کے کاغذات دفتر میں رکھے گئے تھے۔”

“تمام ایگریمنٹ میں کچی آبادیوں کے پتے تھے اور ان میں سے کچھ کے پتے بال گنیش ٹاور، تھانے کے تھے۔ جب ہم نے پتوں کی تصدیق کی تو پتہ چلا کہ یہ سب جعلی پتوں والی ڈمی کمپنیاں ہیں، اور زیادہ تر کچی آبادیوں کے لوگ، جن کے دستاویزات استعمال کر کے یہ جعلی کمپنیاں بنائی گئی ہے۔” ان کچی آبادی میں رہنے والے لوگوں کو ان کے دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی کمپنیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں کچھ نجی افراد نے قرض فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا اور ان کے کاغذات لے لیے تھے، لیکن انہیں کسی طرح کا کوئی قرض نہیں دیا گیا۔ کئی سارے پارٹنرشپ فرم بنانے کے لیے استعمال ہونے والی دستاویزات بھی جعلی معلوم ہوتے ہیں۔”

پولیس کے مطابق ایسا ہے ایک معاملہ 2016 اور 2017 میں سامنے آیا تھا جب اس معاملے میں حوالہ آپریٹر محمد فاروق عرف فاروق چپل کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ میں گرفتار کیا تھا۔

تھانے اکنامک آفنس ونگ کے ڈی سی پی راجندرا دھباڑے نے کہا کہ ہم نے انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو جانکاری دے دی ہے۔ اس معاملے میں سنجے سنگھ ، امول اندھالے عرف امن، کیدار عرف سمیر دگھے، جتندر پانڈے کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پر آئی پی سی 420، 409،467،468، 120 بی اور 34 کے معاملے درج کر لیے ہیں۔

اس معاملے میں جب دلاور خان کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا تو وہ اس کے بعد سے لاپتہ ہوگیا ہے۔ تھانے پولیس کے مطابق کیوں کے یہ معاملے کی ابھی جانچ چل رہی ہے تو دلاور خان کا اس میں کیا کردار تھا یہ ابھی بتانا ٹھیک نہیں ہوگا۔فلحال تھانے پولیس دلاور خان کو بڑی تیزی سے تلاش کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان