Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

قومی خبریں

سُنّی اجتماع کے دوران ممبئی پریس کی داعینٕٕ اسلام اورمبلغین سے خاص بات چیت… ملک کے موجودہ حالات اور اسکی اصلاح کے تعلّق سے فکر

Published

on

سُنّی اجتماع کے دوران ممبئی پریس کی خاص بات چیت داعین، اسلام اور مبلغین سے۔۔ ملک کے موجودہ حالات اور اسکی اصلاح کے تعلّق سے فکر۔۔ آزاد میدان (ممبئی) گزشتہ روز ممبئی کے آزاد میدان میں سنی دعوت اسلامی کی جانب سے ۳۰واں سالانہ سنی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔۔ سرزمین، ممبئی پر یہ سنی اجتماع پچھلے ۲۹ سالوں سے مسلسل ہوتا چلا آ رہا ہے۔۔۔ درمیان میں ۲ سال ایسے بھی گزرے جبکہ دنیا مانوں جیسے رک سی گئی تھی! جی ہاں.. کووڈ پندمک کے چلتے جہاں دنیا کی رفتار کو روک دیا تھا وہیں یہ اجتماع بھی نہیں ہوا۔۔ جبکہ آن لائن اسکا انتظام ہوتا رہا ہے۔۔۔

ممبئی پریس کی ٹیم نے ۱۸ دسمبر ۲۰۲۲ کے روز مرد حضرات کے لیے ہونے والے سُنّی اجتماع میں شامل ہوکر تحقیق کی۔۔ جسکے دوران ممبئی پریس کی بات ہوئی، سُنّی دعوت اسلامی کے بہت ہی مشہور چہرے اور نامور مبلغ و ذمہ دار حضرت مولانا صادق حسین رضوی صاحب سے۔۔ جنہوں نے بڑے اچھے انداز میں ممبئی پریس کا خیر مقدم کیا اور اپنا اظہار٫ خیال پیش کیا۔۔ ممبئی پریس کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اور سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے آج کے موجودہ حال پر روشنی ڈالی، اور خاص طور پر نوجوانوں کے تعلّق سے فکر ظاہر کرتے ہوئے کچھ اہم باتیں کہی۔۔ آج کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کے جس طرح سے ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے! یہ بہت فکر کی بات ہے راتوں کی گہرائی تک سوشل میڈیا کے ذریعے برے اور گندے کاموں میں پڑھے رہنا! صبح کے قریب تک گلی محلے کے یہاں تک کی پبلک ٹوائلٹ کے پاس اور اُنکی دیواروں پر آج ہمارا نوجوان نظر آ رہا ہے!

مولانا صادق حسن رضوی صاحب نے اس بات پر بھی غور کروایا کے آج ہمارے نوجوانوں کا یہ حال کیوں ہوگیا ہے؟ انہوں نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا نوجوان چاہئے جسے آپ پکڑ کر پوچھ لیں۔۔۔ “تمہارا آئیڈیل کون ہے؟” وہ فوراً یاتو کسی فلم اسٹار کا نام لیے گا، ياتو کسی سنگر کا نام لیے گا! اور جو کچھ حد تک سیاست میں انٹریسٹ رکھتے ہیں۔۔ تو وہ کسی سیاسی لیڈر کا نام پیش کر دیگا! جسکی وجہ آج ہماری دین اور قرآن سے دوری ہے، مسلمان ہو کر بھی ہم اسلام کو نہیں جانتے، ایک نوجوان بالغ ہو گیا اُس پر کبھی غسل بھی فرض ہوتا ہوگا۔۔ تو کیا اُسے اسکے فرائض کیا کیا ہے اسکا علم ہے؟

انہوں آج کے اُن ماں باپ کے تعلّق سے بھی ہدایات کرتے ہوئے ممبئی پریس کے ذریعے یہ پیغام پہنچائی۔۔ جو اپنے بچوں کو صرف اس ڈر سے مسجد اور مدرسے نہیں بھیجتے کے ہمارا بچہ اگر وہاں جائیگا؟ تو مولوی بن کر رہ جائیگا۔۔ اور اُسکی دنیا میں کامیابی رک جائیگی! اس مسلٌے پر بھی فکر ظاہر کرتے ہوئے پہلے یہ واضح طور پر کہی کے اسلام کسی بھی انداز میں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے اور دنیا میں کامیاب ہونے سے نہیں روکتا۔ اسکے بعد انہوں نے و مشہور حدیث٫ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جس میں “آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑھے۔” انہوں نے اس حدیث٫ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کے ہمارے نبی نے چین جا کر بھی علم حاصل کرنے کا حکم کیوں دیا؟ کیا چین اسلامی تعلیمات کا کوئی مرکز ہے؟ نہیں۔۔ بلکہ حضور کی نظریں دیکھ رہی تھی کی ایک وقت ایسا بھی آئیگا کی دنیا پر چین کا قبضہ ہوگا۔۔ وہاں کی تکنیک دنیا بھر میں معنی جائیگی۔۔ اس سے واضح ہو گیا کے اسلام کبھی بھی دنیاوی تعلیم سے روکتا نہیں ہے۔۔ آپ کو دنیا کے جس بھی شعبے میں ترقی کرنی ہے؟ شوق سے کرو۔۔ مگر اس کے ساتھ اسلام اور دین کی تعلیمات کا بھی سیکھنا بہت ضروری ہے۔۔۔

حضرت سید شیخِ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر حضور مخدوم علی ماہمی کسی بھی اللہ کے ولی کی تاریخ اٹھا کر پڑھے۔۔ تو ہمیں یہ ملتا ہے کے اُن کی کامیابی کے پیچھے اُنکی ماؤں کا ہاتھ رہا ہے۔۔

اسکے بعد انہوں نے دعوتِ فکر دیتے ہوئے یہ نصیحت کی۔۔ آج ضرورت ہے کے ہمارے نوجوانوں کی اندازِ زندگی کو سدھارا جائے۔۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارا نوجوان طبقہ قرآن و سنت سیکھیں۔۔ اور سُنّی دعوت اسلامی لوگوں کو یہی فکر دیتی ہے۔۔ اور اللہ اور رسول کی نہ نافرمانیوں سے روکتی ہے۔۔

(ٹیم ممبئی پریس)

سیاست

بی جے پی کے مرکزی قائدین تریپورہ یونٹ پر زور دیتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نیٹ ورک کو مضبوط کیا جائے۔

Published

on

bjp-meeting

نئی دہلی/اگرتلہ : بی جے پی کی مرکزی قیادت نے تریپورہ کی ریاستی اکائی سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی اسکیمیں سماج کے تمام طبقات کے لوگوں تک پہنچیں۔ تریپورہ میں بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعہ کو کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین اور قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) بی ایل۔ سنتوش نے جمعرات کی رات نئی دہلی میں ریاستی رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگ کی۔ رہنما نے کہا، “مرکزی رہنماؤں نے ریاستی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید فعال کریں اور گاؤں کی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے اہم انتخابات سے قبل تنظیم کو مضبوط کریں۔”

انہوں نے کہا کہ مرکزی قائدین نے ریاستی قائدین سے پارٹی تنظیم کے کام کاج اور دیہی کمیٹیوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے آئندہ انتخابات سے قبل اس کی حیثیت کے بارے میں بھی رائے لی۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والی یہ ملاقاتیں آنے والے اہم انتخابات کے لیے بی جے پی کی حکمت عملی اور اس کے دو قبائلی حلیفوں، ٹپرا موتھا پارٹی (ٹی ایم پی) اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) کے ساتھ انتخابی اتحاد کے لیے اہم ہیں۔

اس سال تریپورہ قبائلی علاقہ جات خود مختار ضلع کونسل (ٹی ٹی اے اے ڈی سی) کے تحت 587 دیہاتی کمیٹیوں (گرام پنچایتوں کے برابر) اور 20 سے زیادہ شہری بلدیاتی اداروں کے لیے انتخابات شیڈول ہیں۔ 12 اپریل کو ہونے والے ٹی ٹی اے اے ڈی سی کے انتخابات میں، ٹپرا موٹھا پارٹی (ٹی ایم پی) نے 28 میں سے 24 منتخب نشستیں جیت کر بھاری اکثریت حاصل کی۔ بی جے پی صرف چار جیتنے میں کامیاب رہی۔

بی جے پی اور اس کے دو قبائلی حلیف، ٹی ایم پی اور انڈیجینس پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) نے انتخابی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد الگ الگ انتخابات میں حصہ لیا۔ 2021 سے، ٹی ایم پی حکمت عملی کے لحاظ سے اس اہم کونسل پر حکومت کر رہی ہے، جسے ریاستی اسمبلی کے بعد تریپورہ کا دوسرا سب سے اہم آئینی اور سیاسی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ 30 رکنی ٹی ٹی اے اے ڈی سی میں 28 منتخب نمائندے اور ریاستی حکومت کے نامزد کردہ دو ارکان شامل ہیں۔ یہ تریپورہ کے 10,491 مربع کلومیٹر جغرافیائی رقبے کے تقریباً 70 فیصد کا انتظام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ نتن نوین اور بی ایل سنتوش، دیگر مرکزی قائدین جنہوں نے دونوں میٹنگوں میں شرکت کی ان میں بی جے پی کے شمال مشرقی کوآرڈینیٹر سمبیت پاترا اور تریپورہ کے لئے پارٹی کے مبصر راجدیپ رائے شامل تھے۔ رائے سلچر سے موجودہ ایم ایل اے اور جنوبی آسام سے لوک سبھا کے سابق رکن ہیں۔ کل، تریپورہ سے بی جے پی کے 14 رہنماؤں نے، پارٹی کی کور کمیٹی کے تمام اراکین، نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ میٹنگوں میں شرکت کی۔

نئی دہلی میں میٹنگوں میں شرکت کرنے والے ریاستی قائدین میں وزیر اعلیٰ مانک ساہا، ریاستی صدر ابھیشیک دیبروئے، سینئر وزرا رتن لال ناتھ، ٹنکو رائے، اور بیکاش دیببرما، ریاستی اسمبلی کے اسپیکر رام پدا جمعیتہ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ رکن پارلیمنٹ بپلب کمار دیب، راجیہ سبھا کے رکن راجیو بھٹاچاریہ، اور سابق مرکزی وزیر پراکھو شامل تھے۔

Continue Reading

سیاست

پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

Published

on

Rahul-Gandhi

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”

اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”

اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading

سیاست

اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے راہول گاندھی کے پریاگ راج پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے کا الزام حکومت پر لگایا

Published

on

Sansad

نئی دہلی : اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے کسانوں کے مسائل اور طلباء کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پریاگ راج میں راہل گاندھی کے مجوزہ “چھترون کی گونج” پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وویک تنکھا نے پریاگ راج میں راہل گاندھی کے پروگرام کی اجازت کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ملوث ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کو روکنے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اشوک سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی ملک کے طلباء، کسانوں اور عام لوگوں کی آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوریت آمرانہ طریقوں سے نہیں چل سکتی اور ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔

کانگریس ایم پی ورشا گائیکواڈ نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ بچوں کے خلاف مبینہ حملوں اور واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کا جوابدہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس مسئلہ پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے اور اسی وجہ سے متعلقہ وزراء ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ حکومت راہول گاندھی سے سیاسی طور پر خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔

کسانوں کے مسئلہ پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرشانت پاڈول نے حکومت کی زرعی اور توانائی کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کئی جگہوں پر انہیں صرف آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ دھان جیسی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ حکومت کی سولر پمپ سکیم غیر موثر ہے، کیونکہ بہت سے سولر پمپ 350 سے 1000 فٹ کی گہرائی سے پانی نکالنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سولر پالیسی میں ترمیم کرے۔

دریں اثنا، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے مغربی بنگال میں مبینہ طور پر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانا ہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رکن پارلیمنٹ مہوا ماجی نے پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ کی موجودگی کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آئیں اور اپنا موقف پیش کریں، اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں ذمہ دار وزراء کا ایوان میں موجود ہونا ضروری ہے۔

بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر رانچی میں جاری طلبہ کی تحریک کے بارے میں مہوا ماجی نے کہا کہ جھارکھنڈ کی صورتحال دہلی سے مختلف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ چیئرپرسن کا استعفیٰ اسی دن منظور کر لیا گیا تھا جس دن پیپر لیک کا واقعہ سامنے آیا تھا، سی آئی ڈی کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور چھاپے اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق، ریاستی حکومت طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے طلباء کے ساتھ بات چیت کے لیے نمائندے بھی بھیجے ہیں اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان