Connect with us
Tuesday,14-April-2026

(جنرل (عام

ڈی سی پی نیتی ٹھاکر دوے نے پیش کی چادر, درگاہ کمیٹی کے عطر پوشی کی رسم ادائیگی سے میلے کا آغاز

Published

on

ممبئی عالمی شہرت یافتہ صوفی حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی رحمتہ اللہ کے آستانہ پر آج محکمہ پولس نے اپنا پہلا صندل پیش کیا اور اس کے بعد دس روزہ میلے کا آغاز ہوگیا۔ پولس کا صندل شان و شوکت کے ساتھ ماہم پولس اسٹیشن سے نکلا اور اطراف کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گشت کرتا ہوا آستانہ مخدومیہ پر پولس بینڈ کے ساتھ انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ پہنچا۔ جہاں درگاہ کمیٹی نے پولس صندل کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور درگاہ کے احاطہ میں ہی پولس اہلکاروں و افسران کو آستانہ میں روانہ کیا۔ پھر پولس نے روایتی انداز میں آستانہ پر چادر پیش کی اور آستانہ مخدوم میں دعا گو ہوگئے۔ اس سے قبل درگاہ کمیٹی نے آستانہ مخدوم پر عطر پیشی کی تھی۔ ڈی سی پی نیتی ٹھاکر دوے نے طشت سر پر رکھ کر صندل کا آغاز کیا۔ اس کے بعد درگاہ اور پولس اسٹیشن کی احاطہ میں پولس بینڈ پر یا بابا مخدوم کی دھنیں بجا کر پولس نے درگاہ پر سلامی پیش کی۔ پھر بندوقوں کی سلامی بھی دی گئی۔ ڈی سی پی نیتی ٹھاکر دوے نے واضح کیا کہ دس روزہ میلے اور صندل کے پیش نظر پولس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جو دکانیں درگاہ کے اطراف سجائی گئی ہیں اس کی بھی مکمل تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔ دہلی میں آتشزدگی کے بعد ان دکانوں اور تنگ گلیوں سے قبضہ جات کو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درگاہ میں حاضرین کیلئے داخلی اور باہری دروازے علیحدہ کئے گئے اور باہر جانے کے لئے عقب کے دروازے کا استعمال کیا جائیگا۔ نیتی ٹھاکر دوے نے صندل پیشی کے دوران انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لئے انتہائی خوشی کا لمحہ ہے کیونکہ پہلی مرتبہ مجھے بطور اس حلقہ کی ڈی سی پی چادر پیشی کا موقع ملا۔ یہ میرے لئے باعث افتخار بھی ہے کہ بابا کے آستانہ پر مجھے خدمت کا موقع دیا گیا۔انہو ں نے کہا کہ پولس روایت کے مطابق ہی یہاں ہر سال کی طرح امسال بھی چادر پیش کی گئی ۔ درگاہ کمیٹی کے منیجنگ ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ درگاہ انتظامیہ نے پولس کی چادر پوشی سے قبل ہی درگاہ میں عطر پیشی کی رسم قل شریف اور فاتحہ خوانی کی تھی۔ پولس کے ہمراہ درگاہ کے ٹرسٹیوں کے علاوہ کوئی بھی آستانہ میں موجود نہیں رہتا جب پولس بابا مخدوم کے آستانہ پر چادر پیش کرکے عطر پیشی کی رسم ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولس نے صندل اور میلے کیلئے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی درگاہ کمیٹی نے بھی اپنا تعاون دیا ہے اور درگاہ کے رضا کار اور ماہم اسکول و کالج کے طلباء بھی پولس کے ہمراہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ ٹریفک کنٹرول پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کیونکہ آستانہ پر حاضری کیلئے ہمارے وی آئی پی یعنی خصوصی مہمانوں کی آمدورفت بڑھ جاتی ہے جسے درگاہ کمیٹی ہی مدعو کرتی ہے۔ ماہم کے محلوں میں بھی اس سلسلے میں میٹنگ لی گئی تھی اور اہلیان ماہم بھی میلے کے دوران تعاون کرتے ہیں۔ پولس کے صندل میں پولس اہلکار یا بابا مخدوم کی دھنوں پر مست نظر آئے ۔ ماہم کا پورا علاقہ میں یا بابا مخدوم کے نعروں سے گونج اٹھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ڈونگری میں مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں پر حملہ، 4 ملزمین گرفتار، کشیدگی امن قائم

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈونگری میں مولانا سید خالد اشرف المعروف خالد میاں پر حملہ کے بعد ممبئی نے اقدام قتل کا کیس درج کر چار ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے خالد اشرف اوران کے فرزند پر حملہ سے ممبئی میں کشیدگی پھیل گئی ان کے مریدین جوق درجوق پولس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد آج علما اہلسنت والجماعت نے خالد اشرف پر حملہ کے تناظر خاطیوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ آج علما اہلسنت اور آل انڈیا جماعت العلما نے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے پولس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملزمین پر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں کی سربراہی میں ایک وفد نے دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی۔ مولانا خالد اشرف نے کہا کہ مجھے ڈرگس فروشوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جس وقت ان حملہ آور منشیات فروشوں مجھ پر اور میرے فرزند پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ وہی مولانا ہے جو ڈرگس کے خلاف موومنٹ چلاتا ہے۔ اس لیے پولس کمشنر سے مولانا خالد اشرف نے یہ درخواست کی ہے کہ علما پر حملہ کرنا سراسر غلط ہے ایسے میں ان غنڈوں پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ پولس کی کارروائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی علما کرام اور عمائدین شہر کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس مصبیت کی گھڑی میں میں تنہا ہوں, اس لئے سبھی کا شکریہ اس کے ساتھ مولانا خالد اشرف نے مریدین اور متعلقین سے یہ درخواست کی کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے, اتنا ہی نہیں اشتعال انگیزی سے بھی اجتناب کرے جو بھی ہمارے مداح اور چاہنے والے ہیں وہ قطعی غلط حرکت نہیں کریں گے۔
علما منشیات فروشوں کے نشانے پر :
حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے آج خالد اشرف پر حملہ کے معاملہ میں پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب علما کرام اور سفید پوش منشیات فروشوں کے نشانے پر ہے۔ اس کا مقصد عام عوام میں دہشت پیدا کرنا ہے اس لئے پولس سے مولانا معین میاں نے درخواست کی ہے کہ ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی ہو جو علما کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں مولانا خالد اشرف نے منشیات کے خلاف تحریک شروع کی تھی, اس کا اثر ممبئی میں بھی منشیات فروشوں پر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منشیات فروشوں کا ایک ریکیٹ کام کرتا ہے جو منشیات فروشی کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف مہم چلا کر اسے سوشل میڈیا میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے منشیات فروش گینگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے معین میاں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولس نے جو کارروائی کی ہے وہ اطمینان بخش ضرور ہے۔ لیکن ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ اس وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری اور مولانا انیس اشرفی بھی شامل تھے۔ مولانا خالد اشرف پر حملہ کے الزام میں ڈونگری پولس نے مجید لالہ پٹھان، راحیل پٹھان، ساحل پٹھان اور پیرو کو گرفتار کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ان حملہ آوروں نے مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں کو ڈنڈوں لاٹھی سے حملہ کر کے زدوکوب کیا جس کے سبب وہ اب بھی زخمی ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی حادثہ : مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی، سی ایم فڑنویس کا اظہار افسوس

Published

on

ممبئی کے کلیان میں سڑک حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ہسپتال میں داخل دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، حکام نے پیر کو بتایا۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ حکام نے بتایا کہ پیر کو ممبئی کے کلیان علاقے میں ایک ڈمپر ٹرک ایک کار سے ٹکرا گیا۔ یہ حادثہ صبح 11 بجے کلیان-مرباد روڈ پر رائتا پل کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کار کلیان سے آرہی تھی جب اس کی ٹکر ایک مکسر ٹرک سے ہوئی۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا، “کلیان کے قریب نیشنل ہائی وے 61 پر دو گاڑیوں کے ایک ہولناک حادثے میں 11 جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں ان کے ساتھ دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔” ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جب کہ زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ٹٹ والا کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت کار میں 12 مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں سے آٹھ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ ایک نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ مقامی لوگ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں مزید دو افراد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق گاڑی مرباد کی طرف جارہی تھی کہ کلیان کے قریب رائتہ پل کے قریب تصادم ہوا۔ اس سے قبل، نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے، تھانے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی ایس سوامی نے نو لوگوں کی موت کی تصدیق کی تھی۔ ٹٹ والا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیل لاڈ نے میڈیا کو بتایا، “ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ زخمیوں کا قریبی اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس واقعے میں متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔” پولیس نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ تیز رفتار گاڑی نے قابو کھو دیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ٹکر کی وجہ سے ٹٹ والا-کلیان روڈ پر رائتا پل کے قریب ہائی وے پر بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا، جس سے علاقے میں گاڑیوں کی آمدورفت میں نمایاں طور پر خلل پڑا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی : ادھو ٹھاکرے کی اہلیہ رشمی آشا بھوسلے کی رہائش گاہ پر آخری تعزیت میں بے ساختہ روئی

Published

on

ممبئی : شیو سینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے خاندان کے ساتھ پیر کو ممبئی میں لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کی رہائش گاہ پر ان کی 92 سال کی عمر میں انتقال کے بعد ان کی آخری تعزیت کی۔ آئیکونک پلے بیک سنگر کو الوداع دورے کے دوران، ایک جذباتی لمحہ سامنے آیا جب رشمی ٹھاکرے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹوٹ گئیں۔ رہائش گاہ کے منظروں نے اسے آنسوؤں میں دکھایا، بھوسلے خاندان کے ارکان کو گلے لگاتے ہوئے اور گلوکارہ کی لاش کے پاس کھڑے تھے۔ اس کا دکھائی دینے والا غم اس گہرے ذاتی تعلق کی عکاسی کرتا ہے جو ٹھاکرے خاندان نے آشا بھوسلے اور وسیع تر منگیشکر خاندان کے ساتھ شیئر کیا تھا۔ ادھو ٹھاکرے نے بھی گلوکار کے انتقال کو ہندوستانی موسیقی کے لیے ایک یادگار نقصان قرار دیتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “آشا بھوسلے کے انتقال کے ساتھ، ہندوستانی موسیقی کا ایک ستون گر گیا ہے۔ ان کے گانے ان کے لیے امر رہیں گے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی آواز نے ان گنت نسلوں کو خوشی بخشی اور انسانی جذبات کے مکمل اسپیکٹرم کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنی بہن لتا منگیشکر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موسیقی کی بھرپور میراث کو آگے بڑھایا اور ہندوستانی موسیقی کے سنہری دور میں ایک مضبوط ستون کے طور پر کھڑی رہیں۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے تصدیق کی کہ وہ کئی اعضاء کی ناکامی کی وجہ سے اگلے دن انتقال کر گئیں۔ ان کی جسد خاکی کو ان کی لوئر پریل رہائش گاہ پر صبح 11 بجے سے 3 بجے کے درمیان عوامی تعزیت کے لیے رکھا گیا ہے۔ آخری رسومات مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ شیواجی پارک میں ہونے والی ہیں، جہاں شائقین اور معززین کی بڑی تعداد کے جمع ہونے کی توقع ہے۔ آشا بھوسلے کی موت نے ملک کو سوگ میں چھوڑ دیا ہے، ملک بھر سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان