Connect with us
Saturday,11-April-2026

(جنرل (عام

کورونا وائرس کے معاملات ایک بار پھر 3000 سے متجاوز

Published

on

Corona infection

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک بار پھر کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا، اور اس دوران 3,205 نئے معاملے درج ہوئے، جبکہ اموات کی تعداد میں بھی 31 کا اضافہ ہوا مرنے والوں میں سے 29 کا تعلق کیرالہ سے ہے۔ مرکزی وزارت برائے صحت وخاندانی بہبود نے بدھ کو کہا کہ ملک میں ایک ارب 89 کروڑ 48 لاکھ 01 ہزار 203 کووڈ ویکسین دی جا چکی ہیں۔

وزارت نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 3,205 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جب کہ منگل کو 2,568 نئے معاملات درج ہوئے تھے۔ اس دوران 2,802 لوگ کووڈ سے شفایاب ہوئے ہیں۔ اب تک کووڈ سے کل چار کروڑ 25 لاکھ 44 ہزار 689 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

اس بیماری سے مزید 31 مریضوں کی موت کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ 23 ہزار 920 ہو گئی ہے۔ منگل کو کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 تھی۔ اس وقت ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی شرح 0.05 فیصد، صحت یابی کی شرح 98.74 فیصد اور شرح اموات 1.22 فیصد ہے۔

قومی دار الحکومت دہلی میں پچھلے کچھ دنوں میں کورونا کے نئے کیسوں میں اضافے کے بعد، پچھلے 24 گھنٹے کے دوران ان میں پھر سے اضافہ ہوا ہے۔ دارالحکومت میں فعال کیسز میں 242 کے اضافہ کے بعد یہ بڑھ کر 5,986 ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی مزید 1171 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد اس سے نجات پانے والوں کی تعداد 18 لاکھ 54 ہزار 888 ہوگئی جب کہ ایک مریض کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 26 ہزار 176 ہوگئی۔

ہریانہ میں بھی فعال کیسز میں 93 کا اضافہ ہوا اوریہ 2,594 ہو گئے ہیں۔ اس دوران 412 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد وباء سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 80 ہزار 718 ہو گئی جب کہ اموات کی تعداد 10 ہزار 619 پر مستحکم ہے۔

کیرالہ میں کورونا وائرس کے فعال کیسز میں 35 کی کمی ہونے کے بعد یہ تعداد 2,744 ہو گئی ہے۔ اس سے راحت پانے والوں کی تعداد میں 302 کے اضافہ کے بعد یہ تعداد 64,70,418 ہو گئی، جب کہ مرنے والوں کی تعداد میں 29 کا اضافہ ہوا، اور یہ بڑھ کر 69,112 ہو گئی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

شہریوں کیلئے اعلیٰ معیاری بنیادی خدمات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی : ممبئی میں اس وقت بڑے پیمانے میں سڑکوں کے کام جاری ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان سڑکوں کو طویل مدت میں استعمال کیا جائے اور ان پر ٹریفک کے لحاظ سے ریلوے کی لائنوں پر ماڈل آپریشنل نارمز تیار کیے جائیں اس میں اگلے 10 سالوں میں سڑک کی دیکھ بھال کے علاوہ ٹریفک، مرمت اور دیکھ بھال، افادیت اور دیگر معاملات میں ہونے والی تبدیلیاں شامل ہونی چاہئے ممبئی میں کام کرنے والے مختلف کاروباروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات پیدا کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔کارپوریٹروں اور دیگر عوامی نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور مقامی معاملات کے بارے میں ان کی تجاویز حاصل کریں۔ نالیوں کی سلٹنگ، سڑکوں کے کام کی موجودہ صورتحال وغیرہ کی معلومات عوام تک پہنچائی جائیں۔ اس کے علاوہ، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایت دی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی اچھے معیار کی بنیادی خدمات عوام پر مبنی انداز میں فراہم کرنے پر زور دیا جائے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے تمام محکموں کی ماہانہ جائزہ میٹنگ آج میونسپل کارپوریشن ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ممبئی میں کئی بڑے پروجیکٹ اور ترقیاتی کام شروع کیے ہیں۔ اس میں مختلف اتھارٹی سسٹم کام کر رہے ہیں۔ ان نظاموں کے ساتھ مناسب ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ انتظامی محکموں (وارڈز) اور دیگر نظام کے درمیان ہم آہنگی سے رابطہ قائم کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، مختلف اختراعی امور کا جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ ایک ہفتہ کو ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا، بھیڈے نے یہ بھی واضح کیا۔ اس کے علاوہ جائزہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت کے مطابق اس اجلاس میں متعلقہ کام کی تکمیل کی رپورٹ بھی لی جائے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن شہری خدمات فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ اب ہمیں اس سے آگے کام کرنا چاہیے۔ اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، جوائنٹ کمشنر (ویجلنس) ڈاکٹر ایم دیویندر سنگھ اس موقع پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ تمام جوائنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ جات کے سربراہان وغیرہ اس میٹنگ میں موجود تھے۔

اس میٹنگ میں کارپوریٹرس کی طرف سے مختلف مسائل پر ایوان میں کی گئی بات چیت کے پس منظر میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے افسران کو واضح طور پر ہدایت دی کہ عوام کے نمائندے مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل اور حقائق کو صحیح طریقے سے سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں۔ اس لیے ہر افسر کو چاہیے کہ وہ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور انہیں اپنے کام کے علاقے میں سلٹنگ، صفائی یا دیگر متعلقہ کاموں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں باقاعدگی سے آگاہ کرتے رہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کو اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ مقامی کارپوریٹروں سے موصول ہونے والی تجاویز اور فیڈ بیک پر عمل کیا جائے۔ ان کے درمیان ہم آہنگی موثر ہو جاتی ہے اگر اس میں مسلسل رابطے اور شفافیت ہو۔ کوویڈ میں بی ایم سی نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اس دوران بی ایم سی نے فعال اور معروضی طور پر اپنے طور پر معلومات فراہم کیں۔ ہمیں اب بھی اسی سرگرمی کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ اس بات کو یقینی بنا ئے کہ مانسون کے دوران نامکمل سڑکیں ٹریفک کے لیے آسان اور محفوظ رہیں۔ میٹنگ میں ممبئی میں سڑک کے کاموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد اشونی بھیڈے نے کہا کہ اگر فی الحال سڑک کے کام 70 فیصد سے زیادہ مکمل ہو گئے ہیں، تو انہیں یکم جون سے پہلے مکمل کر لینا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جاری کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں اور ٹریفک کے لیے ہموار رہے۔ سڑکوں پر گڑھوں کے معاملے میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور پچھلے تین سالوں میں گڑھوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی لاگت بھی مسلسل کم ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نالوں سے کیچڑ ہٹانے کے کام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں معلومات باقاعدگی سے عوام میں تقسیم کریں۔ ممبئی کے علاقے میں چھوٹے اور بڑے نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا…

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈھونگی بابا اشوک کھرات نے اپنے ہی موت کی پیشگوئی کر دی ، تفتیش ایجنسی بھی حیرت زدہ ، دمانیہ کا سنگین الزام کھرات کی جان کوخطرہ

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر اشوک کھرات ایس آئی ٹی کی جانچ میں سنسنی خیزانکشافات ہوئے ہیں ۔ اشوک کھرات نے تفتیش کے دوران خود کے موت پیشگوئی کر کے ایجنسیوں کو ہی حیرت زدہ کردیا ہے۔ خواتین کے جنسی استحصال، ان کی ویڈیوز اور سیاسی رابطوں کے الزامات سے ریاست میں ہلچل ہے۔ کھرات نے خود اپنی موت کی پیش گوئی کی ہے اس پر سماجی کارکن انجلی دمانیا نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس میں بڑے لوگ ملوث ہیں۔ خود ساختہ کیپٹن اشوک کھرات نے متعدد خواتین کو ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوز بھی بنائیں۔ 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا اشوک کھرت سے ایس آئی ٹی (خصوصی تفتیشی ٹیم) کی پوچھ گچھ سے کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں اور اس نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جیل کی سلاخوں میں بندکھرات نے کئی لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، انہیں دھوکہ دیا اور لوٹا، خواتین کو اپنے دفتر میں بلایا اور برسوں تک ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ یہ سب اس کے دفتر کے سی سی ٹی وی میں بھی قید ہو گیا۔ اس کی فحش حرکات اور سیاہ کارنامے روز بروز بےنقاب ہو رہے ہیں اور پولیس بھی اس کے یومیہ خلاصے سے حیرت زدہ اور ششد ر رہ گئی ہے۔ کھرات نے اب اپنے بارے میں بڑی پیشین گوئی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اشوک کھرات نے اپنے مستقبل کی پیشین گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری موت یہاں ہے‘‘بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اب تک پولیس کی حراست میں محفوظ نہیں ہے، اور اب کھرات کی باتوں سے صاف ہے کہ اسے بھی یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ یہاں سے زندہ نہیں نکل پائے گا۔ادھر سماجی کارکن انجلی دمانیا نے اس معاملے میں بڑا بیان دیا ہے۔ دمانیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دھوکے بازکھرات کے معاملے میں ایک نام ’’شیزوکا نوڈی‘‘ سے متعدد فون کالز موصول ہونے کا بھی ہے ۔دھوکے باز اشوک کھرات اپنی تفتیش میں شیزوکا نوڈی کا بھی نام بتایا ہے دمانیہ نے سنگین الزام لگایا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے لوگ ملوث ہیں۔ دمانیہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ چاکنکر نے انہیں اتنی بار کیوں بلایا، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ روپالی چاکنکر کے 177 کالز ہیں، لیکن انہیں ابھی تک طلب نہیں کیا گیا ہے۔
کھرات کی جان خطرے میں
موجودہ صورتحال میں اشوک کھرات کی جان کو خطرہ ہے، یہ بیان انہوں نے دوران حراست دیا تھا۔ دمانیہ نے کہا کہ اس لیے اب ہمیں ڈر ہے کہ اس سب کو ختم کرنے کے لیے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اس معاملہ میں اور بہت سی معلومات سامنے نہ لائی جائےاس لئے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے اس لئے اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
اجیت دادا کے گھر کے باہر کالا جادو
دمانیا نے کہا کہ 18 نومبر کو آنجہانی لیڈر اجیت پوار کے گھر کے باہر کالا جادو کا معاملہ سامنے آیا تھا، فی الحال میں اس پر توجہ مرکوز کر رہی ہوں۔ دمانیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کھرات کیس میں پرتیبھا چاکنکر کے کردار کے بارے میں تفتیش ہونی چاہیے ۔ اشوک کھرات کے تازہ انکشاف کے بعد تفتیشی ایجنسیاں بھی اب حرکت میں آگئی ہے اور اس کی سیکورٹی پر بھی توجہ مرکوز کردی گئی ہے یہ دعوی پولس ذرائع نے کیا ہے کیا کھرات کی ہی پیشگوئی درست ہو گی وہ یہاں سے باہر نہیں نکلے گا اور یہاں اس کی موت ہو گی اس پر بھی اس سوال کھڑا ہو گیا ہے اشوک کھرات نے ایسی پیشگوئی کیوں کی یہ سوال ایجنسیوں کے دلوں میں بھی ہے اور اس پر بھی تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مہاراشٹرا پولیس کے لیے بھی ہیلمٹ پہننا اب لازمی، ڈی جی پی نے حکم جاری کیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹرا میں روڈ سیفٹی کی جانب ایک اہم قدم میں، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے دو پہیہ گاڑیوں کی سواری کے دوران ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا ہے۔ ریاست بھر کے تمام پولیس کمشنریٹس اور ضلعی پولیس یونٹوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ ناگپور میں ایک حالیہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے، جہاں ڈی جی پی نے کہا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے افسران خود قواعد پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ پولیس کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، پچھلے دس سالوں میں سڑک کے حادثات میں ہلاک یا شدید زخمی ہونے والوں میں سے 35 سے 40 فیصد دو پہیہ کار سوار تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ کا مناسب استعمال سر کی شدید چوٹوں اور موت کے خطرات کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود ریاست کے زیادہ تر اضلاع میں ہیلمٹ پہننے کا رواج کمزور ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جب ممبئی اور ناگپور جیسے بڑے شہروں میں، 80 فیصد سے زیادہ دو پہیہ گاڑی سوار ہیلمٹ پہنتے ہیں، دوسرے اضلاع میں، یہ تعداد 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ نئے حکم نامے کے تحت، کوئی بھی پولیس افسر جب ڈیوٹی کے دوران بغیر ہیلمٹ کے دو پہیہ گاڑی پر سوار پایا گیا تو اس پر موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 194(ڈی) کے تحت جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں، اگر ہیلمٹ کے بغیر پولیس افسر کی تصویر سوشل میڈیا پر ظاہر ہوتی ہے، تو اسے ایک سنگین بے ضابطگی سمجھا جائے گا اور ان کی سروس بک میں درج کیا جائے گا، جس سے ممکنہ طور پر ان کے کیریئر پر اثر پڑے گا۔ ڈی جی پی کے دفتر نے تمام یونٹوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حکم کی فوری تعمیل کو یقینی بنائیں اور جلد از جلد ہیڈ کوارٹر کو تعمیل کی رپورٹ پیش کریں۔ محکمہ پولیس کے اس فیصلے کو روڈ سیفٹی کے حوالے سے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ جب پولیس خود قوانین پر عمل کرے گی تو عام لوگ بھی ہیلمٹ پہننے کے بارے میں زیادہ بیدار ہوں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان