Connect with us
Friday,28-August-2026

(جنرل (عام

محکمہ اقلیتی فلاح و بہود حکومت ہند نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کورول ماڈل کے طور پر تسلیم کیا ہے : عبدالقیوم انصاری

Published

on

Press conference

بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے طریقہ تعلیم اور اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو محکمہ اقلیتی فلاح و بہود حکومت ہند نے رول ماڈل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ بات بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کیلئے ایک مثالی بورڈ مانا گیا ہے، جس کو پورے ہندوستان میں نافذ کئے جانے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں 9 ستمبر کو مدرسہ بورڈ کی رپورٹ Best Practices Report of Bihar State Madrasa Education Board, Patna نئی دہلی میں پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود حکومت ہند نے تمام مدارس کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ماڈل کو اپنائیں، جو دینی اور عصری تعلیم کا سنگم ہے۔

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلی: نتیش کمار کی رہنمائی میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مایہ ناز ماہرین تعلیم کے ذریعہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کا جدید نصاب تعلیم تیار ہوا۔ جس میں وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی درجات کے نصاب تعلیم کو از سر نو مرتب کیا گیا۔
نصاب کمیٹی کی نشست یو این او (U.N.O) کی شاخ یونیسیف کے تعاون سے یونیسیف کے آفس پاٹلی پترا، پٹنہ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں درجہ ایک سے 8 تک تحتانیہ درجہ۔1 اور وسطانیہ درجہ۔8 تک مذہبی کتاب کے ساتھ ایس سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی گئی، اور درجہ 9-10 فوقانیہ درجہ 11-12 مولوی میں مذہبی کتاب کے ساتھ این سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی درجہ مولوی کے تین شعبہ مولوی آرٹس، مولوی سائنس، اور مولوی کامرس کے نصاب بھی تیار کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی کے نصاب میں جدت پیدا کرتے ہوئے مولوی اسلامیات کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ سبھی درجات کے جملہ موضوعات کے ضمن میں حکومت بہار کے رہنماء اصول کے تحت (Guide Line) Learning Outcome بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کی طباعت کرا کر پورے بہار تمام مدارس کو فراہم کرائی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی یونیسیف کے تعاون سے لرننگ آؤٹ کم کی ٹریننگ زوم کے ذریعہ تین ہزار مدارس کے اساتذہ کو کرائی گئی ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ اساتذہ کرام کو کیا پڑھانا ہے، اور کیسے پڑھانا ہے، اس سے ان کی تلقین ہوگی۔

مسٹر عبدالقیوم انصاری نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے جدید نصاب تعلیم میں مذہبی کتابوں کے ساتھ عصری علوم کی تدریس کیلئے درجہ1 سے لیکر 8 تک ایس سی ای آر ٹی (SCERT) اور درجہ 9 سے 12 تک کیلئے مذہبی کتابوں کے ساتھ عصری علوم کی تدریس کیلئے این سی ای آر ٹی (NCERT) کی کتابیں شامل نصاب کی گئی ہیں۔ ایس سی ای آر ٹی اور این سی ای آر ٹی کی کتابیں بہار ٹیکسٹ بک کارپوریشن لیمیٹیڈ سے شائع کرا کر مدارس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کیلئے فراہم کرادی گئی ہیں۔ مدارس ملحقہ کی لائبریری کیلئے دفتر مدرسہ بورڈ کے ذریعہ وسطانیہ تا مولوی پر مشتمل درسی کتابیں فراہم کرائی جا چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے جدید نصاب تعلیم میں درجہ تحتانیہ اولیٰ تا وسطانیہ (1to 8) ایس سی ای آر ٹی اور درجہ فوقانیہ اولیٰ سے مولوی (9to 12) تک عصری علوم کی کتابیں این سی ای آر ٹی (NCERT) کی عصری کتابیں شامل نصاب کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مشرقی علوم (عربی و دینیات) کی کتابوں میں بھی جدت اختیار کی گئی ہے، اور یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ وسطانیہ تا مولوی کی درسی کتابیں آن لائن (Online) مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ویب سائٹ www.bsmeb.org پر اپلوڈ (Upload) کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی علوم کی کتابیں بھی اپلوڈ کر دی گئی ہیں۔ مدارس کے اساتذہ کرام و طلباء و طالبات آن۔لائن موضوع اور درسی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں، اور ضرورت محسوس کرنے پر اسے ڈاؤن لوڈ (Download) بھی کر سکتے ہیں۔ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات اور دیگر عوام کے لئے بھی یہ سہولت فراہم ہے۔

اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ تحتانیہ،وسطانیہ تا مولوی درجات کی نصابی کتابوں کی فراہمی کے لئے ریاست بہار میں دو کاؤنٹر کھولے جا چکے ہیں۔ درسی کتابیں طباعتی قیمت (Print-rate) پر دفتر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ، اپیکس ٹاور، ہارون نگر سیکٹر۔2 اور علاقائی دفتر مدرسہ بورڈ جو پورنیہ میں دستیاب ہے۔ مدارس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے ذریعہ کتابوں کی خریداری متواتر جاری ہے۔

اس کے علاوہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ نے ’مکھ منتری مدرسہ پستک وترن بھان‘ کا انتظام کیا ہے، جس کے ذریعہ تحتانیہ، وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی کی درسی کتابیں ریاست بہار کے مدارس اور اس کے گردو نواح میں خواہش مند حضرات تک گھر گھر جا کر درسی کتابیں فراہم کرائی جا چکی ہیں، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مسٹر انصاری نے کہا کہ ریاست بہار میں 4000 ہزار منظور شدہ مدارس ہیں، جن میں سے تقریباً 2000 مدارس گرانٹ شدہ ہیں۔ ان سبھی مدارس میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کو وزیر اعلیٰ بہار کے ذریعہ سائیکل، اسٹائپن، مڈ ڈے میل، پوشاک منصوبہ کو لاگو کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ حوصلہ افزائی منصوبہ کے تحت درجہ فوقانیہ (میٹرک) میں اول مقام حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو 10 ہزار روپئے درجہ مولوی (انٹر) میں اول مقام حاصل کرنے والی طالبات کو 15 ہزار روپئے دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے دفعہ 28 (2) کے تحت جس ادارے میں دینی تعلیم کا نظام ہوگا، اور جو سرکاری مراعات حاصل کرتا ہے، اس ادارہ کو ٹرسٹ کے ذریعہ رجسٹرڈ (Registered) ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ تعلیم نے اپنے مکتوب نمبر۔10@ew&148@2019 1360 مورخہ30@11@2019 کے ذریعہ مدرسوں کی انتظامیہ کا رجسٹریشن (Registration) ٹرسٹ یا سوسائیٹی سے کرانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس لئے ریاست بہار کے جملہ مدارس کی انتظامیہ کو ٹرسٹ یا سوسائیٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اپنی انتظامیہ کو رجسٹرڈ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بہار کے زیادہ تر مدارس ملحقہ کی مجلس انتظامیہ رجسٹرڈ ہو چکی ہیں، اور جن مدارس نے اپنی کمیٹی کو رجسٹرڈ تا ہنوز نہیں کرایا ہے، اس کیلئے دفتر مدرسہ بورڈ سے اجتماعی فرمان جاری کر دیا گیا ہے۔

عنقریب کابینہ (Cabinete) سے اس کی منظوری مل جائے گی، جس سے مدرسہ بورڈ اور مدارس ملحقہ کا نظام مزید بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ مدرسہ بورڈ میں انفارمیشن ٹکنالوجی سیکشن کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی کا داخلہ آن لائن کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امتحان فارم بھی آن لائن بھرے جا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ داخلہ کارڈ یعنی ایڈمٹ کارڈ و نتائج امتحانات بھی آن لائن جاری کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی طلباء و طالبات کو مارکشیٹ بھی آن لائن ڈاؤن لوڈ (Download) کرنے کی سہولت فراہم ہے۔ ریاست بہار کے مختلف اضلاع میں موجود مدرسوں کے مدرسین، کمیٹی کے ممبران کے ساتھ گاؤں کی عوام کے ذریعہ آن لائن درخواستیں دی جاتی ہیں، اور اس کا جواب بھی آن لائن دیا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں اپنا سرور (Server) نصب کر دیا گیا ہے۔ جس سے دفتر کو کسی دوسرے سرور کی مدد اب نہیں لینی پڑتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کے ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تمام کام اسی سرور کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ جس پر آئی ٹی سیکشن کے آئی ٹی انچارج کو مامور کیا گیا ہے۔

مدرسہ بورڈ کے چیرمین نے کہا کہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور یونیسیف کے مشترکہ تعاون سے درجہ فوقانیہ و مولوی معیار کے طلباء و طالبات کے لئے Career Guidance Programme کی شروعات کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے توسط سے طلباء و طالبات کو یہ سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔ ساتھ ہی آگے کی تعلیم کیلئے طلباء و طالبات کو موضوع وار تعلیم گاہ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس نہج پر کون کون سے نوکری پا سکتے ہیں، یہ بھی بتایا گیا ہے۔

(جنرل (عام

نیپال میں سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری رابطے سے باہر ہیں، چین کی طرف سے 400 محفوظ ہیں : ایم ای اے

Published

on

وزارت خارجہ (ایم ای اے ) نے جمعہ کو کہا کہ نیپال میں آنے والے مہلک سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری رابطہ سے باہر ہیں، جب کہ چین کی طرف 400 ہندوستانی شہری محفوظ ہیں۔ جمعہ کو نئی دہلی میں دو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ 84 ہندوستانی شہریوں بشمول 63 ہندوستانی شہری جو ترشولی-1 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں کام کر رہے تھے، کو اب تک بچایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 96 ہندوستانی شہری جو چین کی طرف پھنسے ہوئے تھے، بحفاظت زمینی راستے سے نیپال میں داخل ہوئے ہیں۔

نیپال میں ہندوستانی شہریوں کی صورتحال پر جیسوال نے کہا، “پہلی خوشخبری، 21 ہندوستانی شہری جو کل اس سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے سے کھٹمنڈو پہنچے تھے، وہ آج دہلی اترے ہیں، وہ ابھی ابھی اترے ہیں۔ یہ 21 ہندوستانی شہری، تمل ناڈو سے ہیں اور وہ انڈیگو کی فلائٹ سے پہنچے ہیں جو ابھی دہلی میں اتری تھی۔ کل ہمارے امباسد میں ان سے ملاقات کی تھی۔” خیریت سے ان 21 ہندوستانی شہریوں کے علاوہ، کل میں نے آپ کو اطلاع دی تھی، ہم نے آپ کو 63 ہندوستانی شہریوں کے بارے میں اپ ڈیٹ دیا تھا جو ترشولی-1 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں کام کر رہے ہیں، انہیں بھی کل بچا لیا گیا تھا۔”ان 21 اور 63 کے علاوہ، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چین کی طرف پھنسے ہوئے 96 ہندوستانی شہری بحفاظت زمینی راستے سے نیپال میں داخل ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ان کے بارے میں تفصیلات شیئر کریں گے اور جب ہمارے پاس تفصیلات وغیرہ کے بارے میں مزید معلومات ہوں گی۔” جیسوال نے کہا کہ تقریباً 100 ہندوستانی شہری جو کاش کے ساتھ سفر کر چکے ہیں۔ مانسروور یاترا کا رابطہ منقطع رہا۔

“جہاں تک ان لوگوں کی تعداد کا تعلق ہے جن سے ہم رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں یا جو لاپتہ ہیں، اس وقت یہ تعداد 320 ہے۔ لیکن، براہ کرم ذہن میں رکھیں کہ ہم ایک متحرک صورتحال میں ہیں، اس لیے اعداد و شمار اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمیں کئی فہرستوں کو جوڑنا ہے جن سے ہم نمٹ رہے ہیں۔ تقریباً 100 ایسے افراد بھی ہیں جو ہندوستانی نژاد ہیں یا ان لوگوں سے تعلق نہیں رکھ سکتے جو ہندوستانی ہیں۔ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہیں، لیکن وہ دیگر قومیتوں کو رکھتے ہیں، یہاں ہمارا ایم ای اے کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے جیسا کہ کھٹمنڈو میں ہمارے سفارت خانے اور بیجنگ میں ہمارے سفارت خانے کے کنٹرول رومز کا ہے۔”

ایم ای اے کے ترجمان نے کہا کہ 400 ہندوستانی شہری جو چین کی طرف تھے محفوظ ہیں اور اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ہندوستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر چین کی طرف پھنسے ہوئے 400 لوگوں کے انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔”چین کی طرف، ہمارے پاس 400 ہندوستانی شہری ہیں، وہ محفوظ ہیں۔ وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں کیونکہ فون وغیرہ، مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ اس طرف کام کر رہا ہے۔ ہمارا سفارتخانہ ان میں سے بہت سے لوگوں سے رابطے میں ہے، درحقیقت ان کے خاندان کے اراکین کے ساتھ ان کے رہنماوں کے ذریعے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔” ہیلپ لائن نمبر جو کہ ہمارا سفارت خانہ ابھی بیجنگ میں چل رہا ہے…جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ ایک متحرک صورتحال ہے اس لیے ہم آپ کو بعد میں تازہ ترین اعداد و شمار دیں گے لیکن اس وقت ہم تقریباً 400 افراد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، “ہمارا سفارت خانہ چین میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور وہ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ وہاں موجود ان لوگوں کو کیسے نکالا جا سکتا ہے لیکن صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ یہ تمام 400 افراد یا اس سے زیادہ لوگ محفوظ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا۔ یہ سیلاب، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان ایک عبوری دریا پر برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے آیا تھا، بھوٹے کوشیل دریا کے نیچے دریا کے کنارے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، نیپال کے بھوٹیکوشی علاقے میں تباہ کن سیلاب سے متعدد انسانی بستیوں، سڑکوں، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور ٹرانسمیشن کے بنیادی ڈھانچے کو بہا لے گیا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مکوکا مقدمے میں گزشتہ چھ ماہ سے مفرور اروند سوڈا گینگ کے رکن اشفاق گرفتار

Published

on

ممبئی مانخورد پولس نے مکوکا کیس میں مطلوب مفرور ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے مانخورد پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 308(5)، 351(3)، 329(3)، 333 اور مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول ایکٹ 1999 (مکوکا) کی دفعات 3(1)، 3(2)، 3(4) کے مقدمے میں مطلوب ملزم اشفاق اےشمس الدین خان عرف ببّو، عمر 39 سال، مقدمہ درج ہونے کے بعد سے فرار تھااسے باقاعدہ گرفتار کیا گیا ۔مذکورہ ملزم گزشتہ چھ ماہ سے گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش تھا ۔ ملزم کے موبائل نمبر کے سی ڈی آر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا تھا، جبکہ اس کے رابطے میں موجود افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرکے بھی اس کی تلاش جاری تھی۔ اس کے علاوہ خفیہ مخبروں کو بھی ملزم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اس کا سراغ لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔خفیہ مخبر کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی کہ مذکورہ ملزم کلیان کے علاقے میں اپنی شناخت چھپا کر رہ رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد

پر تکنیکی تجزیے اور مقامی مخبروں کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرکے اس کی موجودگی اور رہائش کی جگہ کی تصدیق کی گئی۔پولیس نے اس علاقے میں نگرانی رکھی اور ملزم کو فرار ہونے یا گاڑی کے ذریعے نکل جانے کا موقع نہ دیتے ہوئے پولیس ٹیم نے حکمتِ عملی سے اسے حراست میں لے لیا۔ اسے گرفتار کرکے خصوصی سیشن عدالت، مکوکا کورٹ، ممبئی میں پیش کیا گیا، جہاں معزز عدالت نے 8 دن کی پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔یہ قابلِ ذکر کارروائی پولیس کمشنردیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل پولیس کمشنر (مشرقی علاقائی ڈویژن)دھننجے کلکرنی، ڈپٹی پولیس کمشنر (ایسٹرن ریجن) 01 سمیر کی رہنمائی میں انجام دی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے لیے دستاویزات و مسودہ جمع

Published

on

ممبئی 19 اگست 2026 کو الیکشن کمیشن آف انڈیا سے انتخابی فہرستوں کے لیے خصوصی نظرثانی کے پروگرام کے حوالے سے ایک نظرثانی شدہ شیڈول موصول ہوا تھا۔ اس کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 24 اگست 2026 کو ممبئی شہر سٹی اور ممبئی کے مضافاتی اضلاع کے تمام اسمبلی حلقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو ریشنلائز کرنے کی تجویز کو منظوری دی۔ 2026 ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد، مسودہ سے متعلق دعوے اور اعتراضات متعلقہ اسمبلی حلقہ دفاتر میں 31 اگست 2026 اور 30 ​​ستمبر 2026 کے درمیان قبول کیے جائیں گے۔ ان اسمبلی حلقہ وار دفاتر کے پتوں کی فہرست ممبئی میونسپل کارپوریشن کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔ پروگرام2026 دعوے اور اعتراضات اسمبلی حلقہ وار دفتری پتوں کی فہرست31 اگست، 2026، اور اکتوبر 29، 2026 کے درمیان، متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کے دفاتر کے ذریعے ‘غیر میپ کیے گئے’ ووٹروں، ڈیٹا میں بے ضابطگیوں والے ووٹروں، اور دعوے اور اعتراضات دائر کرنے والوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے۔ ان دعوؤں اور اعتراضات کو بعد ازاں سماعتوں کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ مزید برآں، حتمی انتخابی فہرستیں 4 نومبر 2026 کو شائع کی جائیں گی۔

وہ افراد جو یکم1 اکتوبر 2026 تک 18 سال کی عمر کو پہنچ جائیں گے، وہ 31 اگست 2026 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان انتخابی فہرست میں اپنا نام درج کرا سکتے ہیں، فارم 6 (نئے ووٹروں کے لیے درخواست فارم) کو پُر کرکے اور ضروری دستاویزات جمع کرائیں۔وہ ووٹرز جن کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں یا اس سے خارج کر دیے گئے ہیں وہ 31 اگست 2026 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان فارم 6 (نئے ووٹرز کے لیے درخواست فارم) کو پُر کرکے اور ضروری دستاویزات جمع کر کے انتخابی فہرست میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان