Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

کورونا کے نئے ویرنٹ ڈیلٹا پلس کی وجہ سے مہاراشٹر میں تناؤ بڑھ گیا ، نئی ہدایت جاری ، ادھو حکومت متحرک

Published

on

Corona-V

مہاراشٹر حکومت نے کورونا وائرس کے ڈیلٹا پلس وارنٹ کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔اس کے لئے، ریاست بھر میں لیول-3 کی پابندیوں کو نافذ کرنے کے لئے رہنمایانہ ہدایت جاری کی گئی ہیں۔ ریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپے نے جالنہ میں کہا، ” لیول 1 اور کو ختم کرکے پورے مہاراشٹر میں لیول 3 اور اس سے اوپر کی پابندیوں کو نافذ کیا جائے گا۔ ٹوپے نے واضح طور پر کہا کہ کئی اضلاع کو پہلے دی گئی چھوٹ ختم کردی جائے گی. اس کے ساتھ ہی، بلدیاتی اداروں کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں حکومت کے طے کردہ معیار کے مطابق پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں اپنا فیصلہ خود لے۔ حکومت نے فلائنگ اسکواڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ یہ دستے ریستوراں، مالز، شادی کی تقریبات وغیرہ جیسے مقامات پر پہنچیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ قوانین پر عمل کیا جارہا ہے یا نہیں۔

جمعہ کو چیف سیکریٹری سیتارام کنٹے نے یہ ہدایات جاری کیں۔ان میں کہا گیا ہے کہ اگر سخت پابندیاں عائد نہیں کی گئیں تو، ڈیلٹا پلس تیزی سے دوسرے حصوں میں پھیل سکتا ہے۔ہدایات میں کہا گیا ہے کہ وہ ٹیکہ کاری مہم میں تیزی لائیں۔ ریاست کی 70 فیصد آبادی کو ٹیکہ لگانے پر زور دیا گیا ہے۔ متاثرہ افراد کی شناخت، ان کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر علاج کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔نئی رہنمایانہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگر کورونا کیس میں اضافہ ہوا, اور آکسیجن بیڈ کم پڑتے ہیں تو سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مقامی انتظامیہ لے سکتی ہے۔ انہیں ہفتہ وار مثبت رفتار کی شرح اور آکسیجن بیڈ خالی کرنے سے متعلق باقاعدہ معلومات جمع کرنا ہوں گی۔ اس کے لئے صرف آر ٹی , پی سی آر ٹیسٹ کو ہی بنیاد بنایا جائے گا۔

– ضروری دکانیں اور ادارہ شام 4 بجے تک ہی کھلے رکھنے کی اجازت ہے – غیر ضروری دکانیں اور ادارے پیر سے جمعہ شام 4 بجے تک – ریسٹورانٹ ہفتہ کے دن شام 4 بجے تک 50 فیصد کیپیسٹی (صلاحیت) کے ساتھ ، پھر ٹیک وے اور ہوم ڈیلیوری – مضافاتی ٹرینیں صرف طبی عملہ اور عملہ جو ضروری خدمات میں مصروف افراد کے لئے استعمال ہوں گی ۔ جم اور سیلون 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ شام 4 بجے تک، مہاراشٹر کے رتناگری میں ایک 80 سالہ خاتون کی ڈیلٹا پلس ویرنٹ سے موت ہوگئی۔ وہ کچھ دنوں سے اسپتال میں داخل تھی۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، ڈیلٹا پلس سے متاثر ایک اور شخص کی بھی مدھیہ پردیش میں موت ہوگئی ہے۔ ریاست میں اس طرح سے اس کی ہلاکت کا دوسرا کیس بتایا جارہا ہے۔ ملک میں اس قسم کے 48 مریض پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com