Connect with us
Monday,06-April-2026

بزنس

ملک میں شہد کی مکھیاں پالنے سے زراعت کو بے حد فائدہ : ماہرین

Published

on

Bees

ملک کے شہد کی مکھیوں کے معروف ماہرین اور سائنسدانوں نے زراعت کی ترقی کے لئے شہد کی مکھی پالنے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سے فصلوں کی پیدوار میں بڑے پیمانہ پر اضافہ کے ساتھ دواوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔

شہد کی مکھیوں کے ماہر گرجیت سنگھ گٹوریا نے شہد کی مکھیوں کے عالمی دن پر بہار ایگریکلچرل یونیورسٹی میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہد کی مکھیوں کو پالنے سے غذائی اجناس کی پیدوار میں 35 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔شہدی کی ایک مکھی سے جتنی قیمت کے شہد کی پیداوار ہوتی ہے اس سے 20 فیصد زیادہ فلوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہد کی مکھیوں کو پالنے سے پودھوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ شہد بیماری سے لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے اور شہد کی مکھی
پالنا ایکو فرینڈلی بھی ہے۔

ڈاکٹر گرویا نے کہا کہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ معیاری شہد کی پیداوار کے لئے ہر ایک سال زیادہ سے زیادہ رانی مکھی پیدا کرنی چاہئیں۔ رانی مکھی باکس میں موجود شہد کی مکھیوں کو متاثر کرتی ہے۔انہوں نے شہد کی مکھیوں کو پالنے میں اینٹی بایوٹک کا استعمال نہیں کرنے اور شہد کی مکھی کے باکس کو ہر تین سال میں تبدیل کرنے کی صلاح دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں کے پالنے پر موبائل ٹاور کا برا اثر نہیں دیکھا گیا۔

بہار ایگریکلچرل یونیورسٹی سبور کے چانسلر آر کے سوہنے نے شہد کی مکھیوں کے پالنے میں بہار کے پہلے نمبر پر آنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کا پالنا بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کسانوں کو شد کی مکھیوں کے باکس کو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں لے جانے میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر سوہنے نے کہاکہ انفیکشن کے دور کے دوران کچھ حد تک لیچی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے، اور اس کی وجہ سے شہد کی پیداوار پر بھی اثر پڑا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بزنس

ممبئی والوں کے لیے بڑی خوشخبری… ویسٹرن ریلوے نے 15 کوچز کے لیے پلیٹ فارم کی توسیع مکمل کر لی۔ ویرار سے ٹرین سروس جلد شروع ہوگی۔

Published

on

Local-Train

ممبئی : مغربی ریلوے کے ویرار ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم کی توسیع کا کام مکمل ہو گیا ہے، جس سے 15 کوچ والی لوکل ٹرینوں کو وہاں رکنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پلیٹ فارم 3اے اور 4اے کو 4 میٹر تک چوڑا کر دیا گیا ہے۔ ممبئی ریل وکاس نگم (ایم آر وی سی) نے یہ کام صرف چار ماہ میں مکمل کیا۔ اسٹیشن کے مغربی جانب ایک نیا ہوم پلیٹ فارم نمبر 5اے بھی بنایا گیا ہے۔ اس سے اسٹیشن پر آنے اور روانہ ہونے والی لوکل ٹرینوں کا آپریشن مزید ہموار اور منظم ہو جائے گا۔ جلد ہی 15 کوچ والی لوکل سروسز بھی متعارف کرائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق تمام مکمل شدہ پلیٹ فارم جلد ہی ویسٹرن ریلوے کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

ویرار-ڈاہانو روڈ کوڈرلیٹرلائزیشن پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ویرار ریلوے اسٹیشن پر وسیع پیمانے پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں مسافروں کی ٹریفک کو سنبھالنا، سہولیات کو بہتر بنانا اور مقامی خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، ان کاموں کی تکمیل سے ویرار-ڈاہانو روڈ سیکشن پر ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم ہوں گی۔ حال ہی میں ویسٹرن ریلوے اور ایم آر وی سی کے ساتھ مل کر 15 کوچ والی لوکل ٹرین کا کامیاب ٹرائل رن بھی مکمل کیا گیا۔

ایم آر وی سی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ولاس واڈیکر نے کہا کہ ویرار اسٹیشن پر صلاحیت بڑھانے کا یہ کام پورے سیکشن کے لیے اہم ہے۔ یہ پروجیکٹ ایم آر وی سی اور ویسٹرن ریلوے کے ساتھ مل کر مکمل کیا گیا ہے، جس سے مسافروں کی حفاظت اور کم سے کم رکاوٹ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ویرار سے 15 کوچ والی لوکل ٹرین کے آغاز سے ہزاروں مسافروں کو فائدہ ہوگا۔ زیادہ مسافر ایک ہی لوکل ٹرین میں سفر کر سکیں گے، جس سے اسٹیشن کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ ویرار اسٹیشن سے سفر کرنے والے لوکل ٹرین کے مسافر نئی سروس کے آغاز کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

بزنس

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں بند ہوئی، سینسیکس 787 پوائنٹس کی چھلانگ لگائی

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ پیر کے تجارتی سیشن میں سبز رنگ میں بند ہوئی۔ دن کے اختتام پر، سینسیکس 787.30 پوائنٹس یا 1.07 فیصد کے اضافے کے ساتھ 74,106.85 پر تھا اور نفٹی 255.15 پوائنٹس یا 1.12 فیصد کے اضافے کے ساتھ 22,968.25 پر تھا۔ مارکیٹ کے بیشتر انڈیکس سبز رنگ میں بند ہوئے۔ نفٹی کنزیومر ڈیوربلس (2.60 فیصد)، نفٹی فائنانشل سروسز (2.34 فیصد)، نفٹی پی ایس یو بینک (2.33 فیصد)، نفٹی ریئلٹی (2.23 فیصد)، نفٹی پرائیویٹ بینک (2.16 فیصد) اور نفٹی سروسز (1.66 فیصد) اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ صرف نفٹی آئل اینڈ گیس (1.37 فیصد) اور نفٹی میڈیا (0.22 فیصد) خسارے کے ساتھ بند ہوئے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 815.60 پوائنٹس یا 1.52 فیصد بڑھ کر 54,492.65 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 202.55 پوائنٹس یا 1.29 فیصد بڑھ کر 15,853.05 پر تھا۔ سینسیکس پیک میں، ٹرینٹ، ایکسس بینک، ٹائٹن، ایل اینڈ ٹی، الٹرا ٹیک سیمنٹ، بجاج فائنانس، انڈیگو، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فنسر، پاور گرڈ، این ٹی پی سی، بی ای ایل، ایس بی آئی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ٹاٹا اسٹیل، ٹی سی ایس اور ایچ یو ایل نے فائدہ اٹھایا۔ ریلائنس انڈسٹریز، ایچ سی ایل ٹیک اور سن فارما خسارے میں رہے۔ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ روپے کی قدر میں اضافے اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایل کے پی سیکیورٹیز کے جتن ترویدی نے کہا، “قیاس آرائیوں کو روکنے اور ڈالر کی سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے آر بی آئی کے حالیہ اقدامات سے روپے کو 30 پیسے کی مضبوطی میں مدد ملی ہے اور یہ 93.00 کے قریب ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی توقعات پر خطرے کے جذبات میں بہتری نے بھی بحالی کی حمایت کی ہے، اگرچہ غیر یقینی کی سطح بلند ہے۔ بحالی کے باوجود، خام تیل کی قیمتوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کا دباؤ برقرار ہے۔ قریب کی مدت میں، یو ایس ڈی آئی این آر کی حمایت 92.45 پر دیکھی گئی ہے، جبکہ مزاحمت 93.75-94.00 کے قریب ہے۔

Continue Reading

قومی

ایران کے تنازع کے باوجود کمرشل ایل پی جی کی سپلائی 70 فیصد پر واپس: آئی او سی ایل رپورٹ

Published

on

نئی دہلی: سرکاری تیل کی مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) نے پیر کو کہا کہ تجارتی ایل پی جی کی سپلائی جاری جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کے درمیان بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد تک بحال ہو گئی ہے۔ پی ایس یو فرم نے مزید کہا کہ وہ توانائی کی قابل اعتماد اور موثر رسائی کو برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد غیر یقینی صورتحال کے موجودہ دور میں گھرانوں اور کاروباروں دونوں کی مدد کرنا ہے۔ دریں اثنا، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے کہا ہے کہ آن لائن ایل پی جی بکنگ 95 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ ڈسٹری بیوٹر شپ پر اسٹاک کی کمی کی کوئی مثال نہیں ملی ہے۔ حکومت کے مطابق، صرف 4 اپریل کو 51 لاکھ گھریلو سلنڈر فراہم کیے گئے۔ ڈسٹری بیوشن کو ہموار کرنے اور ڈائیورشن کو روکنے کے لیے، ڈیلیوری توثیق کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ڈیلیوری تیزی سے بڑھ کر 90 فیصد ہو گئی ہے جو فروری میں 53 فیصد تھی، ایران تنازعہ سے منسلک سپلائی میں خلل سے پہلے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے لیے ڈیجیٹل طریقوں کا استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے بغیر ضرورت کے آنے سے گریز کریں۔ چھوٹے سلنڈروں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، ہفتہ کو 5 کلو کے ایل پی جی سلنڈر کی فروخت 90,000 سے تجاوز کر گئی۔ 23 مارچ سے اب تک تقریباً 6.6 لاکھ ایسے سلنڈر فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ قریبی تقسیم کاروں پر دستیاب ہیں اور ایڈریس کی تصدیق کی ضرورت کے بغیر ایک درست شناختی ثبوت کے ساتھ خریدی جا سکتی ہیں۔ حکومت نے کہا کہ تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جس میں خام تیل کی مناسب انوینٹری موجود ہے، اور ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ دستیاب ہے۔ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کھپت کو سپورٹ کیا جا سکے۔ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ گھبراہٹ کی خریداری یا غیر ضروری ایل پی جی بکنگ سے گریز کریں۔ آئی او سی ایل نے یہ بھی کہا کہ وہ ایندھن کی مستقل دستیابی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، جس میں ہسپتالوں، دواسازی اور تعلیمی اداروں جیسے اہم شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان