Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

ہندو شدت پسند تنظیمو ں کی دھمکی اور موجودگی کے باوجود شاہین باغ خاتون مظاہرین کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کے جوش و خروش، ہمت اورعزم میں ہندو شدت پسند تنظیمو ں کی دھمکی، گولی چلنے اور شاہین باغ سریتاوہار میں ان تنظیموں کی موجودگی کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی ہے اور پوری شدت اور دم خم کے ساتھ دٹی ہوئی ہیں۔
شاہین باغ میں اس وقت خاتون پرامن طریقے سے دھرنا پر بیٹھی ہوئی ہیں لیکن سریتاوہار کی طرف سے پولیس کے ساتھ پچاس کے آس پاس ہندوشدت پسندوں کے رکن کھڑے ہیں۔ ابھی ان کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پولیس کے ساتھ وہ لوگ وہاں کیا کررہے ہیں۔ موقع پر موجودہ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندو شدت پسند تنظیموں کو پولیس کی حمایت حاصل ہے ورنہ وہ لوگ یہاں آنے کی ہمت نہیں کرتے۔
عینی شاہدین اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی روز سے مسلسل دھمکی دی جارہی تھی اور کل ہی ہندو شدت پسند تنظیموں سے منسلک ارکان نے شاہین باغ کو خالی کرانے اور اس سے نمٹنے کی دھمکی دی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ لوگ آج یہاں آبھی گئے ہیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کوانتظامیہ پر بڑھاوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ مرکزی وزائے رکن پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کھلے عام گولی مارنے کی بات کر رہے ہیں لیکن پولیس، انتظامیہ، عدلیہ اور قومی انسانی حقوق کمیشن یہاں تک کے اقلیتی کمیشن بھی اس پر کوئی نوٹس نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔
مظاہرین نے انتظامیہ پر امتیاز برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی مسلمان گولی مارنے کی بات کرتا تو ان پر درجن بھر دفعات لگانے کے ساتھ جیل میں بھیج دیا گیا ہوتا اور پورے ملک میں ان کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کیا جارہا ہوتا لیکن اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فائرنگ کرنے والے کے ایک ہندو تنظیم نے انعام کا اعلان کیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور عدلیہ کیا کارروائی کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شاہین باغ میں کپل گوجر نے فائرنگ کرکے دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی یہ انہی ذہنیت کی پیداوار ہے جو ذہن کچھ مرکزی وزراء اور کچھ کارکان پارلیمنٹ تیار کر رہے ہیں۔
خاتون مظاہرین نے ہندوشدت پسند تنظیموں کے ارکان کی موجودگی کے بارے میں کہا کہ ہمارے عزم کو وہ لوگ متزلزل نہیں کرسکتے۔ ہم کسی کے کارندے یا کسی کے اشارے میں چلنے والے نہیں ہیں کسی سے ڈرجائیں۔ ہم ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کے لئے نکلے ہیں۔ ہم کسی ذات مفادات کی تکمیل کے لئے نہیں بیٹھی ہیں اس لئے ہمیں کوئی فائرنگ، کوئی گیدڑ بھبکی، کوئی دھمکی ہمیں اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹاسکتی۔ انہوں نے کہاکہ پورا ملک ہی نہیں پوری دنیا میں شاہین باغ مظاہرین کی علامت بن چکا ہے اس لئے یہ لوگ اسے ہٹانے کے لئے اور آپس میں خلل ڈالنے کے لئے ہر طرح کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین میں گولی چلنے کی وجہ سے شاہین باغ خاتون مظاہرین کافی محتاط ہیں، مظاہرین شامل خاتون کارکن اور مرد باہر سے آنے والوں کی تلاشی بھی لے رہے ہیں اور سارے احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں۔
جامعہ کے طلبا 15دسمبر کو ہوئی پولیس کی ظالمانہ کارروائی اور شہریت (ترمیمی)قانون کے خلاف پچھلے ڈیڑھ ماہ زائد جاری سے مظاہر ہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی موجودگی میں گولی چلنے سے بھی شدت میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ پوری رات مظاہرین ڈتے رہتے ہیں اور سخت سردی کے باوجود ان کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ واضح رہے کہ جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے جمعرات کوبابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ جانے کیلیے جیسے ہی مارچ نکالاتھا کیمپس سے چند قدم کے فاصلہ پر پولیس کے سامنے اچانک ایک شخص پستول لہراتے ہوئے آیا اور بھیڑ پر گولی چلادی جس سے ایک طالب علم زخمی ہوگیاتھا۔جامعہ کو آڑڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے راج گھاٹ تک مارچ نکالنے کا نعرہ دیاگیاتھا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں ضافہ ہوتا جارہاہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے اور یوپی کے سنبھل سے خواتین کے بڑے مظاہرے کی خبر آرہی ہے جہاں ہزاروں خواتین رات دن مظاہرہ کررہی ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ دہلی میں الیکشن کے ماحول میں بھی ہر روز خاص ہورہا ہے اور اہم مقرر اور سماجی سروکار سے منسلک افراد یہاں تشریف لارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آج کئی اہم مقررین نے خطاب کیا۔ آج رات سابق آئی پی ایس افسر عبدالرحمان تشریف لا رہے ہیں۔ محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ ان مقررین نے سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ان کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کیا اور حکومت کی طرف جاری مہم کا پردہ فاش کیا۔ اس کے علاوہ دہلی میں اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مالویہ نگر کے حوض رانی پارک، گاندھی پارک، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، نور الہی،اوربیری والا باغ، نظام الدین جامع مسجدسمت ملک تقریباً سو سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو مختلف طریقے سے پریشان کرنے، ان کے گھروں پر دباؤ ڈالنے اور ایف آئی آر کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی متعدد اہم شخصیات اب تک وہاں پہنچ چکی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اسی کے ساتھ سنبھل میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہاہے اور روزا نہ سات آٹھ ہزار خواتین اس سیاہ قانون کے خلاف رات دن مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے۔خواتین کا یہ مظاہرہ اترپردیش کے کئی شہروں میں پھیل رہا ہے۔
اس کے علاوہ مدھیہ پردیش بھی بڑا شاہین باغ بن چکا ہے۔ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس اور اندور میں خواتین بڑی تعداد میں مظاہرہ کررہی ہیں۔ اندور میں بھی خواتین کو پولیس نے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر ہزاروں کی تعداد میں خواتین مظاہرہ گاہ پر پہنچ گئیں اور اس طرح پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ اندور اور مدھیہ پردیش میں کئی جگہ خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔
اس وقت پورا ملک شاہین باغ بن چکا ہے مجموعی طور پر اس وقت دو ڈھائی جگہوں پر خواتین کا مظاہرہ جاری رہے۔ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا ایک شاہین باغ بن رہا ہے اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے یہ دہلی کے بعد دوسرا شاہین باغ ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں اور بہت سے ہندو نوجوان نہ صرف اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں اہم لوگ خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار میں یہ مظاہرہ پنچایت کی سطح پر بھی ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شاہی عیدگاہ قریش نگر،حضرت نظام الدین،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے کوٹہ میں احتجاج جاری ہے اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے گھر باہر بھی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔اس کے ساتھ مختلف علاقوں اور حصوں میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان