Connect with us
Saturday,20-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

نتیش رانے کے مہاڈ داخلے پر پابندی کا وزیراعلی سے مطالبہ، ”چلو مہاڈ“ مورچہ سے علاقائی مسلمانوں میں بے چینی : مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

Maulana-Haleemullah-Qasmi

ممبئی 21/ جون : رائے گڑھ ضلع کے شہر مہاڈ میں عید الاضحی کی باسی کو رونما ہونے والے واقع جس میں گؤرکشک تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقامی مسلمانوں کو مذہبی فریضہ انجام دینے یعنی کہ قربانی کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مبینہ لڑائی ہوگئی جس کے بعد گؤرکشکوں کی شکایت پر مقامی پولس (مہاڈ ایم آئی ڈی سی) نے ایف آر درج کرتے ہوئے چھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

18/ جون کے واقعہ کے بعد 19/ جون کی شام کو رکن اسمبلی اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاؤ بھاشن دینے کے لیے مشہور نیتیش رانے نے علاقے کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف نازیبا بیان دیا اور مقامی پولس پر مزید مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ بنایا۔ نتیش رانے نے مہاڈ ایم آئی ڈی سی پولس کے سینئر پولس افسران کو بھی سخت اور سست سنایا اور کہا کہ صرف دو دن کے لیے علاقے کو ان کے حوالے کیا جائے وہ شریعت پر عمل کرنے والوں کو سبق سکھا دیں گے، یو ٹیوب ویڈیو میں نتیش رانے پولس افسران کو پھٹکارتے ہوئے نظر آئے۔ نتیش رانے کے دورے کے بعد سے مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اس ضمن میں جمعیۃ علماء رائے گڑھ کے صدر مفتی اصغر لکھپٹکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی اور قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو حالات سے آگاہ کیا جس کے بعد مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور ڈائرکٹر جنرل آف پولس (مہاراشٹر) کو بذریعہ ای میل ایک خط تحریر کر کے ان سے مداخلت کرنے کی گذارش کی ہے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے وزیر اعلی سے درخواست کی کہ وہ مہاڈ اور اطراف کے علاقے میں نتیش رانے کے جانے پر پابندی عائد کرنے کے لیے پولس کو حکم جاری کرے نیز سکل ہندو سماج کی جانب سے 22/ جون کو نکالے جانے والے مورچہ پر بھی پابندی لگانے نیز علاقے میں 144/ دفعہ کے اطلاق کے لیے حکم جاری کرے تاکہ علاقے میں امن وسکون قائم رہے سکے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اس تعلق سے کہا کہ پولس کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے اور چھ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد نتیش رانے کا اشتعال انگیز بیان دینا قابل مذمت ہے۔ نتیش رانے اپنے مسلم مخالف اشتعال انگیز بیانات کے لیے مشہور ہیں۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ انہوں نے علاقے کے ذمہ داران سے معلومات حاصل کی جس کے مطابق گؤرکشک تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے قانون اپنے ہاتھوں میں لیکر مسلمانوں کو شدید زدو کوب کیا اور انہیں قربانی کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ قانون کسی بھی فرد اور تنظیم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا ہے، مقامی پولس اپنا کام کر رہی ہے نیز مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا کسی بھی طرح کے احتجاجی مورچہ کے انعقاد کی انتظامیہ اور پولس کو اجازت نہیں دینا چاہئے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مہاڈ اور اطراف کے مسلمانوں سے امن وامان قائم رکھنے کی درخواست کی ہے نیز جھوٹے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے لیے قانونی امداد دینے، لائحہ عمل تیار کرنے اور وکلاء کی ٹیم کے لیے حکم دیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان