Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

الیکشن کمیشن غیر فعال ہے، امت شاہ کے اشارے پر کام کررہا ہے:ممتا بنرجی

Published

on

mamta

مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے میں 30اسمبلی حلقوں میں پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی ، تشدداور جھڑپ کی خبروں کے درمیان ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن غیر فعال ہے اور امیت شاہ کے اشارے پر کام کررہی ہے دوسرے مرحلے میں نندی گرام جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بذات خود امیدوار ہیں سمیت کئی حلقوں سے تشدد کی خبریں آرہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے متعدد شکایات کرنے کے بعد باوجود کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گی ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کے حلقے انتخاب نندی گرام کے بیویل میں بوتھ پر قبضہ کیا گیا اور جعلی ووٹنگ ہوئی ہے ۔
بائیل میں بوتھ نمبر 7 کے باہر بیٹھتے ہوئے کہا کہ ہم نے صبح سے ہی 63 شکایات درج کیں۔ لیکن ایک بھی شکایت پر کمیشن نے توجہ نہیں دی ہے۔ ہم اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کا رویہ ناقابل قبول ہے ۔امیت شاہ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن کام کررہا ہے۔ترنمول کانگریس نے کہا کہ نندی گرام میں باہری عناصر کی غنڈہ گردی کی وجہ سے بہت سے ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دوسری ریاستوں کے غنڈے یہاں آکر ہنگامہ آرائی کررہے ہیں ۔
ممتا بنرجی نے اس معاملے کی شکایت ریاست کے گورنر سے بات کرکے شکایت کی ۔بعد میں گورنر نے اس معاملے کو ٹوئیٹ کرکے اطلاع دی۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ بنگال میں 30 حلقوں میں 1.30بجے تک 58فیصد پولنگ ہوئی ہے ۔جن حلقوں میں پولنگ ہورہی ہے ان میں مشرقی مدنی پور اور مغربی مدنی پور اضلاع کی نو ۔نوسیٹیں ، بانکوڑہ میں آٹھ اور جنوبی 24پرگنہ کی چار سیٹیں شامل ہیں۔کمیشن کے افسران کے مطابق کورونا کے پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے ۔
ممتا بنرجی اور شوبھندوادھیکاری دونوں نے پولنگ بوتھوں کا دورہ کرکے ایک دوسرے کے خلاف شکایات درج کی ہے ۔ نندی گرام میںدفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود تشدد کے واقعات ہورہے ہیں ۔
نندیگرام کے بوئل علاقے میں ، دیہاتیوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے حامیوں نے انہیں پولنگ بوتھ پر جانے سے روک دیا ہے۔جیسے ہی بنرجی بوئل کے پاس پہنچیں بی جے پی کے حامیوں نے انھیں “جئے شری رام” نعروں سے استقبال کیا۔ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوا۔ترنمول کانگریس کے لیڈران 7نمبر پولنگ بوتھ پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کو مبینہ طور پر پتھراؤ کے واقعات کے درمیان موقع پر پہنچ گئی
بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے شکست قبول کرلی ہے۔الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے مطابق شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مشرقی میڈیانی پور ضلع کے زرعی حلقہ انتخاب میں ایک بجے تک تقریبا 57 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
ٹی ایم سی کے ایک انتخابی ایجنٹ کی والدہ کو الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے سامنے التجا کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو انتخابی بوتھ میں نہ جانے کے لئے کہیں اور انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں “حزب اختلاف کی جماعتوں نے کل رات دھمکی دی ہے”۔
مظاہرین نے نندیگرام کے بلاک 1 میں بھی سڑک بلاک کردی ، الزام عائد کیا کہ مرکزی فورسز نے انہیں پولنگ اسٹیشنوں میں جانے سے روکا ہے۔ ایک مظاہرین نے بتایا کہ شوبھندو ادھیککاری کے ساتھ موجودسی آر پی ایف کے جوانوں نے انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا ہے ۔
دریں اثنا ، پولیس نے بتایا کہ کیش پور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار تنمائے گھوش کی گاڑی کی مبینہ طور پر توڑپھوڑ کی گئی۔نہوں نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
جنوبی چوبیس پردوں کے گوسابہ کے علاقے میں بھی ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے۔مہیسودال سیٹ پر ، ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں نے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں میں جانے سے روک دیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com