Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

نتیش رانے کے مہاڈ داخلے پر پابندی کا وزیراعلی سے مطالبہ، ”چلو مہاڈ“ مورچہ سے علاقائی مسلمانوں میں بے چینی : مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

Maulana-Haleemullah-Qasmi

ممبئی 21/ جون : رائے گڑھ ضلع کے شہر مہاڈ میں عید الاضحی کی باسی کو رونما ہونے والے واقع جس میں گؤرکشک تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقامی مسلمانوں کو مذہبی فریضہ انجام دینے یعنی کہ قربانی کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مبینہ لڑائی ہوگئی جس کے بعد گؤرکشکوں کی شکایت پر مقامی پولس (مہاڈ ایم آئی ڈی سی) نے ایف آر درج کرتے ہوئے چھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

18/ جون کے واقعہ کے بعد 19/ جون کی شام کو رکن اسمبلی اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاؤ بھاشن دینے کے لیے مشہور نیتیش رانے نے علاقے کا دورہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف نازیبا بیان دیا اور مقامی پولس پر مزید مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ بنایا۔ نتیش رانے نے مہاڈ ایم آئی ڈی سی پولس کے سینئر پولس افسران کو بھی سخت اور سست سنایا اور کہا کہ صرف دو دن کے لیے علاقے کو ان کے حوالے کیا جائے وہ شریعت پر عمل کرنے والوں کو سبق سکھا دیں گے، یو ٹیوب ویڈیو میں نتیش رانے پولس افسران کو پھٹکارتے ہوئے نظر آئے۔ نتیش رانے کے دورے کے بعد سے مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اس ضمن میں جمعیۃ علماء رائے گڑھ کے صدر مفتی اصغر لکھپٹکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی اور قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو حالات سے آگاہ کیا جس کے بعد مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور ڈائرکٹر جنرل آف پولس (مہاراشٹر) کو بذریعہ ای میل ایک خط تحریر کر کے ان سے مداخلت کرنے کی گذارش کی ہے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے وزیر اعلی سے درخواست کی کہ وہ مہاڈ اور اطراف کے علاقے میں نتیش رانے کے جانے پر پابندی عائد کرنے کے لیے پولس کو حکم جاری کرے نیز سکل ہندو سماج کی جانب سے 22/ جون کو نکالے جانے والے مورچہ پر بھی پابندی لگانے نیز علاقے میں 144/ دفعہ کے اطلاق کے لیے حکم جاری کرے تاکہ علاقے میں امن وسکون قائم رہے سکے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اس تعلق سے کہا کہ پولس کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے اور چھ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد نتیش رانے کا اشتعال انگیز بیان دینا قابل مذمت ہے۔ نتیش رانے اپنے مسلم مخالف اشتعال انگیز بیانات کے لیے مشہور ہیں۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ انہوں نے علاقے کے ذمہ داران سے معلومات حاصل کی جس کے مطابق گؤرکشک تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے قانون اپنے ہاتھوں میں لیکر مسلمانوں کو شدید زدو کوب کیا اور انہیں قربانی کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ قانون کسی بھی فرد اور تنظیم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا ہے، مقامی پولس اپنا کام کر رہی ہے نیز مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا کسی بھی طرح کے احتجاجی مورچہ کے انعقاد کی انتظامیہ اور پولس کو اجازت نہیں دینا چاہئے۔

مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مہاڈ اور اطراف کے مسلمانوں سے امن وامان قائم رکھنے کی درخواست کی ہے نیز جھوٹے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے لیے قانونی امداد دینے، لائحہ عمل تیار کرنے اور وکلاء کی ٹیم کے لیے حکم دیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان