Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

بھیونڈی شہر میں انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 ، فیس 2 کا ناقص درجہ کا کام ایگل کنسٹرکشن کمپنی نے کیا ہے ، اس کی تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل آف آڈٹ آئی آئی ٹی پوئی ممبئی کے ذریعے جانچ کرائی جائے __ کارپوریٹر ساجد اشفاق خان۔

Published

on

malegaon-deep

بھیونڈی: (نامہ نگار ) بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے تحت انڈر گراؤنڈ گٹروں کی تعمیر کا ٹھیکہ میسرز ایگل کنسٹرکشن کمپنی کو میونسپل انتظامیہ کے ذریعے دیا گیا ہے۔ بھیونڈی میونسپل انتظامیہ کے ذریعے انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 جنرل بورڈ کی تجویز نمبر 27 مورخہ 24.7.2009 اور اسٹینڈنگ کمیٹی تجویز نمبر 42 ، بتاریخ 17.5.2010 کے مطابق ، مذکورہ تعمیراتی کام کا ٹھیکہ میسرز ایگل کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا ہے۔ لیکن مذکورہ تعمیراتی کام کمپنی نے ٹھیک طرح سے نہ کرتے ہوئے ناقص درجہ کے مٹیریل کا استعمال کرتے ہوئے گھٹیا درجے کا تعمیراتی کام کیا ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 میں بھیونڈی کٹائی گاؤں واقع پرانا ایس ٹی پی پلان اور ای ٹی پی پلان ، 17 ایم ایل ڈی کی رپورٹنگ ہوئی ہے (Rehabilitation of Existing STP and ETP) ۔ 4،26،48،159 روپیہ کا اسٹیمیٹ بنایا گیا تھا لیکن مذکورہ تعمیراتی کام نہیں کیا گیا تھا اور مذکورہ کام ابتداء سے اب تک بند ہے اس کے باوجود کمپنی کے ذریعے بوگس طریقے سے باہمی ساز باز کرکے بل کی رقم نکال لی گئی ہے۔ جس کی تصویر بھی شکایتی مکتوب کے ساتھ جوڑی گئی ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 میں اجے نگر بھیونڈی واقع پمپنگ اسٹیشن کی مرمت کے لئے 1،71،53،743 روپے کی رقم کی منظوری دی گئی تھی لیکن یہ تعمیراتی کام بھی صرف 30 فیصد ہی پورا ہوا ہے جبکہ باقی بل کی رقم بوگس طریقے سے نکالی گئی ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 میں نیو ایس ٹی پی پلان اور ای ٹی پی پلان 13 ایم ایل ڈی ، کٹائی گاؤں بھیونڈی واقع وال کمپاؤنڈ کے لئے اور روڈ ریسٹوریشن کے لئے تقریباً 5 کروڑ روپے کا بل نکالا گیا ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 میں مدعا نمبر 1 اور 4 کے مطابق اسی طرح کئی دیگر کام ایسے ہیں جس میں تھوڑا سا کام کرکے پورا بل بوگس طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ مذکورہ معاملے میں اگر تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل کوالٹی آف آڈٹ کیا گیا تو اسی وقت یہ سارے معاملات واضح ہوجائیں گے کہ اس معاملے میں کتنا کام ہوا ہے اور کتنا بل بوگس طریقے سے نکالا گیا ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 1 اور 2 میں جو روڈ ریسٹوریشن کا کام ہوا ہے اس میں انتہائی ناقص درجہ کا مٹیریل استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے صرف 5 سے 6 مہینے میں ہی وہ ٹوٹ پھوٹ گئی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسٹیمیٹ کے مطابق روڈ ریسٹوریشن کا کام نہیں ہوا ہے اور سب سے بڑا گھوٹالہ اور ناقص درجہ کا کام روڈ ریسٹوریشن میں ہوا ہے۔ اسی طرح انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم نمبر 7 میں میونسپل کمشنر نے انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 2 ، جنرل بورڈ تجویز نمبر 132 مورخہ 10.6.2010 ، اسٹینڈنگ کمیٹی تجویز نمبر 74 مورخہ 30.5.2011 کے تعمیراتی کام کا تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے ، آئی آئی ٹی پوئی ، ممبئی مورخہ 4.9.2020 کو ایک مکتوب دیا گیا ہے ، جس کا انڈیکس نمبر / ڈبلیو ایس ڈی / 869/2020 ہے۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ فیس 1 اور 2 کا بھی تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل کوالٹی آف آڈٹ آئی آئی ٹی پوئی ممبئی کے ذریعے کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح ، انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم مدعا نمبر 8 میسرز ایگل کنسٹرکشن کمپنی جو پہلے اسی نام سے مشہور تھی لیکن اب یہ کمپنی میسرز ایگل انفرا انڈیا لمیٹڈ میں ضم ہوگئی ہے۔ میسرز ایگل انفرا انڈیا لمیٹڈ کمپنی نے انجورفاٹا سے باغ فردوس مسجد بھیونڈی تک روڈ کو ڈامر کا کام کرنے کے لئے ، تقریباً 8،42،00،000 روپے کا ٹھیکہ لیا تھا جس کا جنرل بورڈ تجویز نمبر 6 مورخہ 1.6.2015 اور اسٹینڈنگ کمیٹی تجویز نمبر 53 ، مورخہ 14.01.2016 کو کمپنی کے ذریعے انتہائی ناقص درجہ کا کام کیا گیا تھا اس کے بعد مذکورہ کام کا تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل کوالٹی آف آڈٹ کیا گیا تھا اس وقت مذکورہ کمپنی پر تقریباً 3 کروڑ 17 لاکھ کا جرمانہ لگایا گیا تھا اور کمپنی کے خلاف نظامپورہ پولیس اسٹیشن میں سی آر نمبر T146 / 2018 کی دفعہ IPC 420،197،34 کے مطابق معاملہ درج کرایا گیا تھا۔ مذکورہ ضمن میں کارپوریٹر ساجد اشفاق خان نے میونسپل کمشنر کو میمورنڈم پیش کر کے درخواست کی ہے کہ مذکورہ سبھی کاموں کا تھرڈ پارٹی ٹیکنیکل کوالٹی آف آڈٹ ہونے تک مذکورہ کمپنی کی انڈر گراؤنڈ گٹر اسکیم فیس 2 کے کسی بھی بل کی ادائیگی نہ کی جائے بصورت دیگر میونسپل کمشنر اور متعلقہ محکمہ اس کا ذمہ دار ہوگا ۔ اس طرح کا مطالبہ کارپوریٹر ساجد اشفاق خان نے میونسپل انتظامیہ سے کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوا تو مجبوراً ہمیں ہائیکورٹ سے رجوع ہونا پڑے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com